وزیر اعظم نے منگلورو میں تقریباً 3800 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
"ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے 'میک ان انڈیا' اور ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو توسیع دینا بہت ضروری ہے"
"کرناٹک ریاست ساگر مالا اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سر فہرست ہے"
" پہلی بار کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد دیہی خاندانوں میں نل کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے"
کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے"
"جب سیاحت فروغ پاتی ہے تو اس سے ہماری گھریلو صنعتوں، ہمارے کاریگروں، دیہی صنعتوں، خوانچہ فروشوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں کو فائدہ ہوتا ہے"
آج ڈیجیٹل ادائیگیاں تاریخ ساز سطح پر ہیں اور بھیم یو پی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں"
گرام پنچایتوں کو تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر جوڑا جا رہا ہے"
"بھارت نے 418 ارب ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمد کا نیا ریکارڈ بنایا"
"وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زائد پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے بندرگاہوں کے بلا روک ٹوک رابطے میں مدد ملے گی"

کرناٹک کے گورنر جناب تھاور چند جی گہلوت، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب  بسوراج بومئی، مرکزی کابینہ میں شامل میرے ساتھی، کرناٹک حکومت کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل اے، اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

بھارت کی سمندری طاقت کے لیے آج کا دن  بہت بڑا ہے۔ ملک کی فوجی سلامتی ہو یا قوم کی اقتصادی سلامتی، بھارت آج بڑے مواقع دیکھ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل کوچی میں بھارت کے پہلے مقامی طیارہ بردار بحری جہاز کی لانچنگ نے ہر بھارتی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

اور اب یہاں منگلور میں 3 ہزار 700 کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح، سنگ بنیاد اور بھومی پوجن کیا گیا ہے۔ تاریخی منگلور بندرگاہ کی صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریفائنری اور ہمارے ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے کے لیے کئی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ میں آپ سب کو، کرناٹک کے لوگوں کو ان پروجیکٹوں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔

ان  پروجیکٹوں سے کرناٹک میں کاروبار اور صنعت  کو طاقت ملے گی۔ کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید تقویت ملے گی۔ کرناٹک کے کسانوں اور ماہی گیروں کی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، جو خصوصی طور پر ایک ضلع ایک پروڈکٹ کے تحت تیار کیے جا رہے ہیں۔

ساتھیو،

اس بار یوم آزادی پر، میں نے لال قلعہ سے جن پانچ عزائم کے بارے میں بات کی ہے، ان میں سے  پہلا  ایک ترقی یافتہ بھارت کی تخلیق ہے۔ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں میک ان انڈیا کو بڑھانا بہت ضروری ہے۔ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہماری برآمدات بڑھیں، دنیا میں ہماری مصنوعات لاگت کے لحاظ سے مسابقتی ہوں۔ یہ سستے اور آسان لاجسٹکس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ ملک کے بنیادی ڈھانچے پر پچھلے 8 سالوں سے بے مثال کام ہو رہا ہے۔ آج ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جہاں کسی بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹ پر کام نہ ہو رہا ہو۔ سرحدی ریاستوں کے روڈ انفراسٹرکچر کو بھارت مالا سے مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ ساحلی انفراسٹرکچر کو ساگر مالا سے قوت مل رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

گذشتہ برسوں کے دوران، ملک نے بندرگاہ پر مبنی ترقی کو، ترقی کا ایک اہم منتر بنا یا  ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں بھارت کی بندرگاہوں کی صلاحیت صرف 8 سالوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ یعنی سال 2014 تک ہمارے یہاں جتنی پورٹ کی گنجائش بنائی گئی تھی، گذشتہ 8 سالوں میں اتنی ہی تعداد میں ان میں نئی گنجائش  شامل کی گئی ہے۔

 

منگلور پورٹ میں ٹیکنالوجی سے متعلق جو نئی سہولیات شامل کی گئی ہیں اس سے اس کی صلاحیت اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوگا۔ آج، گیس اور سیال کارگو کے ذخیرہ سے متعلق چار پروجیکٹ، جن کا یہاں سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، کرناٹک اور ملک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہونے والے ہیں۔ اس سے خوردنی تیل، ایل پی جی گیس، بٹومین کی درآمدی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

ساتھیو،

امرت کال  میں، بھارت سبز ترقی کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ سبز ترقی اور سبز ملازمتیں، یہ نئے مواقع ہیں۔ آج یہاں ریفائنری میں شامل کی گئی نئی سہولیات بھی ہماری ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ آج ہماری ریفائنری کا انحصار دریا کے پانی پر ہے۔ ڈی سیلینیشن پلانٹ سے ریفائنری کا دریائی پانی پر انحصار کم ہو جائے گا۔

بھائیو اور بہنو،

پچھلے 8 سالوں میں جس طرح سے ملک نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دی ہے اس سے کرناٹک کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ کرناٹک ساگر مالا اسکیم سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں سے ایک ہے۔ کرناٹک میں، صرف نیشنل ہائی وے کے علاقے میں، پچھلے 8 سالوں میں، تقریباً 70 ہزار کروڑ کے پروجیکٹوں پر کام ہوا ہے۔ یہی نہیں، ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹ پائپ لائن میں ہیں۔ بنگلور-چنئی ایکسپریس وے، بنگلور-میسور روڈ ہائی وے کی چھ لیننگ، بنگلور کو پونے سے جوڑنے والا گرین فیلڈ کوریڈور، بنگلور سیٹلائٹ رنگ روڈ، اس طرح کے بہت سے پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔

ریلوے میں تو کرناٹک کے بجٹ میں 2014 سے پہلے کے مقابلے میں 4 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے لائنوں کو چوڑا کرنے کا کام گزشتہ 8 سالوں میں 4 گنا سے زیادہ رفتار سے ہوا ہے۔ کرناٹک میں ریلوے لائنوں کی برق کاری کا ایک بڑا حصہ پچھلے 8 سالوں میں مکمل کیا گیا ہے۔

ساتھیو،

آج کا بھارت جدید انفراسٹرکچر کی ترقی پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے، کیونکہ یہ ترقی بھارت کی تعمیر کا راستہ ہے۔ جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر سے سہولیات میں اضافے کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ امرت کال میں ہماری بڑے عزائم کی تکمیل کا بھی یہی طریقہ ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ملک کی تیز رفتار ترقی کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ملک کے عوام کی توانائی صحیح سمت لگے  ۔ جب عوام کی توانائی بنیادی سہولیات جٹانےمیں لگی ہو تو اس سے ملک کی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ پکے گھر، بیت الخلا، صاف پانی، بجلی اور دھوئیں سے پاک کچن آج کے دور میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے فطری ضرورتیں ہیں۔

ہماری ڈبل انجن والی حکومت ان سہولیات پر زیادہ سے زیادہ زور دے رہی ہے۔ پچھلے 8 سالوں میں ملک میں غریبوں کے لیے تین کروڑ سے زیادہ گھر بنائے گئے ہیں۔ کرناٹک میں بھی غریبوں کے لیے 8 لاکھ سے زیادہ پکے مکانات کو  منظوری دی گئی ہے۔ ہزاروں متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو اپنے گھر بنانے کے لیے کروڑوں روپے کی مدد بھی دی گئی ہے۔

جل جیون مشن کے تحت صرف تین سالوں میں ملک کے 6 کروڑ سے زیادہ گھرانوں کو پائپ سے پانی فراہم کیا گیا ہے۔ پہلی بار، کرناٹک میں 30 لاکھ سے زیادہ دیہی گھرانوں تک پائپ سے پانی پہنچا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری بہنیں، بیٹیاں ان سہولیات سے سب سے زیادہ مستفید ہورہی ہیں۔

ساتھیو،

غریبوں کی بہت  بڑی ضرورت ہے، علاج کی سستی سہولیات اور سماجی تحفظ۔ جب غریب مشکل میں ہوتا ہے تو پورا خاندان اور بعض اوقات آنے والی نسلیں بھی مشکل میں پڑ جاتی ہیں۔ آیوشمان بھارت یوجنا نے غریبوں کو اس پریشانی سے نجات دلائی ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے تقریباً 4 کروڑ غریب لوگوں کا اسپتال میں داخل ہونے کے دوران مفت علاج ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے غریبوں کے  تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے سے بچ گئے ہیں۔ کرناٹک کے 30 لاکھ سے زیادہ غریب مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے اور انہوں نے 4000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت بھی کی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہمارا یہ حال رہا ہے کہ ترقی کا فائدہ صرف وسائل سے مالامال لوگوں کو ہی ملا ہے۔ پہلی بار ،جو لوگ معاشی طور پر کمزور تھے انہیں ترقی کے ثمرات سے جوڑا گیا ہے۔ ہماری حکومت بھی ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جنہیں مالی طور پر چھوٹا سمجھ کر بھلا دیا گیا۔ چھوٹے کسان ہوں، چھوٹے تاجر ہوں، ماہی گیر ہوں، ریہڑی پٹری ،ٹھیلے والے ہوں، ایسے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار ملک کی ترقی کا فائدہ ملنا شروع ہواہے، وہ ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔

پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ملک کے 11 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ کرناٹک کے 55 لاکھ سے زیادہ چھوٹے کسانوں کو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں۔ پی ایم سواندھی کے تحت ملک کے 35 لاکھ اسٹریٹ وینڈرز کو مالی مدد ملی ہے۔ کرناٹک کے تقریباً 2 لاکھ اسٹریٹ وینڈرز نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مدرا یوجنا کے ذریعے ملک بھر میں چھوٹے کاروباریوں کو 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا گیا ہے۔ کرناٹک کے لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بھی تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کا بینک قرض دیا گیا ہے۔

ساتھیو،

ڈبل انجن کی حکومت ساحلی پٹی میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں، بندرگاہوں کے آس پاس کے دیہاتوں اور ہمارے ماہی گیروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے یہاں کے ماہی پروری  سے جڑے ساتھیوں کو کسان کریڈٹ کارڈ دیے گئے تھے۔ گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے ضروری کشتیاں، جدید جہاز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور روزی روٹی میں اضافےکے لیے پہلی بار ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں، چاہے وہ پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت سبسڈی ہو یا ماہی گیروں کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت۔

آج  کولائی میں ماہی گیری کی بندرگاہ کا بھومی پوجن بھی کیا گیا ہے۔ سالہا سال سے ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہمارے بھائی بہن اس کا مطالبہ کررہے تھے۔ جب یہ تیار ہو جائے گا تو ماہی گیروں کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس منصوبے سے سیکڑوں ماہی گیر خاندانوں کو مدد ملے گی، کئی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

ساتھیو،

ڈبل انجن والی حکومت ملک کے عوام کی امنگوں کی تکمیل کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ملک کے عوام کی خواہش ہماری حکومت کے لیے عوام کے حکم کی طرح ہے۔ یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ بھارت میں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ ہونا چاہئے۔ آج ملک کے کونے کونے میں جدید انفرااسٹرکچر بنایا جا رہا ہے۔

یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ ہمارے زیادہ سے زیادہ شہر میٹرو کے ذریعے منسلک ہوں۔ ہماری حکومت کی کوششوں کی وجہ سے پچھلے آٹھ سالوں میں میٹرو سٹیز کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

ملک کے عوام کی خواہش ہے کہ انہیں ہوائی پرواز کی سہولت آسانی سے ملے۔ اڑان اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ سے زیادہ مسافر ہوائی جہازوں میں سفر کر چکے ہیں۔

یہ ملک کے لوگوں کی خواہش ہے کہ بھارت میں صاف ستھری معیشت ہو۔ آج ڈیجیٹل ادائیگی ایک تاریخی سطح پر ہے اور بھیم - یوپی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ مبذول کر رہی ہیں۔

آج ملک کے لوگ تیز رفتار انٹرنیٹ چاہتے ہیں، سستا انٹرنیٹ چاہتے ہیں، ملک کے کونے کونے میں انٹرنیٹ چاہتے ہیں۔ آج تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر گرام پنچایتوں کو جوڑا جا رہا ہے۔

5جی  کی سہولت اس میدان میں ایک نیا انقلاب لانے جا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک کی ڈبل انجن حکومت بھی تیز رفتاری سے لوگوں کی ضرورتوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ساتھیو،

بھارت کے پاس ساڑھے سات ہزار کلومیٹر سے زیادہ کوسٹل لائن ہے۔ ہمیں ملک کی اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ یہاں کا  کراولی ساحل اور مغربی گھاٹ بھی اپنی سیاحت کے لیے بہت مشہور ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نیو منگلور پورٹ ہر کروز سیزن میں اوسطاً 25,000 سیاحوں کو ہینڈل کرتا ہے۔ اس میں غیر ملکیوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ یعنی امکانات بہت زیادہ ہیں اور جیسے جیسے بھارت میں متوسط ​​طبقے کی طاقت بڑھ رہی ہے بھارت میں کروز ٹورزم کے امکانات زیادہ بڑھ رہے ہیں۔

جب سیاحت بڑھتی ہے تو اس سے ہماری کاٹیج انڈسٹریز، ہمارے کاریگروں، گاؤں کی صنعتوں، ریہڑی پٹری والےبھائیوں اور بہنوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، جیسے  معاشرے کے چھوٹے طبقات کو سیاحت سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ نیو منگلور پورٹ کروز ٹورزم کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نئی سہولیات کا اضافہ کر رہا ہے۔

ساتھیو،

جب کورونا بحران شروع ہوا تو میں نے تباہی کو موقع/آپدا کو اوسر میں بدلنے کی بات کی۔ آج ملک نے اس تباہی کو موقع میں بدل کر دکھایا ہے۔ جی ڈی پی کے جو اعداد و شمار کچھ دن پہلے آئے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ بھارت نے کورونا کے دور میں جو پالیسیاں بنائیں، جو فیصلے لیے گئے، وہ بہت اہم تھے۔ پچھلے سال، بہت ساری عالمی رکاوٹوں کے باوجود، بھارت نے کل 670 بلین ڈالر یعنی 50 لاکھ کروڑ روپے کی برآمد کی۔ ہر چیلنج پر قابو پاتے ہوئے بھارت نے 418 بلین ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمدات کا نیا ریکارڈ بنایا۔

آج ملک کے گروتھ انجن سے جڑا   ہر شعبہ پوری صلاحیت سے چل پڑا ہے۔ سروس سیکٹر بھی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پی ایل آئی اسکیموں کا اثر مینوفیکچرنگ سیکٹر پر نظر آنے لگا ہے۔ موبائل فون سمیت الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کا پورا شعبہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

3 سال میں کھلونوں کی درآمد میں جتنی کمی آئی ہے، برآمدات میں تقریباً اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ ان سب کا براہ راست فائدہ ملک کے ساحلی علاقوں کو ہو رہا ہے، جو بھارتی سامان کی برآمد کے لیے اپنے وسائل مہیا کراتے ہیں، جن میں منگلورو جیسی بڑی بندرگاہیں شامل  ہیں۔

ساتھیو،

حکومت کی کوششوں سے ملک میں ساحلی ٹریفک میں بھی گزشتہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک کی مختلف بندرگاہوں پر سہولیات اور وسائل میں اضافے کی وجہ سے اب ساحلی نقل و حرکت آسان ہو گئی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بندرگاہوں کا رابطہ بہتر ہو، اس میں تیزی لائی جائے۔ لہذا، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت، ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زیادہ پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے بندرگاہ کنیکٹوٹی میں مدد کریں گے۔

بھائیو اور بہنو،

اپنی بہادری اور تجارت کے لیے معروف ، یہ ساحلی خطہ شاندار صلاحیتوں سے بھرا ہوا ہے۔ بھارت کے بہت سے کاروباری لوگ یہاں رہتے ہیں۔ بھارت کے بہت سے خوبصورت جزیرے اور پہاڑیاں کرناٹک ہی میں ہیں۔ بھارت کے بہت سے مشہور مندر اور زیارت گاہیں یہاں واقع ہیں۔ آج جب  ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، میں رانی ابکا اور رانی  چینہ بھیرا دیوی کو بھی یاد کرنا چاہوں گا۔ بھارت کی سرزمین، بھارت کے کاروبار کو غلامی سے بچانے کے لیے ان کی جدوجہد بے مثال تھی۔ آج برآمدات کے میدان میں آگے بڑھ رہے بھارت  کیلئے یہ بہادر خواتین ایک عظیم ترغیب ہیں۔

کرناٹک کے لوگوں نے، ہمارے نوجوان ساتھیوں نے جس طرح ہر گھر ترنگا مہم کو کامیاب بنایا، یہ بھی اسی بھرپور روایت کی توسیع ہے۔ کرناٹک کے کراولی علاقے میں آکر، میں ہمیشہ حب الوطنی، قومی عزم کی اس توانائی سے متاثر ہوتا ہوں۔ دعا ہے کہ منگلورو میں نظر آنے والی یہ توانائی اسی طرح کی ترقی کی راہیں روشن کرتی رہے، اس خواہش کے ساتھ، میں ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میرے ساتھ  اونچی آواز میں بولئے –

بھارت ماتا کی – جئے!

بھارت ماتا کی – جئے!

بھارت ماتا کی – جئے!

بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India stands tall in shaky world economy as Fitch lifts FY26 growth view to 7.5%

Media Coverage

India stands tall in shaky world economy as Fitch lifts FY26 growth view to 7.5%
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi lays foundation stone, inaugurates various development works worth Rs.18,700 crore in Kolkata, West Bengal
March 14, 2026
Today, a vigorous nationwide campaign to modernise railways is underway, and we are determined that West Bengal should not be left behind in this effort: PM
The central government is rapidly expanding the railway infrastructure in West Bengal: PM
Ports like Kolkata and Haldia have long been major centers of trade in Eastern India: PM
Mechanisation at the Haldia Dock Complex will speed up cargo operations, enhance port capacity and strengthen trade facilities: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi laid the foundation stone, inaugurated various development works worth more than Rs.18,000 crore in Kolkata, West Bengal, today. Addressing the gathering the Prime Minister remarked, "Today, from the land of Kolkata, a new chapter of development is being written for West Bengal and Eastern India."

The Prime Minister highlighted that the foundation stones and dedications of projects worth more than ₹18,000 crore related to roads, railways, and port infrastructure have been carried out at this event. He emphasized that these projects will give new momentum to West Bengal and Eastern India, boost trade and industry, and make life easier for lakhs of people by providing them new opportunities. Referring to some of the key projects, the Prime Minister noted that the completion of the Kharagpur–Moregram Expressway will accelerate economic activities across many parts of West Bengal. He also mentioned the Dubrajpur Bypass and the major bridges being constructed over the Kangsabati and Shilabati rivers, which will further improve connectivity. "I congratulate the people of West Bengal and the entire Eastern India for these transformative projects," remarked Shri Modi.

The Prime Minister stated that a vigorous campaign is underway across the country to modernize the Indian Railways, and it is the firm resolve of the government that West Bengal does not lag behind in this mission. He pointed out that the Central Government is rapidly expanding the railway infrastructure in West Bengal. On this occasion, the Automatic Block Signalling System on the Kalaikunda–Kanimahuli section has been dedicated to the nation. "These initiatives will enhance the capacity of busy rail routes, make journeys safer, and also increase speed and convenience for passengers", asserted Shri Modi.

The Prime Minister announced the inauguration of six stations, Kamakhyaguri, Anara, Tamluk, Haldia, Barabhum, and Siuri,as Amrit Bharat Stations. He noted that the great culture of Bengal is now shining even more brightly at these stations, and several more stations are undergoing redevelopment. A new express train service between Purulia and Anand Vihar Terminal has also been flagged off. "This train service will benefit not only the people of West Bengal but also those in Jharkhand, Bihar, Uttar Pradesh, and Delhi" , affirmed Shri Modi.

The Prime Minister emphasized that ports and water transport play an equally important role as road and rail connectivity in driving economic progress. He observed that for decades, this immense potential of Eastern India was largely neglected, but today, waterways are opening new avenues for trade and industrial advancement. In this direction, foundation stones and dedications of key port infrastructure projects have been carried out. The Prime Minister highlighted that Kolkata and Haldia ports have long been major centres of trade in Eastern India, and the mechanization of the Haldia Dock Complex will accelerate cargo operations, enhance port capacity, and provide new facilities for trade. Additionally, the renovation of the Bascule Bridge in the Kolkata Dock System and the augmentation of cargo handling capacity at Kidderpore Dock are also being undertaken. "All these projects will further strengthen the logistics system of Eastern India", asserted Shri Modi.

In his concluding remarks, the Prime Minister underscored that the new projects related to roads, railways, and ports are paving the way for a modern future for West Bengal. He noted that the benefits of these projects will reach farmers, traders, entrepreneurs, students, and every section of society. New opportunities will emerge in sectors like tourism, and local industries and services will gain fresh momentum. The Prime Minister recalled Bengal's historic role in showing the way to India and expressed his conviction that strong connectivity and modern infrastructure will form the foundation of a developed Bengal. "It is our resolve that Bengal, which has always shown the way to India, should once again achieve that glory by becoming a 'Viksit Bengal' ", emphasized Shri Modi.