تاریخی دورہ اور پائیدار شراکت داری

جمہوریہ قبرص کے صدر جناب نیکوس کرسٹودولیڈیس نے جمہوریہ ٔ ہند کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا 15 تا 16 جون 2025 کوقبر کے سرکاری دورے پر پرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ گزشتہ دو دہائیوں میں کسی  ہندوستانی وزیر اعظم کا قبرص کا پہلا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور دیرینہ تعلقات کا مظہر اور ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ دورہ نہ صرف ایک مشترکہ تاریخ کا جشن ہے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی طرف پیش قدمی کا اظہار ہے جو مشترکہ اسٹریٹجک وژن، باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ علاقائی اور عالمی امور پر وسیع تبادلۂ خیال کیا اور  قبرص اور  ہندوستان کے مابین  وسیع اور مضبوط تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقتصادی، تکنیکی اور عوام سے عوام کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جو تعلقات کی متحرک اور ابھرتی ہوئی نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

 فریقین نے اپنی اقدار، مفادات، بین الاقوامی نقطہ نظر اور وژن میں بڑھتی ہم آہنگی کو تسلیم کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔قبرص اور ہندوستان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کے قابل اعتماد اور ناگزیر شراکت دار کے طور پر علاقائی اور عالمی امن، خوشحالی اور استحکام میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے درج ذیل مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کیا:

 

مشترکہ اقدار اور عالمی عزم

دونوں رہنماؤں نے امن، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، مؤثر کثیرجہتی اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ضابطہ کے مطابق عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا اور بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشنیو این سی ایل او ایس ) پر زور دیا، جو بحری راستوں کی آزادی اور سمندری خودمختار حقوق کو یقینی بناتا ہے۔

رہنماؤں نے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور یوکرین میں جاری جنگ سمیت مختلف بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ ٔ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی عدم پھیلاؤ کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور کامن ویلتھ سمیت بین الاقوامی تنظیموں میں قریبی تعاون کو فروغ دینے کا ارادہ ظاہر کیا  اور 2024 کے اپیا کامن ویلتھ اوشین ڈیکلریشن پر عمل درآمد کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، جس میں سمندری نظم و نسق کو عالمی پائیداری اور استقامت کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اپریل 2024 میں قبرص میں منعقد ہونے والی پہلی کامن ویلتھ اوشین منسٹرز میٹنگ نے نہ صرف ایک اہم موقع فراہم کیا بلکہ ‘‘بلیوچارٹر سینٹر آف ایکسیلنس’’ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو کامن ویلتھ ممالک میں پائیدار سمندری نظم و نسق کو فروغ دے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ تاکہ اسے موجودہ عالمی سیاسی چیلنجز سے ہم آہنگ، مؤثر اور نمائندہ ادارہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی بین الحکومتی مذاکراتی عمل (آئی جی این )کے تحت جاری اصلاحی کوششوں کو آگے بڑھانے کی حمایت کی اور متن کی بنیاد پر مذاکرات کی جانب پیش رفت کے لیے مسلسل کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔ قبرص نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کے ذریعے اسے مزید نمائندہ ادارہ بنانے کے لیے  ہندوستان کو مستقل رکن کے طور پر شامل کرنے کے لئےمکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں فریق نے اقوام متحدہ میں قریبی تعاون اور ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا جس میں کثیرجہتی فورمز پر ایک دوسرے کی امیدواری کی حمایت بھی شامل ہے۔

 

سیاسی  مکالمہ

دونوں فریق نے باقاعدہ سیاسی مکالمے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دو طرفہ میکنزمز کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے،بالخصوص قبرص جمہوریہ کی وزارت خارجہ اورہندوستانی جمہوریہ کی وزارتِ خارجہ کے دمابین ،جس سےمختلف شعبوں میں ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

مذکورہ متعلقہ وزارتیں ان شعبہ جات میں تعاون پر مبنیایکشن پلان کی تیاری میں قریبی رابطہ رکھیں گی اور اس کے نفاذ کی نگرانی اور جائزہ لینے کی ذمہ دار ہوں گی۔ یہ ایکشن پلان دونوں ممالک کے مجاز اداروں کی باہمی مشاورت سے مرتب کیا جائے گا۔

 

خودمختاری اور امن کے لیے حمایت

قبرص اور ہندوستان نے اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی کوششوں کی بحالی کے لیے اپنی بھرپور وابستگی کا اظہار کیا، تاکہ قبرص کے مسئلے کا ایک جامع اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ اس حل کی بنیاد دو زونوں اور دو قوموں پر مشتمل فیڈریشن پر ہو گی، جو سیاسی مساوات کے اصول پر مبنی ہواور جو اقوام متحدہ کے طے شدہ فریم ورک اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو۔

ہندوستان نے قبرص جمہوریہ کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کے لیے اپنی غیر متزلزل اور مستقل حمایت کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ بامعنی مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

 

سلامتی، دفاع اور بحران  کے وقت تعاون

 قبر ص اور  ہندوستان نے ہر قسم کی دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی بشمول بین الاقوامی اور سرحد پار دہشت گردی  کی بلاامتیاز اور سخت الفاظ میں مذمت کی اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والےہائبرڈ خطرات کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

قبرص نے  ہندوستان کے ساتھ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اس کی جدوجہد میں مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے بہیمانہ دہشت گرد انہ حملے میں معصوم شہریوں کے قتلِ عام کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کا کوئی  بھی جواز کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دیگر اقوام کی خودمختاری کا احترام کریں اور ہر شکل میں سرحد پار سے کی جانے والی دہشت گردی کی مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے، پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنے، دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے اور مجرموں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک جامع، مربوط اور مسلسل حکمت عملی کی ضرورت ہےاور اس ضمن میں دو طرفہ، علاقائی اور کثیرجہتی نظام کے تحت مشترکہ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

 

دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف کثیرجہتی کوششوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے دائرہ کار میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جامع کنونشن کو جلد از جلد حتمی شکل دینے اور منظور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے نامزد تمام دہشت گردوں، دہشت گرد تنظیموں، ان کے معاون گروپوں، سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف اجتماعی کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی کے تحت نامزد دہشت گرد۔ انہوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کے ذریعے فعال اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔

عالمی سلامتی کے منظرنامے میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹیجک خودمختاری، دفاعی تیاری اور صلاحیتوں میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا، جس میں دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان اشتراک شامل ہو گا، خاص طور پر سائبر سکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں۔

 ہندوستان اورقبرص کو دو بحری اقوام کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، جن کی گہری بحری روایات ہیں، رہنماؤں نے سمندری تعاون کو وسیع کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستان بحری جہازوں کی قبرص کی بندرگاہوں پرزیادہ اور باقاعدہ آمد و رفت کی حوصلہ افزائی کرنے اور مشترکہ بحری تربیت و مشقوں کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا تاکہ بحری شعور اور علاقائی سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔

اسی تناظر میں اور عالمی سطح پر جاری بحرانوں کے پیش نظر فریقین نے ہنگامی تیاری اور مربوط بحران سے نمٹنے کے ردعمل میں تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ ماضی کے کامیاب تجربات سے سیکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے انخلاء اورسرچ اینڈ ریسکیو (ایس اے آر)آپریشنز میں تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

 

رابطہ اور علاقائی تعاون

قبرص اور ہندوستان ایک اسٹریٹیجک وژن کے حامل ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک مختلف خطوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے انڈیا-مڈل ایسٹ -یوروپ اکنامک کوریڈور (آئی ایم ای سی )کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو ایک انقلابی اور کثیر سطحی منصوبہ ہے اور امن، اقتصادی انضمام، اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتا ہے۔

آئی ایم ای سی کو ایک تعمیری علاقائی تعاون کے محرک کے طور پر دیکھتے ہوئے، دونوں نے مشرقی بحیرۂ روم اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی برصغیر سے لے کر مشرق وسطیٰ اور یورپ تک رابطے کے مزید گہرے مواقع اور راہداریوں کو فروغ دینا نہایت اہم ہے۔

قبرص کےیورپ تک رسائی کے دروازےاورعلاقائی ٹرانس شپمنٹ، ذخیرہ کاری، تقسیم، اور لاجسٹکس کے مرکز کے طور پر اس کے امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے قبرص میں ہندوستانی  شپنگ کمپنیوں کی موجودگی کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نےقبرص اور بھارت کی بحری خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے ذریعے بحری تعاون کو فروغ دینے اور معاشی و لاجسٹک روابط کو مزید مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔

 

یورپی یونین-ہندوستان  اسٹریٹیجک شراکت داری

سال 2026 کے اوائل میں یورپی یونین کی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے قبرص کی تیاریوں کے پیش نظر دونوں رہنماؤں نے یورپی یونین اور  ہندوستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں یورپی کمشنرز کے کالج کے تاریخی دورے کا ذکر کیا اور اس موقع پر شروع کئے گئے پہلےہندوستان–یورپی یونین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ اور اس کے تحت ترجیحی شعبہ جات جیسے تجارت، دفاع و سلامتی، بحری تعاون، رابطہ کاری، صاف و سبز توانائی اور خلا کے میدان میں  ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

قبرص نے اپنی صدارت کے دوران یورپی یونین-ہندوستان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا۔ دونوں فریق نے اس سال کے آخر تک یورپی یونین–بھارت فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو حتمی شکل دینے کی حمایت کا اعلان کیا، جس کی معاشی اور تزویراتی اہمیت کو انہوں نے واضح طور پر تسلیم کیا۔

انہوں نے یوروپی یونین-انڈیا ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل کے جاری کام کی حمایت کی اور اس عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے 2025 کے اسٹریٹیجک روڈ میپ سے آگے بڑھ کر ایک وژنری  ایجنڈاے کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تجارت، اختراع، ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع

قبرص اور ہندوستان کے مابین بڑھتی ہوئی تزویراتی ہم آہنگی کو تسلیم کرتے ہوئےدونوں رہنماؤں نےتجارت، سرمایہ کاری، سائنس، جدت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

تعاون کو فروغ دینے کے لیے، دونوں رہنماؤں نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ قبرص کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ہندوستان کا دورہ کرے گا، جس میں کاروباری نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیےقبرص-انڈیا بزنس فورم کے انعقاد کی بھی تجویز دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نےقبرص–انڈیا بزنس راؤنڈ ٹیبل میں اسٹریٹیجک معاشی شراکت داری کو فروغ دینے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں نےتحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینے، اسٹارٹ اپس، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تحقیق جیسے اہم شعبوں میں اختراعی تبادلےکو یقینی بنانے پر اتفاق کیا تاکہ مستقبل میں اس تعلق سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے جا سکیں۔

نقل و حمل، سیاحت اور عوام سے عوام کا رابطہ

دونوں رہنماؤں نےعوامی تعلقات کو ایک اسٹریٹیجک اثاثہ اور معاشی و ثقافتی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے ایک طاقتور عنصر کے طور پر تسلیم کیا۔ دونوں ممالک نے عہد کیا کہ وہ2025 کے آخر تک ایک موبلٹی پائلٹ پروگرام کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

دونوں فریقین نے ثقافتی اور عوامی تعلقات کے ذریعے باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سیاحت کو بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے اور قبرص اور ہندوستان کےما بین براہِ راست ہوائی رابطے کے قیام کے ساتھ ساتھ مشترکہ شراکت داروں کے ذریعے بہتر ہوائی راستوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ سفر کو آسان بنایا جا سکے ۔ جس سےدو طرفہ تبادلے میں اضافہ ہو۔

مستقبل: 2025-2029 کا ایکشن پلان

یہ مشترکہ اعلامیہ قبرص اور ہندوستان کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کو دوہراتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جاری دو طرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شراکت داری مستقبل میں بھی فروغ پاتی رہے گی جو اپنے خطوں اور اس سے آگے امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دے گی۔

رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قبرص اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی رہنمائی کے لیے آئندہ پانچ سالوں کے لیے جمہوریہ قبرص کی وزارت خارجہ اور جمہوریہ ہند کی وزارت خارجہ کی نگرانی میں ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
New Smart Drug RK-251 Developed as Replacement for Chemotherapy

Media Coverage

New Smart Drug RK-251 Developed as Replacement for Chemotherapy
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The world is seeing India as a bright spot of growth and hope: PM Modi at Economic Times World Leaders Forum 2026
August 21, 2026
The world sees India as a bright spot for growth and hope: PM
Today, India is implementing next-generation reforms at the policy level and undertaking reforms at governance level: PM
Increasing production was met with punishment earlier but today, our government is providing incentives for boosting production
India has political stability and continuity in its policies: PM
Earlier, the approach of regulations was, 'prohibited unless permitted’; We are changing this approach and taking it towards 'permitted unless prohibited’: PM
The relationship between the government and citizens should be based on trust, not suspicion: PM
Today, we are shaping policies that are pro-people, pro-growth and pro-development: PM

World Leaders Forum का ये प्रतिष्ठित मंच, Business और Industry की दुनिया के सभी जाने माने दिग्गज, पॉलिसी मेकर्स, अन्य महानुभाव, देवियों और सज्जनों।

आप सबके बीच आकर के खुश होना बहुत स्वाभाविक भी है। इस साल समिट का फोकस Shared Future पर है। पिछले कुछ वर्षों में दुनिया ने अनेक उतार-चढ़ाव देखे हैं। और इन अनुभवों ने एक बात बहुत स्पष्ट कर दी है, कोई चाहे या ना चाहे, हर देश का भविष्य, उसका फ्यूचर, एक-दूसरे से जुड़ा हुआ ही है, Isolation में कुछ संभव नहीं है। इसीलिए Shared Futures की ये theme, आज और भी अधिक प्रासंगिक हो गई है। और भारत तो हमेशा से इसी भावना को लेकर चला है। जी-20 की अध्यक्षता में इसलिए ही भारत का मंत्र रहा, One Earth, One Family, One Future. Shared Future की ये भावना और इसके साथ जुड़ा दायित्वबोध, 21वीं सदी के इस विश्व की अनेक समस्याओं का समाधान देता है।

साथियों,

आज दुनिया में growth को लेकर के कई तरह की चिंताएं हैं। दुनिया ने बड़ा भयंकर एक रूप देखा है इन दिनों। Resources का वेपनाइजेशन हो रहा है। अविश्वास का वातावरण विश्व के लिए अनेक नई चुनौतियां लेकर के आ रहा है। लेकिन ऐसे समय में भी, दुनिया भारत को growth और hope के bright spot के रूप में देख रही है। भारत ने पिछले 10-12 साल में अपनी 25 करोड़ आबादी को गरीबी से बाहर निकाला है। इतना ही नहीं, अगर आने वाले दिनों की चर्चा करें, तो IMF का forecast है कि भारत दुनिया की fastest growing major economy बना रहेगा। और भारत निरंतर वो कदम उठा रहा है, जो उसके विकास को गति दे रहे हैं।

Friends,

अभी पिछले हफ्ते ही, 15 अगस्त को मैंने लाल किले से सप्त-धारा की सप्त-शक्तियों की बात की है। मैन्यूफैक्चरिंग, टेक्नोलॉजी और इनोवेशन, फूड प्रोसेसिंग, ग्रीन और ब्लू इकोनॉमी समेत, मैंने ऐसे सात सेक्टर्स की बात की है, जिन पर भारत का आज बहुत ज्यादा फोकस है। और इसलिए भारत आज, Policy level पर, नेक्स्ट जनरेशन reforms कर रहा है, ताकि हमारा future सुरक्षित हो। Governance पर reforms कर रहा है, Ease of Living के लिए reforms कर रहा है। पिछली बार जब मैं इसी मंच के माध्यम से आपसे जुड़ा था, तब भी मैंने कहा था, ये Reforms हमारे लिए Compulsion नहीं है। ये हमारा commitment है, ये हमारा conviction है।

साथियों,

2014 में, जब हमारी सरकार बनी, तो उसके बाद से ही रिफॉर्म्स ने कैसे देश की दिशा और दशा बदली है, मैं इसका एक बहुत दिलचस्प उदाहरण आपको देना चाहता हूं। यहां मौजूद शायद ही किसी को PLP के बारे में पता होगा, कोई है, जिसको PLP के बारे में पता है? अपना हाथ उठाएं। यहां इतने मीडिया के दिग्गज बैठे हैं, PLP आपको पता है? और आप सुनकर के हैरान हो जाएंगे। PLP यानी प्रोडक्शन लिंक्ड पनिशमेंट, इसके बारे में किसी को पता नहीं है। और एक दूसरा टर्म आपने जरूर सुना है PLI, ये ज्यादातर लोगों को पता होगा। PLI- यानी प्रोडक्शन लिंक्ड इंसेंटिव।

साथियों,

ये दोनों टर्म, भारत के दो अलग-अलग Time Period को डिफाइन करते हैं। आजकल Explainer का जमाना है, तो मैं आपको Explain करता हूं।

साथियों,

आज की युवा पीढ़ी को ये सुनकर हैरानी होगी, कि हमारे देश में एक समय ऐसा भी था, कि अगर कोई कंपनी तय लिमिट से ज्यादा प्रॉडक्शन कर दे, तो उसे पनिशमेंट दिया जाता था। ये पहले की लाइसेंस राज वाली सरकारों का, PLP यानी प्रोडक्शन लिंक्ड पनिशमेंट मॉडल था। ऐसे भी उदाहरण रहे हैं कि अगर किसी फैक्ट्री ने ज्यादा डिमांड देखते हुए ज्यादा प्रॉडक्शन कर दिया, तो उसे नोटिस भेज दिया जाता था। मजबूरी में वो कंपनी अपना प्रॉडक्ट मार्केट में बेचने के बजाय, उसे खुद ही नष्ट कर देती थी।

साथियों,

आज जो लोग Make In India और आत्मनिर्भर भारत अभियान का मजाक उड़ाते हैं, उनके पुरखों की सोच यही थी, PLP यानी प्रोडक्शन लिंक्ड पनिशमेंट। ऐसा करने के पीछे एक विशेष तरह की विकृत मानसिकता काम करती थी। ऐसी मानसिकता वाले लोग हमेशा चाहते थे कि जरूरी चीजों की किल्लत बनी रहे। देश के नागरिकों को अभाव में रखना उनकी पॉलिसी थी। वो चाहते थे कि जनता उनके सामने हाथ जोड़े, हाथ फैलाए, आप समझ गए मैं किन लोगों की बात कर रहा हूं। लोगों से हाथ जुड़वाने के बाद उपकार करना, उन सरकारों का तरीका था, इसलिए वो प्रोडक्शन लिंक्ड पनिशमेंट मॉडल पर चलते थे। आप कल्पना कर सकते हैं, ऐसे करके उन लोगों ने Employment Generation के बेसिक principal का गला घोंट दिया था। और हैरानी ये, इन लोगों के दरबारियों ने again I repeat, इन लोगों के दरबारियों ने, कभी इसके खिलाफ कोई आवाज नहीं उठाई।

साथियों,

हर reform की शुरुआत सबसे पहले, आपके सोचने के तरीके, आपके मानसिक, किस रेंज में आप काम कर रहे हैं, इस सोच के reform से ही होती है। जहां पहले production बढ़ाने पर पनिशमेंट मिलता था, वहीं आज हमारी सरकार production बढ़ाने पर incentive दे रही है। और आज PLI स्कीम की सक्सेस दुनिया देख रही है। सिर्फ इस एक योजना की वजह से, मैं सारी योजनाओं की बात नहीं करता हूं, एक की बात करता हूं, करीब ढाई लाख करोड़ रुपए का actual investment हुआ है। 22 लाख करोड़ रुपए से ज्यादा का production और sales हुई है। 15 लाख करोड़ रुपए से ज्यादा का exports हुआ है, और 14 लाख से ज्यादा direct और indirect jobs बनी हैं। और मैं फिर याद दिलाउंगा, ये आंकड़े सिर्फ एक स्कीम के हैं। आप सोचिए, पहले का लाइसेंस राज वाली सरकार का पनिशमेंट मॉडल जहां बेरोजगारी बढ़ाता था, वहीं आज का हमारा incentive मॉडल लाखों नई जॉब्स क्रिएट कर रहा है।

साथियों,

आज भारत में ये तेज विकास, ये तेज रिफॉर्म इसलिए हो रहे हैं, क्योंकि भारत में और जिसका अभी सत्य ने उल्लेख किया, political stability है, हमारी policy में continuity है। पहले देश में रिफॉर्म्स की बात करने वाले घोषणा तो कर देते थे, बाद में भूल जाते थे। लेकिन हमने रिफॉर्म्स को लेकर एक क्लियर रोडमैप बनाया। इस रोडमैप की प्रमुख दिशा रही है- गवर्नेंस लेवेल के रिफॉर्म्स हों! इसके लिए, आज 21वीं सदी के भारत में, हम सिर्फ regulations नहीं बदल रहे हैं, हम regulation की पूरी philosophy बदल रहे हैं। पहले regulations की अप्रोच थी- “Prohibited unless permitted.” यानी जब तक सरकार इजाजत ना दे, तब तक आप वो काम नहीं कर सकते। हम इस approach को बदलकर, “Permitted unless prohibited” की तरफ ले जा रहे हैं। यानी, जो काम कानून ने स्पष्ट रूप से मना नहीं किया है, उसके लिए हर कदम पर permission की कोई जरूरत नहीं होनी चाहिए। और इसके पीछे सोच बहुत सीधी है, सरकार और नागरिक के रिश्ते का आधार, Suspicion नहीं, trust होना चाहिए।

साथियों,

यही सोच आपको Jan Vishwas बिल में भी दिखाई देती है। मैं मानता हूं, हर procedural गलती को criminal offence मान लेना ठीक नहीं है। इसीलिए अनेक offences को decriminalise किया गया है। कई मामलों में जेल की जगह केवल आर्थिक penalty का प्रावधान किया गया है। Government और enterprise के रिश्ते में, हम इसी reform mindset को आगे बढ़ा रहे हैं। बीते वर्षों में 40 हजार से ज्यादा compliances हटाए गए हैं, 40 thousand. डेढ़ हजार से ज्यादा, 15 hundred, डेढ़ हजार से ज्यादा, पुराने और बेकार हो चुके कानून हमने खत्म किए, और जब इन सारे reforms को एक साथ देखते हैं, तो अंदाजा होता है, हमारी industries और businesses के कंधों से कितना बड़ा बोझ कम हुआ है।

साथियों,

गवर्नेंस रिफॉर्म्स की इस प्रक्रिया, उस पर हम निरंतर काम कर रहे है। अभी संसद के मॉनसून सत्र में हमने ‘बैंकर्स बुक एविडेंस बिल’ पारित किया है। और वो भी तब जब विपक्ष ने संसद में लगातार गतिरोध बनाया हुआ था। हमने देश की सेवा करने का काम रूकने नहीं दिया। अब इस कानून ने 19वीं सदी के अंग्रेजी कानून को रिप्लेस किया है। अब बैंकों के डिजिटल रिकॉर्ड्स की स्वीकार्यता को कानूनी मान्यता दी गई है। इससे कानूनी उलझनें कम होंगी, सिस्टम में पारदर्शिता होगी, Ease of Doing Business बढ़ेगा।

साथियों,

गवर्नेंस में रिफॉर्म का एक मतलब ये भी है कि सिस्टम ऐसे बनें, जिसमें एक-एक मानव जीवन और उसके समय के प्रति संवेदनशीलता हो। मैं रेलवे का उदाहरण देता हूं। हमारी रेलवेज में भी इसी अप्रोच के साथ काम हुआ है। आज साढ़े 6 हजार से ज्यादा रेलवे स्टेशनों पर इलेक्ट्रॉनिक इंटरलॉकिंग की व्यवस्था है। 10 हजार से ज्यादा लेवल क्रॉसिंग गेट्स को भी इंटरलॉकिंग से जोड़ा जा चुका है। इससे ह्यूमन एरर से होने वाले हादसों की आशंका बहुत कम हुई है।

साथियों,

जब 2014 में हमारी सरकार आई, तो करीब 9 हजार फाटक ऐसे थे जो Un-Manned थे। इन्हें हटाना कोई रॉकेट साइंस नहीं था। Un-Manned क्रॉसिंग्स की वजह से हजारों लोगों को अपनी जान गंवानी पड़ी, लेकिन पहले की सरकारों को इससे बहुत फर्क नहीं पड़ता था। हमने मिशन मोड में, गत दस वर्ष में, इन Un-Manned क्रॉसिंग्स को समाप्त कर दिया। हमने रोड ओवर ब्रिज और रोड अंडर ब्रिज बनाने की गति भी कई गुना बढ़ा दी। और इसी का नतीजा है कि 2014 के पहले के मुकाबले ट्रेन दुर्घटनाओं की संख्या में Ninety Percent तक की कमी आई है, 90, Ninety Percent. 12 साल पहले जहां एक साल में करीब डेढ़ सौ रेल दुर्घटनाएं होती थीं, वहीं अब इनकी संख्या घटकर 15-20 रह गई है। और हम इसे और कम से कम करने का प्रयास लगातार कर रहे हैं।

साथियों,

Railways में स्वच्छता भी गवर्नेंस रिफॉर्म का एक बड़ा उदाहरण है। एक समय था, जब रेल पटरियों पर गंदगी और human waste एक बड़ी समस्या हुआ करती थी। आज स्थिति पूरी तरह बदल गई है। 2014 से पहले हमारी ट्रेनों में जहां लगभग 12 हजार बायो-टॉयलेट्स लगाए गए थे, वहीं 2014 के बाद ट्रेनों में 3 लाख 60 हजार से ज्यादा बायो-टॉयलेट्स लगाए गए हैं। यानी, 97 प्रतिशत से ज्यादा बायो-टॉयलेट्स पिछले 12 वर्षों में लगे हैं। ये बदलाव सिर्फ सफाई का नहीं, यात्रियों की गरिमा, स्वच्छता और आधुनिक भारत के निर्माण की दिशा में गवर्नेंस का एक नया मॉडल है। ये करोड़ों यात्रियों को बेहतर अनुभव देने का अभियान भी है।

साथियों,

गवर्नेंस की क्वालिटी का एक और पैमाना, और वो पैमाना है - समय। जो प्रोजेक्ट शुरू हो, वो समय पर पूरा हो। और जो सर्विस लोगों को मिले, वो भी समय की कसौटी पर खरी उतरे। दिल्ली-मेरठ नमो भारत रैपिड रेल सिस्टम इसका बहुत अच्छा उदाहरण है। इस कॉरिडोर पर 160 किलोमीटर प्रति घंटे की रफ्तार से ट्रेनें चल रही हैं। ये हमारे देश में पहले कभी सोचा नहीं जा सकता था। अब तक 4 करोड़ से ज्यादा यात्री इसमें ट्रैवल कर चुके हैं। और इसका एक और अहम फैक्टर है, जिसकी चर्चा नहीं होती है। दिल्ली मेरठ नमो भारत रैपिड रेल की पंक्चुअलिटी 99.9 परसेंट है। वरना हम तो हर चीज में कहते हैं, लेट हो तो कहते थे, ये तो इंडियन टाइम है। वक्त बदला है, ये मैं छोटी-छोटी चीजें इसलिए बताता हूं, कि हमें अंदाज आए कि कितने बड़े व्यापक स्तर पर काम हो रहा है। इसी तरह, Delhi Metro की पंक्चुअलिटी। Delhi Metro की पंक्चुअलिटी 99.9 परसेंट है। और ये punctuality, New York, Hong Kong और Paris जैसे शहरों की Metro से करीब-करीब बराबर हो चुकी है। ये सिर्फ समय पर चलती हुई Metro और नमो रेपिड रेल की कहानी नहीं है, ये समय के साथ बदलते हुए भारत की पहचान है। मैं जानता हूं कि अभी भी, और र्मैं कोई इतने से संतोष मानकर बैठने वाला व्यक्ति नहीं हूं, अभी भी इस दिशा में हमें बहुत कुछ करना है, बहुत कुछ बाकी है, लेकिन हम लगातार कर रहे हैं। लेकिन एक शुरूआत तो हुई है और ये शुरुआत सराहनीय है।

साथियों,

हमारे रिफॉर्म्स रोडमैप का एक और बड़ा आयाम है- पॉलिसी लेवल पर होने वाले रिफॉर्म्स! आज हम ऐसी policies बना रहे हैं, जो pro-people हों, Pro-growth हों, pro development हों! पॉलिसीज़ देश और देश के लोगों की जरूरत के हिसाब से होनी चाहिए न कि पॉलिसीज़ बनाकर देश को उनके हिसाब से चलने को मजबूर होना पड़े! मैं आपको एक और Interesting उदाहरण देना चाहता हूं। कुछ साल पहले तक हमारे यहाँ देश का नक्शा बनाना भी गैर-कानूनी था, मैप बनाए तो गैर कानूनी था, आप जेल चले जाएंगे। बिना परमिशन के आप देश में मैपिंग का काम भी नहीं कर सकते थे। आप सोचिए, विदेशी सैटेलाइट टेक्नोलॉजी के जरिए भारत के किसी भी कोने को मैप कर सकती थी, लेकिन भारत में भारतीयों पर भारत का मैप बनाने पर पाबंदी लगी हुई थी।

साथियों,

आज टेक्नोलॉजी के इस दौर में, इस एक पाबंदी से कितने स्टार्टअप्स की हत्या हो सकती थी! कितने ideas implement होने से वंचित रह सकते थे! हमने इस व्यवस्था को भी बदला। हमने Geospatial डेटा का Deregulation किया और आज Geospatial डेटा कितने ही स्टार्टअप्स का आधार बन रहा है।

साथियों,

आज आप लगातार ड्रोन्स की उपयोगिता बढ़ते हुए देख रहे हैं। एग्रीकल्चर में, डिफेंस में, डिलिवरी में, शूटिंग में, कंटेंट क्रिएशन में, ये सब संभव ही नहीं होता, अगर सरकार ने इससे जुड़े नियमों में Reform नहीं किए होते। पहले देश में ड्रोन फ्लाइंग पूरी तरह नियमों में, बंधनों में जकड़ी हुई थी। हमने उसे बंधनों से आजाद किया, और आज भारत की ड्रोन इंडस्ट्री, एक अभूतपूर्व उड़ान के साथ आगे बढ़ रही है।

साथियों,

पहले border areas को लेकर सरकारों की सोच थी कि बॉर्डर पर roads और infrastructure बढ़ेगा, तो उसका फायदा दुश्मन भी उठा सकता है। हमने इस सोच को बदला। हमने कहा, Border infrastructure कमजोरी नहीं, देश की ताकत है। और इसीलिए आज border areas में roads, bridges और tunnels का network तेजी से बढ़ रहा है। सिर्फ 2024 और 2025 में ही, BRO के 250 infrastructure projects देश को समर्पित किए गए हैं। सोच बदली, तो border infrastructure की तस्वीर भी बदल गई।

साथियों,

एक उदाहरण न्यूक्लियर रिफॉर्म्स का भी है। एक ऐसे समय में, जब विकास पूरी तरह से energy dependent है, बंदिशों और प्रतिबंधों के कारण, देश अपने न्यूक्लियर potential का इस्तेमाल नहीं कर पा रहा था। हमने शांति बिल के जरिए इसमें भी बड़ा रिफॉर्म किया है। आज भारत में न्यूक्लियर एनर्जी में प्राइवेट सेक्टर के लिए रास्ता खुल चुका है। इसी तरह, हमने एक बड़ा पॉलिसी रिफॉर्म डिफेंस सेक्टर में भी किया। 200 साल के पहले जो व्यवस्था चली आ रही थी, उसे बदलकर हमने 40 से ज्यादा ordnance फैक्ट्रीज़ को मर्ज करके 7 फैक्ट्रीज़ बना दी। और उसका परिणाम हमें देखने को मिल रहा है। आज भारत अपनी रक्षा जरूरतों के लिए भी आत्मनिर्भर बन रहा है, और 2014 की तुलना में, हमारा डिफेंस एक्सपोर्ट 55 गुना बढ़ा है। और इसलिए, कई बार रिफॉर्म्स हमारे जीवन में इस तरह घुल-मिल जाते हैं कि हमारा उनकी तरफ ध्यान ही नहीं जाता। आप सोचिए, आपका कोई सामान्य दिन आज कैसे बीतता है। आप सुबह उठते हैं, फोन पर घर का सामान ऑर्डर कर देते हैं, और जब तक ऑफिस के लिए रेडी होते हैं, वो सारा सामान आपके घर आकर के पहुंच जाता है। आपकी गली के स्ट्रीट वेंडर से लेकर, आपकी गाड़ी के शो रूम तक, आपकी सारी पेमेंट्स, सिर्फ एक क्यूआर कोड स्कैन करके हो जाती है। अगर आपकी बेटी, किसी दूसरे शहर में पढ़ती है, तो आप फोन से उसे पैसे भेज सकते हैं, और वो पैसा, कुछ सेकंड्स में उसके पास भी पहुंच जाता है। कई बार तो बिटिया क्यूआर ही शेयर कर देती है कि ‘पापा-मां मैंने ये ड्रेस ले ली है, इसकी पेमेंट कर दीजिए, और आप उसकी शॉपिंग अपने घर बैठे-बैठे करवा देते हैं। ये चीजें Remarkable हैं, लेकिन अब ये कोई भारत के लोगों को कम से कम हैरानी नहीं होती, बाहर के लोग आते हैं, उनको आश्चर्य होता है, अच्छा ऐसे होता है। भारत के लोगों का रूटीन हो गया है। ये भारत के सामान्य मानवी के जीवन का हिस्सा बन चुका है। आप सोचिए, 2014 से पहले ऐसी कितनी ही बातें क्या पॉसिबल थीं?

साथियों,

भारत ने बीते 10-12 सालों में Ease of Living से जुड़े जो रिफॉर्म्स किए हैं, उसकी वजह से लोगों का, खासतौर पर हमारे मिडिल क्लास का जो जीवन बदला है, वो दुनिया के कई विकसित देशों में आज भी एक सपना ही है।

साथियों,

आज दुनिया का सबसे सस्ता डेटा भारत में है, हम सस्ते और अच्छे स्मार्टफोन्स बना रहे हैं। अभी सत्या ने उसका वर्णन किया। भारत दुनिया के fastest 5G rollouts करने वाले देशों में से एक है। हमने आधार को बैंकिंग, मोबाइल कनेक्टिविटी और सर्विसेज से जोड़कर, ई-के.वाई.सी और Digital Authentication जैसी सर्विसेज को पॉसिबल किया है। आज आपको अगर बैंक अकाउंट खोलना है, तो उसके लिए बैंक जाने तक की जरूरत नहीं है। सरकार ने बैंक को ही, आपके पास पहुंचा दिया है। आज चाहे कोई बिल जमा करना हो, कोई टिकट करानी हो, किसी सरकारी दफ्तर में जाने की जरूरत नहीं पड़ती, ये सारा काम ऑनलाइन हो जाता है। इनकम टैक्स की फाइलिंग का काम आसान हुआ है। ऐसी व्यवस्था बनी है कि फॉर्म में मैक्सिमम जानकारियां पहले से भरी होती हैं। आप ये इन्फॉर्मेशन वेरिफाई करते हैं, कुछ जोड़ना है तो जोड़ देते हैं, और सबमिट करते हैं, आपका काम पूरा हो जाता है। पहले जो रिफंड आने में महीनों लगते थे, अब वो भी कुछ ही दिनों में आ जाता है।

साथियों,

आज ई-संजीवनी की मदद से, शायद इसकी चर्चा अभी बहुत कम होती है, ई-संजीवनी की मदद से, गांव के दूर दराज के लोग भी, कहीं से भी डॉक्टर्स के साथ सीधी अपनी चर्चा करके अपने उपचार का रास्ता लेते हैं। और इससे जिन लोगों को अस्पताल जाने के लिए कई किलोमीटर का सफर करना पड़ता था, आज डॉक्टर उनके घर पर, उनकी स्क्रीन पर उपलब्ध है। अब तक ये आंकड़ा भी आपको जरूर आश्चर्य करेगा। यानी भारत ने टेक्नोलॉजी को किस प्रकार से अडाप्ट किया है, सामान्य मानवीय के जीवन को कैसे सरल किया है। अब तक ईं-संजीवनी के तहत करीब-करीब 50 करोड़ टेली-कंसल्टेशंस हो चुकी हैं।

साथियों,

आज भारत में Travel Experience बदल रहा है, भारत के नागरिकों की यात्राएं पूरी तरह बदल गई हैं। यहां इस हॉल में ऐसा व्यक्ति खोजना मुश्किल होगा, जिसने एयरपोर्ट पर डिजी यात्रा का इस्तेमाल ना किया हो। ऐसे ही आजकल बहुत सारा काम Seamless तरीके से हो रहा है। हाइवे पर फास्ट टैग चल रहे हैं, ताकि आप बिना रुके टोल देकर आगे बढ़ सकें। Ease of Living का सही अर्थ यही है। समय की बचत हो रही है, जीवन आसान हो रहा है, और करोड़ों लोग अपनी प्रगति पर फोकस कर पा रहे हैं।

साथियों,

Politics में अक्सर वही फैसले headlines बनते हैं, जिनका असर आज दिखाई दे, यानी उसकी उमर 24 घंटे हो। पहले की सरकारों ने इलेक्शन सामने देख कर भी घोषणाएं करने का फॉर्मूला अपनाया। लेकिन ऐसी घोषणाओं से देश नहीं बदला। देश बदलने वाले फैसले वो होते हैं, जिनका प्रभाव जमीन पर दिखे, जो वर्तमान और भविष्य, दोनों को ध्यान में रखकर के लिए गए होने चाहिए।

साथियों,

पीएम कुसुम योजना और पीएम सूर्यघर मुफ्त बिजली योजना इसका बहुत बड़ा यूनीक Example है। कुसुम योजना से किसानों को बिजली की चिंता से मुक्ति मिली है। और सूर्यघर योजना से मिडिल क्लास को बहुत फायदा हुआ है।

साथियों,

मैं ये जानता हूं कि अगर मैंने ये अनाउंस कर दिया होता कि आज से लाखों-लाख परिवारों के लिए बिजली मुफ्त है, तो सारा मीडिया, सारी स्क्रीन्स, सारे न्यूजपेपर्स, बड़ी-बड़ी हेडलाइन बनाकर के खबर दे देते कि मोदी जी ने आज अनाउंस कर दिया है। लेकिन हमने कुछ दूसरे अप्रोच से काम शुरू किया। हमने हर घर की छत पर एक सूरज उगाने की ठान ली, और आज देश के 50 लाख से ज्यादा परिवार, पीएम सूर्यघर मुफ्त बिजली योजना से जुड़े हैं। सरकार ने 22 हजार करोड़ रुपए से ज्यादा इन परिवारों को दिए हैं, ये सोलर सिस्टम लगाने के लिए, ताकि उनकी छत पर सोलर प्लांट लगाकर सोलर पावर पैदा की जा सके। अब ये परिवार, एक्स्ट्रा बिजली को, बिजली ग्रिड में बेचकर, पैसे भी कमा रहे हैं। खुद का बिल तो जीरो हुआ, कमाई भी होने लगी। इस योजना से लोगों के सपनों को भी विस्तार मिल रहा है। बिजली बिल कम हुआ है, तो अब घर में फ्रिज, कूलर, वाशिंग मशीन, टीवी जैसी चीजें लोग खरीदकर रखने लगे हैं। अब ये डर नहीं होता कि बिजली कटौती की वजह से दूध फट जाएगा, अब चिंता नहीं रहती है। अब स्कूल जाने वाले बच्चे रातभर चैन से सो पाते हैं। मैं फिर कहता हूं- इलेक्शन हो या ना हो, लेकिन ये सूर्यघर और उसकी रोशनी बनी रहेगी, इस प्लांट का फायदा, सालों तक देश के परिवारों को होता रहेगा।

साथियों,

आने वाले समय में Ease of Living और Ease of Doing Business का और विस्तार होगा। देश के Youth के लिए, नारीशक्ति के लिए, Farmers के लिए, गरीब और Middle Class के लिए, हमारी सरकार लगातार काम करती रहेगी, हमारी Reform Express और अधिक गति से आगे बढ़ने वाली है। विकसित भारत का लक्ष्य पूरा करने के लिए, हम पूरी प्रतिबद्धता के साथ काम करते रहेंगे। और मैं, मेरे लिए भारत का future अगर सुनिश्चित हो गया ना, तो दुनिया के future में भी स्थिरता लाने का बहुत बड़ा काम इसी धरती से होने वाला है। इस आत्मविश्वास के साथ भारत जितना स्टेबल होगा, भारत का future जितना सुरक्षित होगा, विश्व को सुरक्षत्व का एहसास देने की ताकत यहीं से पैदा होने वाली है। इस सामर्थ्य के साथ, इसी संकल्प के साथ, मैं एक बार फिर, आज के इस कार्यक्रम में मुझे आमंत्रित करने के लिए, Economic Times की पूरी टीम का हृदय से बहुत-बहुत धन्यवाद करता हूं। वन्दे मातरम् !