Share
 
Comments

ہندوستان ایک کروڑوں آرزؤں اور تمناؤں کا ملک ہے۔ اپنی مضبوط معیشت، ملک کی اولیت والی سفارت کاری،بہادر دفاعی افواج اور ابھرتی ہوئی نظریاتی طاقت کے ساتھ دنیا ہندوستان کو دنیا نئی امیدوں کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

معیشت کے محاذ پر ہندوستان نے اپنی اہلیت کا ثبوت دے دیا ہے جس میں دنیا کی انتہائی تیز رفتاری سے نمو کرنے والی کمپنی کا انتظام شامل ہے۔ سرکار کے ذریعہ کی جانے والی روزافزوں اصلاحات سے ہندوستان کی مالیاتی صحت میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ آج ہندوستان دنیا میں سرمایہ کاری کی انتہائی پرکشش اور پسندیدہ منزل مقصود کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مجموعی گھریلو شرح نمو میں سال 2013اور  2017 کے درمیان 31 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ چار فیصد کے عالمی پیداواری شرح نمو سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں ہندوستان کی معاشی اثرانگیزی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کی ان سفارتکارانہ کوششوں کا نتیجہ ہے جن کے ذریعہ پہلی مرتبہ ہندوستان نے نہ صرف ایک، دو بلکہ تین ممتاز اداروں کی رکنیت حاصل کی ہے جن میں میزائل تکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر)، دی ویسینار ارینجمنٹ (ڈبلیو اے) اور آسٹریلیا گروپ (اے جی) شامل ہیں۔ نیوکلیائی اسلح کی عدم افزودگی کے موقف کے حامل ان تین غیر معمولی گروپوں میں ہندوستان کے داخلے سے ہمارے دفاعی اور خلائی امور کے پروگرام کے لئے اعلیٰ تکنیکی سازو سا مان حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی بحری تنازعات کے فیصلے کرنے والے ادارے، ہندوستان نے انٹرنیشنل ٹریبیونل آن لاء آف دی سیز (آئی ٹی ایل او ایس)، کی رکنیت حاصل کی ہے۔ ہندوستان کو یہ رکنیت ایک ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک سمندروں پر غیر ضروری دعویداری کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ہندوستان کو امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے میدان میں حکومت فیصلہ کاری کی صلاحیت نے اس خیال کو مضبوط بنا دیا ہے کہ ہندوستان کی دفاعی افواج دشمن کو اسی کی زبان میں منھ توڑ جواب میں صلاحیت رکھتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائیکس کے دوران سرحد پار کے دہشت گرد ٹھکانوں کو جس صفائی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا وہ ہندوستان کی مثالی فوجی طاقت کا بین ثبوت ہے۔  سرکار ملک کی دفاعی افواج کی پوری طرح حمایت کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جا چکا ہے کہ ’ایک عہدہ، ایک پنشن‘ سمیت فوج کے تمام زیر التوا مطالبات پورے کر دیے جائیں۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے، جدید کاری کے پروگرام کے تحت مسلح افواج کی جدید کاری انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ کی جار ہی ہے اور اسلحہ اور فوج کی ڈھانچہ جاتی سہولیات میں موجود کلیدی نقائص کو دفاعی خریداری معاہدوں کے ذریعہ تیزی سے دور کیا جا رہا ہے۔

نظریاتی محاظ پر، ہندوستان ’’واسودھیوا کٹمبکم‘‘ کے راستے پر چل رہا ہے جس کا مطلب ہے، پوری دنیا ایک کنبہ ہے۔پوری دنیا کو درپیش مسائل کے بارے میں ہمارا نظریہ ہم آہنگی اور اجتماعی شراکت داری میں ہمارے یقین کا مظہر ہے۔ آج پوری دنیا کو درپیش سنگین ترین مسئلہ تبدیلی ماحولیات کا ہے جس کے مضر اثرات پوری بنی نوع انسان پر مرتب ہونے تقریباً طے ہیں۔ ایک دوسرا میدان جس میں ہندوستان نے سبقت کی ہے وہ پیرس سی او پی 21 اجلاس میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا، اس کے ساتھ ہی ہندوستان بین الاقوامی شمسی اتحاد کی بھی قیادت کر چکا ہے۔ اس منفرد اتحاد میں شمسی توانائی کی دولت سے مالامال دنیا کے 100 سے زائد ممالک شامل ہیں جو شمسی توانائی حاصل کرکے کرۂ ارض کو نقصان پہنچائے بغیر مستقبل میں توانائی کی ضرورت کی تکمیل کریں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایک دیگر میدان میں ہندوستان کی نظریاتی طاقت ایک بہتر کرۂ ارض کی طرف رہنمائی کر رہی ہے۔ آج یوگا کو عالمی سطح پر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

’’جب ہم عالمی امن کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ سبھی ملکوں میں امن ہونا چاہئے، لیکن یہ بات اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب سماج میں امن ہو۔ پرامن کنبے یہ پر امن سماج کی تشکیل کر سکتے ہیں اور پر امن افراد ہی پر امن کنبوں کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ یوگا افراد، کنبے، سماج، ملک  اور بالآخر پوری دنیا میں یگانگت اور امن پیدا کرتا ہے۔ ‘‘

ہندوستان کی ایک اور منفرد قدیمی مشق کی جانب دنیا کی توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا قرار دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پیش کردہ اس قرارداد کی دنیا کے173 ملکوں نے حمایت کرکے اقوام متحدہ کی تاریخ میں حمایت کی غیر متوقع سطح قائم کر دی۔اسے یونیسکو میں انسانیت کی غیر مادی  ثقافتی وراثت میں کندہ بھی کیا گیا ہے۔آج پوری دنیا کے لوگ روزانہ یوگا کی مشق کرکے اس کے لاتعداد روحانی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ یوگا ایک مستقل ادارہ جاتی حمایت کےساتھ عالمی مشق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ایک اور ابھرتا میدان جہاں ہندوستان نے مضبوط تکنالوجی کے ساتھ اپنی جگہ بنائی ہے وہ ہے ہندوستان کا خلائی امور کا پروگرام۔ عالمی درجے کے سائنسدانوں اور انجینئروں کے ساتھ ہندوستان کا شعبہ ٔ خلائی امور آج دنیا کی ایک سرکردہ خلائی صنعت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے محض ایک پرواز میں 104 سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے، جس میں سے 101 ہمراہی سیٹلائیٹس امریکہ، نیدرلینڈس، سوئیٹرزلینڈ، اسرائیل، قزاخستان اور متحدہ عرب امارات کے تھے۔ ہندوستان کا عالمی نظام بحری رہنمائی ایک ایسے مقام پر قائم ہو چکا ہے جہاں سے آئی آر این ایس ایس ۔ 1 جی کو کامیابی سے لانچ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اپنے ذاتی سیارہ جاتی نظام رہنمائی کے حامل ملکوں میں شامل ہو چکا ہے۔

مختلف میدانوں میں ہندوستانیوں نے جو کوششیں کی ہیں ان سے سبھی کے لئے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر ممکن ہو رہی ہے۔ سائنس، تکنالوجی، معاشی نمو کے میدان میں جو مثالیں قائم کی ہیں ان سے نہ صرف اندرونِ ملک مسائل کے حل میں معاونت حاصل ہورہی ہے بلکہ کامیابی کی ایسی کہانیاں تحریر ہو رہی ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں انسانیت کی فلاح کی کوششوں کی عکاسی کر رہی ہیں۔

عطیات
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All

Media Coverage

‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi Adorns Colours of North East
March 22, 2019
Share
 
Comments

The scenic North East with its bountiful natural endowments, diverse culture and enterprising people is brimming with possibilities. Realising the region’s potential, the Modi government has been infusing a new vigour in the development of the seven sister states.

Citing ‘tyranny of distance’ as the reason for its isolation, its development was pushed to the background. However, taking a complete departure from the past, the Modi government has not only brought the focus back on the region but has, in fact, made it a priority area.

The rich cultural capital of the north east has been brought in focus by PM Modi. The manner in which he dons different headgears during his visits to the region ensures that the cultural significance of the region is highlighted. Here are some of the different headgears PM Modi has carried during his visits to India’s north east!