دوستوں،

عالمی امن اور سلامتی صرف تصورات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے مشترکہ مفادات اور مستقبل کی بنیاد ہیں۔ انسانیت کی ترقی صرف ایک پرامن اور محفوظ ماحول میں ممکن ہے۔ برکس کا اس مقصد کو پورا کرنے میں ایک بہت اہم کردار ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ ہم ایک ساتھ آئیں، اپنے تمام وسائل کو یکجا کریں، اور مشترکہ طور پر ان چیلنجز کا مقابلہ کریں جو ہم سب کو درپیش ہیں۔ ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

دوستوں،

دہشت گردی آج انسانیت کے لیے سب سے سنگین چیلنج ہے۔ حال ہی میں بھارت نے ایک وحشیانہ اور بزدلانہ دہشت گرد حملہ برداشت کیا۔ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ بھارت کی روح، شناخت اور عزت پر براہ راست حملہ تھا۔ یہ حملہ صرف بھارت پر نہیں، بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تھا۔ اس غم اور درد کے لمحے میں، میں اپنے دوست ممالک کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر حمایت اور تعزیت کا اظہار کیا۔

دوستوں،

دہشت گردی کی مذمت اصولی بنیادوں پر ہونی چاہیے، نہ کہ صرف وقتی ضرورت کے طور پر۔ اگر ہمارا ردعمل اس بات پر منحصر ہو کہ حملہ کہاں اور کس کے خلاف ہوا، تو یہ انسانیت کے ساتھ غداری ہوگی۔

دوستوں،

دہشت گردوں پر پابندیاں عائد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے حامیوں کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھا جا سکتا۔ ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے دہشت گردی پر خاموش رضامندی دینا یا دہشت گردوں یا دہشت گردی کی حمایت کرنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ جب بات دہشت گردی کی ہو، تو ہمارے الفاظ اور اعمال میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں یا نہیں؟

دوستوں،

آج، مغربی ایشیا سے لے کر یورپ تک، دنیا بھر میں تنازعات اور کشیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ غزہ میں انسانیت کی صورتحال سنگین تشویش کا باعث ہے۔ بھارت پختہ یقین رکھتا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، امن کا راستہ ہی انسانیت کی بھلا ئی کے لیے واحد متبادل ہے۔

بھارت وہ سرزمین ہے جہاں بدھ اور مہاتما گاندھی کی عظیم تعلیمات نے جنم لیا۔ یہاں جنگ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارت ہر ایسے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے جو دنیا کو تقسیم اور تنازعات سے دور کر کے ہمیں مکالمے، تعاون اور ہم آہنگی کی راہ پر لے جائے، اور یکجہتی و اعتماد کو فروغ دے۔ اسی مقصد کے تحت، ہم تمام دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں۔ شکریہ۔

دوستوں،

آخر میں، میں آپ سب کو دل سے دعوت دیتا ہوں کہ آپ اگلے سال بھارت میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں، جو بھارت کی صدارت میں منعقد ہوگا۔

بہت شکریہ۔

تردیدیہ وزیرِ اعظم کے بیانات کا تخمینی ترجمہ ہے۔ اصل بیانات ہندی زبان میں دیے گئے تھے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India Exports 3.15 lakh Tonnes Sugar in Oct-Feb of 2025-26 Marketing Year: AISTA

Media Coverage

India Exports 3.15 lakh Tonnes Sugar in Oct-Feb of 2025-26 Marketing Year: AISTA
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Speaks with UAE President
March 17, 2026
PM Conveys Eid Greetings and Discusses current Situation in West Asia

The Prime Minister spoke with HH Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE, and conveyed advance Eid greetings. PM Modi and the President discussed the current situation in West Asia. The Prime Minister reiterated India’s strong condemnation of all attacks on the UAE that have resulted in loss of innocent lives and damage to civilian infrastructure.

The Prime Minister and the UAE President agreed on the importance of ensuring safe and free navigation through the Strait of Hormuz. Shri Modi emphasized that both nations will continue to work together for the early restoration of peace, security, and stability in the region.

The Prime Minister wrote on X;

"Spoke with my brother HH Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE and conveyed advance Eid greetings.

We discussed the current situation in West Asia. Reiterated India’s strong condemnation of all attacks on the UAE that have resulted in loss of innocent lives and damage to civilian infrastructure.

We agreed on the importance of ensuring safe and free navigation through the Strait of Hormuz.

We will continue to work together for the early restoration of peace, security and stability in the region."