Share
 
Comments

’’ہم نے اصلاحات سے متعلق اہم اقدامات کیے ہیں اور حکومت یہ عمل جاری رکھے گی۔ ملک کے مالی استحکام کو برقرار رکھنے اور اقتصادی نمو میں تیزی کو لے کر سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کا کلیدی زور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعہ نمو میں تیزی لانا رہا ہے۔ یہ اصلاحات اقتصادی نمو کو حوصلہ عطا کر رہی ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار کو مہمیز کر رہی ہیں۔

پیداواری شعبہ ۔ اقتصادی نمو کا بنیادی اور اہم وسیلہ

میک ان انڈیا 25 ٹارگیٹ شعبوں کے احاطے کے ساتھ بھارت کو مینوفیکچرنگ کے مرکز میں تبدیل کر رہا ہے

'میک ان انڈیا' کی مدد سے بھارت اب دوسرا سب سے زیادہ موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس زبردست نمو کا احساس اس امر سے ہوتا ہے کہ 2014 میں محض دو موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس تھیں جو 2018 میں بڑھ کر 120 ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں، نوئیڈا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ایک موبائل فیکٹری کا آغاز کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار مہیا کرانے کی اہلیت موجود ہے۔

اگر ہم تیار کیے گئے موبائل فون کی تعداد پر نظر ڈالیں، تو مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی کا احساس ہوتا ہے۔ بھارت میں 2014 میں 6 کروڑ موبائل تیار کیے گئے تھے، یہ تعداد 2017-18 میں بڑھ کر 22.5 کروڑ ہو چکی ہے۔ بھارت میں 2017-18 میں 1.32 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر کے موبائل فون تیار کیے گئے، جو کہ 2014 میں تیار کیے گئے موبائل فون کی 18,992 کروڑ روپئے کی قیمت کے مقابلے میں ایک زبردست اضافہ ہے۔

میک ان انڈیا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ریکارڈ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ بھارت کی جانب مبذول کرا رہا ہے۔ 2017-18 میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ 61.96 بلین امریکی ڈالر کے بقدر تک پہنچ گئی۔ اس افزوں سرمایہ کاری کا مطلب ہے روزگار کے مزید مواقع اور نمو میں مزید تیزی۔

ایم ایس ایم ای شعبے کی مدد

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے عہد بستہ ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو روزگار فراہم کراتا ہے اور جس میں مزید افراد کو روزگار فراہم کرانے کے امکانات موجود ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے، ایم ایس ایم ای شعبے کی اہمیت اور کس طرح مُدرا اس شعبے کو فائدہ پہنچا رہی ہے، کے متعلق بتاتے ہوئے کہا–

’’مُدرا یوجنا کے توسط سے، ایم ایس ایم ای شعبے کو غیر معمولی تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ ایم ایس ایم ای ایک ایسا شعبہ ہے جو بھارت کی تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے اور ہماری حکومت اس شعبے کی نمو کو مہمیز کرنے کے لئے مختلف اقدامات اور اصلاحات عمل میں لا رہی ہے۔‘‘

2015 میں شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کا مقصد صنعت کاروں (خصوصاً ایم ایس ایم ای شعبے) کی بلا ضمانت بینک قرض تک رسائی کے ذریعہ ان کی مدد کرنا تھا۔

حال ہی میں، مدرا یوجنا کے تحت 13 کروڑ سے زائد چھوٹے مُدرا صنعت کاران کو 6.2 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ فراہم کرایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، تین سال کی مدت میں تقریباً 3.49 کروڑ نئے صنعت کاران مستفید ہوئے۔ علاوہ ازیں، 70 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین خواتین ہیں۔ محرومین کی سماجی ۔ اقتصادی اختیارکاری کو بڑھاوا دیا گیا ہے اور اسی کے تحت 50 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین کا تعلق سماج کے ایس سی/ ایس ٹی / او بی سی طبقے سے ہے۔

درمیانہ درجے کی کمپنیوں کو ترقی دینے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کمپنیوں کو، جن کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ سے زائد اور 250 کروڑ تک ہے، اب 25 فیصد کارپوریٹ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو کہ پہلے 30 فیصد ہوا کرتا تھا۔

این ڈی اے حکومت کے تحت عمل میں لائی گئیں اقتصادی اصلاحات

این ڈی اے حکومت کی اصلاحات پر مبنی پہل قدمیوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف شعبوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بینکنگ اصلاحات، ٹیکس اصلاحات، مخصوص شعبے میں اصلاحات اور عام آدمی کے لئے زندگی کی سہل کاری کو یقینی بنانے سے متعلق اصلاحات، کچھ ایسی اصلاحات ہیں جو گذشتہ چار برسوں میں عمل میں لائی گئی ہیں۔

بینکنگ اصلاحات

این ڈی اے حکومت نے دیوالیہ اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق کوڈ (آئی بی سی) متعارف کرایا، جس کا مقصد ہمیشہ بڑھتے رہنے والے این پی اے جیسے جائیداد متروکہ سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔ آئی بی سی قرض کے ازالے کے لئے راستہ ہموار کر رہا ہے اور بینکنگ شعبے کو این پی اے سے آزاد کر رہا ہے۔ اور اس طرح، بینکوں کی حالت بہتر بنا رہا ہے۔

کریڈٹ نمو کی مدد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 2,11,000 کروڑ روپئے کے توسط سے پی ایس بی شعبے میں از سر نو سرمایہ کاری این ڈی اے حکومت کے تحت کی گئی ایک دیگر اہم بینکنگ اصلاح ہے۔

اس کے علاوہ، این ڈی اے حکومت نے مختلف پی ایس بی اداروں کو ضم کرکے اس کو ایک ادارہ بنانے کو بھی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں یہ شعبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

ٹیکس اصلاحات

گڈس اینڈ سروسز ایکٹ (جی ایس ٹی) کی منظوری این ڈی اے حکومت کے ذریعہ کی گئیں یادگار ٹیکس اصلاحات میں سے ایک ہے۔ حکومت نے جی ایس ٹی کے لئے یکجہتی قائم کی، ریاستوں کو اعتماد میں لیا اور اس طرح 2017 میں جی ایس ٹی کو منظور کیا گیا۔ ملک بھر میں اس کا نفاذ کامیابی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

جی ایس ٹی کے نفاذ سے –

چھوٹے تاجروں اور صارفین کو ایک سے زائد ٹیکسوں میں تخفیف سے فائدہ حاصل ہوگا۔ بڑے اثرات کے بغیر نقل و حمل سے متعلق قیمتوں میں تخفیف سے صارفین کو کم قیمتوں کی وجہ سے فائدہ حاصل ہوگا۔

این ڈی اے حکومت کا ٹیکس کمپلائنس میں اضافے اور ٹیکس بیس میں وسعت پر بہت زور ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں آئی ٹی آر داخل کرنے کے معاملے میں 2013-14 کے 3.79 کروڑ کے مقابلے میں 2017-18 کے 6.84کروڑ کے ساتھ 80.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

خاص شعبے میں اصلاحات

بینکنگ اور ٹیکس اصلاحات کے علاوہ، کچھ دیگر اصلاحات بھی عمل میں آئی ہیں جو کچھ خاص شعبوں کو مستفیید کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں مختلف شعبوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کریں گی۔

تجارتی کوئلہ کانکنی نجی کمپنیوں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ تقریباً 89 کوئلے کی کانیں ٹرانسپیرینٹ ریسورس ایلوکیشن کے عمل کے ذریعہ نجی کمپنیوں کو تخصیص کردی گئی ہیں۔ 89 میں سے 31 کوئلے کی کانوں کی تخصیص کاری ای۔ آکشن کے ذریعہ عمل میں آئی اور 58 کانیں سرکاری کمپنیوں کو تخصیص کی گئیں۔

آر ای آر اے – زمینداری (ریگولیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ) ایکٹ کی عمل آوری کے ساتھ، گھر خریدنے والے اب ڈیولیپرس کے محتاج نہیں ہیں اور ان کے حقوق مضبوط و محفوظ ہیں۔

لیبر اصلاحات

گذشتہ چار برسوں میں این ڈی اے حکومت نے کئی لیبر اصلاحات پر عمل کیا ہےجن سے ملک بھر کے ملازمین کی زندگیوں میں آسانیاں اور سہل کاری پیدا ہو رہی ہیں۔

تخصیص شدہ مخصوص یو اے این (یونیورسل اکاؤنٹ نمبر) ملازمین کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی جھنجھٹ سے چھٹکارا دلا رہا ہے اور ایک نوکری سے دوسری نوکری بدلنے پر انہیں پورٹیبلٹی سہولت کی یقین دہانی کراتا ہے۔

شرم سویددھا پورٹل اور پےمنٹ آف ویجز ایکٹ (2017) میں مثبت بدلاؤ نے بالترتیب معمول کاری کو یقینی بنایا اور مزدور طبقے کے کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادیں اور عالمی شناخت

گذشتہ چار برسوں میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں ہندوستانی معیشت زبردست نمو کی شاہد رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی درجہ بندیوں میں بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

2005 میں عالمی مجموعی گھریلو نمومیں بھارت کی حصہ داری 1.75 فیصد تھی اور آٹھ برسوں کی مدت میں 2013 میں اضافے کے بعد یہ محض 2.43 فیصد ہوئی ۔ تاہم محض چار برسوں کی مدت میں عالمی مجموعی گھریلو نمو 2017 تک اُسی تناسب کے ساتھ 3.08 فیصد ہوگئی۔

مالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی مجموعی گھریلو نمو میں 8.2 فیصد کا اضافہ رونما ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا چین سے تیز رفتا سے ترقی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کا غیر ملکی زرمبادلہ بھی ترقی سے ہمکنار ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادوں کے علاوہ، بھارت نے گذشتہ چار برسوں میں کئی سنگ میل چھوئے ہیں۔ 14 برسوں میں پہلی مرتبہ موڈی نے بھارت کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کرتے ہوئے اسے بی اے اے 2 سے بی اے اے 3 کا مقام عطا کیا ہے۔کاروبار کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں بھارت ، 2014 کی 142ویں درجہ بندی سے اٹھ کر 2017 میں 100ویں مقام پر پہنچ گیا۔حکومت کی زبردست اصلاحات کے نتیجے میں رونما ہونے والی افزوں نمو کے ساتھ ، بھارت عالمی معیشت میں اپنا روشن مقام برقرار رکھے گا۔

عطیات
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All

Media Coverage

‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi Adorns Colours of North East
March 22, 2019
Share
 
Comments

The scenic North East with its bountiful natural endowments, diverse culture and enterprising people is brimming with possibilities. Realising the region’s potential, the Modi government has been infusing a new vigour in the development of the seven sister states.

Citing ‘tyranny of distance’ as the reason for its isolation, its development was pushed to the background. However, taking a complete departure from the past, the Modi government has not only brought the focus back on the region but has, in fact, made it a priority area.

The rich cultural capital of the north east has been brought in focus by PM Modi. The manner in which he dons different headgears during his visits to the region ensures that the cultural significance of the region is highlighted. Here are some of the different headgears PM Modi has carried during his visits to India’s north east!