وزیر اعظم نے منگلورو میں تقریباً 3800 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
"ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے 'میک ان انڈیا' اور ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو توسیع دینا بہت ضروری ہے"
"کرناٹک ریاست ساگر مالا اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سر فہرست ہے"
" پہلی بار کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد دیہی خاندانوں میں نل کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے"
کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے"
"جب سیاحت فروغ پاتی ہے تو اس سے ہماری گھریلو صنعتوں، ہمارے کاریگروں، دیہی صنعتوں، خوانچہ فروشوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں کو فائدہ ہوتا ہے"
آج ڈیجیٹل ادائیگیاں تاریخ ساز سطح پر ہیں اور بھیم یو پی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں"
گرام پنچایتوں کو تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر جوڑا جا رہا ہے"
"بھارت نے 418 ارب ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمد کا نیا ریکارڈ بنایا"
"وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زائد پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے بندرگاہوں کے بلا روک ٹوک رابطے میں مدد ملے گی"

کرناٹک کے گورنر جناب تھاور چند جی گہلوت، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب  بسوراج بومئی، مرکزی کابینہ میں شامل میرے ساتھی، کرناٹک حکومت کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل اے، اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

بھارت کی سمندری طاقت کے لیے آج کا دن  بہت بڑا ہے۔ ملک کی فوجی سلامتی ہو یا قوم کی اقتصادی سلامتی، بھارت آج بڑے مواقع دیکھ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل کوچی میں بھارت کے پہلے مقامی طیارہ بردار بحری جہاز کی لانچنگ نے ہر بھارتی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

اور اب یہاں منگلور میں 3 ہزار 700 کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح، سنگ بنیاد اور بھومی پوجن کیا گیا ہے۔ تاریخی منگلور بندرگاہ کی صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریفائنری اور ہمارے ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے کے لیے کئی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ میں آپ سب کو، کرناٹک کے لوگوں کو ان پروجیکٹوں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔

ان  پروجیکٹوں سے کرناٹک میں کاروبار اور صنعت  کو طاقت ملے گی۔ کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید تقویت ملے گی۔ کرناٹک کے کسانوں اور ماہی گیروں کی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، جو خصوصی طور پر ایک ضلع ایک پروڈکٹ کے تحت تیار کیے جا رہے ہیں۔

ساتھیو،

اس بار یوم آزادی پر، میں نے لال قلعہ سے جن پانچ عزائم کے بارے میں بات کی ہے، ان میں سے  پہلا  ایک ترقی یافتہ بھارت کی تخلیق ہے۔ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں میک ان انڈیا کو بڑھانا بہت ضروری ہے۔ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہماری برآمدات بڑھیں، دنیا میں ہماری مصنوعات لاگت کے لحاظ سے مسابقتی ہوں۔ یہ سستے اور آسان لاجسٹکس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ ملک کے بنیادی ڈھانچے پر پچھلے 8 سالوں سے بے مثال کام ہو رہا ہے۔ آج ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جہاں کسی بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹ پر کام نہ ہو رہا ہو۔ سرحدی ریاستوں کے روڈ انفراسٹرکچر کو بھارت مالا سے مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ ساحلی انفراسٹرکچر کو ساگر مالا سے قوت مل رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

گذشتہ برسوں کے دوران، ملک نے بندرگاہ پر مبنی ترقی کو، ترقی کا ایک اہم منتر بنا یا  ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں بھارت کی بندرگاہوں کی صلاحیت صرف 8 سالوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ یعنی سال 2014 تک ہمارے یہاں جتنی پورٹ کی گنجائش بنائی گئی تھی، گذشتہ 8 سالوں میں اتنی ہی تعداد میں ان میں نئی گنجائش  شامل کی گئی ہے۔

 

منگلور پورٹ میں ٹیکنالوجی سے متعلق جو نئی سہولیات شامل کی گئی ہیں اس سے اس کی صلاحیت اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوگا۔ آج، گیس اور سیال کارگو کے ذخیرہ سے متعلق چار پروجیکٹ، جن کا یہاں سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، کرناٹک اور ملک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہونے والے ہیں۔ اس سے خوردنی تیل، ایل پی جی گیس، بٹومین کی درآمدی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

ساتھیو،

امرت کال  میں، بھارت سبز ترقی کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ سبز ترقی اور سبز ملازمتیں، یہ نئے مواقع ہیں۔ آج یہاں ریفائنری میں شامل کی گئی نئی سہولیات بھی ہماری ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ آج ہماری ریفائنری کا انحصار دریا کے پانی پر ہے۔ ڈی سیلینیشن پلانٹ سے ریفائنری کا دریائی پانی پر انحصار کم ہو جائے گا۔

بھائیو اور بہنو،

پچھلے 8 سالوں میں جس طرح سے ملک نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دی ہے اس سے کرناٹک کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ کرناٹک ساگر مالا اسکیم سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں سے ایک ہے۔ کرناٹک میں، صرف نیشنل ہائی وے کے علاقے میں، پچھلے 8 سالوں میں، تقریباً 70 ہزار کروڑ کے پروجیکٹوں پر کام ہوا ہے۔ یہی نہیں، ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹ پائپ لائن میں ہیں۔ بنگلور-چنئی ایکسپریس وے، بنگلور-میسور روڈ ہائی وے کی چھ لیننگ، بنگلور کو پونے سے جوڑنے والا گرین فیلڈ کوریڈور، بنگلور سیٹلائٹ رنگ روڈ، اس طرح کے بہت سے پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔

ریلوے میں تو کرناٹک کے بجٹ میں 2014 سے پہلے کے مقابلے میں 4 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے لائنوں کو چوڑا کرنے کا کام گزشتہ 8 سالوں میں 4 گنا سے زیادہ رفتار سے ہوا ہے۔ کرناٹک میں ریلوے لائنوں کی برق کاری کا ایک بڑا حصہ پچھلے 8 سالوں میں مکمل کیا گیا ہے۔

ساتھیو،

آج کا بھارت جدید انفراسٹرکچر کی ترقی پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے، کیونکہ یہ ترقی بھارت کی تعمیر کا راستہ ہے۔ جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر سے سہولیات میں اضافے کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ امرت کال میں ہماری بڑے عزائم کی تکمیل کا بھی یہی طریقہ ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ملک کی تیز رفتار ترقی کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ملک کے عوام کی توانائی صحیح سمت لگے  ۔ جب عوام کی توانائی بنیادی سہولیات جٹانےمیں لگی ہو تو اس سے ملک کی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ پکے گھر، بیت الخلا، صاف پانی، بجلی اور دھوئیں سے پاک کچن آج کے دور میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے فطری ضرورتیں ہیں۔

ہماری ڈبل انجن والی حکومت ان سہولیات پر زیادہ سے زیادہ زور دے رہی ہے۔ پچھلے 8 سالوں میں ملک میں غریبوں کے لیے تین کروڑ سے زیادہ گھر بنائے گئے ہیں۔ کرناٹک میں بھی غریبوں کے لیے 8 لاکھ سے زیادہ پکے مکانات کو  منظوری دی گئی ہے۔ ہزاروں متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو اپنے گھر بنانے کے لیے کروڑوں روپے کی مدد بھی دی گئی ہے۔

جل جیون مشن کے تحت صرف تین سالوں میں ملک کے 6 کروڑ سے زیادہ گھرانوں کو پائپ سے پانی فراہم کیا گیا ہے۔ پہلی بار، کرناٹک میں 30 لاکھ سے زیادہ دیہی گھرانوں تک پائپ سے پانی پہنچا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری بہنیں، بیٹیاں ان سہولیات سے سب سے زیادہ مستفید ہورہی ہیں۔

ساتھیو،

غریبوں کی بہت  بڑی ضرورت ہے، علاج کی سستی سہولیات اور سماجی تحفظ۔ جب غریب مشکل میں ہوتا ہے تو پورا خاندان اور بعض اوقات آنے والی نسلیں بھی مشکل میں پڑ جاتی ہیں۔ آیوشمان بھارت یوجنا نے غریبوں کو اس پریشانی سے نجات دلائی ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے تقریباً 4 کروڑ غریب لوگوں کا اسپتال میں داخل ہونے کے دوران مفت علاج ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے غریبوں کے  تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے سے بچ گئے ہیں۔ کرناٹک کے 30 لاکھ سے زیادہ غریب مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے اور انہوں نے 4000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت بھی کی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہمارا یہ حال رہا ہے کہ ترقی کا فائدہ صرف وسائل سے مالامال لوگوں کو ہی ملا ہے۔ پہلی بار ،جو لوگ معاشی طور پر کمزور تھے انہیں ترقی کے ثمرات سے جوڑا گیا ہے۔ ہماری حکومت بھی ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جنہیں مالی طور پر چھوٹا سمجھ کر بھلا دیا گیا۔ چھوٹے کسان ہوں، چھوٹے تاجر ہوں، ماہی گیر ہوں، ریہڑی پٹری ،ٹھیلے والے ہوں، ایسے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار ملک کی ترقی کا فائدہ ملنا شروع ہواہے، وہ ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔

پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ملک کے 11 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ کرناٹک کے 55 لاکھ سے زیادہ چھوٹے کسانوں کو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں۔ پی ایم سواندھی کے تحت ملک کے 35 لاکھ اسٹریٹ وینڈرز کو مالی مدد ملی ہے۔ کرناٹک کے تقریباً 2 لاکھ اسٹریٹ وینڈرز نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مدرا یوجنا کے ذریعے ملک بھر میں چھوٹے کاروباریوں کو 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا گیا ہے۔ کرناٹک کے لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بھی تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کا بینک قرض دیا گیا ہے۔

ساتھیو،

ڈبل انجن کی حکومت ساحلی پٹی میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں، بندرگاہوں کے آس پاس کے دیہاتوں اور ہمارے ماہی گیروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے یہاں کے ماہی پروری  سے جڑے ساتھیوں کو کسان کریڈٹ کارڈ دیے گئے تھے۔ گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے ضروری کشتیاں، جدید جہاز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور روزی روٹی میں اضافےکے لیے پہلی بار ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں، چاہے وہ پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت سبسڈی ہو یا ماہی گیروں کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت۔

آج  کولائی میں ماہی گیری کی بندرگاہ کا بھومی پوجن بھی کیا گیا ہے۔ سالہا سال سے ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہمارے بھائی بہن اس کا مطالبہ کررہے تھے۔ جب یہ تیار ہو جائے گا تو ماہی گیروں کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس منصوبے سے سیکڑوں ماہی گیر خاندانوں کو مدد ملے گی، کئی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

ساتھیو،

ڈبل انجن والی حکومت ملک کے عوام کی امنگوں کی تکمیل کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ملک کے عوام کی خواہش ہماری حکومت کے لیے عوام کے حکم کی طرح ہے۔ یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ بھارت میں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ ہونا چاہئے۔ آج ملک کے کونے کونے میں جدید انفرااسٹرکچر بنایا جا رہا ہے۔

یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ ہمارے زیادہ سے زیادہ شہر میٹرو کے ذریعے منسلک ہوں۔ ہماری حکومت کی کوششوں کی وجہ سے پچھلے آٹھ سالوں میں میٹرو سٹیز کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

ملک کے عوام کی خواہش ہے کہ انہیں ہوائی پرواز کی سہولت آسانی سے ملے۔ اڑان اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ سے زیادہ مسافر ہوائی جہازوں میں سفر کر چکے ہیں۔

یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ بھارت میں صاف ستھری معیشت ہو۔ آج ڈیجیٹل ادائیگی ایک تاریخی سطح پر ہے اور بھیم - یوپی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ مبذول کر رہی ہیں۔

آج ملک کے لوگ تیز رفتار انٹرنیٹ چاہتے ہیں، سستا انٹرنیٹ چاہتے ہیں، ملک کے کونے کونے میں انٹرنیٹ چاہتے ہیں۔ آج تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر گرام پنچایتوں کو جوڑا جا رہا ہے۔

5جی  کی سہولت اس میدان میں ایک نیا انقلاب لانے جا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک کی ڈبل انجن حکومت بھی تیز رفتاری سے لوگوں کی ضرورتوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ساتھیو،

بھارت کے پاس ساڑھے سات ہزار کلومیٹر سے زیادہ کوسٹل لائن ہے۔ ہمیں ملک کی اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ یہاں کا  کراولی ساحل اور مغربی گھاٹ بھی اپنی سیاحت کے لیے بہت مشہور ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نیو منگلور پورٹ ہر کروز سیزن میں اوسطاً 25,000 سیاحوں کو ہینڈل کرتا ہے۔ اس میں غیر ملکیوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ یعنی امکانات بہت زیادہ ہیں اور جیسے جیسے بھارت میں متوسط ​​طبقے کی طاقت بڑھ رہی ہے بھارت میں کروز ٹورزم کے امکانات زیادہ بڑھ رہے ہیں۔

جب سیاحت بڑھتی ہے تو اس سے ہماری کاٹیج انڈسٹریز، ہمارے کاریگروں، گاؤں کی صنعتوں، ریہڑی پٹری والےبھائیوں اور بہنوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، جیسے  معاشرے کے چھوٹے طبقات کو سیاحت سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ نیو منگلور پورٹ کروز ٹورزم کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نئی سہولیات کا اضافہ کر رہا ہے۔

ساتھیو،

جب کورونا بحران شروع ہوا تو میں نے تباہی کو موقع/آپدا کو اوسر میں بدلنے کی بات کی۔ آج ملک نے اس تباہی کو موقع میں بدل کر دکھایا ہے۔ جی ڈی پی کے جو اعداد و شمار کچھ دن پہلے آئے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ بھارت نے کورونا کے دور میں جو پالیسیاں بنائیں، جو فیصلے لیے گئے، وہ بہت اہم تھے۔ پچھلے سال، بہت ساری عالمی رکاوٹوں کے باوجود، بھارت نے کل 670 بلین ڈالر یعنی 50 لاکھ کروڑ روپے کی برآمد کی۔ ہر چیلنج پر قابو پاتے ہوئے بھارت نے 418 بلین ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمدات کا نیا ریکارڈ بنایا۔

آج ملک کے گروتھ انجن سے جڑا   ہر شعبہ پوری صلاحیت سے چل پڑا ہے۔ سروس سیکٹر بھی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پی ایل آئی اسکیموں کا اثر مینوفیکچرنگ سیکٹر پر نظر آنے لگا ہے۔ موبائل فون سمیت الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کا پورا شعبہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

3 سال میں کھلونوں کی درآمد میں جتنی کمی آئی ہے، برآمدات میں تقریباً اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ ان سب کا براہ راست فائدہ ملک کے ساحلی علاقوں کو ہو رہا ہے، جو بھارتی سامان کی برآمد کے لیے اپنے وسائل مہیا کراتے ہیں، جن میں منگلورو جیسی بڑی بندرگاہیں شامل  ہیں۔

ساتھیو،

حکومت کی کوششوں سے ملک میں ساحلی ٹریفک میں بھی گزشتہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک کی مختلف بندرگاہوں پر سہولیات اور وسائل میں اضافے کی وجہ سے اب ساحلی نقل و حرکت آسان ہو گئی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بندرگاہوں کا رابطہ بہتر ہو، اس میں تیزی لائی جائے۔ لہذا، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت، ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زیادہ پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے بندرگاہ کنیکٹوٹی میں مدد کریں گے۔

بھائیو اور بہنو،

اپنی بہادری اور تجارت کے لیے معروف ، یہ ساحلی خطہ شاندار صلاحیتوں سے بھرا ہوا ہے۔ بھارت کے بہت سے کاروباری لوگ یہاں رہتے ہیں۔ بھارت کے بہت سے خوبصورت جزیرے اور پہاڑیاں کرناٹک ہی میں ہیں۔ بھارت کے بہت سے مشہور مندر اور زیارت گاہیں یہاں واقع ہیں۔ آج جب  ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، میں رانی ابکا اور رانی  چینہ بھیرا دیوی کو بھی یاد کرنا چاہوں گا۔ بھارت کی سرزمین، بھارت کے کاروبار کو غلامی سے بچانے کے لیے ان کی جدوجہد بے مثال تھی۔ آج برآمدات کے میدان میں آگے بڑھ رہے بھارت  کیلئے یہ بہادر خواتین ایک عظیم ترغیب ہیں۔

کرناٹک کے لوگوں نے، ہمارے نوجوان ساتھیوں نے جس طرح ہر گھر ترنگا مہم کو کامیاب بنایا، یہ بھی اسی بھرپور روایت کی توسیع ہے۔ کرناٹک کے کراولی علاقے میں آکر، میں ہمیشہ حب الوطنی، قومی عزم کی اس توانائی سے متاثر ہوتا ہوں۔ دعا ہے کہ منگلورو میں نظر آنے والی یہ توانائی اسی طرح کی ترقی کی راہیں روشن کرتی رہے، اس خواہش کے ساتھ، میں ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میرے ساتھ  اونچی آواز میں بولئے –

بھارت ماتا کی – جئے!

بھارت ماتا کی – جئے!

بھارت ماتا کی – جئے!

بہت بہت شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream

Media Coverage

A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Srinagar Viksit Bharat Ambassadors Unite for 'Viksit Bharat, Viksit Kashmir'
April 20, 2024

Srinagar hosted a momentous gathering under the banner of the Viksit Bharat Ambassador or VBA 2024. Held at the prestigious Radisson Collection, the event served as a unique platform, bringing together diverse voices and perspectives to foster the nation's collective advancement towards development.

Graced by the esteemed presence of Union Minister Shri Hardeep Singh Puri as the Chief Guest, the event saw the attendance of over 400 distinguished members of society, representing influencers, industry stalwarts, environmentalists, and young minds, including first-time voters. Presidents of Chambers of Commerce, Federation of Kashmir Industrial Corporation, House Boat Owners Association, and members of the writers' association were also present.

The VBA 2024 meetup began with an interesting panel discussion on Viksit Kashmir, which focused on the symbiotic relationship between industry growth and sustainable development. This was followed by an interactive session by Minister Puri, who engaged with the attendees through an engaging presentation. Another event highlight was the live doodle capture by a local artist of the discussions.

Union Minister Hardeep Singh Puri discussed how India has changed in the last decade. He said India is on track to become one of the world's top three economies, surpassing Germany and Japan soon.

 

"The country is set to surpass Germany and Japan and will become the world's third-largest economy by 2027-28," he said.

 

According to official estimates, India's economy is projected to reach a remarkable $40 trillion by 2040. Presently, the economy stands at approximately $3.5 trillion.

He also stressed that India's progress is incomplete without a developed Kashmir.

 

"Bharat cannot be Viksit without a Viksit Kashmir," he said.

Hardeep Puri reflected on India's economic journey, noting that in the 1700s, India contributed a significant 25% to the global GDP. However, as experts documented, this figure gradually dwindled to a mere 2% by 1947.

 

He highlighted how India, once renowned as the 'sone ki chidiya' (golden bird), lost its economic strength during British colonial rule and continued to struggle even after gaining independence, remaining categorized under the 'Fragile Five' until 2014.

 

Puri emphasized that the true shift in India's economic trajectory commenced under the Modi government. Over the past decade, the nation has ascended from among the top 11 economies to ranking among the top 5 globally.

The Union Minister also encouraged everyone to participate in the Viksit Bharat 2047 mission, emphasizing that achieving this dream requires the active engagement and coordination of all "ambassadors" of change.

He highlighted India's rapid progress in metro network development, stating that the operational metro network spans approximately 950 kilometres. He expressed confidence that within the next 2-3 years, India's metro network will expand to become the second-largest globally, surpassing that of the United States.

 

Regarding Jammu and Kashmir, he mentioned that through the Smart project, over 68 projects totalling Rs 6,800 crores were conceptualized, with Rs 3,200 crores worth of projects already completed.

 

He further stated that Jammu and Kashmir possesses more potential than Switzerland but has faced setbacks due to man-made crises. He emphasized the Modi government's dedication to the comprehensive development of the region.

The minister highlighted a significant government policy shift from women-centred to women-led development. Drawing from his extensive experience as a diplomat spanning 39 years, he shared that when a country transitions to women-led development, there is typically a substantial GDP increase of 20-30%. 

He mentioned that the government is actively pursuing this objective, citing examples such as the Awas Yojana, where houses are registered in the names of women household members, and the implementation of 33% reservation for women in elected bodies as part of this broader mission. 

He also provided insight into the transformative impact of the Modi government's welfare policies on people's lives. He highlighted the Ujjwala Yojana, noting that 32 crore individuals have received LPG cylinders, a significant increase from the 14 crore connections in 2014. Additionally, he mentioned the expansion of the gas pipeline network, which has grown from 14,000 km to over 20,000 km over the past ten years.

The Vision of Viksit Bharat: 140 crore dreams, 1 purpose 

The Viksit Bharat Ambassador movement aims to encourage citizens to take responsibility for contributing to India's development. VBA meet-ups and events are being organized in various parts of the country to achieve this goal. These events provide a platform for participants to engage in constructive discussions, exchange ideas, and explore practical strategies for contributing to the movement.

Join the movement on the NaMo App: https://www.narendramodi.in/ViksitBharatAmbassador

The NaMo App: Bridging the Gap

Prime Minister Narendra Modi's app, the NaMo App, is a digital bridge that empowers citizens to participate in the Viksit Bharat Ambassador movement. The NaMo App serves as a one-stop platform for individuals to:

Join the cause: Sign up and become a Viksit Bharat Ambassador and make 10 other people

Amplify Development Stories: Access updates, news, and resources related to the movement.

Create/Join Events: Create and discover local events, meet-ups, and volunteer opportunities.

Connect/Network: Find and interact with like-minded individuals who share the vision of a developed India.

The 'VBA Event' section in the 'Onground Tasks' tab of the 'Volunteer Module' of the NaMo App allows users to stay updated with the ongoing VBA events.