آج ہندوستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے؛ ہندوستان اب چیلنجوں کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے: وزیر اعظم
خلیج سے لے کر گلوبل ویسٹ تک اور گلوبل ساؤتھ سے لے کر پڑوسی ممالک تک، ہندوستان سب کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے: وزیر اعظم
جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اس میں بہتری آتی ہے اور بالآخر وہ تبدیل بھی ہو جاتا ہے: وزیر اعظم
یہ نیا ہندوستان ہے، جو اپنی ترقی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا: وزیراعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ’انڈیا اینڈ دی ورلڈ‘ کے موضوع پر منعقدہ ٹی وی 9 سمٹ سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے دنیا کی غیر معمولی اور نہایت سنگین صورتحال کے درمیان خیالات کے تبادلے کے لیے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ٹی وی 9 نیٹ ورک کی تعریف کی۔ جناب مودی نے کہاکہ ’’آج دنیا جن سنگین حالات سے گزر رہی ہے، وہ غیر معمولی اور نہایت تشویشناک ہیں اور ان حالات کے درمیان ٹی وی 9 نیٹ ورک نے خیالات کے تبادلے کے لیے ایک نہایت اہم پلیٹ فارم  فراہم کیا ہے۔

تنازعات میں گھری دنیا کے درمیان  ہندوستان کی پوزیشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2014 سے پہلے کے حالات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود 140 کروڑ ہندوستانی متحد رہے، جس کی بدولت ہندوستان نے ہر مشکل پر قابو پایا۔ جناب مودی نے کہاکہ’’28 فروری کے بعد ان 23 دنوں میں ہندوستان نے تعلقات بنانے، فیصلہ سازی اور بحران کے انتظام کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘

منقسم عالمی نظام کے درمیان ہندوستان کی سفارتی رسائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے خلیج سے لے کر گلوبل ویسٹ تک اور گلوبل ساؤتھ سے لے کر پڑوسی ممالک تک بے مثال روابط قائم کیے ہیں اور خود کو سب کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر قائم کیا ہے۔  ہندوستان کے جھکاؤ کے سوال پرجناب مودی نے واضح اور دوٹوک جواب دیا: ’’ہم ہندوستان کے ساتھ ہیں،ہندوستان کے مفادات کے ساتھ ہیں، امن کے ساتھ ہیں اور مکالمے کے ساتھ ہیں۔‘‘

 

اس بحران کے وقت ،جب عالمی سپلائی چینز ڈگمگا رہی ہیں، وزیر اعظم نے ہندوستان کی جانب سے پیش کیے گئے تنوع اور لچک کے ماڈل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چاہے توانائی ہو، کھاد ہو یا ضروری اشیاء، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ جناب مودی نے کہاکہ  ہندوستان نے تنوع اور لچک کا ماڈل پیش کیا ہے اور ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں کہ ہمارے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

مغربی ایشیا کے تنازعہ کے  ہندوستان پر پڑنے والےاثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آج لوک سبھا میں دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ جغرافیائی طور پر ہندوستان کی سرحدوں سے دور ہے، لیکن آج کی باہم مربوط دنیا میں کوئی بھی ملک جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ ضبط اور حساسیت کا وقت ہے؛ جب شہری متحد ہو کر کسی بحران کا سامنا کرتے ہیں تو نتائج ہمیشہ بامعنی ہوتے ہیں۔‘‘

 

وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ دنیا میں جاری ہلچل کے باوجود ہندوستان نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے، 28 فروری کے بعد کے 23 دنوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے دہلی میٹرو ریل کے اہم کوریڈور کے افتتاح، سلچر ہائی اسپیڈ کوریڈور اور کوٹا کے نئے ہوائی اڈے کاسنگ بنیاد اور مدورائی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی درجہ دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے 100 پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکس کی منظوری، 1,500 میگاواٹ نئی صلاحیت کے اضافے کے لیے چھوٹے پن بجلی ترقیاتی منصوبے کی منظوری، جل جیون مشن کو 2028 تک توسیع دینے، پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 18,000 کروڑ روپے سے زائد رقم کی براہ راست منتقلی اور ایم ایس ایم ایز و برآمد کنندگان کے لیے 500 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کے اعلان کا بھی حوالہ دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وکست بھارت  کی تعمیر کے لیے ملک کتنی تیزی سے کام کر رہا ہے۔

مینجمنٹ کے اصولوں کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے معروف کہاوت ’جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اسے بہتر طور پر منظم کیا جاتا ہے‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اس میں بہتری بھی آتی ہے اور بالآخر وہ تبدیل بھی ہو جاتا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ شاہراہوں کی تعمیر کی رفتار 11سے12 کلومیٹر یومیہ سے بڑھ کر تقریباً 30 کلومیٹر فی دن ہو گئی ہے؛ بندرگاہوں پر جہازوں کا ٹرن اراؤنڈ وقت 5–6 دن سے کم ہو کر 2 دن سے بھی کم رہ گیا ہے؛ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کی تعداد 400–500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے؛ ایم بی بی ایس نشستیں 50 تا55 ہزار سے بڑھ کر 1.25 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہیں؛ بینک کھاتوں کی تعداد 25 کروڑ سے بڑھ کر 80 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے (جن میں 55 کروڑ جن دھن کھاتے شامل ہیں) اور ہوائی اڈوں کی تعداد 70 سے کم تھی جو بڑھ کر 160 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ’آج  ہندوستان فاسٹ ٹریک پر ہے، آج عزم کامیابیوں میں بدل رہے ہیں۔‘

 

وزیر اعظم نے جاری انقلابی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آسام، جو کبھی گولیوں کی آواز سے متاثر تھا، آج وہاں سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم ہو رہا ہے؛ اوڈیشہ میں سیمی کنڈکٹر سے لے کر پیٹروکیمیکلز تک مختلف شعبوں میں ترقی ہو رہی ہے؛ بہار میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 5 سے زیادہ نئے پل تعمیر کیے گئے ہیں اور اتر پردیش موبائل فون مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان ماضی کے ترقیاتی عدم توازن کو مستقبل کے مواقع میں تبدیل کر رہا ہے۔

مغربی بنگال کا ذکرتے ہوئے وزیر اعظم نے اسے ثقافت، تعلیم، صنعت اور تجارت کے ایک تاریخی مرکز کے طور پر تسلیم کیا اور ریاست کی ترقی کے لیے گزشتہ 11 برسوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ قومی مفاد کو جماعت  کےمفاد سے بالاتر رکھا جائے، کیونکہ سیاست سے اوپر ملک اور اس کی ترقی ہوتی ہے۔

 

آج شہیددیوس کے تاریخی موقع پر—جس دن شہید بھگت سنگھ، شہید راج گرو اور شہید سکھ دیو نے اعلیٰ ترین قربانی پیش کی—اور آج ہی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کا یوم پیدائش بھی ہے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ان عظیم ہستیوں سے رہنمائی اور تحریک حاصل کرنے کی بات کہی، جنہوں نے ملک کو ہمیشہ ذاتی مفاد سے بالاتررکھا۔انہوں نے اس بات پر مکمل یقین کا اظہار کیا کہ ٹی وی 9 سمٹ ہندوستان کی خود اعتمادی اور  ہندوستانیوں کے لیے دنیا کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔ جناب مودی نے کہاکہ ملکی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی یہی تحریک ہندوستان کووکست اور آتم نربھر بنائے گی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost

Media Coverage

India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.