شمال مشرق، ہماری متنوع قوم کا سب سے زیادہ متنوع خطہ ہے: وزیر اعظم
ہمارے لیے ‘ایسٹ’ کا مطلب ہے - بااختیار بنائیں، اقدام اٹھائیں، مضبوط بنائیں اور تبدیلی لائیں: وزیر اعظم
ایک وقت تھا جب شمال مشرق کو صرف ایک سرحدی علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ ترقی میں سب سے آگے نکلنے والا خطہ بن کر ابھر رہا ہے: وزیر اعظم
شمال مشرقی خطہ سیاحت کے لیے ایک مکمل پیکیج ہے: وزیر اعظم
چاہے دہشت گردی ہو یا ماؤ نواز عناصر کی جانب سے پھیلائی گئی بدامنی، ہماری حکومت عدم برداشت (زیرو ٹالرنس) کی پالیسی پر سختی سے عمل کرتی ہے: وزیر اعظم
شمال مشرق، توانائی اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں کے لیے ایک کلیدی منزل بنتا جا رہا ہے: وزیر اعظم

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج بھارت منڈپم، نئی دہلی میں ‘‘رائزنگ نارتھ ایسٹ انویسٹرز سمٹ 2025’’  کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس موقع پر تمام معزز مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کہا اور شمال مشرقی خطے کے مستقبل پر فخر، گرمجوشی اور بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت منڈپم میں حال ہی میں منعقدہ ‘‘اشٹ لکشمی مہوتسو’’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ ایونٹ شمال مشرق میں سرمایہ کاری کا جشن ہے۔ وزیراعظم نے اس سمٹ میں صنعت کے نمایاں رہنماؤں کی موجودگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمال مشرقی خطے میں مواقع کے حوالے سے کتنے جوش و خروش کا ماحول ہے۔ انہوں نے تمام مرکزی وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کو مبارکباد پیش کی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ‘‘نارتھ ایسٹ رائزنگ سمٹ’’ کو سراہتے ہوئے شمال مشرقی بھارت کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

ہندوستان کو دنیا کا سب سے زیادہ متنوع ملک قرار دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ‘‘ہمارے متنوع ملک میں شمال مشرق سب سے زیادہ متنوع خطہ ہے’’۔ انہوں نے تجارت، روایت، ٹیکسٹائل اور سیاحت جیسے شعبوں میں موجود بے پناہ مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کی سب سے بڑی طاقت اس کی تنوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی بھارت بایو-اکانومی، بانس کی صنعت، چائے کی پیداوار، پیٹرولیم، کھیل اور مہارت کے شعبوں کے لیے معروف ہے اور یہ ماحولیاتی سیاحت کا ابھرتا ہوا مرکز بن رہا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ شمال مشرقی ریاستیں نامیاتی مصنوعات کی ترقی میں پیش پیش ہیں اور توانائی کا ایک مضبوط مرکز بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی بھارت ‘‘اشٹ لکشمی’’  کا مظہر ہے جو خوشحالی اور مواقع کی علامت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہر شمال مشرقی ریاست سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشرقی بھارت کی ترقی کو ‘‘وِکست بھارت’’ کے خواب کی تکمیل کے لیے کلیدی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شمال مشرق اس کا سب سے اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا: ‘‘ہمارے لیے ایسٹ صرف ایک سمت نہیں بلکہ ایک وژن ہے — ایمپاور (بااختیار بنانا)، ایکٹ (عمل کرنا)، اسٹرینگدن(مضبوطی دینا)، اور ٹرانسفارم (تبدیل کرنا) — جو اس خطے کے لیے ہماری پالیسی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔’’  انہوں نے زور دیا کہ اس وژن نے مشرقی بھارت، خاص طور پر شمال مشرق، کو ہندوستان کی ترقی کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

 

وزیراعظم نریندر مودی نے شمال مشرق میں گزشتہ 11 برسوں کے دوران آنے والی انقلابی تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ترقی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ زمین پر بھی بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا شمال مشرقی بھارت کے ساتھ تعلق صرف پالیسی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک دل سے جڑا رشتہ بھی قائم ہوا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ شمال مشرق میں مرکزی وزراء کے 700 سے زائد دورے اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت اس خطے کو سمجھنے، لوگوں کی آنکھوں میں چھپی امیدوں کو دیکھنے اور اس اعتماد کو ترقیاتی پالیسیوں میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر پراجیکٹس صرف اینٹوں اور سیمنٹ کے منصوبے نہیں بلکہ جذباتی رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے ‘‘لک ایسٹ’’ پالیسی سے ‘‘ایکٹ ایسٹ’’ پالیسی کی طرف منتقلی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فعال نقطہ نظر کے واضح نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘‘جہاں پہلے شمال مشرق کو صرف ایک سرحدی خطہ سمجھا جاتا تھا، اب وہ بھارت کی ترقی کی کہانی میں ایک رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔’’

وزیراعظم نے زور دیا کہ مضبوط انفراسٹرکچر نہ صرف سیاحت کے شعبے کو پرکشش بناتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی سڑکیں، بجلی کا ڈھانچہ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کسی بھی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، جو تجارت اور اقتصادی ترقی کو ہموار بناتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے شمال مشرق میں ‘‘انفراسٹرکچر ریولوشن’’ کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں اس خطے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن اب یہ ‘‘مواقع کی سرزمین’’ کے طور پر ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں رابطے کو بہتر بنانے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اروناچل پردیش میں سیلا ٹنل اور آسام میں بھوپین ہزاریکا پل جیسے اہم منصوبوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے گزشتہ دہائی میں ہونے والی نمایاں پیش رفتوں پر روشنی ڈالی جن میں 11,000 کلومیٹر ہائی ویز کی تعمیر، نئی ریلوے لائنز، ہوائی اڈوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ، برہم پتر اور باراک ندیوں پر آبی راستوں کی ترقی، اور سینکڑوں موبائل ٹاورز کی تنصیب شامل ہے۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ایک 1,600 کلومیٹر طویل نارتھ ایسٹ گیس گرڈ قائم کی گئی ہے تاکہ صنعتوں کے لیے توانائی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ویز، ریلوے، آبی راستے، اور ڈیجیٹل رابطے شمال مشرقی بھارت کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کر رہے ہیں اور صنعتوں کے لیے ‘‘فرسٹ موور ایڈوانٹیج’’ حاصل کرنے کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آنے والی دہائی میں اس خطے کی تجارتی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت بھارت اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 125 ارب ڈالر ہے، جو آنے والے برسوں میں 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا، اور شمال مشرق کو آسیان مارکیٹس کے لیے ایک اسٹریٹجک تجارتی پل اور گیٹ وے بنا دے گا۔ وزیراعظم نے علاقائی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر منصوبوں کو تیز کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انڈیا-میانمار-تھائی لینڈ ٹرائی لیٹرل ہائی وے کی اہمیت پر زور دیا، جو بھارت کو میانمار کے ذریعے تھائی لینڈ، ویتنام اور لاؤس سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کالادان ملٹی موڈل ٹرانزٹ پراجیکٹ کی رفتار تیز کرنے کی حکومت کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا، جو کولکاتا بندرگاہ کو میانمار کے سٹوے بندرگاہ سے جوڑ کر میزورم کے ذریعے ایک اہم تجارتی راستہ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مغربی بنگال اور میزورم کے درمیان فاصلہ کم کرے گا اور تجارت و صنعتی ترقی کو فروغ دے گا۔

 

وزیراعظم نریندر مودی نے گواہاٹی، امپھال اور اگرتلہ کو ‘‘ملٹی ماڈل لاجسٹکس ہبز’’ کے طور پر ترقی دینے کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میگھالیہ اور میزورم میں ‘‘لینڈ کسٹم اسٹیشنز’’ کے قیام سے بین الاقوامی تجارت کے مواقع میں مزید وسعت آ رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پیش رفتیں شمال مشرق کو انڈو-پیسفک ممالک کے ساتھ تجارت میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر قائم کر رہی ہیں، اور سرمایہ کاری و اقتصادی ترقی کے لیے نئے راستے کھول رہی ہیں۔

انہوں نے بھارت کے اس وژن پر زور دیا کہ ملک کو ‘‘عالمی صحت اور تندرستی کا حل فراہم کرنے والا’’ بنایا جائے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ‘‘ہیل ان انڈیا’’ مہم کو عالمی تحریک کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شمال مشرق کی حیاتیاتی تنوع، قدرتی ماحول اور نامیاتی طرز زندگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ صحت و تندرستی کے لیے ایک مثالی مقام ہے۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ شمال مشرق کو بھارت کی ‘‘ہیل ان انڈیا’’  مہم کا کلیدی حصہ بنائیں، کیونکہ اس خطے کا موسم اور ماحولیاتی تنوع صحت و تندرستی پر مبنی صنعتوں کے لیے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔

جناب مودی نے شمال مشرقی بھارت کے ثقافتی ورثے کو سراہا، اور موسیقی، رقص اور جشن سے اس کی گہری وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق عالمی کانفرنسوں، کنسرٹس اور ڈیسٹی نیشن ویڈنگز کے لیے ایک بہترین مقام بن رہا ہے، اور اسے مکمل سیاحتی پیکیج کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ترقی شمال مشرق کے ہر کونے تک پہنچ رہی ہے، سیاحت پر اس کے مثبت اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں، اور یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس رجحان نے دیہاتوں میں ہوم اسٹیز کی ترقی، نوجوان گائیڈز کے لیے روزگار، اور ٹور اینڈ ٹریول سیکٹر کے پھیلاؤ کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شمال مشرقی سیاحت کو مزید بلند کرنے کے لیے ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے، اور یہاں ایکو-ٹورزم اور ثقافتی سیاحت میں سرمایہ کاری کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی خطے کی ترقی کے لیے امن اور قانون کی حکمرانی سب سے اہم عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘‘ہماری حکومت دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے۔’’  وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب شمال مشرق کو صرف ناکہ بندیوں اور جھڑپوں سے جوڑا جاتا تھا، جس کی وجہ سے یہاں کے نوجوانوں کے مواقع محدود ہو گئے تھے۔ انہوں نے حکومت کی امن معاہدوں کے لیے کی گئی مستقل کوششوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10-11 برسوں میں 10,000 سے زائد نوجوانوں نے ہتھیار چھوڑ کر امن کی راہ اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی نے خطے میں روزگار اور کاروباری مواقع کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ وزیراعظم نے ‘‘مدرا یوجنا’’ کی کامیابی کو بھی اجاگر کیا، جس کے تحت شمال مشرق کے لاکھوں نوجوانوں کو ہزاروں کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے خطے میں تعلیمی اداروں کے فروغ کا ذکر بھی کیا، جو نوجوانوں کو مستقبل کے لیے مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  شمال مشرق کے نوجوان صرف انٹرنیٹ صارفین ہی نہیں بلکہ اب ڈیجیٹل انوویٹرز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے 13,000 کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر نیٹ ورک، 4 جی اور 5 جی کوریج میں پیش رفت، اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں بڑھتے مواقع کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے کہا:‘‘نوجوان انٹرپرینیورز اب شمال مشرق میں بڑے اسٹارٹ اپس کا آغاز کر رہے ہیں، جو اسے بھارت کا ڈیجیٹل گیٹ وے بنا رہے ہیں۔’’

 

وزیراعظم نریندر مودی نے ترقی کو آگے بڑھانے اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانے میں ہنر سازی (اسکل ڈیولپمنٹ) کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق ہنر سازی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے، اور مرکزی حکومت اس شعبے میں تعلیم و تربیت کے اقدامات پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی میں شمال مشرق کے تعلیمی شعبے میں21,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے اہم ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 800 سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں، شمال مشرق کو اس کا پہلا ایمس (ایمس) ملا ہے، 9 نئے میڈیکل کالج، 2 نئے آئی آئی آئی ٹیز (انڈین انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی)، اور میزورم میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (آئی آئی ایم سی) کا کیمپس قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، خطے بھر میں تقریباً 200 نئے اسکل ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹس قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کی پہلی اسپورٹس یونیورسٹی بھی شمال مشرق میں قائم کی جا رہی ہے، اور ‘‘کھیلو انڈیا’’ پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت 8 ‘‘کھیلو انڈیا سینٹرز آف ایکسیلنس’’ اور 250 سے زائد ‘‘کھیلو انڈیا سینٹرز’’ قائم کیے گئے ہیں جو خطے میں کھیل کے ٹیلنٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ آج شمال مشرقی بھارت مختلف شعبوں میں اعلیٰ سطح کا ٹیلنٹ فراہم کر رہا ہے، اور صنعتوں و سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس خطے کی بے پناہ صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں۔

وزیراعظم نے دنیا بھر میں نامیاتی خوراک (آرگینک فوڈ) کی بڑھتی ہوئی مانگ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ ‘‘دنیا بھر میں ہر  کھانے کی میز پر ایک بھارتی فوڈ برانڈ ہو’’۔ انہوں نے کہا کہ اس خواب کو پورا کرنے میں شمال مشرقی بھارت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دہائی میں شمال مشرق میں آرگینک فارمنگ کا دائرہ دوگنا ہو گیا ہے، اور یہ خطہ اعلیٰ معیار کی چائے، انناس، کینو، لیموں، ہلدی اور ادرک پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کا ذائقہ اور معیار غیر معمولی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اس بڑھتے ہوئے عالمی بازار کا فائدہ اٹھائیں اور شمال مشرق کو بھارت کی نامیاتی خوراک کی برآمدات کا مرکز بنائیں۔

وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے شمال مشرق میں فوڈ پروسیسنگ یونٹس کے قیام کے لیے کیے جا رہے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) پہلے ہی اس مشن کی مدد کر رہی ہے، لیکن مزید کوششیں جاری ہیں جن میں میگا فوڈ پارکس کی ترقی، کولڈ اسٹوریج نیٹ ورکس کی توسیع، اور جانچ لیبارٹریز کی سہولتیں شامل ہیں۔ انہوں نے آئل پام مشن کے آغاز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شمال مشرق کی مٹی اور آب و ہوا پام آئل کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک مضبوط ذریعہ بنے گا اور خوردنی تیل کی درآمدات پر بھارت کا انحصار کم کرے گا۔ انہوں نے صنعتوں سے کہا کہ وہ شمال مشرق کے زرعی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

 

جناب مودی نے زور دے کر  کہا: ‘‘شمال مشرق دو اسٹریٹجک شعبوں — توانائی اور سیمی کنڈکٹرز — کے لیے ابھرتا ہوا اہم مرکز بن رہا ہے۔’’ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تمام شمال مشرقی ریاستوں میں  آبی توانائی (ہائیڈرو پاور)  اورشمسی توانائی (سولر پاور) منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، اور کئی ہزار کروڑ روپے مالیت کے منصوبے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلانٹس اور انفراسٹرکچر کے علاوہ، مینوفیکچرنگ میں بھی بہت امکانات ہیں، جیسے سولر ماڈیولز، سیلز، اسٹوریج سلوشنز اور تحقیق و ترقی ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے تاکہ آج خود کفالت حاصل ہو اور کل غیر ملکی درآمدات پر انحصار کم ہو۔ وزیراعظم نے آسام کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو بھارت کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شمال مشرق میں قائم سیمی کنڈکٹر پلانٹ سے جلد بھارت کا پہلا ‘‘میڈ اِن انڈیا’’ چِپ متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے دروازے کھول رہی ہے بلکہ شمال مشرق کو بھارت کی ہائی ٹیک صنعتی ترقی میں ایک کلیدی مقام دلانے جا رہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا: ‘‘رائزنگ نارتھ ایسٹ صرف سرمایہ کاروں کا اجلاس نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، ایک عملی اقدام کی پکار ہے۔’’ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا مستقبل شمال مشرق کی ترقی اور خوشحالی کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچے گا۔ وزیراعظم نے موجودہ صنعتکاروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترقی کی اس مہم میں متحد ہونے کی اپیل کی۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ مل کر شمال مشرقی ریاستوں کی علامت ‘‘اشٹ لکشمی’’ کو ایک رہنما طاقت میں بدلنے کے لیے کام کریں، جو ایک وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) کی طرف لے جائے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگلی رائزنگ نارتھ ایسٹ سمٹ تک بھارت مزید بہت آگے بڑھ چکا ہو گا۔

 

تقریب میں موجود معزز شخصیات:اس موقع پر شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا، منی پور کے گورنر جناب اجے کمار بھلہ، آسام کے وزیراعلیٰ جناب  ہیمنت بسوا سرما، اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ جناب پیما کھانڈو، میگھالیہ کے وزیراعلیٰ جناب کونراڈ سنگما، میزورم کے وزیراعلیٰ جناب لالدوہوما، ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ جناب نیفیو ریو، سکم کے وزیراعلیٰ جناب پریم سنگھ تمانگ، تریپورہ کے وزیراعلیٰ جناب مانک سہا، شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر سکانتا مجمدار سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

پس منظر

شمال مشرقی بھارت کو ‘‘مواقع کی سرزمین’’ کے طور پر اجاگر کرنے، عالمی و ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز، سرمایہ کاروں، اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے مقصد سے وزیراعظم نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں رائزنگ نارتھ ایسٹ انویسٹرس سمٹ کا افتتاح کیا۔

 

یہ دو روزہ سمٹ (23-24 مئی) کئی سمٹ سے پہلے کی  سرگرمیوں کا حاصل ہے، جن میں روڈ شوز، ریاستی گول میز کانفرنسیں، سفیروں کی ملاقات اور دو طرفہ چیمبرز کی نشستیں شامل ہیں، جو مرکزی حکومت نے شمال مشرقی ریاستی حکومتوں کے بھرپور تعاون سے منعقد کیں۔سمٹ میں شامل اہم سرگرمیاں:وزارتی سیشنز ، بزنس ٹو گورنمنٹ (بی 2 جی) سیشنز، بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی) میٹنگز، اسٹارٹ اپس کی نمائش، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات کی نمائش۔

 سرمایہ کاری کی توجہ کے اہم شعبے ہیں۔سیاحت اور ہوسپیٹیلٹی،  زرعی و غذائی پراسیسنگ اور متعلقہ شعبے،  ٹیکسٹائل، ہینڈلوم، اور ہنڈی کرافٹ،  صحت عامہ،تعلیم اور ہنر سازی،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے لیس خدمات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس،توانائی،تفریح اور کھیل۔ یہ سمٹ شمال مشرقی بھارت کے امکانات کو حقیقت میں بدلنے کی ایک مضبوط کوشش ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دے گی بلکہ خطے کی مجموعی ترقی کو بھی نئی رفتار دے گی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
I assure every woman of this nation that every obstacle in the path of women’s reservation will be removed: PM Modi
April 18, 2026
Women may forget everything, but will never forget insult to their pride: PM
Those parties that have opposed the Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment in Parliament are taking women's power for granted: PM
Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment was a 'Mahayagya' to empower women of the 21st century : PM
One major reason for opposition to Nari Shakti Vandan Adhiniyam by dynastic parties is their fear : PM
The blessings of the country's 100 percent Nari Shakti are with us: PM
We will remove every obstacle coming in the way of women's reservation: PM
Snatching away women's rights, these people were thumping the tables ; That was an assault on the dignity of women, on their self-respect: PM
For opposing women’s reservation, the opposition will be punished for the sin they have committed: PM

Today I have come to speak on a very important subject, especially to the mothers, sisters, and daughters of the country! Today every citizen of India is watching how the flight of women power has been stopped. Their dreams have been ruthlessly crushed. Despite our utmost efforts, we could not succeed, the amendment to the Nari Shakti Vandan Act could not be passed! And for this, I seek forgiveness from all the mothers and sisters.

Friends,

For us, national interest is paramount, but when for some people party interest becomes everything, when party interest becomes bigger than national interest, then women power and national interest have to bear the consequences. This time too, the same has happened. The selfish politics of parties like Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party has harmed the women power of the country.

Friends,

Yesterday, the eyes of crores of women in the country were on Parliament, the women power of the nation was watching. I too felt very sad to see that when this proposal in favor of women fell, parties like Congress, DMK, TMC, and SP, family-oriented parties, were clapping with joy. By snatching away the rights of women, they were thumping the tables. What they did was not just thumping on the tables, it was a blow to the self-respect and dignity of women. And women forget everything, but they never forget their insult. Therefore, the pain of the behavior of Congress and its allies in Parliament will always remain in the hearts of women. Whenever the women of the country see these leaders in their areas, they will remember that it was these very people who celebrated in Parliament when women’s reservation was stopped, they rejoiced. To those parties who opposed the Nari Shakti Vandan amendment in Parliament yesterday, I will say clearly: these people are taking women power for granted. They are forgetting that the women of the 21st century are watching every event in the country, they are sensing their intentions, and they have fully understood the truth. Therefore, for opposing women’s reservation, the sin committed by the opposition will surely bring punishment to them. These parties have also insulted the sentiments of the framers of the Constitution, and they will not escape the punishment from the people either.

Friends,

The Nari Shakti Vandan amendment was not about taking anything away from anyone. The Nari Shakti Vandan amendment was about giving something to everyone, it was an amendment to give. It was about giving women the right that has been pending for 40 years, from the 2029 Lok Sabha elections onwards.

The Nari Shakti Vandan amendment was a great effort to give new opportunities, new flight, and to remove obstacles from the path of the women of 21st century India. It was a sacred effort made with clear intent and honesty to give rights to 50% of the country’s population. It was an effort to make women co-travelers in India’s journey of development and to include everyone. The Nari Shakti Vandan amendment is the demand of the time. The Nari Shakti Vandan amendment was an effort to equally increase the strength of every state, North, South, East, West. It was an effort to give more strength to the voice of every state in Parliament. Whether the state is small or big, whether the population is less or more, it was an effort to increase everyone’s strength in equal proportion. But this honest effort has been subjected to foeticide in Parliament by Congress and its allies, foeticide. Congress, TMC, Samajwadi Party, DMK—these parties are guilty of this foeticide. They are criminals against the Constitution of the country, they are criminals against the women power of the country.

Friends,

Congress hates the subject of women’s reservation, it has always conspired to stop women’s reservation. Every time efforts were made in this direction, Congress obstructed them. This time too, Congress and its allies relied on one falsehood after another to stop women’s reservation. Sometimes about numbers, sometimes in other ways, Congress and its allies tried to mislead the country. By doing so, these parties have revealed their true face before the women power of India. They have removed their mask.

Friends,

Personally, I had hoped that Congress would correct its decades-old mistake. Congress would repent for its sins. But Congress lost the opportunity to create history, to stand in favor of women. Congress has already lost its existence in most parts of the country. Congress is surviving like a parasite, riding on the back of regional parties. But Congress does not even want regional parties to grow stronger, so Congress conspired politically to push the future of many regional parties into darkness by making them oppose this amendment.

Friends,

Congress, Samajwadi Party, DMK, TMC, and other parties have, for so many years, every time created the same excuses, the same false arguments, always inserting some technical snag, and they have looted the rights of women. The country has understood this ugly pattern of politics, and it has also understood the reason behind it.

Brothers and sisters,

One big reason for the opposition to the Nari Shakti Vandan Act is the fear of these family-oriented parties. They fear that if women become empowered, then the leadership of these family-oriented parties will be in danger. They will never want women outside their families to move forward. Today, in Panchayats and local bodies, thousands and millions of women have proven their capability. When they want to move forward into Lok Sabha and Legislative Assemblies, when they want to serve the country, these family-oriented parties feel insecure. After delimitation, there will be many more seats for women, women’s stature will increase, and that is why these people opposed the Nari Shakti Vandan amendment. The women power of the country will never forgive Congress and its allies for this sin.

My dear countrymen,

Congress and its allied parties are continuously, continuously lying about delimitation. They want to ignite the fire of division under this pretext. Because “divide and rule” politics is something Congress inherited from the British. And Congress is still running on that same path today. Congress has always fueled sentiments that create rifts in the country. Therefore, this lie was spread that delimitation would harm some states! Whereas the government has made it clear from the very first day that neither the proportion of participation of any state will change, nor will anyone’s representation be reduced. In fact, the seats of all states will increase in equal proportion. Yet Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party were not ready to accept this.

Friends,

This amendment bill was an opportunity for all parties and all states. If this bill had passed, Tamil Nadu, Bengal, Uttar Pradesh, Kerala, every state’s seats would have increased. But because of their selfish politics, these parties betrayed even the people of their own states. For example, DMK had the chance to make more Tamil people MPs and MLAs, to strengthen Tamil Nadu’s voice! But it lost that chance. TMC also had the chance to advance the people of Bengal. But TMC too lost that chance. Samajwadi Party had the chance to reduce the stain of its anti-women image. But SP missed it too. SP has already forgotten Lohia ji. By opposing the Nari Shakti Vandan amendment, SP trampled all of Lohia ji’s dreams underfoot. SP is anti-women reservation, and the women of UP and the country will never forget this.

Friends,

By opposing women’s reservation, Congress has once again proved one thing. Congress is an anti-reform party. For a developed India in the 21st century, whatever decisions, whatever reforms are necessary, whatever decisions the country takes, Congress opposes them, rejects them, obstructs them. This is the history of Congress and this is Congress’s negative politics.

Friends,

This is the same Congress that opposed the trinity of Jan Dhan–Aadhaar–Mobile. Congress opposed digital payments. Congress opposed GST. Congress opposed reservation for the poor in the general category. Congress opposed the law against triple talaq. Congress opposed the removal of Article 370. Our Constitution, our courts, have said that the Uniform Civil Code, UCC, is necessary, but Congress opposes that too. At the very mention of reform, Congress runs with placards of protest. Any work that strengthens the country, Congress puts all its strength into creating obstacles in it. Congress opposes One Nation One Election. Congress opposes driving out infiltrators from the country. Congress opposes purification of the voter list, SIR. Congress opposes reforms in the Waqf Board.

Friends,

Congress even opposed the CAA law that gave security to refugees. By lying and spreading rumors, it created a storm in the country. Congress obstructs the country’s efforts to end Maoist–Naxalite violence. Congress has had only one pattern: whenever a reform comes, lie, spread confusion. History is witness, Congress has always chosen this negative path.

Friends,

Whatever decision is necessary for the country, Congress sweeps it under the carpet. Because of this attitude of Congress, India has not reached the heights of development it deserves. At the time of independence, many other countries were freed along with us. Most of those countries went far ahead of us, and the reason was that Congress kept blocking every reform. Delay, diversion, obstruction—this was Congress’s principle, this was Congress’s work culture. Congress delayed border disputes with neighboring countries. Congress delayed water-sharing disputes with Pakistan. Congress delayed the decision on OBC reservation for 40 years. Congress delayed One Rank One Pension for soldiers for 40 years.

Friends,

This attitude of Congress has always caused great harm to the country. The nation has suffered from every opposition, every indecision, every deceit of Congress. Generations of the country have suffered. Today, all the major challenges before the country have arisen from this attitude of Congress. Therefore, this fight is not just about one law, this fight is against Congress’s anti-reform mentality, which is filled only with negativity. And I have no doubt that the women and daughters of the country will give a strong reply to this mentality of Congress.

Friends,

Some people are calling the breaking of the dreams of the women of the country a failure of the government. But this subject was never about success or failure, never about credit. I had said in Parliament too: let half the population get their rights, I will give the credit to the opposition by publishing advertisements with all their photos. But those who look at women with outdated thinking still stuck to their lies, remained firm!

Friends,

The fight to give women power participation has been going on for decades. For years, I too have been among those making efforts for it. So many women have raised this subject before me. So many sisters have written letters to me explaining everything. My country’s mothers, sisters, daughters—I know you are all sad today. I too share in your sorrow. Today, even though we did not get the required 66 percent votes to pass the bill, I know that 100 percent of the women power of the country has blessed us. I assure every woman of the country: we will remove every obstacle in the path of women’s reservation. Our courage is high, our determination unbreakable, and our resolve unwavering. The parties opposing women’s reservation will never be able to stop the women power of this country from increasing their participation in Parliament and Legislative Assemblies. It is only a matter of time. The BJP–NDA’s resolve for the empowerment of women power is intact. Yesterday we did not have the numbers, but that does not mean we lost. Our inner strength is invincible. Our effort will not stop, our effort will not pause. We will have more opportunities ahead. For the dreams of half the population, for the future of the country, we must fulfill this resolve. Thank you all very much.