’’قومی کھیلوں میں بھارت کی کھیل کود سے متعلق غیر معمولی صلاحیت کا جشن منایا جاتاہے‘‘
’’بھارت کے کونے کونے میں صلاحیت موجود ہے۔ لہذا، 2014 کے بعد، ہم نے کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی عزم کا بیڑا اٹھایا‘‘
’’گوا کی کارکردگی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا‘‘
’’کھیلوں کی دنیا میں بھارت کی حالیہ کامیابی، ہر نوجوان کھلاڑی کے لیے ایک بہت بڑی ترغیب ہے‘‘
’’کھیلو انڈیا کے ذریعے صلاحیت کو دریافت کریں، ان کو پروان چڑھائیں نیز نشوونما کریں اور انہیں اولمپکس پوڈیم تک پہنچانے کے لیے تربیت فراہم کریں اور پختہ ذہنی عادت بنائیں‘‘
’’آج بھارت مختلف شعبوں میں ترقی کر رہا ہے اور بے مثال سنگ میل طے کر رہا ہے‘‘
’’بھارت کی رفتار اور پیمانہ کا مقابلہ کرنا مشکل ہے‘‘
’’میرا بھارت ملک کی یووا شکتی کو ترقی یافتہ بھارت کی یوا شکتی میں تبدیل کرنے کا ایک وسیلہ بنے گا‘‘
’’بھارت 2030 میں یوتھ اولمپکس اور 2036 میں اولمپکس کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔ اولمپکس کے انعقاد کی ہماری خواہش صرف جذبات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لیے کچھ ٹھوس وجوہات موجود ہیں‘‘

بھارت ماتا کی جئے،

بھارت ماتا کی جئے،

بھارت ماتا کی جئے،

گواکے گورنر جناب پی ایس سری دھرن پلّئی جی یہاں کے مقبول اور نوجوان،توانائی سے بھرپور وزیر اعلیٰ پرمود ساونت جی،  کھیلوں کے وزیر انوراگ ٹھاکر، مرکزی کابینہ کےمیرےدیگر ساتھی، اسٹیج پر موجود دیگر عوامی نمائندگان، بھارتیہ اولمپک فیڈریشن کی صدر بہن پی ٹی اوشا جی ملک کے کونے کونے سے آنے والے سبھی میرےکھلاڑی ساتھی،معاون عملہ، دیگر عہدیداران اور نوجوان دوستو! بھارتیہ کھیل کے مہاکنبھ کا عظیم سفر آج گوا آ پہنچا ہے۔ہر طرف رنگ ہے......، ترنگ ہے...... مستی ہے ..... روانگی ہے۔ گوا ہی فضا میں بات ہی کچھ ایسی ہے آپ سبھی کو 37 ویں قومی گیمز کیلئے نیک خواہشات، بہت بہت مبارکباد۔

 

ساتھیوں؛

گوا وہ سرزمین ہے جس نے ملک کو ایسے بہت سے اسپورٹس اسٹارس دیئے ہیں، جہاں فٹبال کے تئیں دیوانگی تو گلی گلی نظر آتی ہے  اورملک کے سب سے پرانے فٹبال کلبس میں خوشیاں ہمارے گوامیں ہیں۔ ایسے کھیل  کو چاہنے والے گوامیں قومی کھیلوں کا انعقاد اپنے آپ میں نئی توانائی بھر دیتا ہے۔

میرے پریوار جنوں؛

یہ قومی کھیل ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بھارت کی کھیلوں کی دنیا ایک کے بعد ایک کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ جو 70 سال میں نہیں ہوا وہ اس بار ایشین گیمز میں ہوتا دیکھا اور اب ایشین پیرا گیمز بھی چل رہےہیں۔ ان میں بھی بھارتی کھلاڑی 70 سے زیادہ تمغے جیت کر اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ اس سے قبل ورلڈ یونیورسٹی گیمز ہو چکے ہیں۔ اس میں بھی بھارت نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ کامیابیاں یہاں آنے والے ہر کھلاڑی کے لیے ایک عظیم ترغیب ہیں۔ یہ قومی کھیل ایک طرح سے آپ کے لیے، تمام نوجوانوں کے لیے، تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک مضبوط لانچ پیڈ ہیں۔ آپ کے سامنے  کتنے مواقع  ہیں، ان کو دھیان میں رکھتےہوئے پورے دم خم کے ساتھ آپ  کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ کیا آپ یہ کریں گے؟ کیا آپ یقینی بنائیں گے؟ کیا آپ پرانے ریکارڈ توڑیں گے؟ میری نیک خواہشات  آپ کے ساتھ ہیں۔

میرے نوجوان  ساتھیو ،

بھارت کے ہر گاؤں اور گلی میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ غربت کے دور میں بھی بھارت نے چیمپئنز پیدا کیے ہیں۔ ہماری بہن پی ٹی اوشا جی میرے ساتھ اسٹیج پر بیٹھی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہر شہری کو ایک کمی کھلتی  تھی ،ہمارا اتنا بڑا ملک بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں تمغوں کی تعداد میں بہت پیچھے رہ جاتا تھا۔ اس لیے 2014 کے بعد ہم نے قومی عزم کے ساتھ ملک کے اس احساس کو  دور کرنے کا  بیڑا اٹھایا۔ ہم نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں  کیں، ہم نے انتخابی عمل میں تبدیلیاں  کیں، ہم نے اسے مزید شفاف بنایا۔ ہم نے کھلاڑیوں کو مالی امداد فراہم کرنے والی اسکیموں میں تبدیلیاں کیں، ہم نے کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کرنے والی اسکیموں میں تبدیلیاں کیں۔ ہم نے معاشرے کی ذہنیت میں تبدیلی  پیدا کی، پرانی سوچ، پرانے نقطہ نظر کی وجہ سے ہم نے اپنے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں جو رکاوٹیں تھیں، ان کو ایک ایک کرکے دور کرنے کا کام شروع کیا۔ حکومت نے ٹیلنٹ کی تلاش سے لے کر اولمپک پوڈیم تک پہنچنے کے لیے ان کا ہاتھ تھامنے تک کا ایک  روڈ میپ بنایا۔ ہم آج پورے ملک میں اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔

 

دوستو،

سابقہ ​​حکومتوں میں کھیلوں کے بجٹ کے حوالے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ - کھیل تو کھیل  ہی ہے، کھیل  ہی ہے اور کیا ہے؟ اس پر کیوں خرچ کریں! ہماری حکومت نے  اس سوچ کو بھی بدلا۔ ہم نے کھیلوں کے بجٹ میں اضافہ کیا۔ اس سال کا مرکزی کھیلوں کا بجٹ 9 سال پہلے کے مقابلے 3 گنا زیادہ ہے۔ کھیلو انڈیا سے لے کر ٹاپس اسکیم تک، حکومت نے ملک میں کھلاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا ماحولیاتی نظام بنایا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت ملک بھر میں اسکول، کالج، یونیورسٹی کی سطح سے آپ جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت کی جارہی ہے۔ حکومت ان کی تربیت، ان کی خوراک، ان کے دیگر اخراجات پر بہت زیادہ رقم خرچ کر رہی ہے۔ ٹاپس یعنی  ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم، اس کے تحت ملک کے ٹاپ کھلاڑیوں کو دنیا کی بہترین ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ذرا تصور کریں، کھیلو انڈیا اسکیم کے تحت اس وقت ملک بھر سے 3 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ کھلاڑیوں کا اتنا بڑا ٹیلنٹ پول تیار کیا جا رہا ہے۔ اور ان میں سے ہر کھلاڑی کو ہر سال 6 لاکھ روپے سے زیادہ کا اسکالرشپ دیا جا رہا ہے۔ کھیلو انڈیا مہم سے ابھرنے والے تقریباً 125 نوجوان کھلاڑیوں نے ایشین گیمز میں حصہ لیا۔ اگر سسٹم پرانا ہوتا تو اس ہنر کو شاید ہی پہچانا جاتا۔ ان باصلاحیت کھلاڑیوں نے 36 تمغے جیتے ہیں۔ کھیلو انڈیا سے  کھلاڑیوں کی شناخت  کرو، انہیں تیار کرو اور پھر انہیں ٹاپس کے ذریعے اولمپک پوڈیم فنش کے لیے تربیت اور مزاج فراہم کرو۔ یہ ہمارا روڈ میپ ہے۔

میرے نوجوان ساتھیو ،

کسی بھی ملک کے کھیلوں کے شعبے کی ترقی کا براہ راست تعلق اس ملک کی معیشت کی ترقی سے ہوتا ہے۔ جب ملک میں منفیت، مایوسی اور نفی ہوتی ہے تو اس کے میدان اور زندگی کے ہر شعبے پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بھارت کی یہ کامیاب کھیلوں کی کہانی بھارت کی مجموعی کامیابی کی کہانی سے الگ نہیں ہے۔ آج بھارت ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے اور نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ آج بھارت کی رفتار اور پیمانے کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ پچھلے 30 دنوں کے کام اور کامیابیوں سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ بھارت کس طرح ترقی کر رہا ہے۔

ساتھیو،

میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لے رہا ہوں۔ تصور کریں کہ آپ کا روشن مستقبل کس طرح تیار کیا جا رہا ہے۔ میرے نوجوان، غور سے سنو، میں تمہیں صرف 30 دن کا کام بتاتا ہوں۔ پچھلے 30-35 دنوں میں جو کچھ ہوا ہے اور آپ محسوس کریں گے کہ اگر ملک اس رفتار اور اس پیمانے پر آگے بڑھ رہا ہے تو آپ کے روشن مستقبل کے لیے  مودی کی گارنٹی پکی  ہے۔

 

صرف پچھلے 30-35 دنوں میں،

  • ناری شکتی وندن ادھینیم ، قانون بنا۔
  • گگنیان سے متعلق ایک بہت ہی اہم ٹیسٹ کامیابی سے انجام دیا گیا۔
  • بھارت کو اپنی پہلی ریجنل ریپڈ ریل، نمو بھارت ملی۔
  • بنگلور میٹرو سروس میں توسیع کی گئی۔
  • جموں و کشمیر کی پہلی وسٹادوم ٹرین سروس شروعات ہوئی۔
  • ان 30 دنوں میں دہلی-وڈوڈرا ایکسپریس وے کا افتتاح ہوا
  • جی -20 ممالک کے ممبران پارلیمنٹ اور اسپیکرز کی ایک کانفرنس بھارت میں منعقد ہوئی۔
  • بھارت میں گلوبل میری ٹائم  سربراہ کانفرنس  کا انعقاد ہوا، 6 لاکھ کروڑ روپے کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
  • اسرائیل سے بھارتیوں کی واپسی کے لیے آپریشن اجے شروع کیا گیا ۔
  • 40 سال بعد بھارت اور سری لنکا کے درمیان فیری سروس شروع ہوئی۔
  • یورپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، بھارت 5جی یوزر بیس کےمعاملےمیں دنیا کے ٹاپ-3 ممالک میں پہنچا۔
  • ایپل کے بعد گوگل نے بھی میڈ ان انڈیا اسمارٹ فون بنانے کا اعلان کیا۔
  • ہمارے ملک نے اناج اور پھل سبزیوں کی پیداوار میں ایک نیا ریکارڈ بنایا۔

ساتھیو ،

یہ تو ابھی ہاف ٹائم ہوا ہے ، ابھی  میرے پاس گنانے کو اور بھی بہت کچھ ہے۔ آج ہی میں نے مہاراشٹر میں نالونڈے ڈیم کا بھومی پوجن کیا ہے جو 50 سال سے رُکا ہوا تھا۔

  • گذشتہ 30 دنوں میں ہی تلنگانہ میں 6 ہزار کروڑ روپئےکے سپر تھرمل پاؤر پروجیکٹ  کا آغاز ہوا۔
  • چھتیس گڑھ کے بستر میں 24 ہزار کروڑ روپے کے جدید اسٹیل پلانٹ کا افتتاح کیا گیا۔
    • راجستھان میں مہسانہ-بھٹنڈا-گرداسپور گیس پائپ لائن کے ایک  حصے کا افتتاح کیا گیا۔
    • جودھپور میں نئے ہوائی اڈے کے ٹرمینل کی عمارت اور آئی آئی ٹی کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا۔
    • پچھلے 30 دنوں میں، مہاراشٹر میں 500 سے زیادہ ہنر مندی کے فروغ کے مراکز شروع کیے گئے ہیں۔
    • کچھ دن پہلے گجرات کے ڈھورڈو کو بہترین سیاحتی گاؤں کا ایوارڈ ملا ۔
    • جبل پور میں ویرانگنا رانی درگاوتی میموریل کا بھومی پوجن ہوا۔
    • ہلدی کے کسانوں کے لیے ہلدی بورڈ کا اعلان کیا گیا۔
    • تلنگانہ میں سنٹرل ٹرائبل یونیورسٹی کو منظوری ملی۔
    • مدھیہ پردیش میں پی ایم آواس یوجنا کے تحت 2.25 لاکھ غریب خاندانوں کو مکان ملے۔
    • ان 30 دنوں میں پی ایم سواندھی یوجنا کے مستفید ہونے والوں کی تعداد 50 لاکھ تک پہنچی۔
    • آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 26 کروڑ کارڈ بنانے کا سنگ میل عبور کیا گیا۔
    • خواہش مند اضلاع کے بعد ملک میں خواہش مند بلاکس کی ترقی کی مہم شروع کی گئی۔
  • گاندھی جینتی پر دہلی میں کھادی کی ایک ہی دکان پر 1.5 کروڑ روپے کی فروخت ہوئی۔

 

اور ساتھیو،

ان ہی 30 دنوں میں کھیلوں کی دنیا میں بھی  بہت کچھ ہوا۔

  • بھارت نے ایشیائی کھیلوں میں 100 سے زیادہ تمغے جیتے ۔
  • بھارت میں 40 سال بعد انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
  • اتراکھنڈ کو ہاکی ایسٹرو ٹرف اور ویلوڈروم اسٹیڈیم ملا۔
  • وارانسی میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم پر کام شروع ہوا۔
  • گوالیار کو اٹل بہاری واجپئی دیویانگ اسپورٹس سنٹر ملا۔
  • اور یہاں گوا میں یہ نیشنل گیمز بھی  ہو رہے ہیں۔

صرف 30 دن کے، میرے نوجوان سوچئے،صرف 30 دن کے کاموں کی یہ فہرست بہت لمبی ہے میں نے آپ کو صرف ایک چھوٹی سی جھلک دکھائی ہے۔ آج ملک کے ہر شعبے میں بے مثال رفتار سے کام ہو رہا ہے، ملک کے ہر حصے میں ہر کوئی ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔

ساتھیو،

یہ جتنے بھی کام ہو رہے ہیں، ان کے مرکز میں میرے ملک کے نوجوان ہیں، میرے بھارت کے نوجوان ہیں۔ آج بھارت کے نوجوان بے مثال خود اعتمادی سے بھرے ہوئے ہیں۔ بھارت کے نوجوان کی اس  خود اعتمادی کو قومی عزم سے جوڑنے کے لیے حال ہی میں ایک اور بڑا کام  ہوا  ہے۔ میرا نوجوان بھارت ، یہاں آپ نے ہر جگہ بورڈز دیکھے ہیں، میرا نوجوان بھارت،  یعنی ایم وائی  بھارت نام سے ایک نیے پلیٹ فارم کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ دیہی اور شہری لوگوں یعنی ملک کے ہر نوجوان کو ایک دوسرے کے ساتھ اور حکومت کے ساتھ جوڑنے کا ایک ون اسٹاپ سینٹر ہوگا۔ تاکہ ان کی امنگوں کی تکمیل کے لیے انہیں قوم کی تعمیر کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ بھارت کی نوجوان طاقت کو ترقی یافتہ بھارت کی طاقت بنانے کا ذریعہ بنے گا۔ اب سے کچھ دن بعد، 31 اکتوبر کو، یوم وحدت کے موقع پر، ایم وائی  بھارت مہم شروع کرنے جا رہا ہوں۔ اور اہل وطن جانتے ہیں کہ 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش پر ہم ملک بھر میں رن فار یونٹی کا ایک بڑا پروگرام منعقد کرتے ہیں۔میں چاہوں گا کہ ملک کی یکجہتی کے لیے 31 اکتوبر کو گوا اور ملک کے کونے کونے میں رن فار یونٹی کا ایک عظیم الشان پروگرام ہونا چاہیے۔ آپ سب بھی اس مہم سے ضرور جڑیئے گا۔

 

ساتھیو،

آج جب بھارت کا عزم اور کوششیں، دونوں اس میں عظیم ہیں ، تب بھارت کی امنگوں کا  کا بلند ہونا فطری بات ہے۔ اسی لیے میں نے آئی او سی سیشن کے دوران 140 کروڑ بھارتیوں کی امنگوں کو سامنے رکھا ہے۔ میں نے اولمپکس کی سپریم کمیٹی کو یقین دلایا کہ بھارت 2030 میں یوتھ اولمپکس اور 2036 میں اولمپکس منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔

ساتھیو،

اولمپکس کے انعقاد کی ہماری خواہش صرف جذبات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے کچھ ٹھوس وجوہات ہیں۔ 2036 تک، یعنی اب سے تقریباً 13 سال بعد، بھارت دنیا کی اہم اقتصادی طاقتوں میں سے ایک ہو گا۔ اس وقت تک ہر بھارتی کی آمدنی آج کی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔ تب تک بھارت میں ایک بہت بڑا متوسط ​​طبقہ ہوگا۔ کھیلوں سے لے کر خلا تک، بھارت کا ترنگا  اور زیادہ شان سے لہرا رہا ہوگا۔ اولمپکس کے انعقاد کے لیے رابطے اور دیگر جدید بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج بھارت جدید بنیادی ڈھانچہ  پر 100 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس لیے اولمپکس بھی ہمارے لیے اتنے ہی آسان ہو جائیں گے۔

ساتھیو،

ہمارے قومی کھیل بھی ایک بھارت،شریشٹھ بھارت کی  بھی علامت ہیں۔ یہ بھارت کی ہر ریاست کے لیے اپنی صلاحیت کو ظاہر کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس بار گوا کو یہ موقع ملا ہے۔ گوا حکومت اور گوا کے لوگوں نے جس طرح کی تیاریاں کی ہیں وہ واقعی قابل ستائش ہیں۔ یہاں بنایا گیا کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ آنے والی کئی دہائیوں تک گوا کے نوجوانوں کے لیے کام ا ٓئے گا۔ بھارت کو یہاں سے کئی نئے کھلاڑی ملیں گے۔ اس سے یہاں کھیلوں کے مزید قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔ پچھلے کچھ سالوں میں گوا میں کنیکٹیویٹی سے متعلق جدیدبنیادی ڈھانچہ بھی بنایا گیا ہے۔ قومی کھیلوں سے گوا کی سیاحت اور معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔

 

ساتھیو،

گوا، یہ گوا تو تہواروں کے لیے ، جشن کے لیے جانا جاتا ہے۔ گوا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا اب پوری دنیا میں چرچا ہو رہا ہے۔ ہماری حکومت گوا کو بین الاقوامی کانفرنسوں، اجلاسوں اور سربراہی اجلاسوں کے لیے بھی ایک اہم مرکز بنا رہی ہے۔ سال 2016 میں، ہم نے گوا میں برکس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ یہاں گوا میں جی-20 سے متعلق کئی اہم میٹنگیں بھی ہوئی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ دنیا میں سیاحت کی پائیدار ترقی کے لیے، سیاحت کے لیے گوا روڈ میپ کوجی-20 ممالک نے متفقہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ یہ نہ صرف گوا کے لیے فخر کی بات ہے بلکہ یہ بھارت کی سیاحت کے لیے بھی ایک بہت  بڑی بات ہے۔

ساتھیو،

میدان کوئی بھی  ہو، کوئی بھی چیلنج ہو، ہمیں ہر حال میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس اپیل  کے ساتھ، میں 37ویں (سنتیسویں) قومی کھیلوں کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔ آپ تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک بار پھر بہت سی نیک خواہشات۔ گوا تیار ہے! گوئیں آسا تیار! گوا تیار ہے! بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, who gave new energy to the weak & divided India: PM Modi
February 23, 2024
Unveils new statue of Sant Ravidas
Inaugurates and lays foundation stones for development works around Sant Ravidas Janam Sthali
Lays the foundation stone for the Sant Ravidas Museum and beautification of the park
“India has a history, whenever the country is in need, some saint, sage or great personality is born in India.”
“Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, which gave new energy to the weak and divided India”
“Sant Ravidas ji told the society the importance of freedom and also worked to bridge the social divide”
“Ravidas ji belongs to everyone and everyone belongs to Ravidas ji.”
“Government is taking forward the teachings and ideals of Sant Ravidas ji while following the mantra of ‘Sabka Saath SabkaVikas’”
“We have to avoid the negative mentality of casteism and follow the positive teachings of Sant Ravidas ji”

जय गुरु रविदास।

उत्तर प्रदेश के मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ जी, पूरे भारत से यहां पधारे सम्मानित संत जन, भक्त गण और मेरे भाइयों एवं बहनों,

आप सभी का मैं गुरु रविदास जी जन्म जयंती के पावन अवसर पर उनकी जन्मभूमि में स्वागत करता हूँ। आप सब रविदास जी की जयंती के पर्व पर इतनी-इतनी दूर से यहां आते हैं। खासकर, मेरे पंजाब से इतने भाई-बहन आते हैं कि बनारस खुद भी ‘मिनी पंजाब’ जैसा लगने लगता है। ये सब संत रविदास जी की कृपा से ही संभव होता है। मुझे भी रविदास जी बार बार अपनी जन्मभूमि पर बुलाते हैं। मुझे उनके संकल्पों को आगे बढ़ाने का मौका मिलता है, उनके लाखों अनुयायियों की सेवा का अवसर मिलता है। गुरु के जन्मतीर्थ पर उनके सब अनुयायियों की सेवा करना मेरे लिए किसी सौभाग्य से कम नहीं।

और भाइयों और बहनों,

यहां का सांसद होने के नाते, काशी का जन-प्रतिनिधि होने के नाते मेरी विशेष ज़िम्मेदारी भी बनती है। मैं बनारस में आप सबका स्वागत भी करूं, और आप सबकी सुविधाओं का खास ख्याल भी रखूं, ये मेरा दायित्व है। मुझे खुशी है कि आज इस पावन दिन मुझे अपने इन दायित्वों को पूरा करने का अवसर मिला है। आज बनारस के विकास के लिए सैकड़ों करोड़ रुपए की विकास परियोजनाओं का लोकार्पण और शिलान्यास होने जा रहा है। इससे यहां आने वाले श्रद्धालुओं की यात्रा और सुखद और सरल होगी। साथ ही, संत रविदास जी की जन्मस्थली के विकास के लिए भी कई करोड़ रुपए की योजनाओं का लोकार्पण हुआ है। मंदिर और मंदिर क्षेत्र का विकास, मंदिर तक आने वाली सड़कों का निर्माण, इंटरलॉकिंग और ड्रेनेज का काम, भक्तों के लिए सत्संग और साधना करने के लिए, प्रसाद ग्रहण करने के लिए अलग-अलग व्यवस्थाओं का निर्माण, इन सबसे आप सब लाखों भक्तों को सुविधा होगी। माघी पूर्णिमा की यात्रा में श्रद्धालुओं को आध्यात्मिक सुख तो मिलेगा ही, उन्हें कई परेशानियों से भी छुटकारा मिलेगा। आज मुझे संत रविदास जी की नई प्रतिमा के लोकार्पण का सौभाग्य भी मिला है। संत रविदास म्यूज़ियम की आधारशिला भी आज रखी गई है। मैं आप सभी को इन विकास कार्यों की अनेक-अनेक शुभकामनाएँ देता हूं। मैं देश और दुनिया भर के सभी श्रद्धालुओं को संत रविदास जी की जन्मजयंती और माघी पूर्णिमा की हार्दिक बधाई देता हूं।

साथियों,

आज महान संत और समाज सुधारक गाडगे बाबा की जयंती भी है। गाडगे बाबा ने संत रविदास की ही तरह समाज को रूढ़ियों से निकालने के लिए, दलितों वंचितों के कल्याण के लिए बहुत काम किया था। खुद बाबा साहब अंबेडकर उनके बहुत बड़े प्रशंसक थे। गाडगे बाबा भी बाबा साहब से बहुत प्रभावित रहते थे। आज इस अवसर पर मैं गाडगे बाबा के चरणों में भी श्रद्धापूवर्क नमन करता हूं।

साथियों,

अभी मंच पर आने से पहले मैं संत रविदास जी की मूर्ति पर पुष्प अर्पित करने, उन्हें प्रणाम करने भी गया था। इस दौरान मेरा मन जितनी श्रद्धा से भरा था, उतनी ही कृतज्ञता भी भीतर महसूस कर रहा था। वर्षों पहले भी, जब मैं न राजनीति में था, न किसी पद पर था, तब भी संत रविदास जी की शिक्षाओं से मुझे मार्गदर्शन मिलता था। मेरे मन में ये भावना होती थी कि मुझे रविदास जी की सेवा का अवसर मिले। और आज काशी ही नहीं, देश की दूसरी जगहों पर भी संत रविदास जी से जुड़े संकल्पों को पूरा किया जा रहा है। रविदास जी की शिक्षाओं को प्रचारित-प्रसारित करने के लिए नए केन्द्रों की स्थापना भी हो रही है। अभी कुछ महीने पहले ही मुझे मध्यप्रदेश के सतना में भी संत रविदास स्मारक एवं कला संग्रहालय के शिलान्यास का सौभाग्य भी मिला था। काशी में तो विकास की पूरी गंगा ही बह रही है।

साथियों,

भारत का इतिहास रहा है, जब भी देश को जरूरत हुई है, कोई न कोई संत, ऋषि, महान विभूति भारत में जन्म लेते हैं। रविदास जी तो उस भक्ति आंदोलन के महान संत थे, जिसने कमजोर और विभाजित हो चुके भारत को नई ऊर्जा दी थी। रविदास जी ने समाज को आज़ादी का महत्व भी बताया था, और सामाजिक विभाजन को भी पाटने का काम किया था। ऊंच-नीच, छुआछूत, भेदभाव, इस सबके खिलाफ उन्होंने उस दौर में आवाज़ उठाई थी। संत रविदास एक ऐसे संत हैं, जिन्हें मत मजहब, पंथ, विचारधारा की सीमाओं में नहीं बांधा जा सकता। रविदास जी सबके हैं, और सब रविदास जी के हैं। जगद्गुरु रामानन्द के शिष्य के रूप में उन्हें वैष्णव समाज भी अपना गुरु मानता है। सिख भाई-बहन उन्हें बहुत आदर की दृष्टि से देखते हैं। काशी में रहते हुए उन्होंने ‘मन चंगा तो कठौती में गंगा’ की शिक्षा दी थी। इसलिए, काशी को मानने वाले लोग, मां गंगा में आस्था रखने वाले लोग भी रविदास जी से प्रेरणा लेते हैं। मुझे खुशी है कि आज हमारी सरकार रविदास जी के विचारों को ही आगे बढ़ा रही है। भाजपा सरकार सबकी है। भाजपा सरकार की योजनाएं सबके लिए हैं। ‘सबका साथ, सबका विकास, सबका विश्वास और सबका प्रयास’, ये मंत्र आज 140 करोड़ देशवासियों से जुड़ने का मंत्र बन गया है।

साथियों,

रविदास जी ने समता और समरसता की शिक्षा भी दी, और हमेशा दलितों, वंचितों की विशेष रूप से चिंता भी की। समानता वंचित समाज को प्राथमिकता देने से ही आती है। इसीलिए, जो लोग, जो वर्ग विकास की मुख्यधारा से जितना ज्यादा दूर रह गए, पिछले दस वर्षों में उन्हें ही केंद्र में रखकर काम हुआ है। पहले जिस गरीब को सबसे आखिरी समझा जाता था, सबसे छोटा कहा जाता था, आज सबसे बड़ी योजनाएं उसी के लिए बनी हैं। इन योजनाओं को आज दुनिया में सबसे बड़ी सरकारी योजनाएं कहा जा रहा है। आप देखिए, कोरोना की इतनी बड़ी मुश्किल आई। हमने 80 करोड़ गरीबों को मुफ्त राशन की योजना चलाई। कोरोना के बाद भी हमने मुफ्त राशन देना बंद नहीं किया। क्योंकि, हम चाहते हैं कि जो गरीब अपने पैरों पर खड़ा हुआ है वो लंबी दूरी तय करे। उस पर अतिरिक्त बोझ न आए। ऐसी योजना इतने बड़े पैमाने पर दुनिया के किसी भी देश में नहीं है। हमने स्वच्छ भारत अभियान चलाया। देश के हर गांव में हर परिवार के लिए मुफ्त शौचालय बनाया। इसका लाभ सबसे ज्यादा दलित पिछड़े परिवारों को, खासकर हमारी SC, ST, OBC माताओं बहनों को ही हुआ। इन्हें ही सबसे ज्यादा खुले में शौच के लिए जाना पड़ता था, परेशानियां उठानी पड़ती थीं। आज देश के गांव- गांव तक साफ पानी पहुंचाने के लिए जल जीवन मिशन चल रहा है। 5 वर्षों से भी कम समय में 11 करोड़ से ज्यादा घरों तक पाइप से पानी पहुंचाया गया है। करोड़ों गरीबों को मुफ्त इलाज के लिए आयुष्मान कार्ड मिला है। उन्हें पहली बार ये हौसला मिला है कि अगर बीमारी आ भी गई, तो इलाज के अभाव में जिंदगी खत्म नहीं होगी। इसी तरह, जनधन खातों से गरीब को बैंक जाने का अधिकार मिला है। इन्हीं बैंक खातों में सरकार सीधे पैसा भेजती है। इन्हीं खातों में किसानों को किसान सम्मान निधि जाती है, जिनमें से करीब डेढ़ करोड़ लाभार्थी हमारे दलित किसान ही हैं। फसल बीमा योजना का लाभ उठाने वाले किसानों में बड़ी संख्या दलित और पिछड़े किसानों की ही है। युवाओं के लिए भी, 2014 से पहली जितनी स्कॉलर्शिप मिलती थी, आज हम उससे दोगुनी स्कॉलर्शिप दलित युवाओं को दे रहे हैं। इसी तरह, 2022-23 में पीएम आवास योजना के तहत हजारों करोड़ रुपए दलित परिवारों के खातों में भेजे गए, ताकि उनका भी अपना पक्‍का घर हो।

और भाइयों बहनों,

भारत इतने बड़े-बड़े काम इसलिए कर पा रहा है क्योंकि आज दलित, वंचित, पिछड़ा और गरीब के लिए सरकार की नीयत साफ है। भारत ये काम इसलिए कर पा रहा है, क्योंकि आपका साथ और आपका विश्वास हमारे साथ है। संतों की वाणी हर युग में हमें रास्ता भी दिखाती हैं, और हमें सावधान भी करती हैं।

रविदास जी कहते थे-

जात पात के फेर महि, उरझि रहई सब लोग।

मानुष्ता कुं खात हई, रैदास जात कर रोग॥

अर्थात्, ज़्यादातर लोग जात-पांत के भेद में उलझे रहते हैं, उलझाते रहते हैं। जात-पात का यही रोग मानवता का नुकसान करता है। यानी, जात-पात के नाम पर जब कोई किसी के साथ भेदभाव करता है, तो वो मानवता का नुकसान करता है। अगर कोई जात-पात के नाम पर किसी को भड़काता है तो वो भी मानवता का नुकसान करता है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

साथियों,

रविदास जी कहते थे-

सौ बरस लौं जगत मंहि जीवत रहि करू काम।

रैदास करम ही धरम है करम करहु निहकाम॥

अर्थात्, सौ वर्ष का जीवन हो, तो भी पूरे जीवन हमें काम करना चाहिए। क्योंकि, कर्म ही धर्म है। हमें निष्काम भाव से काम करना चाहिए। संत रविदास जी की ये शिक्षा आज पूरे देश के लिए है। देश इस समय आज़ादी के अमृतकाल में प्रवेश कर चुका है। पिछले वर्षों में अमृतकाल में विकसित भारत के निर्माण की मजबूत नींव रखी जा चुकी है। अब अगले 5 साल हमें इस नींव पर विकास की इमारत को और ऊंचाई देनी है। गरीब वंचित की सेवा के लिए जो अभियान 10 वर्षों में चले हैं, अगले 5 वर्षों में उन्हें और भी अधिक विस्तार मिलना है। ये सब 140 करोड़ देशवासियों की भागीदारी से ही होगा। इसलिए, ये जरूरी है कि देश का हर नागरिक अपने कर्तव्यों का पालन करे। हमें देश के बारे में सोचना है। हमें तोड़ने वाले, बांटने वाले विचारों से दूर रहकर देश की एकता को मजबूत करना है। मुझे विश्वास है कि, संत रविदास जी की कृपा से देशवासियों के सपने जरूर साकार होंगे। आप सभी को एक बार फिर संत रविदास जयंती की मैं बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

बहुत-बहुत धन्यवाद !