Share
 
Comments
The human face of 'Khaki' uniform has been engraved in the public memory due to the good work done by police especially during this COVID-19 pandemic: PM
Women officers can be more helpful in making the youth understand the outcome of joining the terror groups and stop them from doing so: PM
Never lose the respect for the 'Khaki' uniform: PM Modi to IPS Probationers

نمسکار!

دیکشانت پریڈ کی تقریب میں موجود مرکزی کونسل کے میرے ساتھی جناب امت شاہ جی، ڈاکٹر جیتندر سنگھ جی، جی کشن ریڈی جی، سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکادمی کے اہلکار حضرات اور پورے جوش و جذبہ سے انڈین پولیس سروِس کو قیادت فراہم کرنے کے لیے تیار 71 آر آر کے میرے تمام نوجوان ساتھیوں!

ویسے میں لگاتار آپ کے یہاں سے نکلنے والے سب ساتھیوں کو روبرو میں دہلی میں ملتا تھا۔ میری خوش قسمتی رہتی تھی کہ میں اپنی رہائش گاہ پر سب کو بلاتا تھا، گپ شپ بھی کرتا تھا۔ لیکن کورونا کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں، اس کی وجہ سے مجھے یہ موقع گنوانا پڑ رہا ہے۔ لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ مدتِ کار کے دوران کبھی نہ کبھی آپ لوگوں سے ملاقات ہو جائے گی۔

ساتھیوں،

لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اب تک آپ ایک ٹرینی کے طور پر کام کرتے ہیں، آپ کو لگتا ہے کہ ایک شیلٹر ہے، ایک پروٹیکٹو انوائرمینٹ میں آپ کام کر رہے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ غلطی کریں گے تو ساتھی بھی ہے، سنبھالے گا، آپ کو ٹریننگ دینے والے لوگ ہیں وہ بھی سنبھال لیں گے۔ لیکن راتوں رات صورتحال بدل جائے گی۔ جیسے ہی یہاں سے آپ باہر نکلوگے، آپ پروٹیکٹو انوائرمینٹ میں نہیں ہوں گے۔ عام انسان آپ کو، نئے ہو، تجربہ ابھی ہوا نہیں ہے، کچھ نہیں سمجھے گا۔ وہ تو یہ سمجھے گا کہ بھئی آپ تو یونیفارم میں ہیں، آپ تو صاحب ہیں، میرا یہ کام کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ اور آپ تو صاحب ہیں، آپ ایسا کیسے کرتے ہو؟ یعنی آپ کی طرف دیکھنے کا نظریہ بالکل بدل جائے گا۔

ایسے میں آپ کس طرح سے خود کو پیش کرتے ہیں، کیسے آپ خود کو وہاں سے فعال کرتے ہیں، اس کو بہت باریکی سے دیکھا جائے گا۔ میں چاہوں گا کہ آپ اس میں شروع کے دور میں جتنے over conscious رہیں، ضرور رہیں کیوں کہ First impression is the last impression۔ اگر آپ کی ایک شبیہ شروع میں ایسی بن گئی کہ بھئی یہ اس قسم کے افسر ہیں، پھر آپ کہیں پر بھی ٹرانسفر کروگے، وہ آپ کی شبیہ آپ کے ساتھ travel کرتی جائے گی۔ تو آپ کو اس میں سے باہر آنے میں بہت وقت لگ جائے گا۔ آپ بہت carefully یہ کوشش کیجئے۔

دوسرا، معاشرتی نظام کا ایک نقص رہتا ہے۔ ہم بھی جب منتخب ہوکر دہلی میں آتے ہیں تو دو چار لوگ ہمارے آس پاس ایسے ہی چپک جاتے ہیں، پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کون ہیں۔ اور تھوڑے ہی دن میں خدمت کرنے لگ جاتے ہیں؛ صاحب گاڑی کی ضرورت ہو تو بتا دینا، انتظام کر دوں گا۔ پانی کی ضرورت ہو تو بولیے صاحب۔ ایسا کرو، ابھی تو آپ کھانا نہیں ہوگا، اس عمارت کا کھانا اچھا نہیں ہے، چلئے وہاں کھانا ہے، میں لے آؤں کیا؟ پتہ ہی نہیں ہوتا یہ خدمت فراہم کرنے والے کون ہیں۔ آپ بھی جہاں جائیں گے ضرور ایسی ایک ٹولی ہوگی جو، شروع میں آپ کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ بھئی نئے ہیں، علاقہ نیا ہے، اور اگر اُس چکّر میں پھنس گئے تو پھر نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ آپ تکلیف ہو شروع میں تو تکلیف، نیا علاقہ ہے تو نیا علاقہ، اپنی آنکھوں سے، اپنے کان سے، اپنے دماغ سے چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ شروع میں جتنا ہو سکے تو اپنے کان کو فلٹر لگا دیجئے۔

آپ کو لیڈرشپ میں success ہونا ہے تو شروع میں آپ کے کان کو فلٹر لگا دیجئے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کان کو تالا لگائیے۔ میں فلٹر لگانے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ اس سے کیا ہوگا کہ جو ضروری چیزیں ہیں، جو آپ کے کریئر کے لیے، آپ کی ڈیوٹی کے لیے، ایک انسان کے ناتے وہ فلٹر کی ہوئی چیزیں جب آپ کے دماغ میں جائیں گی، آپ کو بہت کام آئیں گی۔ سارا کوڑا کچرا، ورنہ تو آپ دیکھئے، کوئی بھی جاتا ہے تو لوگ اس کو ایک dustbin مان لیتے ہیں۔ اور جتنا بڑا آدمی، اتنا بڑا dustbin مانتے ہیں اور کوڑا کچرا پھینکتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اور ہم بھی اس کوڑے کچرے کو پراپرٹی مان لیتے ہیں۔ ہم اپنے من مندر کو جتنا صاف رکھیں گے، اتنا فائدہ ہوگا۔

دوسرا ایک موضوع ہے – کیا کبھی ہم نے اپنے تھانے کے کلچر پر زور دیا ہے۔ ہمارا تھانہ ایک سماجی اعتماد کا مرکز کیسے بنے، اس کا انوائرمینٹ، آج تھانہ دیکھئے صفائی کا جذبہ ہوتا ہے، یہ ٹھیک ہے۔ کچھ علاقوں میں تھانے بہت پرانے ہیں، خستہ حالت میں ہیں، یہ میں جانتا ہوں، لیکن صاف ستھرا رکھنا تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ہم طے کریں کہ میں جہاں جاؤں گا، میرے ہاتھ کے نیچے 200-100-50، جو بھی تھانے ہوں گے اس میں یہ 15-12 چیزیں میں کاغذ پر طے کروں گا، یہ باکل پکّا کر دوں گا۔ آدمی کو میں بدل پاؤں، نہ بدل پاؤں، نظام کو میں بدل سکتا ہوں۔ میں انوائرمینٹ کو بدل سکتا ہوں۔ کیا آپ کی priority میں یہ چیز ہو سکتی ہے۔ اور آپ دیکھئے فائلیں کیسے رکھنا، کوئی آئے تو بلانا، بیٹھانا، یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں آپ کر لیجئے۔

کچھ پولیس کے لوگ جب نئے ڈیوٹی پر جاتے ہیں، تو ان کو لگتا ہے میرا رعب پہلے میں دکھاؤں۔ لوگوں کو میں ڈرا دوں، میں لوگوں میں ایک اپنا حکم چھوڑ دوں۔ اور جو anti-social element ہیں، وہ تو میرے نام سے ہی کانپنے چاہئیں۔ یہ جو سنگھم والی فلمیں دیکھ کر جو بڑے بنتے ہیں، ان کے دماغ میں یہ بھر جاتا ہے۔ اور اس کے سبب کرنے والے کام چھوٹ جاتے ہیں۔ آپ، آپ کے ہاتھ کے نیچے اگر 200-100 لوگ ہیں، 500 لوگ ہیں، ان میں کوالٹی میں چینج کیسے آئے، ایک اچھی ٹیم کیسے بنے، آپ کی سوچ کے مطابق اچھا، آپ دیکھئے، آپ کو دیکھنے کا طریقہ بدل جائے گا۔

عام انسان پر اثر پیدا کرنا ہے، کہ عام انسان میں محبت کا رشتہ جوڑنا ہے، طے کر لیجئے۔ اگر آپ اثر پیدا کریں گے، تو اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن محبت کا رشتہ جوڑیں گے تو ریٹائر ہو جائیں گے تب بھی جہاں آپ کی پہلی ڈیوٹی رہی ہوگی، وہاں کے لوگ آپ کو یاد کریں گے کہ 20 سال پہلے ایسا ایک نوجوان افسر ہمارے یہاں آیا تھا، زبان تو نہیں جانتا تھا، لیکن جو اس کا برتاؤ تھا لوگوں کے دلوں کو جیت لیا تھا۔ آپ ایک بار عام لوگوں کے دل کو جیت لیں گے، سب بدل جائے گا۔

ایک پولیسنگ میں روایت ہے، میں جب نیا نیا سی ایم بنا تو گجرات میں دیوالی کے بعد نیا سال ہوتا ہے۔ تو ہمارے یہاں ایک فنکشن چھوٹا سا ہوتا ہے جس میں پولیس کے لوگوں سے دیوالی ملن کا پروگرام ہوتا ہے اور وزیر اعلیٰ اس میں ریگولر جاتے ہیں، میں بھی جاتا ہوں۔ جب میں جاتا تھا، پہلے جو وزیر اعلیٰ جاتے تھے، وہ جا کر کے اسٹیج پر بیٹھتے تھے اور کچھ بولتے تھے اور نیک خواہشات پیش کرکے نکل جاتے تھے۔ میں وہاں جتنے لوگوں کو ملتا تھا، تو میں شروع میں جب گیا تو وہاں جو پولیس کے افسران تھے، انہوں نے مجھے روکا۔ بولے، آپ سب سے ہاتھ کیوں ملا رہے ہیں، مت ملائیے۔ اب اس میں کانسٹیبل بھی ہوتے تھے، چھوٹے موٹے ہر قسم کے ملازم ہوتے تھے اور تقریباً 150-100 کی gathering ہوتی تھی۔ میں نے کہا کیوں؟ ارے بولے، صاحب آپ کے تو ہاتھ ایسے ہوتے ہیں کہ آپ ہاتھ ملاتے ملاتے ہوں تو شام کو آپ کے ہاتھ میں سوجن آ جائے گی اور treatment کرنی پڑے گی۔ میں نے کہا، یہ کیا سوچا آپ نے؟ وہ بھی سمجھتا ہے کہ میں جس سے مل رہا ہوں اس کا ہاتھ بڑا عام ہے، تو میں اس سے اسی طرح سے ملوں گا۔ لیکن ایک سوچ، پولیس ڈپارٹمنٹ میں ایسا ہی ہوگا۔ وہ گالی بولے گا، تو تو پھٹکار کرے گا، یہ تصور غلط ہے جی۔

اس کورونا دور کے اندر یہ جو یونیفارم میں جو بنی بنائی شبیہ ہے، وہ پولیس real میں نہیں ہے۔ وہ بھی ایک انسان ہے۔ وہ بھی اپنی ڈیوٹی انسانیت کے مفاد کے لیے کر رہا ہے۔ یہ اس عام شخص میں بھرے گا ہمارے اپنے برتاؤ سے۔ ہم اپنے برتاؤ سے یہ پورا character کیسے بدل سکتے ہیں؟

اسی طرح سے میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر political leaders اور پولیس کا سب سے پہلا مقابلہ ہو جاتا ہے۔ اور جب یونیفارم میں ہوتے ہیں، تو اس کو ایسا لگتا ہے کہ میں ایسا کروں گا تو میرا برابر جمے گا اور 50-5 تالی بجانے وہ تو مل ہی جاتے ہیں۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ ہم ایک ڈیموکریٹک نظام ہیں۔ جمہوریت میں پارٹی کوئی بھی ہو، عوامی نمائندہ کی ایک بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ عوامی نمائندہ کا احترام کرنے کا مطلب ہے جمہوری عمل کا احترام کرنا۔ اس کے ساتھ ہمارے differences ہوں تو بھی ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اس طریقے کو ہمیں اپنانا چاہیے۔ میں میرا اپنا تجربہ بتا رہا ہوں۔ میں جب نیا نیا وزیر اعلیٰ بنا تو یہ جو آپ کو ٹریننگ دے رہے ہیں نا، اتُل، وہ اس وقت مجھے ٹریننگ دے رہے تھے۔ اور میں ان کے انڈر میں ٹرینڈ ہوا ہوں۔ کیوں کہ وہ میرے سکیورٹی انچارج تھے۔ سی ایم سکیورٹی کے۔

تو ایک دن کیا ہوا- مجھے یہ پولیس، تام جھام، مجھے mentally میں فٹ نہیں ہوتا۔ مجھے بڑا اٹ پٹا لگتا ہے، لیکن مجبوراً مجھے اس میں رہنا پڑتا تھا۔ اور کبھی کبھی میں قانون و ضابطہ توڑ کر کار سے اتر جاتا تھا، مجمع میں اتر کر لوگوں سے ہاتھ ملا لیتا تھا۔ تو ایک دن اتُل کَروال نے میرے سے ٹائم لیا۔ میرے چیمبر میں ملنے آئے۔ شاید ان کو یاد ہے کہ نہیں مجھے معلوم نہیں، اور انہوں نے اپنی ناراضگی مجھ پر ظاہر کی۔ کافی جونیئر تھے وہ، میں آج سے 20 سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔

انہوں نے اپنے وزیر اعلیٰ کے سامنے آنکھ میں آنکھ ملا کر کے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، صاحب آپ ایسے نہیں جا سکتے، کار میں سے آپ اپنی مرضی سے نہیں اتر سکتے، آپ ایسے بھیڑ میں نہیں جا سکتے۔ میں نے کہا، بھائی میری زندگی کے تم مالک ہو کیا؟ یہ تم طے کروگے کیا مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں؟ وہ ذرا بھی ہلے نہیں، میں اس کے سامنے بول رہا ہوں آج۔ وہ ذرا بھی ہلے نہیں، ڈِگے نہیں۔ انہوں نے مجھے صاف کہا کہ صاحب آپ ذاتی نہیں ہیں۔ آپ ریاست کی پراپرٹی ہیں۔ اور میری اس پراپرٹی کو سنبھالنا ذمہ داری ہے۔ آپ کو ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا، یہ میری گزارش رہے گی اور میں ضابطوں پر عمل کرواؤں گا۔

میں کچھ نہیں بولا۔ جمہوریت کا احترام بھی تھا، عوامی نمائندہ کا احترام بھی تھا، لیکن اپنی ڈیوٹی کے سلسلے میں بہت ہی polite word میں اپنی بات بتانے کا طریقہ بھی تھا۔ میری زندگی کے وہ بالکل شروعاتی دور تھے وزیر اعلیٰ کے ناتے۔ وہ واقعہ آج بھی میرے ذہن پر مستحکم کیوں ہے؟ کیوں کہ ایک پولیس افسر نے جس طریقے سے اور جس پختگی سے اور جمہوریت میں عوامی نمائندہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بات رکھی تھی، میں مانتا ہوں ہر پولیس کا جوان یہ کام کر سکتا ہے، ہر کوئی کر سکتا ہے۔ ہمیں ان باتوں کو دیکھنا ہوگا۔

ایک اور موضوع ہے – دیکھئے، ان دنوں ٹیکنالوجی نے بہت بڑی مدد کی ہے۔ زیادہ تر ہمیں جو کام پہلے ہماری constabulary level کی جو انفارمیشن ہوتی تھی، انٹیلی جنس ہوتی تھی، اسی سے پولیسنگ کا کام اچھے ڈھنگ سے ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے اس میں تھوڑی کمی آئی ہے۔ اس میں کبھی بھی compromise مت ہونے دینا۔ Constabulary level کی انٹیلی جنس پولیسنگ کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے جی، اس میں کمی مت آنے دینا۔ آپ کو اپنی assets، اپنے ریسورسز، اس کو جتنا پنپا سکتے ہیں، پنپائیں، مگر تھانے کے لوگوں کو تقویت پہنچانی چاہیے، ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ لیکن ان دنوں ٹیکنالوجی اتنی بڑی مقدار میں آسانی سے دستیاب ہے، ان دنوں جتنے بھی کرائم ڈِٹیکٹ ہوتے ہیں، اس میں ٹیکنالوجی بہت مدد کر رہی ہے۔ چاہے سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج ہوں، یا موبائل ٹریکنگ ہو، آپ کی بہت بڑی مدد کرتے ہیں۔ اچھی چیز ہے، لیکن ان دنوں جتنے پولیس کے لوگ سسپینڈ ہوتے ہیں، ان کی وجہ بھی ٹیکنالوجی ہے۔ کیوں کہ وہ کہیں بد تمیزی کر دیتے ہیں، کہیں غصہ کر دیتے ہیں، کہیں بیلینس کھو دیتے ہیں، کبھی ضرورت سے زیادہ کچھ کر دیتے ہیں اور دور کوئی ویڈیو اتارتا ہے، پتہ ہی نہیں ہوتا ہے۔ پھر وہ ویڈیو وائرل ہو جاتا ہے۔ پھر اتنا بڑا میڈیا کا پریشر بن جاتا ہے اور ویسے بھی پولیس کے خلاف بولنے کے لیے زیادہ لوگ مل ہی جاتے ہیں۔ آخرکار سسٹم کو کچھ دن کے لیے تو ان کو سسپینڈ کرنا ہی پڑتا ہے۔ پورے کریئر میں دھبہ لگ جاتا ہے۔

جیسے ٹیکنالوجی مدد کر رہی ہے، ٹیکنالوجی مصیبت بھی کر رہی ہے۔ پولیس کو سب سے زیادہ کر رہی ہے۔ آپ کو trained کرنا ہوگا لوگوں کو۔ ٹیکنالوجی کو مثبت، اچھے سے اچھا، زیادہ سے زیادہ استعمال کیسے ہو، اس پر زور دینا چاہیے۔ اور میں نے دیکھا کہ آپ کے پورے batch میں ٹیکنالوجی کے بیک گراؤنڈ والے لوگ بہت ہیں۔ آج انفارمیشن کی کمی نہیں ہے جی۔ آج انفارمیشن کا analysis اور اس میں سے صحیح چیز نکالنا، big data اور artificial intelligence، سوشل میڈیا، یہ چیزیں اپنے آپ میں آپ کے ایک نئے ہتھیار بن گئے ہیں۔ آپ کو اپنی ایک ٹولی بنانی چاہیے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگ، ان کو جوڑنا چاہیے۔ اور ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی بڑھی ٹیکنالوجی کا ایکسپرٹ ہے۔

میں ایک مثال بتاتا ہوں۔ جب میں سی ایم تھا تو میری سکیورٹی میں ایک کانسٹیبل تھا۔ کانسٹیبل یا تھوڑا اس سے اوپر کا ہوگا، مجھے یاد نہیں ہے۔ بھارت سرکار، یو پی اے گورنمنٹ تھی اور ایک ای میل، وہ ای میل correct نہیں ہو رہا تھا۔ اور بھارت سرکار کے لیے یہ تشویش کا باعث تھا اس معاملے میں۔ تو یہ چیزیں اخبار میں بھی آئیں۔ میری ٹولی میں ایک عام 12ویں کلاس پڑھا ہوا ایک نوجوان تھا، اس نے اس میں دلچسپی لی۔ اور آپ حیران ہو جائیں گے، اس نے اس کو correct کیا اور اس وقت شاید وزیر داخلہ چدمبرم جی تھے۔ انہوں نے اس کو بلایا، اس کو سرٹیفکیٹ دیا۔ یعنی کہ کچھ ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس مہارت ہوتی ہے۔

ہمیں ان کو ڈھونڈنا چاہیے، اس کا استعمال کرنا چاہیے اور ان کو کام میں لگانا چاہیے۔ اگر یہ آپ کرتے ہیں تو آپ دیکھئے کہ آپ کے نئے ہتھیار بن جائیں گے، یہ آپ کی نئی طاقت بن جائے گی۔ اگر آپ کے پاس 100 پولیس کا دستہ ہے، ان وسائل پر اگر آپ کی طاقت آ گئی، انفارمیشن کے analysis میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا؛ آپ 100 نہیں رہ جائیں گے ہزاروں میں تبدیل ہو جائیں گے اتنی طاقت بڑھ جائے گی، آپ اس پر زور دیجئے۔

دوسرا، آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے natural calamities ہوتی تھیں، بہت سیلاب آ گیا، زلزلہ آ گیا، کوئی بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہو گیا، سائیکلون آ گیا۔ تو عام طور پر فوج کے لوگ وہاں پہنچتے تھے۔ اگر لوگوں کو بھی لگتا تھا بھئی چلئے یہ فوج کے لوگ آ گئے ہیں، اب اس مصیبت میں سے نکلنے کے لیے ہم کو بہت بڑی مدد مل جائے گی، یہ بڑا فطری بن گیا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے سبب ہمارے پولیس دستہ کے ہی جوان ہیں، انہوں نے جو کام کیا ہے، اور جس طرح سے ٹی وی کا دھیان بھی انہیں لوگوں پر، ان کا اسپیشل یونیفارم بن گیا ہے، اور پانی میں بھی دوڑ رہے ہیں، مٹی میں بھی دوڑ رہے ہیں، پتھروں پر کام کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی چٹانیں اٹھا رہے ہیں۔ اس نے ایک نئی پہچان بنا دی ہے پولیس محکمہ کی۔

میں آپ سب سے اپیل کروں گا کہ آپ اپنے علاقے میں اپنے خطے میں ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے کام کے لیے جتنی زیادہ ٹولیاں آپ تیار کر سکتے ہیں آپ کو کرنی چاہیے۔ آپ کے پولیس بیڑے میں بھی اور اس علاقے کے لوگوں میں بھی۔

اگر آپ natural calamities میں عوام کی مدد کرنے میں پولیس دستہ کی کیوں کہ ڈیوٹی تو آپ کی آ ہی جاتی ہے، لیکن یہ اگر مہارت ہے تو بڑی آسانی سے اس ڈیوٹی کو آپ سنبھال سکتے ہیں اور ان دنوں اس کی requirement بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور through این ڈی آر ایف، through ایس ڈی آر ایف آپ پورے پولیس بیڑے کی ایک نئی شبیہ، ایک نئی پہچان آج دیش میں بن رہی ہے۔

فخر کے ساتھ آج دیش کہہ رہا ہے کہ دیکھئے بھئی اس بحران کی گھڑی میں پہنچ گئے، عمارت گر گئی، لوگ دبے تھے، پہنچ گئے، انہوں نے نکالا۔

میں چاہوں گا کہ متعدد ایسے شعبے ہیں جس میں آپ لیڈرشپ دے سکتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا ٹریننگ کی بہت بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ہم ٹریننگ کو کبھی کم مت سمجھیں۔ زیادہ تر ہمارے ملک میں سرکاری ملازم کے لیے ٹریننگ کو punishment مانا جاتا ہے۔ ٹریننگ یعنی کوئی نکما افسر ہوگا تو اس کو ٹریننگ کے کام میں لگایا ہوگا، ایسا impression بن جاتا ہے۔ ہم نے ٹریننگ کو اتنا نیچے کر دیا ہے، وہ ہماری ساری good governance کے مسائل کی جڑ میں ہے اور اس میں سے ہم کو باہر آنا ہوگا۔

دیکھئے میں اتُل کروال کی دوبارہ تعریف کرنا چاہوں گا آج۔ اتل کو اس کا، وہ بھی ٹیکنالوجی بیک گراؤنڈ کے ہیں، ایوریسٹ ہو آئے ہیں، بڑے ہمت ور ہیں۔ ان کے لیے پولیس میں کوئی بھی عہدہ حاصل کرنا میں نہیں مانتا ہوں مشکل ہے۔ لیکن آج سے کچھ سال پہلے بھی انہوں نے حیدرآباد میں ٹریننگ کے کام کو خود نے choice سے لیا تھا اور وہاں آکر کام کیا تھا۔ اس بار بھی انہوں نے خود نے choice سے کہا کہ مجھے تو ٹریننگ کا کام دیجئے اور وہ آج وہاں آئے ہیں۔ اس کی بہت بڑی اہمیت ہوتی ہے جی۔ میں چاہوں گا کہ اس کو اہمیت دی جائے۔

اور اس لیے حکومت ہند نے ایک مشن کرم یوگی، ابھی دو دن پہلے کی کابینہ نے اس کو منظور کیا ہے۔ ہم بہت بڑا وقار دینا چاہتے ہیں اس ٹریننگ کی ایکٹیویٹی کو۔ ایک مشن کرم یوگی کے طور پر دینا چاہتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ اس کو کرنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہے۔ میں ایک اپنا تجربہ اور بتانا چاہتا تھا۔ گجرات میں ایک 72 گھنٹے کا کیپسول بنایا تھا میں نے ٹریننگ کا اور سرکاری افسروں کو تین تین دن کے لیے ہر قسم کے ملازم کے لیے ٹریننگ تھی 72 گھنٹے کی۔ اور بعد میں، میں خود ان کا فیڈ بیک لیتا تھا کیا تجربہ ہوا۔

جب شروع کا دور تھا تو ایک 250 لوگ، جنہوں نے ٹریننگ لی تھی، میں نے ان کی میٹنگ کی، پوچھا بھئی کیسا رہا ان 72 گھنٹے میں؟ زیادہ تر لوگوں نے کہا، صاحب 72 گھنٹوں کو ذرا بڑھانا چاہیے، ہمارے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا، اس میں ایک پولیس والا کھڑا ہوا تھا۔ اس سے میں نے پوچھا کہ بھئی آپ کا کیا تجربہ ہے؟ تو اس نے مجھے کہا، صاحب اس 72 گھنٹے میں میں اب تک پولیس والا تھا، اس 72 گھنٹے نے مجھے انسان بنا دیا۔ ان لفظوں کی بہت بڑی طاقت تھی۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے کوئی مانتا ہی نہیں تھا کہ میں انسان ہوں، سب لوگ یہی دیکھتے تھے کہ میں پولیس والا ہوں۔ اس 72 گھنٹے کی ٹریننگ میں میں نے تجربہ کیا کہ میں صرف پولیس نہیں ہوں، میں ایک انسان ہوں۔

دیکھئے، ٹریننگ کی یہ طاقت ہوتی ہے۔ ہمیں ٹریننگ کی لگاتار، اب جیسے آپ کے یہاں پریڈ، آپ کو پکّا کرنا چاہیے پریڈ کے جو گھنٹے ہیں ایک منٹ کم نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اپنی صحت کی جتنی فکر کریں، اپنے ساتھیوں کو ہمیشہ پوچھتے رہیے، صحت کیسی ہے، ایکسرسائز کرتے ہو نہیں کرتے ہو، weight کنٹرول رکھتے ہو کہ نہیں رکھتے ہو، میڈیکل چیک اَپ کراتے ہو نہیں کراتے ہو۔ ان ساری چیزوں پر زور دیجئے کیوں کہ آپ کا شعبہ ایسا ہے کہ جس میں فزیکل فٹنیس صرف یونیفارم میں اچھا نظر آنے کے لیے نہیں ہے، آپ کی ڈیوٹی ہی ایسی ہے کہ آپ کو اس کو کرنا پڑے گا اور اس میں آپ کو قیادت کرنی ہوگی۔ اور ہمارے یہاں شاستروں میں کہا گیا ہے کہ

یت، یت آچرتی، شریشٹھہ،

تت، تت، ایو، اِترہ، جنہ،

سہ، یت، پرمانم، کُروتے، لوکہ،

تت، انووَرتتے ||21||

یعنی عظیم لوگ جس طرح کا سلوک دکھاتے ہیں، باقی لوگ بھی ویسا ہی سلوک کرتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ آپ ان عظیم شخصیات کی کیٹیگری میں ہیں، آپ اس عظمت کو ثابت کرنے کی کیٹیگری میں ہیں، آپ کو ایک موقع ملا ہے، ساتھ ساتھ ایک ذمہ داری ملی ہے۔ اور جس قسم کی چنوتیوں سے آج انسانی برادری گزر رہی ہے، اس انسانی برادری کی حفاظت کے لیے، ہمارے ملک کے ترنگے کی آن- بان- شان کے لیے، ہندوستانی آئین کے تئیں خود سپردگی کے ساتھ سیوا پرمو دھرمہ؛ rule کی اپنی ایک اہمیت ہے لیکن role، اس کی خاص اہمیت ہے۔

میں rule based کام کروں گا کہ role based کام کروں گا۔ اگر ہمارا role based زیادہ اہم مانیں گے تو rule تو اپنے آپ فالو ہو جائیں گے۔ اور ہمارا رول perfectly ہم نے اس پر عمل کیا تو لوگوں میں اعتماد مزید بڑھ جائے گا۔

میں پھر ایک بار آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ خاکی کی عزت بڑھانے میں آپ کی طرف سے کوئی کمی نہیں رہے گی۔ میری طرف سے بھی آپ کی، آپ کے اہل خانہ کی، آپ کے اعزاز کی جو کچھ بھی ذمہ داریاں نبھانے کی ہیں، اس میں کبھی کمی نہیں آنے دوں گا۔ اسی یقین کے ساتھ آج کے اس مبارک موقع پر بے شمار نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے آپ کو میں خیرباد کہتا ہوں!

شکریہ !

 
بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
PM Modi responds to passenger from Bihar boarding flight for first time with his father from Darbhanga airport

Media Coverage

PM Modi responds to passenger from Bihar boarding flight for first time with his father from Darbhanga airport
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM congratulates Mirabai Chanu for winning Silver medal in weightlifting at Tokyo Olympics 2020
July 24, 2021
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has congratulated Mirabai Chanu for winning the Silver medal in weightlifting at Tokyo Olympics 2020.

In a tweet, the Prime Minister said, "Could not have asked for a happier start to @Tokyo2020! India is elated by @mirabai_chanu’s stupendous performance. Congratulations to her for winning the Silver medal in weightlifting. Her success motivates every Indian. #Cheer4India #Tokyo2020"