Share
 
Comments

نمسکار!

مہاراشٹر کے گورنر جناب بھگت سنگھ کوشیاری جی، وزیر اعلیٰ جناب ادھو ٹھاکرے جی، مرکزی کابینہ میں میرے رفقا اشونی ویشنو جی، راؤ صاحب دانوے جی، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار جی، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جی، اراکان پارلیمان  اور ارکان اسمبلی ، بھائیو اور بہنو!

کل چھترپتی شیواجی مہاراج کا یوم پیدائش ہے۔ سب سے پہلے، میں بھارت کے فخر، بھارت کی شناخت اور ثقافت کے محافظ  ملک کے  مہانائک کےقدموں میں احترام کے ساتھ سلام کرتا ہوں۔ شیواجی مہاراج کی جینتی سے ایک دن پہلے، تھانے-دیوا کے  بیچ  نئی بنی پانچویں اور  چھٹی ریل لائن کے افتتاح کے موقع پر ہر ممبئی کر کو بہت بہت مبارکباد۔

یہ نئی ریل لائنیں ممبئی  کے باشندوں کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی لائیں  گی، ان کی از آف لیوننگ  بڑھائیں گی ۔ یہ نئی ریل لائن ممبئی کی کبھی نہ رکنے والی زندگی کو مزید  رفتار دیں گی۔ ان دو دونوں لائنز کے شروع ہونے سے ممبئی کے لوگوں کو براہ راست چار فائدے ہوں گے۔

پہلا- اب لوکل اور ایکسپریس ٹرینوں کے لیے الگ الگ لائنیں ہوجائیں  گی۔

دوسرا- دوسری ریاستوں سے ممبئی آنے جانے والی ٹرینوں کو اب لوکل ٹرینوں کی پاسنگ  کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

تیسرا-  کلیان سے کرلا سیکشن میں میل/ایکسپریس گاڑیاں  اب  بغیر کسی رکاوٹ کے چلائی جا سکیں گی۔

اور چوتھا- ہر اتوار کو ہونے والے  بلاک کی وجہ سے کلاوا اور ممبرا کے ساتھیوں کی پریشانی بھی اب دور ہو گئی ہے۔

 

ساتھیو،

آج سے سنٹرل ریلوے لائن پر 36 نئی لوکل  چلنے جارہی ہیں ۔ ان میں سے بھی بیشتر  اے سی ٹرینیں  ہیں۔ یہ  لوکل کی سہولت کو  توسیع دینے ،  لوکل  کو جدید بنانے کے مرکزی حکومت کے کمٹمینٹ کا حصہ ہے۔ گزشتہ 7 سال میں ممبئی میں میٹرو کی بھی توسیع کی گئی ہے۔  ممبئی سے ملحق  سب- اربن  سنٹرز میں میٹرو نیٹ ورک کو  تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

دہائیوں سےممبئی کی خدمت  کررہی  لوکل کی توسیع کرنے، اس کو جدید بنانے کی مانگ کا فی پرانی تھی ۔ 2008 میں اس 5ویں اور چھٹی لائن کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس کو  2015 میں پورا ہونا تھا ،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ 2014 تک یہ  پروجیکٹ  الگ الگ اسباب  کی بنا پر لٹکتا رہا۔ اس کے بعد ہم نے  اس پر تیزی سے کام کرنا شروع کیا، مسائل کو حل کیا۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ 34 مقام تو ایسے تھے جہاں نئی ​​ریل لائن کو پرانی ریل لائن سے جوڑا جانا تھا۔ کئی چیلنجز کے باوجود، ہمارے مزدوروں، ہمارے انجینئرز نے اس پروجیکٹ    کو پورا  کیا۔ درجنوں پل بنائے ، فلائی اوور بنائے، سرنگ تیار کی۔  ملک کی تعمیر کے لیے  ایسے کمٹمینٹ  کو  میں تہ دل  سے سلام بھی کرتا ہوں ، مبارکباد بھی دیتا  ہوں۔

 

بھائیو اور بہنو،

ممبئی مہانگر نے آزاد  بھارت کی ترقی میں اہم  تعاون دیا ہے۔ اب کوشش ہے کہ آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں بھی ممبئی  کی استطاعات کئی گنا بڑھے۔ اس لئے ممبئی میں 21ویں صدی کے  انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر ہماری خصوصی توجہ ہے۔ ریلوے  کنکٹوٹی کی ہی بات کریں گو یہاں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ ممبئی سب- اربن ریل نظام  کو جدید اور اعلیٰ ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ابھی جو ممبئی  سب اربن کی   صلاحیت ہے  اس میں   تقریباً 400 کلومیٹر کا مزید اضافہ کیا جائے۔ سی بی ٹی سی جیسے جدید سگنل  نظام  کے ساتھ ساتھ 19 اسٹیشنوں کی جدید کاری کا بھی منصوبہ ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ممبئی کے اندر ہی نہیں  بلکہ ملک کی دوسری  ریاستوں سے  ممبئی کی ریل  کنکٹیوٹی میں  بھی اسپیڈ کی ضرورت ہے، جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے احمد آباد-ممبئی ہائی اسپیڈ ریل  آج ممبئی کی، ملک کی ضرورت ہے۔یہ ممبئی کی صلاحیت کو ، سپنوں کے شہر کے طور پر ممبئی کی شناخت کو  مستحکم کرے گی ۔یہ پروجیکٹ  تیزی سے مکمل ہو ، یہ ہم سبھی  کی ترجیح ہے۔ اسی طرح ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور بھی ممبئی کو نئی طاقت دینے والا ہے۔

ساتھیو،

ہم سبھی جانتے ہیں کہ جتنے لوگ بھارتی  ریلوے  میں ایک دن میں سفر کرتے ہیں ، اتنی تو کئی ملکوں کی آبادی بھی نہیں ہے۔ بھارتی ریل کو محفوظ، سہولت سے آراستہ   اور جدید بنانا ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ ہماری اس عہدبستگی کو کورونا عالمی وبا بھی متزلزل نہیں کرپائی ہے۔ گزشتہ  2 برسوں میں ریلوے نے  فریٹ ٹرانسپورٹیشن میں نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔  اس کے ساتھ  ہی  8000 کلومیٹر ریل لائنوں کا الیکٹریفکیشن بھی کیا گیا ہے۔ تقریباً  ساڑھے  ہزار کلومیٹر نئی لائن  بنانے  یا ڈبل ​​کرنے کا کام بھی ہوا ہے۔ کورونا کے دور میں ہی ہم نے کسان ریل کے ذریعے ملک کے کسانوں کو ملک بھر کے بازاروں سے جوڑا ہے۔

ساتھیو،

ہم سبھی یہ بھی جانتے ہیں کہ ریلوے میں اصلاح ہمارے ملک کے لاجسٹک سیکٹر میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ 7 برسوں میں مرکزی حکومت ریلوے میں ہر طرح کے ری فارمس  کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ماضی میں، انفرااسٹرکچر پروجیکٹ  سالہ سال  تک اس لئے  چلتے تھے کیونکہ پلاننگ سے لے کر ایگزیکیوشن تک تال میل کی کمی تھی۔  اس اپروچ  سے 21ویں صدی کے بھارت  کے انفرااسٹرکچر کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔

اسی لیے ہم نے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان بنایا ہے۔ اس میں مرکزی حکومت کےہر محکمہ ، ریاستی حکومت،  مقامی بلدیاتی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر  سبھی کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہے۔ کوشش یہ ہے کہ انفرااسٹرکچر  کے کسی بھی پروجیکٹ سے  جڑی ہر  جانکاری ، ہرفریق کے پاس پہلے سے  ہو۔ تبھی سبھی اپنے اپنے حصہ کا کام م اس کا پلان صحیح طریقہ سے کرسکیں گے۔ ممبئی اور ملک کے دیگر  ریلوے  پروجیکٹز کے لیے بھی ہم گتی شکتی کے   جذبے  سے ہی کام کرنے والے ہیں۔

ساتھیو،

برسوں سے ہمارے یہاں ایک سوچ حاوی رہی کہ جو ذرائع -وسائل غریب استعمال کرتا ہے ،  مڈل کلاس استعمال کرتا ہے ، اس میں سرمایہ کاری نہ کرو۔ اس وجہ سے بھارت کے پبلک ٹرانسپورٹ کی چمک ہمیشہ پھیکی ہی رہی ۔ لیکن اب بھارت اس پرانی سوچ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہا ہے ۔ آج گاندھی نگر اور بھوپال کے جدید ریلوے اسٹیشن ریلوے کی شناخت بن رہے ہیں۔ آج 6000 سے زیادہ ریلوے اسٹیشن  وائی فائی سہولت سے جڑ چکے ہیں۔ وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں ملک کی ریل کو رفتار اور جدید سہولت فراہم کررہی ہیں۔ آنے والے برسوں میں  400 نئی وندے بھارت ٹرینیں ملک کے باشندوں کی خدمت کرنا شروع کریں گی۔

بھائیو اور بہنو،

ایک اور پرانی اپروچ جو ہماری حکومت نے تبدیل کی ہے، وہ ہے ریلوے کی اپنی صلاحیت پر بھروسہ۔ 8-7 سال پہلے تک ملک کی جوریل کوچ فیکٹریاں تھیں، ان کے تعلق سے  کافی بے حسی تھی۔ان فیکٹریوں کی جو حالت تھی ، ان کو دیکھتے ہوئے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہ فیکٹریاں اتنی جدید ٹرینیں بناسکتی ہیں۔ لیکن آج وندے بھارت ٹرینیں اور گھریلو وسٹاڈوم کوچ انہی فیکٹریوں میں بن رہے ہیں۔ آج ہم اپنے سنگلنگ سسٹم کو سودیشی سمادھان سے  جدید بنانے پر بھی مسلسل کام کررہے ہیں۔ سودیشی سمادھان چاہئے، ہمیں غیرملکی انحصار سے نجات چاہئے۔

ساتھیو،

نئی سہولیات کو فروغ دینے کی ان کوششوں کا بہت بڑا فائدہ ، ممبئی اور آس پاس کے شہروں کو ہونے والا ہے۔ غریب اور مڈل کلاس خاندانوں کو ان نئی سہولیات سے آسانی بھی ہوگی اور آمدنی کے نئے وسائل بھی ملیں گے۔ ممبئی کی مسلسل ترقی کے کمٹمینٹ کے ساتھ ایک بار پھر سبھی ممبئی کروں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

بہت -بہت شکریہ ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
ASI sites lit up as India assumes G20 presidency

Media Coverage

ASI sites lit up as India assumes G20 presidency
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر،2 دسمبر 2022
December 02, 2022
Share
 
Comments

Citizens Show Gratitude For PM Modi’s Policies That Have Led to Exponential Growth Across Diverse Sectors