"ہندوستانی تاریخ میں، میرٹھ صرف ایک شہر نہیں رہا ہے بلکہ ثقافت اور طاقت کا ایک اہم مرکز رہا ہے"
ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں پر یقین ہو اور کھیلوں کو بطور پیشہ اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ میرا عزم اور میرا خواب ہے"
"گاؤں اور چھوٹے شہروں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے آغاز سے ، وہاں کے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے"
"وسائل اور نئے سلسلے کے ساتھ ابھرتا ہوا کھیلوں کا ماحولیاتی نظام نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔ اس سے معاشرے میں یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کی طرف بڑھنا درست فیصلہ ہے"
’’میرٹھ نہ صرف لوکل کے لیے ووکل ہے بلکہ مقامی کے لیے گلوبل بھی بن رہا ہے‘‘
"ہمارا مقصد واضح ہے۔ نوجوانوں کو نہ صرف رول ماڈل بننا چاہئے بلکہ اپنے رول ماڈل کو بھی پہچاننا چاہئے

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

یوپی کی مقبول اور توانائی سے بھرپور گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل جی، نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریا جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب سنجیو بالیان جی، وی کے سنگھ جی، وزیر جناب دنیش کھٹیک جی، جناب اوپیندر تیواری جی، جناب کپل دیو اگروال جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی جناب ستیہ پال سنگھ جی، راجندر اگروال جی، وجے پال سنگھ تومرجی، محترمہ کانتا کردم جی، ایم ایل اے بھائی سومیندر تومر جی، سنگیت سوم جی، جتیندر ستوال جی، ستیہ پرکاش اگروال جی، میرٹھ ضلع پریشد کے صدر گورو چودھری جی، مظفر نگر ضلع پریشد کے صدر ویرپال جی، دیگر تمام عوامی نمائندگان اور دور دور سے آئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو، آپ سب کو سال 2022 کی بہت بہت مبارکباد۔

سال کے آغاز میں میرٹھ آنا میرے لیے اپنے آپ میں بہت اہم ہے۔ بھارت کی تاریخ میں میرٹھ نہ صرف ایک شہر ہے بلکہ میرٹھ ہماری ثقافت، ہماری طاقت کا ایک اہم مرکز بھی رہا ہے۔ رامائن اور مہابھارت کے ادوار سے لے کر جین تیرتھنکر اور پنج پیاروں میں سے ایک بھائی دھرم سنگھ تک میرٹھ نے ملک کے عقیدے کو توانائی بخشی ہے۔

وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر ملک کی پہلی جنگ آزادی تک اس خطے نے دنیا کو دکھایا ہے کہ بھارت کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ 1857 میں بابا اوگھڑ ناتھ مندر سے آزادی کی جو للکار دہلی کی طرف کرنے کوچ کی صدا نے غلامی کی تاریک سرنگ میں ملک کو ایک نئی روشنی دی۔ انقلاب کی اسی تحریک سے ہمیں آزاد کرایا گیا اور آج ہم فخر کے ساتھ اپنی آزادی کے امرت مہوتسو کا جشن منا رہے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہاں آنے سے پہلے بابا اوگھڑ ناتھ مندر جانے کا موقع ملا۔ میں امر جوان جیوتی بھی گیا، آزادی کی جدوجہد کے عجائب گھر میں اس جذبے کو بھی محسوس کیا جوملک کی آزادی کے لیے کچھ کر گزرنے والوں کے دلوں میں روشن تھا۔

بھائیو اور بہنو،

میرٹھ اور اس کے آس پاس کے اس خطے نے آزاد بھارت کو ایک نئی سمت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ قومی دفاع کے لیے سرحد پر قربانیاں ہوں یا کھیل کے میدان میں قوم کے احترام کے لیے، حب الوطنی کا جذبہ ہمیشہ اس خطے نے روشن کیا ہے۔ نور پور مدایا نے چودھری چرن سنگھ جی کے طور پر ملک کو ایک وژنری قیادت بھی دی۔ میں اس اس متحرک قوت کو سلام پیش کرتا ہوں، میرٹھ اور اس خطے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنو،

میرٹھ ملک کے ایک اور عظیم بچے میجر دھیان چند جی کی کام کی جگہ بھی رہا ہے۔ چند ماہ قبل مرکزی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے کھیلوں کے ایوارڈ کا نام ڈڈا کے نام پر رکھا تھا۔ آج اسپورٹس یونیورسٹی آف میرٹھ میجر دھیان چند جی کے نام وقف کی جارہی ہے۔ اور جب اس یونیورسٹی کا نام میجر دھیان چند جی سے وابستہ ہورہا ہے تو ان کی جانفشانی ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ ان کا نام بھی اپنے اندر ایک پیغام رکھتا ہے۔ ان کے نام کا لفظ دھیان کا مطلب ہے کہ توجہ مرکوز کیے بغیر، سرگرمی پر توجہ مرکوز کیے بغیر، کبھی کام یابی نہیں ملتی۔ اور اس لیے مجھے یقین ہے کہ یہاں پوری توجہ سے کام کرنے والے نوجوان اس ملک کا نام روشن کریں گے جس یونیورسٹی کا نام دھیان چند سے وابستہ ہے۔

میں یوپی کی پہلی اسپورٹس یونیورسٹی کے لیے اترپردیش کے نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ 700 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ جدید یونیورسٹی دنیا کی بہترین کھیلوں کی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہوگی۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو کھیلوں کی بین الاقوامی سہولیات ملیں گی بلکہ کھیلوں کو کیریئر کے طور پر اپنانے کے لیے درکار مہارتیں بھی پیدا ہوں گی۔ ہر سال 1000سے زیادہ بیٹے اور بیٹیاں بہترین کھلاڑی کے طور پر ابھریں گے۔ یعنی انقلابیوں کا شہر کھلاڑیوں کے شہر کے طور پر اپنی شناخت کو مزید مستحکم کرے گا۔

ساتھیو،

پہلے کی حکومتوں میں یوپی میں مجرم اپنا کھیل کھیلتے تھے، مافیا اپنا کھیل کھیلتا تھا۔ اس سے قبل غیر قانونی قبضے کے ٹورنامنٹ ہوتے تھے، بیٹیوں پر پھبتیاں کسنے والے آزادانہ گھومتے تھے۔ ہمارے میرٹھ اور آس پاس کے علاقوں کے لوگ کبھی یہ نہیں بھول سکتے کہ لوگوں کے گھر جل گئے تھے اور پچھلی حکومت اپنے کھیل میں لگی ہوئی تھی۔ پہلے کے سرکاری کھیلوں کے نتیجے میں لوگ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

پہلے کیا کھیل کھیلے جاتے تھے، اب یوگی جی کی حکومت ایسے مجرموں کے ساتھ جیل جیل کھیل رہی ہے۔ پانچ سال پہلے اسی میرٹھ کی بیٹیاں شام کے بعد اپنے گھروں سے نکلنے سے ڈرتی تھیں۔ آج میرٹھ کی بیٹیاں پورے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ میرٹھ کی سوتی گنج مارکیٹ میں گاڑیوں کے ساتھ ہونے والے کھیل کا بھی اب خاتمہ ہورہاہے۔ اب یوپی میں اصل کھیل کو فروغ مل رہا ہے، یوپی کے نوجوانوں کو کھیلوں کی دنیا میں داخل ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

ساتھیو،

ہمارے یہاں بولا جاتا ہے: [مفہوم]جس راستے پر عظیم لوگ، عظیم شخصیات چلتی ہیں وہی ہمارا راستہ ہے۔ لیکن اب بھارت بدل گیا ہے، اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اور اکیسویں صدی کے اس نئے بھارت میں سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے نوجوانوں پر عائد ہوگی۔ اوراب منتر بدل گیا ہے - اکیسویں صدی کا منتر یہ ہے:نوجوان جس راستے پر چلتے ہیں وہی ملک کا راستہ ہے۔ جہاں کہیں بھی نوجوانوں کے قدم بڑھتے ہیں، منزل خود بخود قدموں کو چومنا شروع کردیتی ہے۔ نوجوان ایک نئے بھارت کا کپتان بھی ہے، نوجوان نئے بھارت کی توسیع بھی ہے۔ نوجوان نئے بھارت کا کنٹرولر بھی ہے اور نوجوان نئے بھارت کا لیڈر بھی ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں کے پاس قدامتوں کا ورثہ بھی اور جدیدیت کا جذبہ بھی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان جہاں بھی جائیں گے، بھارت ان کے ساتھ چلے گا۔ اور جدھربھارت چلے گا اُدھر دنیا چلنے والی ہے۔ آج سائنس سے لے کر ادب تک، اسٹارٹ اپس سے لے کر کھیلوں تک، بھارت کے نوجوان ہر جگہ موجود ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

ہمارے جو نوجوان کھیلوں کی دنیا میں آئے تھے وہ ماضی میں طاقتور تھے، ماضی میں  محنت کا فقدان نہیں تھا۔ کھیلوں کا کلچر بھی ہمارے ملک میں بہت ثروت مند رہا ہے۔ کھیل ہمارے دیہاتوں میں ہر تہوار، ہر اتسو کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ میرٹھ میں دنگل اور جیتنے والوں کو گھی کے پیپے اور لڈو ملتے ہیں۔ اس لطف کے لیے کس کا دل میدان میں اترنے کا نہیں چاہے گا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے کھیل اور کھلاڑیوں کا ان کی طرف دیکھنے کا رویہ بہت مختلف رہا تھا۔ اس سے پہلے شہروں میں جب ایک نوجوان اپنی شناخت ایک کھلاڑی کے طور پر کرتا تھا، اگر وہ کہتا تھا کہ میں کھلاڑی ہوں، میں فلاں فلاں کھیل کھیلتا ہوں، میں اس کھیل میں آگے بڑھا ہوں، تو سامنے والے کیا پوچھتے تھے؟ معلوم ہے؟ سامنے والا پوچھتا تھا، "ارے، بیٹا، تم کھیلتے ہو، ٹھیک ہے، لیکن تم کام کیا کرتے ہو؟" یعنی گویا کھیلوں کی کوئی عزت ہی نہیں تھی۔

گاؤں میں اگر کوئی خود کو کھلاڑی قرار دیتا تو لوگ کہتے کہ چلو فوج یا پولیس میں ملازمت کے لیے کھیل رہا ہوگا۔ یعنی کھیلوں کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کا دائرہ بہت محدود تھا۔ اس سے پہلے حکومتوں نے نوجوانوں کی اس طاقت کو اہمیت نہیں دی تھی۔ یہ حکومتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ معاشرے میں کھیلوں کے بارے میں سوچ کو بدلیں۔کھیل کو باہر نکالنا بہت ضروری ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ زیادہ تر کھیلوں کے بارے میں ملک کی بے حسی میں اضافہ ہی ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہاکی میں بھی جہاں میجر دھیان چند جی جیسی صلاحیتوں نے غلامی کے دور میں بھی ملک کا نام روشن کیا تھا،  وہیں ہمیں کئی دہائیوں تک تمغوں کا انتظار کرنا پڑا۔

دنیا کی ہاکی قدرتی میدان سے ایسٹرو ٹرف کی طرف بڑھ گئی۔ لیکن ہم وہیں کے وہیں رہے۔ جب تک ہم بیدار ہوئے، بہت دیر ہو چکی تھی۔ اوپر سے لے کر، تربیت سے لے کر ٹیم کے انتخاب تک، اقربا پروری، برادر پروری  کے کھیل، بدعنوانی کے کھیل، امتیازی سلوک اور شفافیت کا تو کہیں  کوئی سراغ ہی نہیں ملتا۔ ساتھیو،  ہاکی کی مثال سامنے ہے، یہ ہر کھیل کی کہانی تھی۔ ٹکنالوجی کو تبدیل کرنے، طلب میں تبدیلی، مہارتوں کو تبدیل کرنے کے لیے ملک کی سابقہ حکومتیں بہترین ایکو سسٹم تخلیق نہیں کرسکیں۔

ساتھیو،

ملک کے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتیں حکومت کی بے اعتنائی کی وجہ سے سے جکڑی ہوئی تھیں۔ 2014 کے بعد ہم نے انھیں جکڑبندیوں سے نکالنے کے لیے ہر سطح پر اصلاحات کیں۔ ہماری حکومت نے کھلاڑیوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہمارے کھلاڑیوں کو چار ہتھیار دیے ہیں۔ کھلاڑیوں کو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، کھلاڑیوں کو جدید تربیتی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے، کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایکسپوژر کی ضرورت ہوتی ہے، کھلاڑیوں کو انتخاب میں شفافیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری حکومت نے گذشتہ برسوں میں بھارت کے کھلاڑیوں کو یہ چاروں ہتھیار مہیا کرانے کو اولین ترجیح دی ہے۔ ہم نے کھیلوں کو نوجوانوں کی فٹنس اور نوجوانوں کے روزگار، خود روزگار، ان کے کیریئر سے جوڑا ہے۔ ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم یعنی ٹاپس ایسی ہی ایک کوشش رہی ہے۔

آج حکومت ملک کے اعلیٰ کھلاڑیوں کی خوراک، فٹنس سے لے کر تربیت تک، لاکھوں اور کروڑوں روپے کی مدد کر رہی ہے۔ کھیلو انڈیا مہم کے ذریعے ملک کےگوشے گوشے میں بہت چھوٹی عمر کی صلاحیتوں کی شناخت کی جارہی ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کا کھلاڑی بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔ انھی کوششوں کی وجہ سے آج جب بھارتی کھلاڑی بین الاقوامی میدان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی کارکردگی کو بھی دنیا سراہتی اور دیکھتی ہے۔ گذشتہ سال ہم نے اولمپکس میں دیکھا تھا، ہم نے  پیرالمپکس میں دیکھا تھا۔ تاریخ میں اس سے پہلے جو کچھ نہیں ہوا وہ پچھلے اولمپکس میں میرے ملک کے جری بیٹوں اور بیٹیوں نے کر دکھایا تھا۔ وہ ایک آواز ہوکر بول اٹھا کہ کھیل کے میدان میں بھارت کا طلوع ہوچکا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اترپردیش، اتراکھنڈ کے بہت سے چھوٹے دیہاتوں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے بیٹے اور بیٹیاں عام خاندانوں سے تعلق رکھنے والے، بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ان کھیلوں میں بھی آگے آرہے ہیں جن پہلے میں وسائل سے مالا مال خاندانوں کے نوجوانھی حصہ لے سکتے تھے۔ اسی خطے کے بہت سے کھلاڑیوں نے اولمپکس اور پیرالمپکس میں ملک کی نمائندگی کی ہے۔ یہ جدید کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کا نتیجہ ہے جو حکومت دیہاتوں میں تعمیر کر رہی ہے۔ پہلے صرف بڑے شہروں میں ہی بہتر اسٹیڈیم دستیاب تھے، آج گاؤں کے قریب ہی کھلاڑیوں کو یہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

ساتھیو،

یہی وجہ ہے کہ ایسی کھیلوں کی یونیورسٹیاں آج بہت اہم ہیں۔ یہ کھیلوں کی یونیورسٹیاں کھیلوں کی ثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے نرسریوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کی 7 دہائیوں بعد 2018 میں منی پور میں ہماری حکومت نے پہلی نیشنل اسپورٹس یونیورسٹی قائم کی تھی۔ گذشتہ 7 برسوں میں ملک بھر میں کھیلوں کی تعلیم اور مہارتوں سے متعلق بہت سے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ اور اب آج بڑی دھیان چند اسپورٹس یونیورسٹی، کھیلوں میں اعلیٰ تعلیم کا ایک اور بہترین ادارہ ملک کو دیا گیا ہے۔

ساتھیو،

کھیلوں کی دنیا کے بارے میں ہمیں ایک اور بات یاد رکھنی ہوگی۔ اور میرٹھ کے لوگ اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ کھیلوں کی خدمات اور اشیاء کی عالمی منڈی کی مالیت لاکھوں کروڑ وں روپے ہے۔ میرٹھ ہی سے کھیلوں کا سامان اب 100 سے زیادہ ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ میرٹھ نہ صرف لوکل کے لیے ووکل ہورہا ہے بلکہ لوکل کو گلوبل بھی بنا رہا ہے۔ آج ملک بھر میں اس طرح کے متعدد اسپورٹس کلسٹر بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ اس کا مقصد ملک کو کھیلوں کی اشیا اور سازوسامان کی تیاری میں خود کفیل بنانا ہے۔

اب جو نئی قومی تعلیمی پالیسی نافذ ہو رہی ہے اس میں کھیلوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ کھیلوں کو اب سائنس، تجارت، ریاضی، فلسفہ یا دیگر مطالعات کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ پہلے کھیلوں کو ایک اضافی سرگرمی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسکول میں اسپورٹس ایک مضمون ہوگا۔ یہ باقی مضامین کی طرح اہم ہوگا۔

ساتھیو،

یوپی کے نوجوانوں میں اتنی صلاحیتیں ہیں، ہمارے یوپی کے نوجوان اتنے باصلاحیت ہیں کہ آسمان کم پڑ جائے۔ چناں چہ یوپی میں ڈبل انجن حکومت کئی یونیورسٹیاں قائم کر رہی ہے۔ گورکھپور میں مہایوگی گرو گورکھ ناتھ آیوش یونیورسٹی، پریاگ راج میں ڈاکٹر راجندر پرساد لا یونیورسٹی، لکھنؤ میں اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک سائنسز، علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی، سہارنپور کی ماں شاکمبری یونیورسٹی اور یہاں میرٹھ میں میجر دھیان چند اسپورٹس یونیورسٹی، ہمارا مقصد واضح ہے۔ ہمارے نوجوان نہ صرف رول ماڈل بنتے ہیں بلکہ اپنے رول ماڈل کو بھی پہچانتے ہیں۔

ساتھیو،

حکومتوں کا کردار سرپرست جیسی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس اہلیت ہے تو حوصلہ افزائی کریں اور یہ کہہ کر نہ ٹال دیں کہ لڑکوں سے غلطیاں ہوتی ہی ہیں۔ آج یوگی جی کی حکومت نوجوانوں کی ریکارڈ سرکاری تقرریاں کر رہی ہے۔ آئی ٹی آئی سے تربیت یافتہ ہزاروں نوجوانوں کو بڑی کمپنیوں میں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ نیشنل اپرنٹس شپ اسکیم ہو یا پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا، لاکھوں نوجوانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ اٹل جی کے یوم پیدائش پر یوپی حکومت نے طلبا کو ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون فراہم کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے۔

ساتھیو،

یوپی کے نوجوانوں کے لیے مرکزی حکومت کی ایک اور اسکیم کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔ یہ اسکیم ملکیت کی اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت دیہات میں رہنے والے لوگوں کو ان کی جائیدادوں کے ملکیتی حقوق سے متعلق کاغذات دے رہی ہے۔ گھر ملنے پر گاؤں کے نوجوان اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے بینکوں سے آسانی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ اس سے معاشرے کے ہر طبقے کو ان کے گھروں پر غیر قانونی قبضے کی فکر سے بھی نجات ملے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ یوگی جی کی حکومت ملکیت اسکیم کو بہت تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ یوپی کے 75 اضلاع میں 23 لاکھ سے زیادہ گھرونی دی جاچکی ہے۔ انتخابات کے بعد یوگی جی کی حکومت اس مہم کو تیز کرے گی۔

بھائیو اور بہنو،

اس علاقے کے زیادہ تر نوجوان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہماری حکومت دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی مسلسل کام کر رہی ہے۔ گذشتہ کل وزیر اعظم کسان سمان ندھی کے ذریعے یوپی کے لاکھوں کسانوں کے بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ اس سے اس خطے کے چھوٹے کسانوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

جو لوگ پہلے اقتدار میں تھے انھوں نے آپ کو گنے کی قیمت قسطوں میں ترسا ترسا کر ادا کی تھی۔ گنے کے کسانوں کو اتنی رقم نہیں ملی جتنی پچھلی دو حکومتوں کے دوران یوگی جی حکومت میں ادا کی گئی ہے۔ پہلے کی حکومتوں میں شوگر ملوں کو کوڑیوں کے بھاو فروخت کیا جاتا تھا، جتنا میں جانتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں یا نہیں ؟ کیا شوگر ملز فروخت ہوئیں یا فروخت نہیں ہوئیں ؟ کیا بدعنوانی ہے یا نہیں ؟ یوگی جی کی حکومت میں ملیں بند نہیں ہوتی ہیں، یہاں وہ پھیلتی ہیں، نئی ملیں کھولی جاتی ہیں۔ اب یوپی گنے سے تیار کردہ ایتھنول کی پیداوار میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ ساڑھے چار برسوں میں یوپی سے تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کا ایتھنول خریدا گیا ہے۔ حکومت زرعی بنیادی ڈھانچے اور فوڈ پروسیسنگ، ایسی صنعتوں میں بھی تیزی سے توسیع کر رہی ہے۔ آج دیہی بنیادی ڈھانچے، ذخیرہ اندوزی کی فراہمی، سرد ذخیرہ پر ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

ڈبل انجن حکومت نوجوانوں کی طاقت کے ساتھ ساتھ اس شعبے کی طاقت کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ریوڑی، گزک، ہینڈ لوم، براس بینڈ، زیورات، میرٹھ کے ایسے کاروبار اس ملک کا فخر ہیں۔ آج میرٹھ مظفر نگر میں چھوٹی اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو مزید وسعت دینے، بڑی صنعتوں کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے، زرعی مصنوعات، اس کی پیداوار کے لیے نئی منڈیاں حاصل کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس لیے اس خطے کو ملک کا جدید ترین اور مربوط ترین خطہ بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ دہلی میرٹھ ایکسپریس وے کی وجہ سے دہلی اب ایک گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ چند روز قبل شروع ہونے والا گنگا ایکسپریس وے بھی میرٹھ سے شروع ہوگا۔ میرٹھ سے یہ رابطہ یوپی کے دیگر شہروں کے ساتھ رابطے اور تعلقات کو آسان بنانے کے لیے کام کرے گا۔ ملک کا پہلا علاقائی ریپڈ ریل ٹرانزٹ سسٹم بھی میرٹھ کو دارالحکومت سے جوڑ رہا ہے۔ میرٹھ ملک کا پہلا شہر ہوگا جہاں میٹرو اور تیز رفتار تیز رفتار ریل بیک وقت چلیں گی۔ میرٹھ میں آئی ٹی پارک جو پچھلی حکومت کا محض اعلان بن کر رہ گیا تھا، اسے بھی قوم کے نام وقف کیا جاچکا ہے۔

ساتھیو،

یہ ڈبل بینیفٹ، ڈبل اسپیڈ، ڈبل انجن کی حکومت کی شناخت ہے۔ اس شناخت کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ میرے مغربی اترپردیش کے لوگ جانتے ہیں کہ اگر آپ اُدھر ہاتھ لمبا کریں گے، تولکھنؤ میں یوگی جی، اور اِدھر ہاتھ لمبا کریں گے تومیں آپ کے لیے دہلی میں ہوں ہی۔ ترقی کی رفتار کو مزید بڑھانا ہوگا۔ نئے سال میں ہم نئے جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ میرے نوجوان ساتھیو، آج پورا بھارت میرٹھ کی طاقت کو دیکھ رہا ہے، مغربی اترپردیش کی طاقت کو دیکھ رہا ہے، نوجوانوں کی طاقت کو دیکھ رہا ہے۔ یہ طاقت ملک کی طاقت ہے اور اس طاقت کو مزید بڑھانا ہے۔ایک نئے یقین کے ساتھ۔ ایک بار پھر میجر دھیان چند اسپورٹس یونیورسٹی کے لیے آپ کو مبارکباد!

بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے!

وندے ماترم! وندے ماترم!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.