وزیر اعظم نے ‘‘ای-وی آئی ٹی اے آر اے ’’ کا افتتاح اور جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جو سوزوکی کی پہلی میک اِن انڈیا عالمی حکمتِ عملی کے متعلق بیٹری الیکٹرک گاڑی ہے۔
میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈکے تحت آج سے بھارت میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیاں 100 ممالک کو برآمد کی جائیں گی اورہائبرڈ بیٹری الیکٹروڈ کی تیاری بھی آج سے شروع ہو رہی ہے:وزیر اعظم
بھارت کے پاس جمہوریت کی طاقت ، آبادیاتی فائدہ اور ماہرانہ افرادی قوت کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو ہر شراکت دار کے لیے فائدے مند صورتحال ہے : وزیر اعظم
دنیا اب وہ الیکٹرک گاڑیاں چلائے گی جن پر لکھا ہو گا میڈ ان انڈیا :وزیر اعظم
میک اِن انڈیا اقدام نے عالمی اور ملکی دونوں مینوفیکچررز کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے:وزیر اعظم
آنے والے وقت میں ہمارا زور مستقبل کی صنعتوں پر ہو گا:وزیر اعظم
بھارت سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بلندی کی طرف گامزن ہے، ملک میں 6 نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس قائم ہونے والے ہیں:وزیر اعظم

ماحول کے لیے سازگارتوانائی  کے شعبے میں آتم نربھر بننے کی طرف بڑی پیش رفت کرتے ہوئےوزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے ہنسل پور میں گرین موبلٹی اقدامات   کا افتتاح کیا۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  گنیش چتُرتھی  کے خوشگوار موقع پر، بھارت کے میک ان انڈیا  سفر میں ایک  نیا باب  شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے اسے ‘‘میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ’’کے مشترکہ ہدف کی طرف ایک اہم پیش رفت  قرار دیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج سے بھارت میں تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیاں  100 ممالک کو برآمد  کی جائیں گی۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ملک میں  ہائیبرڈ بیٹری الیکٹروڈ  کی تیاری کا عمل بھی آج سے باضابطہ طور پر شروع ہو رہا ہے۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ یہ دن نہ صرف بھارت کے صنعتی سفر کے لیے اہم ہے بلکہ  بھارت اور جاپان کی دوستی  میں بھی  ایک نئے باب  کا اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت، جاپان اور  سوزوکی موٹر کارپوریشن  کے تمام شہریوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ بھارت کی اس کامیابی کی بنیاد  12–13 سال قبل  رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ  2012 میں، جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے،  تو  ماروتی سوزوکی کو ہنسل پور میں زمین الاٹ  کی گئی تھی۔ اُس وقت بھی وژن آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کا تھا۔انہوں نے کہاکہ آج وہی ابتدائی کوششیں، ملک کے موجودہ عزم کو پورا کرنے میں اہم کردار  ادا کر رہی ہیں۔

 

آنجہانی اوسامو سوزوکی  کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  حکومت ہند  نے انہیں  پدم وبھوشن  ایوارڈ سے نوازنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جناب اوسامو سوزوکی نے ماروتی سوزوکی انڈیا کے لیے جو خواب دیکھا تھا، آج وہ وژن تیزی سے حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ بھارت کے پاس جمہوریت کی طاقت ہے، آبادیاتی فائدہ ہے اور ہنرمند افرادی قوت کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو ہر شراکت دار کے لیے ایک فائدے مند صورتحال  ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ  سوزوکی جاپان بھارت میں مینوفیکچرنگ کر رہا ہے  اور یہاں تیار کی جانے والی گاڑیاں  واپس جاپان کو برآمد  کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نہ صرف  بھارت-جاپان تعلقات کی مضبوطی  کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ  عالمی کمپنیاں بھارت پر بڑھتے اعتماد  کا اظہار کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ  ماروتی سوزوکی جیسی کمپنیاں  اب حقیقتاً  میک ان انڈیا  کی  برانڈ ایمبیسیڈر  بن چکی ہیں۔وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ  چار برسوں سے ماروتی سوزوکی بھارت کی سب سے بڑی کار برآمد کنندہ  رہی ہے، اور آج سے  الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات بھی  اسی سطح پر شروع کی جا رہی ہیں۔دنیا کے درجنوں ممالک میں جو ای ویز سڑکوں پر چلیں گی، ان پر فخر سے لکھا ہوگا-میڈ ان انڈیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ای وی  ماحولیاتی نظام میں  سب سے اہم عنصر بیٹری  ہے۔چند سال قبل تک  بھارت تمام بیٹریاں درآمد  کرتا تھا، مگر  مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ کا آغاز  اب ناگزیر ہو چکا تھا۔انہوں نے یاد دلایا کہ  2017 میں ٹی ڈی ایس جی  بیٹری پلانٹ  کی بنیاد اسی ویژن کے ساتھ رکھی گئی تھی۔انہوں نے اعلان کیا کہ ٹی ڈی ایس جی کی نئی پہل کے تحت،  تین جاپانی کمپنیاں مشترکہ طور پر بھارت میں بیٹری سیلز تیار کریں گی۔  اس کے ساتھ ساتھ  بیٹری سیل الیکٹروڈز بھی بھارت میں تیار  کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مقامی تیاری  بھارت کو آتم نربھر بنانے میں طاقت دے گی  اور  ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل سیکٹر کی ترقی کو تیز  کرے گی۔ انہوں نے اس تاریخی شروعات پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ برس پہلے تک ای ویز کو محض ایک متبادل کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن اب ای ویز کئی مسائل کا پائیدار اور مؤثر حل فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ  گزشتہ سال سنگاپور کے دورے  کے دوران، انہوں نے  پرانے گاڑیوں اور ایمبولینسز کو ہائبرڈ  ای ویز  میں تبدیل  کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔وزیر اعظم نے  ماروتی سوزوکی کی تعریف  کی کہ انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور صرف  چھ ماہ میں ایک پروٹو ٹائپ تیار  کیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے خود ہائبرڈ ایمبولینس کا پروٹو ٹائپ دیکھا ہے، جو  پی ای ڈرائیو  اسکیم  کے مکمل مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ  11,000 کروڑ روپے کی اس اسکیم  کے تحت  ای-ایمبولینسز کے لیے مخصوص بجٹ  مختص کیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہائبرڈ ای ویزنہ صرف  ماحولیاتی آلودگی کم  کریں گی بلکہ  پرانے گاڑیوں کی تجدید  کا مؤثر راستہ بھی فراہم کریں گی۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ صاف توانائی اور صاف آمدورفت  ہی بھارت کا مستقبل ہے۔ان کوششوں کے ذریعے بھارت تیزی سے کلین انرجی اور کلین موبلٹی کا ایک قابلِ اعتماد عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جب دنیا سپلائی چین میں خلل جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، بھارت کی گزشتہ دہائی کی پالیسی فیصلے نہایت مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ  2014 میں ملک کی خدمت کا موقع ملتے ہی ، اس بڑی تبدیلی کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسی وقت   میک اِن انڈیا  مہم  شروع کی گئی اور  عالمی و مقامی مینوفیکچررز کے لیے سازگار ماحول  تیار کیا گیا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارت اپنی مینوفیکچرنگ کو  مزید مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق بنانے  پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صنعتی راہداریاں تیار کی جا رہی ہیں،پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر  اورلوجسٹک پارکس  ملک بھر میں قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ  پیداوار سے متعلق ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم  کے تحت  متعدد شعبوں کے مینوفیکچررز کو مالی مراعات  دی جا رہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اہم اصلاحات  کے ذریعے سرمایہ کاروں کو درپیش  طویل المدتی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات سے  بھارتی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کا عمل آسان  ہوا ہے۔الیکٹرانکس کی پیداوار  پچھلے 10 سال میں  500 فیصد  بڑھی(2014 کے مقابلے)موبائل فونز کی پیداوار  میں  2700 فیصد اضافہ  ہوا ۔دفاعی پیداوار  میں بھی گزشتہ دہائی میں  200 فیصد سے زائد اضافہ  ریکارڈ کیا گیا۔وزیر اعظم نے کہایہ کامیابی پورے بھارت کی ریاستوں کے لیے محرک بن گئی ہے  اور ریاستوں کے درمیان ایک  مثبت مقابلہ  پیدا ہوا ہے، جو اصلاحات و سرمایہ کاری میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے تمام ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی پسند پالیسیز اور اصلاحات اپنائیں،  اور سرمایہ کاروں کے لیے  ایز آف ڈوئنگ بزنس  بہتر بنائیں تاکہ  عالمی سرمایہ کاری  کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔

 

وزیر اعظم نے پُرعزم انداز میں کہاکہ بھارت یہیں نہیں رکے گا۔  جن شعبوں میں بھارت نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے، وہاں  اب کمال کی نئی بلندیوں  کو چھونا ہمارا ہدف ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی‘‘مشن مینوفیکچرنگ’’  کو اولین ترجیح ہے، تاکہ بھارت کو صنعتی طاقت بنایا جا سکے۔

 انہوں نے کہاکہ مستقبل کے لیے تیار صنعتیں بھارت کی اگلی توجہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیمی کنڈکٹر سیکٹر  میں بھارت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔  ملک بھر میں6 نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس  قائم کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ  میں بھارت کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ  حکومت ہند آٹو انڈسٹری کو درپیش چیلنجز  سے بھی بخوبی آگاہ ہے، خاص طور پر  ریئر ارتھ میگنٹس کی کمی کے مسئلے سے۔ اس چیلنج سے نمٹنے اور بھارت کی قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے، انہوں نے  ‘‘نیشنل کرٹیکل منرل مشن’’ کے آغاز کا اعلان کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس مشن کے تحت بھارت کے مختلف علاقوں میں 1,200 سے زائد تحقیقی مہمات چلائی جائیں گی، تاکہ  اہم معدنیات کی شناخت کی جا سکے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وہ  اگلے ہفتے جاپان کا دورہ  کریں گے۔انہوں نے زور دیا کہ بھارت اور جاپان کے درمیان رشتہ صرف سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔انہوں نے کہادونوں ممالک ایک دوسرے کی ترقی میں اپنی ترقی دیکھتے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ  ماروتی سوزوکی کے ساتھ جو سفر شروع ہوا تھا، آج وہ  بلٹ ٹرین  کی رفتار تک پہنچ چکا ہے۔وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جب  وائبرینٹ گجرات سمٹ  کی شروعات  20 سال پہلے  ہوئی تھی، تو  جاپان ایک کلیدی شراکت دار  تھا۔انہوں نے کہا گجرات کے عوام نے  جاپانی مہمانوں کی مہمان نوازی  میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔صنعتی قوانین و ضوابط کو جاپانی زبان میں  شائع کیا گیا تاکہ انہیں بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔جاپانی کھانوں کا خصوصی بندوبست  کیا گیا تاکہ انہیں گھر جیسا احساس ملے  کیونکہ جاپانی لوگ  گالف کھیلنے کے شوقین  ہیں، اس لیے  7-8 نئے گالف کورسز  تیار کیے گئے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارتی کالج اور یونیورسٹیاں اب جاپانی زبان کی تعلیم کو ترجیح دے رہی ہیں  تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ  بھارت اور جاپان اب مہارت کی ترقی اور انسانی وسائل کی ضروریات میں ایک دوسرے کا تعاون کر سکتے ہیں۔انہوں نے  ماروتی سوزوکی جیسی کمپنیوں سے اپیل  کی کہ اس طرح کے پروگراموں میں فعال حصہ لیں اور  بھارتی و جاپانی نوجوانوں کے درمیان تبادلہ کہ پروگراموں   کو فروغ دیں۔

 

وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام اہم شعبوں میں آئندہ برسوں میں مسلسل ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ آج کی کوششیں 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد کو مزید مضبوط کریں گی۔انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس یقین دہانی کے ساتھ کیا کہ جاپان اس ہدف کو حاصل کرنے میں بھارت کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔

اس پروگرام میں گجرات کے وزیر اعلیٰ  جناب  بھُوپندر بھائی پٹیل، بھارت میں جاپان کے سفیر  جناب  اونو کیئیچی ،

   سوزوکی موٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام اور دیگر معزز مہمان اس موقع پر موجود تھے۔

 

پس منظر:

وزیر اعظم نے احمدآباد کے  ہنسل پور  میں واقع  سوزوکی موٹر پلانٹ  میں دو تاریخی اقدامات کا افتتاح کیا۔ یہ دونوں سنگ میل بھارت کو  گرین موبلٹی  کا عالمی مرکز بنانے اور وزیر اعظم کے وژن میک ان انڈیا   اور   آتم نربھر بھارت   کو آگے بڑھانے کی اہم علامت ہیں۔

میک این انڈیا کی کامیابی کی ایک اہم مثال پیش کرتے ہوئے وزیرا عظم نے ای -وی آئی ٹی اےآراے کا سوزوکی کی  پہلی عالمی حکمتِ عملی پر مبنی بیٹری الیکٹرک وہیکل (بی ای وی) کا افتتاح اور ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔مکمل طور پر بھارت میں تیار کردہ  ان گاڑیوں کو  100 سے زائد ممالک  میں برآمد کیا جائے گا، جن میں یورپ اور جاپان  جیسے ترقی یافتہ مارکیٹس بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  بھارت، سوزوکی کے لیے عالمی مینوفیکچرنگ ہب  بن گیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے گجرات میں ٹی ڈی ایس لیتھیم آئن بیٹری پلانٹ میں ہائبرڈ بیٹری الیکٹروڈ کی مقامی پیداوار کے آغاز کے ساتھ ہندوستان کے بیٹری ماحولیاتی نظام کے اگلے مرحلے کا بھی افتتاح کیا۔ توشیبا، ڈینسو اور سوزوکی کا مشترکہ منصوبہ، یہ پلانٹ مقامی مینوفیکچرنگ اور صاف توانائی کی اختراع کو فروغ دے گا۔ اس نئی ترقی سے  بیٹری کی کل قیمت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ  اب بھارت میں ہی تیار ہوگا۔یہ تمام اقدامات بھارت کو  صاف توانائی، سبز ٹیکنالوجی، اور عالمی آٹو مارکیٹ میں خودکفالت  کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India-EU FTA weaves new hope into $100 billion textile export dream

Media Coverage

India-EU FTA weaves new hope into $100 billion textile export dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Arya Vaidya Sala has played a significant role in preserving, protecting and advancing Ayurveda: PM Modi
January 28, 2026
Ayurveda in India has transcended time and region, guiding humanity to understand life, achieve balance and live in harmony with nature: PM
We have consistently focused on preventive health, the National AYUSH Mission was launched with this vision: PM
We must adapt to the changing times and increase the use of modern technology and AI in Ayurveda: PM


Shri Rajendra Arlekar, Governor of Kerala, all the dignitaries associated with Arya Vaidya Sala, ladies and gentlemen,

It is a pleasure for me to join you all on this solemn occasion. Arya Vaidyasala has played a significant role in preserving, protecting, and advancing Ayurveda. In its 125-year journey, this institution has established Ayurveda as a powerful system of treatment. On this occasion, I remember the contributions of Arya Vaidyasala's founder, Vaidyaratnam P.S. Varier. His approach to Ayurveda and his dedication to public welfare continue to inspire us.

Friends,

Arya Vaidyasala in Kerala is a living symbol of India's healing tradition, which has served humanity for centuries. Ayurveda in India has not been confined to any one era or region. Throughout time, this ancient system of medicine has shown the way to understand life, achieve balance, and live in harmony with nature. Today, Arya Vaidyasala manufactures over 600 Ayurvedic medicines. The organization's hospitals in various parts of the country treat patients using Ayurvedic methods, including those from over 60 countries around the world. Arya Vaidyasala has built this trust through its work. When people are in pain, all of you become a great source of hope for them.

Friends,

For Arya Vaidya Sala, service is not just an idea, this spirit is also visible in their action, approach and institutions. The Charitable Hospital of the organization has been continuously serving the people for the last 100 years, 100 years is not a small time, for 100 years. Everyone associated with the hospital has contributed in this. I also congratulate the Vaidyas, doctors, nursing staff and all others of the hospital. You all deserve congratulations for completing the 100 years journey of the Charitable Hospital. The people of Kerala have kept the traditions of Ayurveda alive for centuries. You are preserving and promoting those traditions as well.

Friends,

For a long time, ancient medical systems in the country were viewed in silos. Over the last 10-11 years, this approach has undergone a significant shift. Healthcare is now being viewed holistically. We have brought Ayurveda, Unani, Homeopathy, Siddha, and Yoga under one umbrella, and a Ministry of AYUSH has been specifically created for this purpose. We have consistently focused on preventive health. With this vision, the National AYUSH Mission was launched, and more than 12,000 AYUSH Wellness Centers were opened, providing yoga, preventive care, and community health services. We have also connected other hospitals in the country with AYUSH services and focused on the regular supply of AYUSH medicines. The objective is clear: to ensure that people in every corner of the country benefit from the knowledge of India's traditional medicine.

Friends,

The government's policies have clearly shown an impact on the AYUSH sector. The AYUSH manufacturing sector has grown rapidly and expanded. To promote Indian traditional wellness to the world, the government has established the AYUSH Export Promotion Council. Our effort is to promote AYUSH products and services in global markets. We are seeing its very positive impact. In the year 2014, AYUSH and herbal products worth approximately Rs 3 thousand crores were exported from India. Now, AYUSH and herbal products worth Rs 6500 crores are being exported from India. The farmers of the country are also getting huge benefits from this.

Friends,

Today, India is also emerging as a trusted destination for AYUSH-based medical value travel. Therefore, we have taken steps like the AYUSH Visa. This is providing better access to AYUSH medical facilities to people coming from abroad.

Friends,

To promote ancient medical systems like Ayurveda, the government is proudly showcasing it on every major platform. Whether it's the BRICS summit or the G-20 meeting, wherever I got the opportunity, I presented Ayurveda as a medium for holistic health. The World Health Organization (WHO)'s Global Traditional Medicine Centre is also being established in Jamnagar, Gujarat. The Institute of Teaching and Research in Ayurveda has started functioning in Jamnagar itself. To meet the growing demand for Ayurvedic medicines, medicinal farming is also being promoted on the banks of the river Ganga.

Friends,

Today, I want to share with you another achievement of the country. You all know that a historic trade agreement has just been announced with the European Union. I am happy to inform you that this trade agreement will provide a major boost to Indian traditional medicine services and practitioners. In EU member states where regulations do not exist, our AYUSH practitioners will be able to provide their services based on their professional qualifications acquired in India. This will greatly benefit our youth associated with Ayurveda and Yoga. This agreement will also help in establishing AYUSH wellness centers in Europe. I congratulate all of you associated with Ayurveda and AYUSH on this agreement.

Friends,

Ayurveda has been used for treatment in India for centuries. However, it is unfortunate that we have to explain the importance of Ayurveda to people, both in the country and abroad. A major reason for this is the lack of evidence-based research and research papers. When the Ayurvedic system is tested on the principles of science, people's faith is strengthened. Therefore, I am happy that Arya Vaidya Shala has continuously tested Ayurveda on the touchstone of science and research. It is working in collaboration with institutions like CSIR and IIT. Drug research, clinical research, and cancer care have also been your focus. Establishing a Centre of Excellence for Cancer Research, in collaboration with the Ministry of AYUSH, is an important step in this direction.

Friends,

Now, we must increase the use of modern technology and AI in Ayurveda to adapt to the changing times. Much innovation can be done to diagnose disease and develop different treatments.

Friends,

Arya Vaidya Shala has demonstrated that tradition and modernity can coexist, and that healthcare can become a foundation of trust in people's lives. This institution has adapted to modern needs while preserving the ancient wisdom of Ayurveda. Treatment has been streamlined and services have been made accessible to patients. I once again congratulate Arya Vaidya Shala on this inspiring journey. I wish that this institution continues to improve people's lives with the same dedication and spirit of service in the years to come. Thank you very much.