Share
 
Comments

’’ہم نے اصلاحات سے متعلق اہم اقدامات کیے ہیں اور حکومت یہ عمل جاری رکھے گی۔ ملک کے مالی استحکام کو برقرار رکھنے اور اقتصادی نمو میں تیزی کو لے کر سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کا کلیدی زور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعہ نمو میں تیزی لانا رہا ہے۔ یہ اصلاحات اقتصادی نمو کو حوصلہ عطا کر رہی ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار کو مہمیز کر رہی ہیں۔

پیداواری شعبہ ۔ اقتصادی نمو کا بنیادی اور اہم وسیلہ

میک ان انڈیا 25 ٹارگیٹ شعبوں کے احاطے کے ساتھ بھارت کو مینوفیکچرنگ کے مرکز میں تبدیل کر رہا ہے

'میک ان انڈیا' کی مدد سے بھارت اب دوسرا سب سے زیادہ موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس زبردست نمو کا احساس اس امر سے ہوتا ہے کہ 2014 میں محض دو موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس تھیں جو 2018 میں بڑھ کر 120 ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں، نوئیڈا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ایک موبائل فیکٹری کا آغاز کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار مہیا کرانے کی اہلیت موجود ہے۔

اگر ہم تیار کیے گئے موبائل فون کی تعداد پر نظر ڈالیں، تو مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی کا احساس ہوتا ہے۔ بھارت میں 2014 میں 6 کروڑ موبائل تیار کیے گئے تھے، یہ تعداد 2017-18 میں بڑھ کر 22.5 کروڑ ہو چکی ہے۔ بھارت میں 2017-18 میں 1.32 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر کے موبائل فون تیار کیے گئے، جو کہ 2014 میں تیار کیے گئے موبائل فون کی 18,992 کروڑ روپئے کی قیمت کے مقابلے میں ایک زبردست اضافہ ہے۔

میک ان انڈیا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ریکارڈ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ بھارت کی جانب مبذول کرا رہا ہے۔ 2017-18 میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ 61.96 بلین امریکی ڈالر کے بقدر تک پہنچ گئی۔ اس افزوں سرمایہ کاری کا مطلب ہے روزگار کے مزید مواقع اور نمو میں مزید تیزی۔

ایم ایس ایم ای شعبے کی مدد

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے عہد بستہ ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو روزگار فراہم کراتا ہے اور جس میں مزید افراد کو روزگار فراہم کرانے کے امکانات موجود ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے، ایم ایس ایم ای شعبے کی اہمیت اور کس طرح مُدرا اس شعبے کو فائدہ پہنچا رہی ہے، کے متعلق بتاتے ہوئے کہا–

’’مُدرا یوجنا کے توسط سے، ایم ایس ایم ای شعبے کو غیر معمولی تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ ایم ایس ایم ای ایک ایسا شعبہ ہے جو بھارت کی تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے اور ہماری حکومت اس شعبے کی نمو کو مہمیز کرنے کے لئے مختلف اقدامات اور اصلاحات عمل میں لا رہی ہے۔‘‘

2015 میں شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کا مقصد صنعت کاروں (خصوصاً ایم ایس ایم ای شعبے) کی بلا ضمانت بینک قرض تک رسائی کے ذریعہ ان کی مدد کرنا تھا۔

حال ہی میں، مدرا یوجنا کے تحت 13 کروڑ سے زائد چھوٹے مُدرا صنعت کاران کو 6.2 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ فراہم کرایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، تین سال کی مدت میں تقریباً 3.49 کروڑ نئے صنعت کاران مستفید ہوئے۔ علاوہ ازیں، 70 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین خواتین ہیں۔ محرومین کی سماجی ۔ اقتصادی اختیارکاری کو بڑھاوا دیا گیا ہے اور اسی کے تحت 50 فیصد سے زائد مدرا مستفیضین کا تعلق سماج کے ایس سی/ ایس ٹی / او بی سی طبقے سے ہے۔

درمیانہ درجے کی کمپنیوں کو ترقی دینے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کمپنیوں کو، جن کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ سے زائد اور 250 کروڑ تک ہے، اب 25 فیصد کارپوریٹ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو کہ پہلے 30 فیصد ہوا کرتا تھا۔

این ڈی اے حکومت کے تحت عمل میں لائی گئیں اقتصادی اصلاحات

این ڈی اے حکومت کی اصلاحات پر مبنی پہل قدمیوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف شعبوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بینکنگ اصلاحات، ٹیکس اصلاحات، مخصوص شعبے میں اصلاحات اور عام آدمی کے لئے زندگی کی سہل کاری کو یقینی بنانے سے متعلق اصلاحات، کچھ ایسی اصلاحات ہیں جو گذشتہ چار برسوں میں عمل میں لائی گئی ہیں۔

بینکنگ اصلاحات

این ڈی اے حکومت نے دیوالیہ اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق کوڈ (آئی بی سی) متعارف کرایا، جس کا مقصد ہمیشہ بڑھتے رہنے والے این پی اے جیسے جائیداد متروکہ سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔ آئی بی سی قرض کے ازالے کے لئے راستہ ہموار کر رہا ہے اور بینکنگ شعبے کو این پی اے سے آزاد کر رہا ہے۔ اور اس طرح، بینکوں کی حالت بہتر بنا رہا ہے۔

کریڈٹ نمو کی مدد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 2,11,000 کروڑ روپئے کے توسط سے پی ایس بی شعبے میں از سر نو سرمایہ کاری این ڈی اے حکومت کے تحت کی گئی ایک دیگر اہم بینکنگ اصلاح ہے۔

اس کے علاوہ، این ڈی اے حکومت نے مختلف پی ایس بی اداروں کو ضم کرکے اس کو ایک ادارہ بنانے کو بھی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں یہ شعبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

ٹیکس اصلاحات

گڈس اینڈ سروسز ایکٹ (جی ایس ٹی) کی منظوری این ڈی اے حکومت کے ذریعہ کی گئیں یادگار ٹیکس اصلاحات میں سے ایک ہے۔ حکومت نے جی ایس ٹی کے لئے یکجہتی قائم کی، ریاستوں کو اعتماد میں لیا اور اس طرح 2017 میں جی ایس ٹی کو منظور کیا گیا۔ ملک بھر میں اس کا نفاذ کامیابی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

جی ایس ٹی کے نفاذ سے –

چھوٹے تاجروں اور صارفین کو ایک سے زائد ٹیکسوں میں تخفیف سے فائدہ حاصل ہوگا۔ بڑے اثرات کے بغیر نقل و حمل سے متعلق قیمتوں میں تخفیف سے صارفین کو کم قیمتوں کی وجہ سے فائدہ حاصل ہوگا۔

این ڈی اے حکومت کا ٹیکس کمپلائنس میں اضافے اور ٹیکس بیس میں وسعت پر بہت زور ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں آئی ٹی آر داخل کرنے کے معاملے میں 2013-14 کے 3.79 کروڑ کے مقابلے میں 2017-18 کے 6.84کروڑ کے ساتھ 80.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

خاص شعبے میں اصلاحات

بینکنگ اور ٹیکس اصلاحات کے علاوہ، کچھ دیگر اصلاحات بھی عمل میں آئی ہیں جو کچھ خاص شعبوں کو مستفیید کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں مختلف شعبوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کریں گی۔

تجارتی کوئلہ کانکنی نجی کمپنیوں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ تقریباً 89 کوئلے کی کانیں ٹرانسپیرینٹ ریسورس ایلوکیشن کے عمل کے ذریعہ نجی کمپنیوں کو تخصیص کردی گئی ہیں۔ 89 میں سے 31 کوئلے کی کانوں کی تخصیص کاری ای۔ آکشن کے ذریعہ عمل میں آئی اور 58 کانیں سرکاری کمپنیوں کو تخصیص کی گئیں۔

آر ای آر اے – زمینداری (ریگولیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ) ایکٹ کی عمل آوری کے ساتھ، گھر خریدنے والے اب ڈیولیپرس کے محتاج نہیں ہیں اور ان کے حقوق مضبوط و محفوظ ہیں۔

لیبر اصلاحات

گذشتہ چار برسوں میں این ڈی اے حکومت نے کئی لیبر اصلاحات پر عمل کیا ہےجن سے ملک بھر کے ملازمین کی زندگیوں میں آسانیاں اور سہل کاری پیدا ہو رہی ہیں۔

تخصیص شدہ مخصوص یو اے این (یونیورسل اکاؤنٹ نمبر) ملازمین کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی جھنجھٹ سے چھٹکارا دلا رہا ہے اور ایک نوکری سے دوسری نوکری بدلنے پر انہیں پورٹیبلٹی سہولت کی یقین دہانی کراتا ہے۔

شرم سویددھا پورٹل اور پےمنٹ آف ویجز ایکٹ (2017) میں مثبت بدلاؤ نے بالترتیب معمول کاری کو یقینی بنایا اور مزدور طبقے کے کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادیں اور عالمی شناخت

گذشتہ چار برسوں میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں ہندوستانی معیشت زبردست نمو کی شاہد رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی درجہ بندیوں میں بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

2005 میں عالمی مجموعی گھریلو نمومیں بھارت کی حصہ داری 1.75 فیصد تھی اور آٹھ برسوں کی مدت میں 2013 میں اضافے کے بعد یہ محض 2.43 فیصد ہوئی ۔ تاہم محض چار برسوں کی مدت میں عالمی مجموعی گھریلو نمو 2017 تک اُسی تناسب کے ساتھ 3.08 فیصد ہوگئی۔

مالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی مجموعی گھریلو نمو میں 8.2 فیصد کا اضافہ رونما ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا چین سے تیز رفتا سے ترقی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کا غیر ملکی زرمبادلہ بھی ترقی سے ہمکنار ہے۔

مضبوط اقتصادی بنیادوں کے علاوہ، بھارت نے گذشتہ چار برسوں میں کئی سنگ میل چھوئے ہیں۔ 14 برسوں میں پہلی مرتبہ موڈی نے بھارت کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کرتے ہوئے اسے بی اے اے 2 سے بی اے اے 3 کا مقام عطا کیا ہے۔کاروبار کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں بھارت ، 2014 کی 142ویں درجہ بندی سے اٹھ کر 2017 میں 100ویں مقام پر پہنچ گیا۔حکومت کی زبردست اصلاحات کے نتیجے میں رونما ہونے والی افزوں نمو کے ساتھ ، بھارت عالمی معیشت میں اپنا روشن مقام برقرار رکھے گا۔

donation
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
GST led to 'household savings' as tax rates came down

Media Coverage

GST led to 'household savings' as tax rates came down
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments

بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری کسی بھی ملک کی ترقی اور نمو کے لئے جسم میں خون پہنچانے والی دریدوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کو اولین ترجیح دی ہے۔ نئے ہندوستان کے خواب کی عملی تعبیر کے لئے این ڈی اے حکومت ریلوے، سڑکوں، شاہراہوں، آبی شاہراہوں اور کفایتی شرحوں پر ہوابازی کی سہولت کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

ریلوے

ہندوستانی ریلوے کا نیٹ ورک دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ ریل پٹریاں بدلے جانے کے کام کی رفتار فرد کی نگرانی کے بغیر ریلوے کراسنگ اور بڑی پٹری کی لائنیں بچھانے کے کام میں وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں نمایاں کام ہوا ہے۔

2017-18 کے دوران ایک سال کے عرصے میں محض 100 سے بھی کم ریل حادثوں کے ساتھ ریلوے میں حفاظت کا بہترین نظام ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار شاہد ہیں کہ سال 2013-14 میں 118 ریل حادثے ہوئے جن کی تعداد سال 2017-18 میں ہوکر محض 73 رہ گئی۔ 5,469فرد کی نگرانی کے بغیر لیول کراسنگ کوسال2009-14کی مدت میں 20فیصد کی رفتار سے ختم کر دیا گیا ہے۔ بڑی لائن کے ریل راستوں پر فرد کے بغیر لیول کراسنگ کو بہتر حفاظت کے لئے 2020 تک پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔

ریلوے کی ترقی میں رفتار پیدا کرتے ہوئے 50 فیصد ریل پٹریاں بدلی گئیں جو 2013-14 میں محض 2,926 کلو میٹر تھیں اور اب 2017-18 کی مدت میں بڑھ کر 4,405 کلو میٹر ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوراقتدار میں بڑی لائن کی 9,528 کلو میٹر طویل ریلوے لائن چالو کی گئی جو 2009-14 کی درمیانی مدت کے 7,600 کلومیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شمال مشرقی ہندوستان بڑی لائن کی ریلوے لائن کے ساتھ باقی ماندہ ملک سے جڑ چکا ہے جس سے 70 برس بعد میگھالیہ، تری پورہ اور میزورم نے ہندوستان کے ریل نقشے پر اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔

نئے ہندوستان کی ترقی کے لئے ہمیں جدید تکنالوجی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ممبئی سے احمدآباد کا سفر کرنے والی بلیٹ ٹرین کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں احمدآباد سے ممبئی کا سفر آٹھ گھنٹوں سے کم ہو کر دو گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔

 

شہری ہوابازی

ہمارے ملک کا شہری ہوابازی کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) کے تحت ملک کے 25 ہوائی اڈوں سے کفایتی ہوائی سفر کی سہولت محض چار برس کی مدت میں دستیاب کرائی جا چکی ہے جبکہ آزادی کے بعد سے سال 2014 تک مصروف عمل ہوائی اڈوں کی تعداد محض 75 ہی تھی۔ غیر مخصوص اور ناکافی پرواز والے ہوائی اڈوں سے علاقائی فضائی رابطہ کاری کی شرح 2,500 روپئے فی گھنٹہ کردی گئی ہے جس سے ان گنت ہندوستانیوں کے ہوائی سفر کا خواب پورا ہونے میں مدد ملی ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ ایئر کنڈیشنڈ ریلوں سے زیادہ لوگوں نے طیاروں میں فضائی سفر کیے۔

گذشتہ تین برسوں کے دوران مسافروں کی آمدورفت کی نمو 18-20 فیصد تک رہی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری ہوابازی بازار بن چکا ہے۔ 2017 میں تو گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد بھی 100 ملین سے زیادہ ہوگئی تھی۔

 

جہازرانی

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں ہندوستان جہازرانی کے شعبے میں بھی ترقی کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ بندرگاہی ترقیات میں تیزی کے ساتھ ملک کے بڑے بندرگاہوں پر آمدورفت کے اوقات میں بھی کمی ہوگئی ہے جو سال 2013-14 میں 94 گھنٹے تھی اور 2017-18 میں محض 64 گھنٹے رہ گئی ہے۔

بڑے بندرگاہوں پر مال اور سامان کے نقل و حمل کی بات کریں تو سال 2010-11 میں مال کے نقل و حمل کی مقدار 570.32 ملین ٹن تھی جو 2012-13 میں گھٹ کر 545.79 ملین ٹن رہ گئی۔ تاہم این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں اس میں بہتری پیدا ہوئی اور سال 2017-18 میں ساز و سامان اور مال کے نقل و حمل کی مقدار100ملین ٹن کے اضافے کے ساتھ 679.367 ملین ٹن ہوگئی۔

اندرون ملک آبی شاہراہوں سے نہ صرف ٹرانسپورٹ پر آنے والے خرچ میں کمی ہوئی ہے بلکہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران 106 قومی آبی شاہراہیں آمدورفت کے لئے جوڑی گئیں جبکہ گذشتہ 30 برسوں کے دوران اندرون ملک قومی آبی شاہراہوں کی تعداد محض پانچ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

سڑک ترقیات

کثیر رخی ارتباط کے ساتھ شاہراہوں کی توسیع کا کام انقلابی پروجیکٹ بھارت مالا پریوجنا کے تحت کیا جا رہا ہے۔ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں بھی 2013-14 کے 92,851 کلو میٹر سے بڑھ کر 2017-18 میں 1,20,543 کلو میٹر کی توسیع ہوئی ہے۔

محفوظ سڑکوں کے لئے سیتو بھارتم پروجیکٹ پر 20,800 کروڑ روپئے کی کل تخصیص کے ساتھ کام جاری ہے، جس کے تحت ریلوے اووَر برج یا انڈر پاس راستوں کی تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ قومی شاہراہوں کو ریلوے کی لیول کراسنگ سے بچایا جا سکے۔

سڑکوں کی تعمیر کی رفتار بھی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ سال 2013-14 میں سڑکو کی تعمیر کی رفتار 12 کلو میٹر یومیہ تھی جو 2017-18 میں بڑھ کر 27 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔

 جموں میں ہندوستان کی سب سے طویل سرنگ چینانی ۔ نشری اور ملک کا طویل ترین پل دھولہ ۔ سادیہ اروناچل پردیش سے اضافہ شدہ رابطہ کاری دراصل ان علاقوں کو ترقی دینے کی ہماری عہد بستگی کا ثبوت ہیں جن میں اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا تھا۔ بہروچ میں دریائے نرمدا پر پل کی تعمیر اور کوٹا میں دریائے چمبل پر پل کی تعمیر سے اس خطے کی سڑک رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سڑکیں دیہی ترقیات کے لئے عمل انگیزی کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گذشتہ چار برس کی مدت میں 1.69 لاکھ کلو میٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کی اوسط رفتار 2013-14 میں 69 کلو میٹر یومیہ تھیں جو 2017-18 میں بڑھ کر 134 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔اب دیہی سڑک رابطہ کاری کی مقدار 82 فیصد تک ہوگئی ہے جو 2014 میں محض 56 فیصد تھی۔ دیہی سڑک رابطہ کاری میں اس اضافے سے ہمارےگاؤں بھی ملک کی ترقی کے راہِ عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔

ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کے لئے سیاحت میں وافر امکانات موجود ہیں۔ تیرتھوں کے اضافہ شدہ سفر کے تجربات کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی زبردست ترقی ہوئی ہے۔ چاردھام مہامارگ وکاس پریوجنا سیاحت کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے شروع کی گئی تھی جس کے تحت سفر محفوظ، تیزرفتار اور آسان بنایا جا سکے گا۔ اس سے تقریباً 12,000 کروڑ روپئے کی لاگت سے تقریباً 900 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کی تعمیر ہو سکے گی۔

بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ساتھ مال اور سازو سامان کے نقل و حمل سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں سال 2017-18 کے دوران کل 1,160 ملین ٹن مال اور ساز و سامان کی لدان ہوئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

شہری تغیر

اسمارٹ سٹیز کے ذریعہ شہروں کی ہیئت میں تبدیلی کے لئے سو شہری مراکز کا انتخاب معیار زندگی میں بہتری، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں مختلف ترقیاتی منصوبے تقریباً دس کروڑ ہندوستانیوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ ان منصوبوں پر 2,01,979 کروڑ روپیوں کی لاگت آئے گی۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ کفایتی مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ متوسط طبقے اور نو متوسط طبقے کے فائدے کے لئے 9 اور بارہ لاکھ روپئے تک کے قرض کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے جن کی شرح سود میں 4 اور 3 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔