دنیا نے ایک نیا ہندوستان دیکھا

Published By : Admin | September 6, 2018 | 17:46 IST

ہندوستان ایک کروڑوں آرزؤں اور تمناؤں کا ملک ہے۔ اپنی مضبوط معیشت، ملک کی اولیت والی سفارت کاری،بہادر دفاعی افواج اور ابھرتی ہوئی نظریاتی طاقت کے ساتھ دنیا ہندوستان کو دنیا نئی امیدوں کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

معیشت کے محاذ پر ہندوستان نے اپنی اہلیت کا ثبوت دے دیا ہے جس میں دنیا کی انتہائی تیز رفتاری سے نمو کرنے والی کمپنی کا انتظام شامل ہے۔ سرکار کے ذریعہ کی جانے والی روزافزوں اصلاحات سے ہندوستان کی مالیاتی صحت میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ آج ہندوستان دنیا میں سرمایہ کاری کی انتہائی پرکشش اور پسندیدہ منزل مقصود کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مجموعی گھریلو شرح نمو میں سال 2013اور  2017 کے درمیان 31 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ چار فیصد کے عالمی پیداواری شرح نمو سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں ہندوستان کی معاشی اثرانگیزی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کی ان سفارتکارانہ کوششوں کا نتیجہ ہے جن کے ذریعہ پہلی مرتبہ ہندوستان نے نہ صرف ایک، دو بلکہ تین ممتاز اداروں کی رکنیت حاصل کی ہے جن میں میزائل تکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر)، دی ویسینار ارینجمنٹ (ڈبلیو اے) اور آسٹریلیا گروپ (اے جی) شامل ہیں۔ نیوکلیائی اسلح کی عدم افزودگی کے موقف کے حامل ان تین غیر معمولی گروپوں میں ہندوستان کے داخلے سے ہمارے دفاعی اور خلائی امور کے پروگرام کے لئے اعلیٰ تکنیکی سازو سا مان حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی بحری تنازعات کے فیصلے کرنے والے ادارے، ہندوستان نے انٹرنیشنل ٹریبیونل آن لاء آف دی سیز (آئی ٹی ایل او ایس)، کی رکنیت حاصل کی ہے۔ ہندوستان کو یہ رکنیت ایک ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک سمندروں پر غیر ضروری دعویداری کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ہندوستان کو امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے میدان میں حکومت فیصلہ کاری کی صلاحیت نے اس خیال کو مضبوط بنا دیا ہے کہ ہندوستان کی دفاعی افواج دشمن کو اسی کی زبان میں منھ توڑ جواب میں صلاحیت رکھتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائیکس کے دوران سرحد پار کے دہشت گرد ٹھکانوں کو جس صفائی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا وہ ہندوستان کی مثالی فوجی طاقت کا بین ثبوت ہے۔  سرکار ملک کی دفاعی افواج کی پوری طرح حمایت کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جا چکا ہے کہ ’ایک عہدہ، ایک پنشن‘ سمیت فوج کے تمام زیر التوا مطالبات پورے کر دیے جائیں۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے، جدید کاری کے پروگرام کے تحت مسلح افواج کی جدید کاری انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ کی جار ہی ہے اور اسلحہ اور فوج کی ڈھانچہ جاتی سہولیات میں موجود کلیدی نقائص کو دفاعی خریداری معاہدوں کے ذریعہ تیزی سے دور کیا جا رہا ہے۔

نظریاتی محاظ پر، ہندوستان ’’واسودھیوا کٹمبکم‘‘ کے راستے پر چل رہا ہے جس کا مطلب ہے، پوری دنیا ایک کنبہ ہے۔پوری دنیا کو درپیش مسائل کے بارے میں ہمارا نظریہ ہم آہنگی اور اجتماعی شراکت داری میں ہمارے یقین کا مظہر ہے۔ آج پوری دنیا کو درپیش سنگین ترین مسئلہ تبدیلی ماحولیات کا ہے جس کے مضر اثرات پوری بنی نوع انسان پر مرتب ہونے تقریباً طے ہیں۔ ایک دوسرا میدان جس میں ہندوستان نے سبقت کی ہے وہ پیرس سی او پی 21 اجلاس میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا، اس کے ساتھ ہی ہندوستان بین الاقوامی شمسی اتحاد کی بھی قیادت کر چکا ہے۔ اس منفرد اتحاد میں شمسی توانائی کی دولت سے مالامال دنیا کے 100 سے زائد ممالک شامل ہیں جو شمسی توانائی حاصل کرکے کرۂ ارض کو نقصان پہنچائے بغیر مستقبل میں توانائی کی ضرورت کی تکمیل کریں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایک دیگر میدان میں ہندوستان کی نظریاتی طاقت ایک بہتر کرۂ ارض کی طرف رہنمائی کر رہی ہے۔ آج یوگا کو عالمی سطح پر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

’’جب ہم عالمی امن کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ سبھی ملکوں میں امن ہونا چاہئے، لیکن یہ بات اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب سماج میں امن ہو۔ پرامن کنبے یہ پر امن سماج کی تشکیل کر سکتے ہیں اور پر امن افراد ہی پر امن کنبوں کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ یوگا افراد، کنبے، سماج، ملک  اور بالآخر پوری دنیا میں یگانگت اور امن پیدا کرتا ہے۔ ‘‘

ہندوستان کی ایک اور منفرد قدیمی مشق کی جانب دنیا کی توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا قرار دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پیش کردہ اس قرارداد کی دنیا کے173 ملکوں نے حمایت کرکے اقوام متحدہ کی تاریخ میں حمایت کی غیر متوقع سطح قائم کر دی۔اسے یونیسکو میں انسانیت کی غیر مادی  ثقافتی وراثت میں کندہ بھی کیا گیا ہے۔آج پوری دنیا کے لوگ روزانہ یوگا کی مشق کرکے اس کے لاتعداد روحانی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ یوگا ایک مستقل ادارہ جاتی حمایت کےساتھ عالمی مشق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ایک اور ابھرتا میدان جہاں ہندوستان نے مضبوط تکنالوجی کے ساتھ اپنی جگہ بنائی ہے وہ ہے ہندوستان کا خلائی امور کا پروگرام۔ عالمی درجے کے سائنسدانوں اور انجینئروں کے ساتھ ہندوستان کا شعبہ ٔ خلائی امور آج دنیا کی ایک سرکردہ خلائی صنعت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے محض ایک پرواز میں 104 سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے، جس میں سے 101 ہمراہی سیٹلائیٹس امریکہ، نیدرلینڈس، سوئیٹرزلینڈ، اسرائیل، قزاخستان اور متحدہ عرب امارات کے تھے۔ ہندوستان کا عالمی نظام بحری رہنمائی ایک ایسے مقام پر قائم ہو چکا ہے جہاں سے آئی آر این ایس ایس ۔ 1 جی کو کامیابی سے لانچ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اپنے ذاتی سیارہ جاتی نظام رہنمائی کے حامل ملکوں میں شامل ہو چکا ہے۔

مختلف میدانوں میں ہندوستانیوں نے جو کوششیں کی ہیں ان سے سبھی کے لئے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر ممکن ہو رہی ہے۔ سائنس، تکنالوجی، معاشی نمو کے میدان میں جو مثالیں قائم کی ہیں ان سے نہ صرف اندرونِ ملک مسائل کے حل میں معاونت حاصل ہورہی ہے بلکہ کامیابی کی ایسی کہانیاں تحریر ہو رہی ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں انسانیت کی فلاح کی کوششوں کی عکاسی کر رہی ہیں۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Govt disburses Rs 28,748 crore under 14 PLI schemes till December 2025

Media Coverage

Govt disburses Rs 28,748 crore under 14 PLI schemes till December 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
6 Years of Jal Jeevan Mission: Transforming Lives, One Tap at a Time
August 14, 2025
Jal Jeevan Mission has become a major development parameter to provide water to every household.” - PM Narendra Modi

For generations, the sight of women carrying pots of water on their heads was an everyday scene in rural India. It was more than a chore, it was a necessity that was an integral part of their everyday life. The water was brought back, often just one or two pots which had to be stretched for drinking, cooking, cleaning, and washing. It was a routine that left little time for rest, education, or income-generating work, and the burden fell most heavily on women.

Before 2014 water scarcity, one of India’s most pressing problems, was met with little urgency or vision. Access to safe drinking water was fragmented, villages relied on distant sources, and nationwide household tap connections were seen as unrealistic.

This reality began to shift in 2019, when the Government of India launched the Jal Jeevan Mission (JJM). A centrally sponsored initiative which aims at providing a Functional Household Tap Connection (FHTC) to every rural household. At that time, only 3.2 crore rural households, a modest 16.7% of the total, had tap water. The rest still depended on community sources, often far from home.

As of July 2025, the progress under the Har Ghar Jal program has been exceptional, with 12.5 crore additional rural households connected, bringing the total to over 15.7 crore. The program has achieved 100% tap water coverage in 200 districts and over 2.6 lakh villages, with 8 states and 3 union territories now fully covered. For millions, this means not just access to water at home, but saved time, improved health, and restored dignity. Nearly 80% of tap water coverage has been achieved in 112 aspirational districts, a significant rise from less than 8%. Additionally, 59 lakh households in LWE districts have gained tap water connections, ensuring development reaches every corner. Acknowledging both the significant progress and the road ahead, the Union Budget 2025–26 announced the program’s extension until 2028 with an increased budget.

The Jal Jeevan Mission, launched nationally in 2019, traces its origins to Gujarat, where Narendra Modi, as Chief Minister, tackled water scarcity in the arid state through the Sujalam Sufalam initiative. This effort formed a blueprint for a mission that would one day aim to provide tap water to every rural household in India.

Though drinking water is a State subject, the Government of India has taken on the role of a committed partner, providing technical and financial support while empowering States to plan and implement local solutions. To keep the Mission on track, a strong monitoring system links Aadhaar for targeting, geo-tags assets, conducts third-party inspections, and uses IoT devices to track village water flow.

The Jal Jeevan Mission’s objectives are as much about people as they are about pipes. By prioritizing underserved and water-stressed areas, ensuring that schools, Anganwadi centres, and health facilities have running water, and encouraging local communities to take ownership through contributions or shramdaan, the Mission aims to make safe water everyone’s responsibility..

The impact reaches far beyond convenience. The World Health Organization estimates that achieving JJM’s targets could save over 5.5 crore hours each day, time that can now be spent on education, work, or family. 9 crore women no longer need to fetch water from outside. WHO also projects that safe water for all could prevent nearly 4 lakh deaths from diarrhoeal disease and save Rs. 8.2 lakh crores in health costs. Additionally, according to IIM Bangalore and the International Labour Organization, JJM has generated nearly 3 crore person-years of employment during its build-out, with nearly 25 lakh women are trained to use Field testing Kits.

From the quiet relief of a mother filling a glass of clean water in her kitchen, to the confidence of a school where children can drink without worry, the Jal Jeevan Mission is changing what it means to live in rural India.