’’قومی کھیلوں میں بھارت کی کھیل کود سے متعلق غیر معمولی صلاحیت کا جشن منایا جاتاہے‘‘
’’بھارت کے کونے کونے میں صلاحیت موجود ہے۔ لہذا، 2014 کے بعد، ہم نے کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی عزم کا بیڑا اٹھایا‘‘
’’گوا کی کارکردگی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا‘‘
’’کھیلوں کی دنیا میں بھارت کی حالیہ کامیابی، ہر نوجوان کھلاڑی کے لیے ایک بہت بڑی ترغیب ہے‘‘
’’کھیلو انڈیا کے ذریعے صلاحیت کو دریافت کریں، ان کو پروان چڑھائیں نیز نشوونما کریں اور انہیں اولمپکس پوڈیم تک پہنچانے کے لیے تربیت فراہم کریں اور پختہ ذہنی عادت بنائیں‘‘
’’آج بھارت مختلف شعبوں میں ترقی کر رہا ہے اور بے مثال سنگ میل طے کر رہا ہے‘‘
’’بھارت کی رفتار اور پیمانہ کا مقابلہ کرنا مشکل ہے‘‘
’’میرا بھارت ملک کی یووا شکتی کو ترقی یافتہ بھارت کی یوا شکتی میں تبدیل کرنے کا ایک وسیلہ بنے گا‘‘
’’بھارت 2030 میں یوتھ اولمپکس اور 2036 میں اولمپکس کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔ اولمپکس کے انعقاد کی ہماری خواہش صرف جذبات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لیے کچھ ٹھوس وجوہات موجود ہیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گوا کے مارگاؤ میں پنڈت جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں 37ویں قومی کھیلوں کا افتتاح کیا۔ یہ کھیل کود 26 اکتوبر سے 9 نومبر تک منعقد ہوں گے اور اس میں ملک بھر سے آئے 10,000 سے زائد ایتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں جو 28 مقامات پر کھیلوں کے 43 سے زائد زمروں میں حصہ لیں گے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ،وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی کھیلوں کے مہاکمبھ کا سفر گوا میں پہنچ چکا ہے اور پورا ماحول رنگوں، لہروں، جوش و خروش اور ایڈونچر سے بھرا ہوا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا’’گوا کی چمک اور کارکردگی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘انہوں نے گوا کے لوگوں کو مبارکباد دی اور 37ویں قومی کھیلوں کے بارے میں  اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے ملک کے کھیلوں میں گوا کے تعاون کو اجاگر کیا اور فٹ بال کے لیے گوا کے جوش وخروش  کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حقیقت کہ کھیلوں سے محبت کرنے والی  ریاست گوا میں قومی کھیل ہو رہے ہیں، اپنے آپ میں ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ قومی کھیل ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں کہ جب ملک ،کھیلوں کی دنیا میں نئی بلندیوں کو حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے ایشین گیمز میں 70 سال پرانا ریکارڈ توڑنے والی کامیابیوں کا ذکر کیا اور معذوری سے متاثرہ افراد کے جاری ایشین پیرا گیمز کے بارے میں بھی بتایا جہاں تمغوں کی تعداد 70 سے زائد ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام سابقہ ریکارڈز بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے ورلڈ یونیورسٹی گیمز کا بھی ذکر کیا جہاں بھارت  نے تاریخ رقم کی ہے۔ جناب مودی نے کہا ’’کھیل کی دنیا میں بھارت کی حالیہ کامیابی ہر نوجوان کھلاڑی کے لئے ایک بہت بڑی تحریک ہے‘‘۔ قومی کھیلوں کا ہر نوجوان کھلاڑی کے لیے ایک مضبوط لانچ پیڈ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجود مختلف امکانات  اور موقعوں پر روشنی ڈالی اور کھلاڑیوں  پر زور دیا کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ  کریں۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ بھارت میں ٹیلنٹ  اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے اور ملک نے محرومیوں کے باوجود چمپیئن پیدا کیے ہیں۔ پھر بھی تمغوں کی تعداد میں خراب کارکردگی، ہمیشہ ہم وطنوں کو چبھتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں ، وزیر اعظم نے2014 کے بعد کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے ، انتخاب کے عمل، کھلاڑیوں  اور کھیل کود سے متعلق افراد کے لیے مالی امداد کی اسکیموں، تربیتی اسکیموں اور معاشرے کی ذہنیت کے بارے میں لائی گئی تبدیلیوں کا ذکر کیا، اس طرح کھیلوں کے ماحولیاتی نظام میں رکاوٹیں ایک ایک کرکے دور ہوتی جارہی ہیں۔ حکومت نے صلاحیت کی دریافت سے لے کر اولمپکس پوڈیم تک سرپرستی فراہم کرنے سے متعلق ایک نقش راہ تیار کیا ہے۔

 

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے بتایا کہ اس سال کھیلوں کا بجٹ نو سال پہلے کے کھیلوں کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلو انڈیا اور ٹاپس جیسی پہل قدمیوں کے نئے ماحولیاتی نظام کی بدولت اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے باصلاحیت ایتھلیٹس تلاش کیے جارہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹاپس میں چوٹی کے ایتھلیٹس دنیا  میں دستیاب بہترین تربیت حاصل کرتے ہیں اور کھیلو انڈیا کے تحت  3000 کھلاڑی تربیت  حاصل کررہے ہیں۔ کھلاڑیوں کو سالانہ 6 لاکھ روپئے کے بقدر وظائف مل رہے ہیں۔ کھیلو انڈیا کے تحت دریافت ہونے والے تقریباً 125 کھلاڑیوں نے ایشین گیمز میں حصہ لیا اور 36 تمغے جیتے۔ انہوں نے مزید کہا’’کھیلو انڈیا کے ذریعے ٹیلنٹ اور صلاحیت کو دریافت کرنا، ان کو پروان چڑھانا،نیز  نشوونما کرنا اورٹاپس  کے ذریعے اولمپکس پوڈیم تک پہنچنے کے لیے انہیں تربیت اور مزاج فراہم کرنا، ہمارا نقش راہ ہے‘‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کے کھیلوں کے شعبے کی ترقی کا براہ راست تعلق اس کی معیشت کی نمو سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ملک میں منفی ماحول کی کھیلوں کے میدان کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی زندگی سے بھی  عکاسی ہوتی ہے، جبکہ کھیلوں میں بھارت کی حالیہ کامیابی اس کی مجموعی کامیابی کی داستان  سے ملتی جلتی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نئے ریکارڈ  قائم کررہا ہے اور ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا’’ہندوستان کی رفتار اور پیمانے کا مقابلہ کرنا مشکل ہے‘‘ ۔ گزشتہ 30 دنوں میں بھارت  کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اگر قوم اسی پیمانے اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھتی رہی، تو یہ مودی ہی ہیں جو نوجوان نسلوں کے روشن اور شاندار مستقبل کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے مثالیں پیش کرتے ہوئے، ناری شکتی وندن ادھینیئم، گگن یان کے کامیاب تجربے، بھارت کی پہلی ریپڈ ریل ’نمو بھارت‘ کا افتتاح، بینگلورو میٹرو کی توسیع، جموں و کشمیر کی پہلی وسٹا ڈوم ٹرین سروس، گلوبل میری ٹائم سربراہ اجلاس  جہاں 6 لاکھ کروڑ کے بقدر معاہدے ہوئے، آپریشن اجے جس کے تحت بھارتیوں  کو اسرائیل سے نکالا گیا، بھارت اور سری لنکا کے درمیان فیری سروسزکا آغاز، دہلی ودودرا ایکسپریس وے کاافتتاح، جی 20  سربراہ اجلاس کا کامیاب انعقاد ،   5جی یوزر بیس میں بھارت  کی چوٹی کے 3 ممالک میں شمولیت، گوگل کا ایپل کے بعد اسمارٹ فون بنانے کا حالیہ اعلان ، ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں ایک نئے ریکارڈ کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا ’’یہ محض آدھی فہرست ہے ‘‘۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اس وقت جتنے بھی کام چل رہے ہیں ان کی بنیاد قوم کا نوجوان ہے۔ انہوں نے نئے پلیٹ فارم ’مائی بھارت‘کے بارے میں بات کی جو نوجوانوں کو آپس میں اور ملک کی اسکیموں سے جوڑنے کا ایک ون اسٹاپ مرکز ہوگا تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں  سے پوری طرح آگاہ ہونے اور ملک کی تعمیر میں تعاون کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے۔ انہوں نے کہا ’’یہ بھارت کی یووا شکتی کو وکست اور ترقی یافتہ بھارت کی یووا شکتی بنانے کا ایک وسیلہ ہو گا‘‘ ۔ وزیر اعظم آنے والے ایکتا دیوس پر مہم کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن رن فار یونٹی کا ایک شاندار پروگرام ہونا چاہئے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ’’آج جب ہندوستان کا عزم اور کوششیں بہت زیادہ ہیں، تو بھارت  کی خواہشات  اور امنگوں کا بلند ہونا بھی فطری ہے۔ اسی لیے میں نے آئی او سی اجلاس کے دوران 140 کروڑ ہندوستانیوں کی امنگوں کو پیش نظر رکھا۔ میں نے اولمپکس کی سپریم کمیٹی کو یقین دلایا کہ بھارت 2030 میں یوتھ اولمپکس اور 2036 میں اولمپکس کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اولمپکس کے انعقاد کی ہماری خواہش صرف جذبات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کچھ ٹھوس وجوہات ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2036 میں بھارت کی معیشت اور بنیادی ڈھانچہ، آسانی سے اولمپکس کی میزبانی کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

 

وزیر اعظم نےاس بات کو نمایاں کرتے ہوئے کہ ’’ہمارے قومی کھیل بھی ایک بھارت، شریسٹھ بھارت کی علامت ہیں‘‘،اس بات پر زور دیا کہ یہ بھارت کی ہر ریاست کے لیے اپنی صلاحیت کو ظاہر کرنے کا ایک بہترین وسیلہ ہے۔ انہوں نے گوا حکومت اور گوا کے لوگوں کی طرف سے قومی کھیلوں کے انعقاد کے لیے کی گئی تیاریوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تعمیر کیا گیا کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، آنے والی کئی دہائیوں تک گوا کے نوجوانوں کے لیے کارآمد رہے گا اور یہ سرزمین ملک کے لیے بہت سے نئے کھلاڑی پیدا کرے گی، جب کہ اس بنیادی ڈھانچے کو مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’گزشتہ چند سالوں میں، گوا میں کنیکٹی ویٹی سے متعلق جدید ترین بنیادی ڈھانچہ  بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ قومی کھیلوں  سے گوا کی سیاحت اور معیشت کو بہت فائدہ پہنچے گا‘‘۔

وزیر اعظم نے گوا کا جشن منانے کی ایک سرزمین کے طور پر اعتراف کیا اور گوا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور بین الاقوامی کانفرنسوں اور سربراہی اجلاسوں کے مرکز کے طور پر ریاست کے بڑھتے مقام کا ذکر کیا۔ 2016 کی برکس کانفرنس اور جی  20  کی کئی کانفرنسوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جی20 نے ’پائیدار سیاحت کے لیے گوا روڈ میپ‘ کو اختیار کیا ہے۔

 

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ ہر صورتحال میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں، خواہ کوئی بھی میدان ہو یا  کوئی بھی چیلنج ہو۔ انہوں نے اپنا خطاب مکمل کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس اپیل کے ساتھ، میں 37ویں قومی کھیلوں کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔ آپ تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک بار پھر بہت سی نیک خواہشات۔ گوا تیار ہے‘‘۔

اس موقع پر گوا کے گورنر جناب پی ایس سریدھرن پلئی، گوا کے وزیر اعلیٰ جناب پرمود ساونت، کھیل اور نوجوانوں کے امور کے مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر اور انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا کے علاوہ دیگر سرکردہ افراد بھی موجود تھے۔

 

پس منظر

وزیراعظم کی قیادت میں ملک میں کھیلوں کے کلچر میں زبردست  تبدیلی آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے مسلسل معاونت  کے سبب،  بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں زبردست بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی نشاندہی اور کھیلوں کی مقبولیت  میں مزید اضافہ کرنے کے لیے قومی سطح کے ٹورنامنٹس کے انعقاد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ،ملک میں قومی کھیلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

 

قومی کھیل پہلی مرتبہ گوا میں منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ قومی کھیل 26 اکتوبر سے 9 نومبر تک منعقد ہوں گے۔ ملک بھر سے آئے10,000 سے زیادہ کھلاڑی، 28 مقامات پر کھیل کود سے متعلق 43 سے زیادہ زمروں میں حصہ لیں گے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر، 23 فروری 2024
February 23, 2024

Vikas Bhi, Virasat Bhi - Era of Development and Progress under leadership of PM Modi