بھارت ۔ نمو کے راستے پر ناقابل تنسیخ تیزگامی

Published By : Admin | September 6, 2018 | 17:40 IST

’’ہم نے اصلاحات سے متعلق اہم اقدامات کیے ہیں اور حکومت یہ عمل جاری رکھے گی۔ ملک کے مالی استحکام کو برقرار رکھنے اور اقتصادی نمو میں تیزی کو لے کر سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کا کلیدی زور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعہ نمو میں تیزی لانا رہا ہے۔ یہ اصلاحات اقتصادی نمو کو حوصلہ عطا کر رہی ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار کو مہمیز کر رہی ہیں۔

پیداواری شعبہ ۔ اقتصادی نمو کا بنیادی اور اہم وسیلہ

میک ان انڈیا 25 ٹارگیٹ شعبوں کے احاطے کے ساتھ بھارت کو مینوفیکچرنگ کے مرکز میں تبدیل کر رہا ہے

'میک ان انڈیا' کی مدد سے بھارت اب دوسرا سب سے زیادہ موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس زبردست نمو کا احساس اس امر سے ہوتا ہے کہ 2014 میں محض دو موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس تھیں جو 2018 میں بڑھ کر 120 ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں، نوئیڈا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ایک موبائل فیکٹری کا آغاز کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار مہیا کرانے کی اہلیت موجود ہے۔

اگر ہم تیار کیے گئے موبائل فون کی تعداد پر نظر ڈالیں، تو مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی کا احساس ہوتا ہے۔ بھارت میں 2014 میں 6 کروڑ موبائل تیار کیے گئے تھے، یہ تعداد 2017-18 میں بڑھ کر 22.5 کروڑ ہو چکی ہے۔ بھارت میں 2017-18 میں 1.32 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر کے موبائل فون تیار کیے گئے، جو کہ 2014 میں تیار کیے گئے موبائل فون کی 18,992 کروڑ روپئے کی قیمت کے مقابلے میں ایک زبردست اضافہ ہے۔

میک ان انڈیا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ریکارڈ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ بھارت کی جانب مبذول کرا رہا ہے۔ 2017-18 میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ 61.96 بلین امریکی ڈالر کے بقدر تک پہنچ گئی۔ اس افزوں سرمایہ کاری کا مطلب ہے روزگار کے مزید مواقع اور نمو میں مزید تیزی۔

ایم ایس ایم ای شعبے کی مدد

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے عہد بستہ ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو روزگار فراہم کراتا ہے اور جس میں مزید افراد کو روزگار فراہم کرانے کے امکانات موجود ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے، ایم ایس ایم ای شعبے کی اہمیت اور کس طرح مُدرا اس شعبے کو فائدہ پہنچا رہی ہے، کے متعلق بتاتے ہوئے کہا–

’’مُدرا یوجنا کے توسط سے، ایم ایس ایم ای شعبے کو غیر معمولی تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ ایم ایس ایم ای ایک ایسا شعبہ ہے جو بھارت کی تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے اور ہماری حکومت اس شعبے کی نمو کو مہمیز کرنے کے لئے مختلف اقدامات اور اصلاحات عمل میں لا رہی ہے۔‘‘

2015 میں شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کا مقصد صنعت کاروں (خصوصاً ایم ایس ایم ای شعبے) کی بلا ضمانت بینک قرض تک رسائی کے ذریعہ ان کی مدد کرنا تھا۔

حال ہی میں، مدرا یوجنا کے تحت 13 کروڑ سے زائد چھوٹے مُدرا صنعت کاران کو 6.2 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ فراہم کرایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، تین سال کی مدت میں تقریباً 3.49 کروڑ نئے صنعت کاران مستفید ہوئے۔ علاوہ ازیں، 70 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین خواتین ہیں۔ محرومین کی سماجی ۔ اقتصادی اختیارکاری کو بڑھاوا دیا گیا ہے اور اسی کے تحت 50 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین کا تعلق سماج کے ایس سی/ ایس ٹی / او بی سی طبقے سے ہے۔

درمیانہ درجے کی کمپنیوں کو ترقی دینے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کمپنیوں کو، جن کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ سے زائد اور 250 کروڑ تک ہے، اب 25 فیصد کارپوریٹ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو کہ پہلے 30 فیصد ہوا کرتا تھا۔

این ڈی اے حکومت کے تحت عمل میں لائی گئیں اقتصادی اصلاحات

این ڈی اے حکومت کی اصلاحات پر مبنی پہل قدمیوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف شعبوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بینکنگ اصلاحات، ٹیکس اصلاحات، مخصوص شعبے میں اصلاحات اور عام آدمی کے لئے زندگی کی سہل کاری کو یقینی بنانے سے متعلق اصلاحات، کچھ ایسی اصلاحات ہیں جو گذشتہ چار برسوں میں عمل میں لائی گئی ہیں۔

بینکنگ اصلاحات

این ڈی اے حکومت نے دیوالیہ اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق کوڈ (آئی بی سی) متعارف کرایا، جس کا مقصد ہمیشہ بڑھتے رہنے والے این پی اے جیسے جائیداد متروکہ سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔ آئی بی سی قرض کے ازالے کے لئے راستہ ہموار کر رہا ہے اور بینکنگ شعبے کو این پی اے سے آزاد کر رہا ہے۔ اور اس طرح، بینکوں کی حالت بہتر بنا رہا ہے۔

کریڈٹ نمو کی مدد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 2,11,000 کروڑ روپئے کے توسط سے پی ایس بی شعبے میں از سر نو سرمایہ کاری این ڈی اے حکومت کے تحت کی گئی ایک دیگر اہم بینکنگ اصلاح ہے۔

اس کے علاوہ، این ڈی اے حکومت نے مختلف پی ایس بی اداروں کو ضم کرکے اس کو ایک ادارہ بنانے کو بھی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں یہ شعبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

ٹیکس اصلاحات

گڈس اینڈ سروسز ایکٹ (جی ایس ٹی) کی منظوری این ڈی اے حکومت کے ذریعہ کی گئیں یادگار ٹیکس اصلاحات میں سے ایک ہے۔ حکومت نے جی ایس ٹی کے لئے یکجہتی قائم کی، ریاستوں کو اعتماد میں لیا اور اس طرح 2017 میں جی ایس ٹی کو منظور کیا گیا۔ ملک بھر میں اس کا نفاذ کامیابی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

جی ایس ٹی کے نفاذ سے –

چھوٹے تاجروں اور صارفین کو ایک سے زائد ٹیکسوں میں تخفیف سے فائدہ حاصل ہوگا۔ بڑے اثرات کے بغیر نقل و حمل سے متعلق قیمتوں میں تخفیف سے صارفین کو کم قیمتوں کی وجہ سے فائدہ حاصل ہوگا۔

این ڈی اے حکومت کا ٹیکس کمپلائنس میں اضافے اور ٹیکس بیس میں وسعت پر بہت زور ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں آئی ٹی آر داخل کرنے کے معاملے میں 2013-14 کے 3.79 کروڑ کے مقابلے میں 2017-18 کے 6.84کروڑ کے ساتھ 80.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

خاص شعبے میں اصلاحات

بینکنگ اور ٹیکس اصلاحات کے علاوہ، کچھ دیگر اصلاحات بھی عمل میں آئی ہیں جو کچھ خاص شعبوں کو مستفیید کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں مختلف شعبوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کریں گی۔

تجارتی کوئلہ کانکنی نجی کمپنیوں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ تقریباً 89 کوئلے کی کانیں ٹرانسپیرینٹ ریسورس ایلوکیشن کے عمل کے ذریعہ نجی کمپنیوں کو تخصیص کردی گئی ہیں۔ 89 میں سے 31 کوئلے کی کانوں کی تخصیص کاری ای۔ آکشن کے ذریعہ عمل میں آئی اور 58 کانیں سرکاری کمپنیوں کو تخصیص کی گئیں۔

آر ای آر اے – زمینداری (ریگولیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ) ایکٹ کی عمل آوری کے ساتھ، گھر خریدنے والے اب ڈیولیپرس کے محتاج نہیں ہیں اور ان کے حقوق مضبوط و محفوظ ہیں۔

لیبر اصلاحات

گذشتہ چار برسوں میں این ڈی اے حکومت نے کئی لیبر اصلاحات پر عمل کیا ہےجن سے ملک بھر کے ملازمین کی زندگیوں میں آسانیاں اور سہل کاری پیدا ہو رہی ہیں۔

تخصیص شدہ مخصوص یو اے این (یونیورسل اکاؤنٹ نمبر) ملازمین کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی جھنجھٹ سے چھٹکارا دلا رہا ہے اور ایک نوکری سے دوسری نوکری بدلنے پر انہیں پورٹیبلٹی سہولت کی یقین دہانی کراتا ہے۔

شرم سویددھا پورٹل اور پےمنٹ آف ویجز ایکٹ (2017) میں مثبت بدلاؤ نے بالترتیب معمول کاری کو یقینی بنایا اور مزدور طبقے کے کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادیں اور عالمی شناخت

گذشتہ چار برسوں میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں ہندوستانی معیشت زبردست نمو کی شاہد رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی درجہ بندیوں میں بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

2005 میں عالمی مجموعی گھریلو نمومیں بھارت کی حصہ داری 1.75 فیصد تھی اور آٹھ برسوں کی مدت میں 2013 میں اضافے کے بعد یہ محض 2.43 فیصد ہوئی ۔ تاہم محض چار برسوں کی مدت میں عالمی مجموعی گھریلو نمو 2017 تک اُسی تناسب کے ساتھ 3.08 فیصد ہوگئی۔

مالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی مجموعی گھریلو نمو میں 8.2 فیصد کا اضافہ رونما ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا چین سے تیز رفتا سے ترقی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کا غیر ملکی زرمبادلہ بھی ترقی سے ہمکنار ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادوں کے علاوہ، بھارت نے گذشتہ چار برسوں میں کئی سنگ میل چھوئے ہیں۔ 14 برسوں میں پہلی مرتبہ موڈی نے بھارت کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کرتے ہوئے اسے بی اے اے 2 سے بی اے اے 3 کا مقام عطا کیا ہے۔کاروبار کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں بھارت ، 2014 کی 142ویں درجہ بندی سے اٹھ کر 2017 میں 100ویں مقام پر پہنچ گیا۔حکومت کی زبردست اصلاحات کے نتیجے میں رونما ہونے والی افزوں نمو کے ساتھ ، بھارت عالمی معیشت میں اپنا روشن مقام برقرار رکھے گا۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Govt disburses Rs 28,748 crore under 14 PLI schemes till December 2025

Media Coverage

Govt disburses Rs 28,748 crore under 14 PLI schemes till December 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
6 Years of Jal Jeevan Mission: Transforming Lives, One Tap at a Time
August 14, 2025
Jal Jeevan Mission has become a major development parameter to provide water to every household.” - PM Narendra Modi

For generations, the sight of women carrying pots of water on their heads was an everyday scene in rural India. It was more than a chore, it was a necessity that was an integral part of their everyday life. The water was brought back, often just one or two pots which had to be stretched for drinking, cooking, cleaning, and washing. It was a routine that left little time for rest, education, or income-generating work, and the burden fell most heavily on women.

Before 2014 water scarcity, one of India’s most pressing problems, was met with little urgency or vision. Access to safe drinking water was fragmented, villages relied on distant sources, and nationwide household tap connections were seen as unrealistic.

This reality began to shift in 2019, when the Government of India launched the Jal Jeevan Mission (JJM). A centrally sponsored initiative which aims at providing a Functional Household Tap Connection (FHTC) to every rural household. At that time, only 3.2 crore rural households, a modest 16.7% of the total, had tap water. The rest still depended on community sources, often far from home.

As of July 2025, the progress under the Har Ghar Jal program has been exceptional, with 12.5 crore additional rural households connected, bringing the total to over 15.7 crore. The program has achieved 100% tap water coverage in 200 districts and over 2.6 lakh villages, with 8 states and 3 union territories now fully covered. For millions, this means not just access to water at home, but saved time, improved health, and restored dignity. Nearly 80% of tap water coverage has been achieved in 112 aspirational districts, a significant rise from less than 8%. Additionally, 59 lakh households in LWE districts have gained tap water connections, ensuring development reaches every corner. Acknowledging both the significant progress and the road ahead, the Union Budget 2025–26 announced the program’s extension until 2028 with an increased budget.

The Jal Jeevan Mission, launched nationally in 2019, traces its origins to Gujarat, where Narendra Modi, as Chief Minister, tackled water scarcity in the arid state through the Sujalam Sufalam initiative. This effort formed a blueprint for a mission that would one day aim to provide tap water to every rural household in India.

Though drinking water is a State subject, the Government of India has taken on the role of a committed partner, providing technical and financial support while empowering States to plan and implement local solutions. To keep the Mission on track, a strong monitoring system links Aadhaar for targeting, geo-tags assets, conducts third-party inspections, and uses IoT devices to track village water flow.

The Jal Jeevan Mission’s objectives are as much about people as they are about pipes. By prioritizing underserved and water-stressed areas, ensuring that schools, Anganwadi centres, and health facilities have running water, and encouraging local communities to take ownership through contributions or shramdaan, the Mission aims to make safe water everyone’s responsibility..

The impact reaches far beyond convenience. The World Health Organization estimates that achieving JJM’s targets could save over 5.5 crore hours each day, time that can now be spent on education, work, or family. 9 crore women no longer need to fetch water from outside. WHO also projects that safe water for all could prevent nearly 4 lakh deaths from diarrhoeal disease and save Rs. 8.2 lakh crores in health costs. Additionally, according to IIM Bangalore and the International Labour Organization, JJM has generated nearly 3 crore person-years of employment during its build-out, with nearly 25 lakh women are trained to use Field testing Kits.

From the quiet relief of a mother filling a glass of clean water in her kitchen, to the confidence of a school where children can drink without worry, the Jal Jeevan Mission is changing what it means to live in rural India.