سمویدھان دیوس کے موقع پر وزیراعظم کا خط

Published By : Admin | November 26, 2025 | 09:00 IST

 

نمستے!


ہر ہندوستانی کے لیے26نومبر بے پناہ فخر کا دن ہے۔ اسی دن 1949 میں دستور ساز اسمبلی نے ہندوستان کے آئین کو اپنایا، جو ایک مقدس دستاویز ہے جو واضح نقطہ نظر اور اعتماد کے ساتھ ملک کی ترقی کی رہنمائی کرتا رہاہے۔ اسی لیے، تقریباً ایک دہائی قبل 2015 میں، این ڈی اے حکومت نے 26 نومبر کو یوم آئین کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔
یہ ہمارے آئین کی طاقت ہے جس نے مجھ جیسے ایک سادہ اور معاشی طور پر پسماندہ خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کو 24 سال سے زائد عرصے تک مسلسل حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرنے کے قابل بنایا۔ مجھے 2014 کے وہ لمحات آج بھی یاد ہیں، جب میں پہلی بار پارلیمنٹ میں آیا اور جمہوریت کے اس سب سے بڑے مندر کی سیڑھیوں پر جھک کر اسے چھوا۔ ایک بار پھر، 2019 میں، انتخابی نتائج کے بعد، جب میں سمویدھان سدن کے سینٹرل ہال میں داخل ہوا، تو میں جھکا اور تعظیم کے طور پر آئین کو

اپنے ماتھے پر رکھا۔ اس آئین نے میری طرح بہت سے لوگوں کو خواب دیکھنے اور اس کے لیے کام کرنے کی طاقت دی ہے۔
یوم آئین پر، ہم دستور ساز اسمبلی کے تمام متاثر کن اراکین کو یاد کرتے ہیں، جن کی صدارت ڈاکٹر راجندر پرساد نے کی، جنہوں نے آئین بنانے میں اپنابیش بہا تعاون دیا۔ ہم ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کی کوششوں کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے مسودہ کمیٹی کی صدارت بہترین

دور اندیشی کے ساتھ کی۔ دستور ساز اسمبلی کی کئی معزز خواتین ارکان نے اپنی فکرانگیز تجاویز اور بصیرت انگیز نقطہ ٔنظر سے آئین کو تقویت بخشی۔
میرے ذہن میں سال 2010 کا خیال آتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کے آئین کو 60 سال مکمل ہوئے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس موقع کو قومی سطح پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی یہ مستحق تھی لیکن آئین کے تئیں اپنے اجتماعی تشکر اور وابستگی کے

اظہار کے لیے، ہم نے گجرات میں ایک ’سمویدھان گورو یاترا‘ کا اہتمام کیا۔ ہمارے آئین کو ایک ہاتھی پر رکھا گیا اور مجھے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کئی دوسری سرکرہ شخصیات کے ساتھ جلوس کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

جب آئین کو 75 برس مکمل ہوئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ ہندوستان کے لوگوں کے لیے ایک غیر معمولی سنگ میل ہوگا۔ ہمیں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کرنے اور اس تاریخی موقع کی یاد میں ملک گیر پروگرام شروع کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان پروگراموں نے ریکارڈ تعداد میں عوامی شرکت کا مشاہدہ کیا۔

اس سال کا یوم آئین کئی معنوں میں خاص ہے۔
یہ دو غیر معمولی شخصیات، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور بھگوان برسا منڈا کا150 واں یوم پیدائش ہے۔ ان دونوں نے ہمارے ملک کی تعمیر میں بیش بہاخدمات انجام دیں۔ سردار پٹیل کی دور اندیش قیادت نے ہندوستان کے سیاسی اتحاد کو یقینی بنایا۔ یہ ان کی حوصلہ افزائی اور اعتماد سے بھرپور ہمت تھی جس نے آرٹیکل 370 اور 35(اے)کے خلاف کارروائی کے لیے ہمارے اقدامات کی رہنمائی کی۔ ہندوستان کا آئین اب جموں و کشمیر میں مکمل طور پر نافذ ہے، جو لوگوں بالخصوص خواتین اور پسماندہ طبقے کے تمام آئینی حقوق کو یقینی بناتا ہے۔ بھگوان برسا منڈا کی زندگی ہماری قبائلی برادریوں کے لیے انصاف، وقار اور بااختیار بنانے کے لیے ہندوستان کے عزم کو ترغیب دیتی رہے گی۔
اس سال، ہم وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں، جس کے الفاظ صدیوں سے ہندوستانیوں کے اجتماعی عزم کے ساتھ گونجتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ہم شری گرو تیغ بہادر جی کے 350ویں یومِ شہادت کو یاد کرتے ہیں، جن کی زندگی اور قربانی ہمیں ہمت، ہمدردی اور طاقت سے حوصلہ دیتی رہتی ہے۔
یہ تمام شخصیات اور سنگ میل ہمیں ہمارے فرائض کی بالادستی کی یاد دلاتے ہیں، جس پر آئین بھی آرٹیکل 51 اے میں بنیادی فرائض سے متعلق ایک وقف باب کے ذریعے زور دیتا ہے۔ یہ فرائض ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ کس طرح ہم اجتماعی طور پر سماجی اور اقتصادی ترقی حاصل کرسکتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی نے ہمیشہ شہریوں کے فرائض پر زور دیا۔ اُن کا یقین تھا کہ کسی فرض کی سچی ادائیگی ایک مربوط حق کو جنم دیتی ہے اور سچائی پر مبنی حقوق دراصل فرائض کی انجام دہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اس صدی کو شروع ہوئے 25 برس پہلے ہی گزر چکے ہیں۔ اب سے صرف دو دہائیوں میں، ہم نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے 100 سال کا جشن منائیں گے۔ 2049 میں آئین کو منظور ہوئے سو برس مکمل ہو جائیں گے۔ ہم جو پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں، جو فیصلے

ہم آج لیتے ہیں اور ہمارے اجتماعی اقدامات آنے والی نسلوں کی زندگیوں کی تشکیل دیں گے۔
جیسا کہ ہم وِکست بھارت کے خواب کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے ترغیب حاصل کرکے، ہمیں ہمیشہ اپنے ملک کے تئیں اپنے فرائض کو اپنے ذہنوں میں اوّلین ترجیح دینی چاہیے۔
ہمارے ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور یہ ہمارے اندر سے شکرگزاری کا گہرا احساس دلاتا ہے اورجب ہم اس احساس کے ساتھ جیتے ہیں، تو اپنے فرائض کو پورا کرنا ہماری فطرت کا لازمی جزو بن جاتا ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر کام میں اپنی پوری صلاحیت اور لگن کو بروئے کار لایا جائے۔ ہمارا ہر عمل آئین اور ملکی اہداف اور مفادات کو مزید مضبوط کرے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آئین سازوں کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کریں۔ جب ہم فرض شناسی کے اس جذبےکے ساتھ کام

کریں گے تو ہمارے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں کئی گنا اضابہ ہوگا۔
ہمارے آئین نے ہمیں رائے دہی کا حق دیا ہے۔ شہری ہونے کے ناطے، ہمارا فرض ہے کہ قومی سطح پر،ہم جہاں بھی رجسٹرڈ ہیں، وہاں ریاستی اور مقامی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ہرگز ضائع نہ کریں۔ دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہر سال 26 نومبر کو اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں، جن میں اُن نوجوانوں کو اعزاز دیا جائے جو 18 سال کے ہو رہے ہوں۔ اس طرح ہمارے پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ وہ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ ملک

کی تعمیر کے عمل میں باقاعدہ فعال طور پرشریک بھی ہیں۔
جب ہم اپنے نوجوانوں کو ذمہ داری اور فخر کے احساس سے متاثر کریں گے تو وہ زندگی بھر جمہوری اقدار کے پابند رہیں گے۔ عزم کا یہی احساس ایک مضبوط ملک کی بنیاد ہے۔

آئیے، اس یوم دستور پر، اس عظیم ملک کے شہری ہونے کے ناطے اپنے فرائض کو پورا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم سب ایک وِکست بھارت کی تعمیر میں بامعنی تعاون دے سکتے ہیں جو ترقی یافتہ اور بااختیار ہو۔
آپ کا،
نریندر مودی

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Make in India' radar programme to help Tejas track targets gets Rs 2,205 crore boost

Media Coverage

'Make in India' radar programme to help Tejas track targets gets Rs 2,205 crore boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
ایک ایسی زندگی جو بھارت کی یکجہتی اور ترقی کے لیے وقف تھی
July 06, 2026

آج، 6 جولائی، ان لاتعداد لوگوں کے لیے ایک خاص دن ہے جو قوم پرستی اور بے لوث خدمت کے نظریات کی پاسداری کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125 ویں یوم پیدائش کی یاد مناتے ہیں، جن کی زندگی مادر ہند کے لیے جرات اور اٹوٹ وابستگی کی لازوال مثال ہے۔ جدید بھارت میں بہت کم لیڈروں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی طرح عقل، عوامی خدمت اور اخلاقی یقین کے سنگم کو بغیر کسی رکاوٹ کے مجسم کیا۔

نوجوان شیاما پرساد ایسے حالات میں پیدا ہوئے تھے جو انہیں آسانی سے محفوظ اور آرام دہ زندگی کی ضمانت دے سکتا تھا۔ ان کے والد، سر آشوتوش مکھرجی، اپنی عمر کے صف اول کے ماہر تعلیم اور دانشوروں میں سے تھے۔ پھر بھی، جب کہ تقدیر نے ان کے سامنے استحقاق کا راستہ رکھا، ان کا ضمیر انہیں قربانی اور قومی خدمت کی طرف لےگیا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ اپنے دور کی ہنگامہ خیزیوں کا خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، چاہے وہ استعماریت، فرقہ واریت، انسانیت سوز چیلنجز ہو وہ اس سے لڑے۔ اس سفر کے دوران، انہوں نے گہرے ذاتی سانحات کا سامنا کیا، جس میں ایک شیر خوار بچے اور بعد میں، ان کی بیوی کا انتقال بھی شامل ہے۔ پھر بھی، ان سانحات نے اس کے عزم کو مزید گہرا کیا اور خدمت کرنے کے اس کے غیر متزلزل عزم کو مضبوط کیا۔

اگر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی عوامی زندگیکا سب سے بڑا نظریہ تھا تو وہ بھارت کی ناقابل تقسیم ہونا تھا۔ وہ تقسیم کے ہنگامے کے دوران ثابت قدم رہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مغربی بنگال بھارت کا اٹوٹ حصہ رہے۔ چند سال بعد، اسی یقین نے انہیں جموں و کشمیر کی طرف راغب کیا۔ قید نے انہیں روکا نہیں اور تنہائی نے انہیں کمزور نہیں کیا۔ ان کی زندگی حراست میں اچانک ختم ہو گئی، ان گنت لوگوں سے دور جن کے کاز کو انہوں نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا تھا۔ تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی فرد کی آخری قربانی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی یادداشت کے دائرے میں داخل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی کا آخری سفر ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ آچاریہ ونوبا بھاوے نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو ایک ایسے مقصد کے لیے قربان کر دیا جس میں انہیں یقین تھا۔ برسوں بعد، 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35(اے) کی منسوخی ان کی قربانی کے لیے سب سے موزوں خراج تحسین تھی۔

ڈاکٹر مکھرجی نےبھارت کو سب سے پہلے اور بھارتیہ اقدار کومقدم رکھا۔ اور انہوں نے یہ کام ایسے اداروں کی تعمیر اور نظام کی پرورش کے ذریعے کیا جو اس زمانے کی روایتی ذہنیت کے خلاف تھے۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے سب سے کم عمر وائس چانسلر بنے۔ اپنے منفرد انداز میں انہوں نے ایسی مثبت تبدیلیاں لائیں جو حب الوطنی اور مستقبل پر مبنی تھیں۔ ماہرین تعلیم کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے اسے حیرت انگیز طور پر پیش کیا جب انہوں نے کہا’تعلیمی اداروں کو ممکنہ کلرک اور کم تنخواہ والا عملہ پیدا کرنے کے لیے فیکٹریوں کے طور پر دیکھنا غلط ہے۔ ہمیں ایسے طلباء کو باہر نکالنا ہوگا جو ہمارے خود مختار اداروں، جیسے میونسپل کارپوریشنز، صوبائی اور مرکزی قانون ساز اداروں کے مختلف شعبوں میںمالی، تجارتی اور صنعتی کے طور پر براہ راست قیادت فراہم کرنے کے قابل ہوں۔

ان کی قیادت میں کلکتہ یونیورسٹی نے لائبریری کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، سائنس میں تحقیق کو فروغ دینے، نوادرات کے مطالعہ کی حوصلہ افزائی اور زراعت میں کورسز قائم کرنے جیسی منفرد کوششیں کیں۔ انہوں نے کھیلوں، اساتذہ کی تربیت اور طلباء کی فلاح و بہبود جیسے شعبوں کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ طلباء اور سابق طلباء میں فخر کا احساس پیدا کرنے کے لیے، انہوں نے 24 جنوری کو یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے طور پرجشن منانے کی مشق شروع کی۔ انہوں نےکسی اور سے نہیں بلکہ گرودیو ٹیگور سے یونیورسٹی کے لیے ایک گانا لکھنے کی درخواست کی۔

اس جذبے کی ایک اور مثال ان کی زندگی کے آخری حصے میں دیکھی جا سکتی ہے، جب انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب کانگریس پارٹی ہمہ گیر تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ ہماری ثقافتی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے بھارت کی ترقی کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ایک متبادل آواز کی اور بھی زیادہ وجہ ہے۔ شاید یہ مناسب تھا کہ پارٹی کا نشان دیایعنی مٹی کا چراغ تھا۔ ایک چراغ معمولی دکھائی دے سکتا ہے، پھر بھی وہ اپنے آپ سے کہیں زیادہ تاریکی کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جو جن سنگھ نے اپنے فعال ہونے اور اس کے بعد کے سالوں میں کیا۔

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا بھارت کے پہلے وزیر صنعت و رسد کے طور پر ایک ایسے سیاستدان کا پتہ چلتا ہے جن کا ترقی کا تصور غیر معمولی طور پر جامع اور انسانی تھا۔ انہوں نے صنعت کو ایک نئی آزاد قوم کے وقار، موقع اور اعتماد کی بحالی کا ذریعہ سمجھا۔ وہ دولت کی تخلیق اور قدر میں اضافے کا احترام کرتے تھے۔ دامودر ویلی کارپوریشن، سندھری فرٹیلائزر پلانٹ اور ایک مضبوط صنعتی پالیسی جیسے اہم اقدامات کے ذریعے جدید صنعتی بھارت کی بنیاد رکھتے ہوئے، انہوں نے ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ بھارت کی روایتی طاقتوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ہتھ کرگھا، کاٹیج انڈسٹری، کاریگر اور ٹیکسٹائل ورکرز اس میں برابر کے پرعزم چیمپئن پائے گئے۔

یہاں، میں ایک ذاتی تجربہ بتانا چاہوں گا۔ سندھری پلانٹ، جسے ڈاکٹر مکھرجی نے خود انحصاری کے واضح وژن کے ساتھ قائم کرنے کے لیے کام کیا، کئی دہائیوں تک ملک کو چلانے والوں نے نظر انداز کر دیا۔ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہماری حکومت کو اس کے احیاء میں حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ اس پروگرام کے لیے وہاں موجود ہونا واقعی سب سے خاص لمحات میں سے تھا۔

بھارت کی تہذیبی روایت نے طویل عرصے سے بات چیت اور بات چیت کا جشن منایا ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی نے اس جمہوری جذبے کو مجسم کیا۔ وہ پنڈت نہرو کی کابینہ میں شامل ہوئے، یہ مانتے ہوئے کہ ابتدائی سالوں میں قوم سازی کا کام سیاسی اختلافات سے بالاتر تھا۔ انہوں نے خلوص اور تعمیری جذبے کے ساتھ خدمت کی۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ قومی اہمیت کے سوالات ایک مختلف راستہ کا تقاضا کرتے ہیں، تو انہوں نے وقار کے ساتھ عہدہ چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو پورے دل سے سیاسی کام کے لیے وقف کر دیا جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ قوم کی ضرورت ہے۔

پچھتر سال پہلے، پنڈت نہرو پہلی ترمیم لائے، جو آزادی اظہار پر براہ راست حملہ تھا۔ ڈاکٹر مکھرجی اس کے سخت ترین ناقدین میں سے تھے۔ وہ پوری طرح سمجھ گئے تھے کہ کانگریس کیا کرنے کی اہل ہے۔ اور وہ درست ثابت ہوئے۔ 75 سال پہلے پہلی ترمیم لانے والوں نے 1975 میں ایمرجنسی نافذ کی اور 50 سال پہلے، 42 ویں ترمیم کا ایکٹ لایا جس نے ایک بار پھر لبرل جمہوری اقدار پر کاری ضرب لگائی۔

ڈاکٹر مکھرجی بھی اپنی انسانی کوششوں کے لیے نمایاں رہے۔ 1943 میں جب بنگال میں سب سے زیادہ المناک قحط پڑا تو ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو متاثرین کی خدمت میں غرق کردیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کئی کینٹین اور امدادی مراکز کھولے گئے۔ ایک طرف وہ اپنے لوگوں کی حالت زار سے شدید لرزاںتھے تو دوسری طرف استعماری حکمرانوں کی بے حسی پر نالاںتھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک کتاب پنچشر منونتر بھی لکھی جس میں انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب 1942 میں ایک سپر سائیکلون نے مدنی پور کو نشانہ بنایا تو معمول کی بحالی کی ان کی کوششوں کی بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی۔

کولکتہ کے ایک کالج میں خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے نوجوانوں پر زور دیا’آپ جو بھی کام کریں، اسے سنجیدگی سے، اچھی طرح اور اچھی طرح سے کریں، اسے کبھی بھی آدھا یا ختم نہ ہونے دیں، کبھی بھی اپنے آپ کو مطمئن محسوس نہ کریں جب تک کہ آپ اسے اپنا بہترین نہ دے دیں۔‘ جیسا کہ ملک وکست بھارت کے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم انہیں بہترین خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں کہ وہ مضبوط، متحد، خود اعتمادی اور ہمدردبھارت کی تعمیر کے لیے ہر روز کوشش کریں جس پر وہ اس قدر گہرا یقین رکھتے تھے۔اور آج کے نوجوانوں کو جانتے ہوئے، مجھے یقین ہے کہ وہ اس موقع پر اٹھیں گے اور بالکل ایسا ہی کریں گے۔