شمال مشرق، ہماری متنوع قوم کا سب سے زیادہ متنوع خطہ ہے: وزیر اعظم
ہمارے لیے ‘ایسٹ’ کا مطلب ہے - بااختیار بنائیں، اقدام اٹھائیں، مضبوط بنائیں اور تبدیلی لائیں: وزیر اعظم
ایک وقت تھا جب شمال مشرق کو صرف ایک سرحدی علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ ترقی میں سب سے آگے نکلنے والا خطہ بن کر ابھر رہا ہے: وزیر اعظم
شمال مشرقی خطہ سیاحت کے لیے ایک مکمل پیکیج ہے: وزیر اعظم
چاہے دہشت گردی ہو یا ماؤ نواز عناصر کی جانب سے پھیلائی گئی بدامنی، ہماری حکومت عدم برداشت (زیرو ٹالرنس) کی پالیسی پر سختی سے عمل کرتی ہے: وزیر اعظم
شمال مشرق، توانائی اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں کے لیے ایک کلیدی منزل بنتا جا رہا ہے: وزیر اعظم

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیوتی رادتیہ سندھیا جی، سکانت مجمدار جی، منی پور کے گورنر اجے بھلّہ جی، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما جی، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو جی، تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا جی، میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما جی، سکّم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ جی، ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو جی، میزورم کے وزیر اعلیٰ لالدوہوما جی، تمام انڈسٹری لیڈرز، سرمایہ کار ، خواتین و حضرات!

آج جب میں رائزنگ نارتھ ایسٹ کے اس شاندار اسٹیج پر موجود ہوں، تو میرے دل میں فخر ہے، اپنائیت ہے،  خلوص اور سب سے بڑی بات مستقبل کے لیے بے پناہ اعتماد ہے۔ ابھی چند  مہینے قبل  یہاں بھارت منڈپم میں ہم نے  ‘اشٹ لکشمی مہوتسو’ منایا تھا اور آج ہم یہاں  شمال مشرق(ناتھ ایسٹ) میں سرمایہ کاری کے تہوار کا جشن منا رہے ہیں۔یہاں اتنی بڑی تعداد میں صنعت کار اور سرمایہ کار آئے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ  شما مشرق کے تئیں سب کے دلوں میں جوش ہے، امنگ ہے اور نئے نئےخواب ہیں۔ میں تمام وزارتوں اور تمام ریاستی حکومتوں کو ان کوششوں پر دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کی کاوشوں سے وہاں سرمایہ کاری کے لیے ایک شاندار ماحول قائم ہوا ہے۔شمال مشرق رائزنگ سمٹ کی کامیابی کے لیے میری طرف سے اور حکومت ہند کی طرف سے آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

ہندوستان کو دنیا کا سب سے زیادہ تنوع والا ملک کہا جاتا ہے اور ہمارا شمال مشرقی علاقہ (نارتھ ایسٹ)، اس متنوع ملک کا سب سے زیادہ تنوع والا حصہ ہے۔ تجارت سے روایت تک، ٹیکسٹائل سے سیاحت تک،  شمال مشرق کی تنوع(Diverse) اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔نارتھ ایسٹ یعنی بایو اکنامی اور بانس، نارتھ ایسٹ یعنی چائے کی پیداوار اور پیٹرولیم، نارتھ ایسٹ یعنی کھیل اور مہارت، نارتھ ایسٹ یعنی ایکو ٹورازم کا ابھرتا ہوا مرکز، نارتھ ایسٹ یعنی نامیاتی مصنوعات کی نئی دنیا، نارتھ ایسٹ یعنی توانائی کا پاور ہاؤس۔ اسی لیے شمال مشرق ہمارے لیے ‘اشٹ لکشمی’ ہے۔ ‘اشٹ لکشمی’ کے اس آشیرواد سے نارتھ ایسٹ کی ہر ریاست کہہ رہی ہے: ہم سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، ہم قیادت کے لیے تیار ہیں۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے مشرقی  ہندوستان کا ترقی یافتہ ہونا بہت ضروری ہے اور نارتھ ایسٹ، مشرقی ہندوستان کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ہمارے لیے ‘ایسٹ’ صرف ایک سمت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ‘بااختیار، عمل ، مضبوطی اور تبدیل ہے’۔مشرقی ہندوستان کے لیے یہی ہماری حکومت کی پالیسی ہے۔ یہی پالیسی، یہی ترجیح، آج مشرقی ہندوستان کو، ہمارے نارتھ ایسٹ کو ترقی کے مرکز میں لے آئی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 11 برسوں میں جو تبدیلی نارتھ ایسٹ میں آئی ہے، وہ صرف اعداد و شمار کی بات نہیں ہے، بلکہ زمین پر محسوس کی جانے والی تبدیلی ہے۔ ہم نے شمال مشرق سے صرف اسکیموں کے ذریعے رشتہ نہیں جوڑا، بلکہ دل سے رشتہ بنایا ہے۔یہ جو اعداد و شمار میں بتا رہا ہوں، سن کر حیرانی ہوگی، سات سو گنا، 700 سے زیادہ بار ہماری  مرکزی  سرکار کےوزرا شمال مشرق کا دورہ کر چکے ہیں اور میرا ضابطہ صرف جا کر لوٹنے اولا نہیں  تھا، بلکہ رات گزارنا لازمی تھا۔ انہوں نے اس مٹی کو محسوس کیا، لوگوں کی آنکھوں میں امید دیکھی اور اس اعتماد کو ترقی کی پالیسی میں تبدیل کیا۔ ہم نے انفراسٹرکچر کو صرف اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں دیکھا، بلکہ اسے جذباتی ربط کا ذریعہ بنایا ہے۔ہم لک ایسٹ سے آگے بڑھ کرایکٹ ایسٹ( "Act East" ) کےمنتر پر چلے اور آج ہم اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب شما ل مشرق کو محض سرحدی خطہ کہا جاتا تھا، لیکن آج یہ ترقی میں سب سے آگے آرہےہے۔

 

ساتھیو،

اچھا انفراسٹرکچر سیاحت کو پرکشش بناتا ہے۔ جہاں انفراسٹرکچر اچھا ہوتا ہے، وہاں سرمایہ کاروں کو بھی ایک الگ اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ بہتر سڑکیں، توانائی کا اچھاڈھانچہ اور جدید لاجسٹکس نیٹ ورک ،کسی بھی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ تجارت بھی وہیں پھلتی پھولتی ہے ،جہاں بغیر رکاوٹ کے رابطہ ہوتا ہے۔ یعنی بہتر انفراسٹرکچر ہر ترقی کی پہلی شرط اور بنیاد ہے۔اسی لیے ہم نے شمال مشرق (نارتھ ایسٹ) میں انفراسٹرکچر کے انقلاب کا آغازکیا ہے۔ طویل عرصے تک شما ل مشرق محرومی میں رہا، لیکن اب  شمال مشرق مواقع کی زمین((Land of Opportunities بن رہا ہے۔ہم نے  شمال مشرق میں رابطہ کاری کے انفراسٹرکچر پر لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اگر آپ اروناچل پردیش جائیں، تو آپ کو سیلا ٹنل جیسےانفرا اسٹرکچر نظر آئیں گے ۔ آپ آسام جائیں گے تو بھوپین ہزاریکا پل جیسے کئی میگا پراجیکٹس دیکھیں گے۔صرف ایک دہائی میں شمال مشرق میں 11 ہزار کلومیٹر کے نئے ہائی ویز تعمیر کیے گئے ہیں۔ سینکڑوں کلومیٹر نئی ریل لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ شمال مشرق میں ایئرپورٹس کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔ برہم پتر اور براک دریاؤں پر واٹر ویز بن رہے ہیں۔سینکڑوں کی تعداد میں موبائل ٹاورز لگائے گئے ہیں اور صرف یہی نہیں، 1600 کلومیٹر طویل پائپ لائن کا نارتھ ایسٹ گیس گرڈ بھی بنایا گیا ہے، جو صنعتوں کو ضروری گیس کی سپلائی کا اعتماد فراہم کرتی ہے۔یعنی ہائی ویز، ریل ویز، واٹر ویز، آئی ویز ہر سطح پر شما مشرق کی رابطہ کاری مضبوط ہو رہی ہے۔  شمال مشرق میں ترقی کے لیے زمین تیار ہو چکی ہے۔ ہماری صنعتوں کو آگے بڑھ کر اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ آپ کو’’فرسٹ موور ایڈوانٹیج’’ سے چوکنا نہیں چاہیے۔

ساتھیو،

آنے والی دہائی میں شمال مشرق کی تجارتی صلاحیت کئی گنا بڑھنے والی ہے۔ آج ہندوستان اور آسیان کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً سوا سو بلین ڈالر ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ 200 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ شمال مشرق اس تجارت کا ایک مضبوط پلبنے گا اور آسیان کے لیے تجارت کا گیٹ وےہوگا۔اسی مقصد کے لیے ہم ضروری انفراسٹرکچر پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ہندوستان-میانما-تھائی لینڈ‘ ٹرائی لیٹرل ہائی وے ’کے ذریعے میانما ہوتے ہوئے تھائی لینڈ تک براہ راست رابطہ ممکن ہو جائے گا۔ اس سے ہندوستان کی تھائی لینڈ، ویتنام، لاوس جیسے ممالک سے رابطہ اور آسان ہو جائے گی۔ہماری حکومت کلادان ملٹی ماڈل ٹرانزٹ پراجیکٹ کو بھی تیزی سے مکمل کرنے میں مصروف ہے۔ یہ پروجیکٹ کولکاتا بندرگاہ کو میانما کی سِتتوے بندرگاہ سے جوڑے گا اور میزورم کے راستے باقی شمال مشرق کو مربوط کرے گا۔ اس سے مغربی بنگال اور میزورم کے درمیان فاصلہ بہت کم ہو جائے گا۔یہ منصوبے صنعت و تجارت کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوں گے۔

ساتھیو،

آج گوہاٹی، امفال، اور اگر تلا جیسے شہروں کو ملٹی-ماڈل لاجسٹکس  مراکز کے طور پر بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ میگھالیہ اور میزورم میں لینڈ کسٹم اسٹیشنز اب بین الاقوامی تجارت کو ایک نیا وسعت دے رہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں شمال مشرق، انڈو-پیسیفک ممالک کے ساتھ تجارت کا ایک نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یعنی آپ کے لیے  شمال مشرق میں مواقع کا ایک نیا آسمان کھلنے جا رہا ہے۔

 

ساتھیو،

آج ہم  ہندوستان کو عالمی سطح پر صحت اور و بہبود کا حل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر قائم کر رہے ہیں۔ ‘ ہیل ان انڈیا، ہیل ان انڈیا’(ہندوستان میں صحت) کا منتر ایک عالمی منتر بنے یہ ہماری کوشش ہے۔شمال مشرق میں فطرت بھی ہے، نامیاتی طرزِ زندگی کے لیے ایک بہترین منزل  بھی ہے۔ وہاں کی حیاتیاتی تنوع، وہاں کا موسم، ویلنیس کے لیے دوا کی مانند ہے۔اس لیے ‘ ہیل ان انڈیا‘مشن میں سرمایہ کاری کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ آ پ کو شمال مشرقی ریاستوں میں مزید امکانات تلاش کرنے چاہیں۔

 

ساتھیو،

شمال مشرق ثقافت میں ہی موسیقی ہے، رقص ہے، جشن ہے۔اسی لیے چاہے ،عالمی کانفرنسیں ہوں، کنسرٹس ہوں، یا ڈیسٹینیشن ویڈنگز – ان سب کے لیے  شمال مشرق ایک شاندار مقام ہے۔ شمال مشرق سیاحت کے لیے ایک مکمل پیکیج ہے۔ اب شمال مشرق میں ترقی کا فائدہ کونے کونے تک پہنچ رہا ہے تواس کا مثبت اثر سیاحت پر پڑ رہا ہے۔ وہاں سیاحوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، اس سے گاؤں گاؤں میں‘ ہوم اسٹے’ بن رہے ہیں، نوجوانوں کو گائیڈز کے طور پر روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں،ٹور اینڈ ٹریول کا پورا ایکو نظام ترقی ہو رہا ہے۔ اب ہمیں اسے مزید بلندی پر لے جانا ہے۔ ایکو-ٹورزم میں، کلچرل ٹورزم میں، آپ سب کے لیے سرمایہ کاری کے بے شمار نئے امکانات موجود ہیں۔

ساتھیو،

کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے سب سے ضروری ہےامن ، قانون ونظم نسق۔چاہے دہشت گرد ہو یا بدامنی پھیلانے والے ماؤ نواز، ہماری حکومت صفر عدم برداشت کی پالیسی پر چلتی ہے۔ایک وقت تھا، جب شمال مشرق کے ساتھ بم۔بندوق اور بلاکڈکا نام جڑا ہوا تھا، شمال مشرق کہتے ہی بم اور بلاکیڈ یہی یاد آتا تھا۔  اس کا سب سے بڑا نقصان وہاں کے نوجوانوں کو اٹھانا پڑا۔ ان کے ہاتھوں سے بے شمار مواقع نکل گئے۔ہماری توجہ شمال مشرق کے نوجوانوں کے مستقبل پرمرکوز ہے۔ اسی لیے ہم نے ایک کے بعددیگرے امن معاہدے کیے، نوجوانوں کو ترقی کی مرکزی دھارا میں آنے کا موقع دیا۔ گزشتہ11-10 برسوں میں 10 ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے ہتھیار چھوڑ کر امن کا راستہ اپنایا ہے – 10؍ہزار نوجوانوں نے ۔آج شمال مشرق کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں۔مدرا یوجنا نے شمال مشرق کے لاکھوں نوجوانوں کو ہزاروں کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی ہے۔تعلیمی اداروں کی بڑھتی تعداد، شمال مشرق کے نوجوانوں کو مہارت فروغ دینے مدد کر رہی ہے۔آج شما ل مشرق کے نوجوان صرف انٹرنیٹ یوزر نہیں، بلکہ ڈیجیٹل انوویٹرز بن رہے ہیں۔13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر، 4G اور 5کوریج، ٹیکنالوجی میں ابھرتے ہوئے امکانات ، شمال مشرق کا نوجوان اب اپنے ہی شہر سے بڑے بڑے اسٹارٹ اپس شروع کر رہا ہے۔شمال مشرق، ہندوستان  کا ڈیجیٹل گیٹ وے بن رہا ہے۔

 

ساتھیو،

ہم سبھی جانتے ہیں کہ رقی کے لیے، بہتر مستقبل کے لیے مہارت (Skills) کتنی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ شمال مشرق، اس میں بھی آپ کے لیے ایک موافق ماحول فراہم کرتا ہے۔شمال مشرق میں تعلیم اور مہارت سازی کے نظام پر مرکزی حکومت بہت بڑی سرمایہ کاری کررہی ہے۔گزشتہ دہائی میں شمال مشرق کے تعلیمی شعبے پر 21 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔تقریباً 850 نئے اسکول تعمیر کیے گئے ہیں۔ شمال مشرق کا پہلا ایمس (AIIMS) بن ہو چکا ہے۔نئے میڈیکل کالجز بنائے گئے ہیں۔ دونئے ٹرپل آئی ٹی شمال مشق میں بنے ہیں۔میزورم میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کا کیمپس بنایا گیا ہے۔تقریباً 200 نئے اسکل ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹس شمال مشرق کی ریاستوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ملک کی پہلی اسپورٹس یونیورسٹی بھی نارتھ ایسٹ میں بن رہی ہے۔کھیلو انڈیا پروگرام کے تحت نارتھ ایسٹ میں سینکڑوں کروڑ روپے کے کام ہو رہے ہیں۔کھیلو انڈیا سینٹر آف ایکسیلنس اور ڈھائی سو سے زیادہ کھیلو انڈیا سینٹرز صرف  شمال مشرق میں بن چکے ہیں۔یعنی ہر سیکٹر کا بہترین ٹیلنٹ آپ کو  شمال مشرق میں دستیاب ہوگا۔آپ کو اس کا ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ساتھیو،

آج دنیا میں آرگینک فوڈ کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، صحت کی جامع نگرانی  کارجحان پیدا ہو رہا ہےاور میرا تو خواب ہے کہ دنیا کی ہر ڈائننگ ٹیبل پر کوئی نہ کوئی ہندوستانی فوڈ برانڈہونی ہی چاہیے۔اس خواب کو پورا کرنے میں شمال مشرق کا کردار انتہائی اہم ہے۔گزشتہ دہائی میں شمال مشرق میں نامیاتی کھیتی کا دائرہ دوگنا ہو چکا ہے۔یہاں کی ہماری چائے، انناس، سنترے، نیبو، ہلدی، ادرک ایسی کئی چیزیں ، اس کا ذائقہ اور معیار واقعی لاجواب ہے۔ان کی دنیا بھر میں مانگ بڑھتی جا رہی ہے، اور اسی بڑھتی طلب میں آپ کے لیے بھی مواقعپوشیدہ ہیں۔

 

 

ساتھیو،

حکومت کی کوشش ہے کہ شمال مشرق میں فوڈ پروسیسنگ یونٹس لگانا آسان ہو۔بہتر رابطہ کاری  اس میں مدد کر ہی رہی ہے، اس کے علاوہم میگا فوڈ پارکس بنا رہے ہیں،کولڈ اسٹوریج نیٹ ورک کو بڑھا رہے ہیں،ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔حکومت نے آئل پام مشن بھی شروع کیا ہے۔ شمال مشرق کی زمین اور موسم پام آئل کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔یہ کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ یہ کھانے کے تیل کی درآمدات پر ہندوستان کی انحصاری کو بھی کر ے گا۔پام آئل کی کاشتکاری ہماری صنعت کے لیے بھی ایک بڑا موقع ہے۔

ساتھیو،

ہمارا شمال مشرق دو اور شعبوں کے لیے ایک نہایت اہم مرکزبنتا جا رہا ہے — یہ شعبے ہیںتوانائیاور سیمی کنڈکٹر۔چاہے پن بجلی ہو یا  شمسی توانائی،  شمال مشرق کی ہر ریاست میں حکومت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ہزاروں کروڑ روپے کے پروجیکٹس  منظور کیے جاچکے ہیں۔ آپ کے سامنے صرف پلانٹس اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کا موقع ہی نہیں ہے، بلکہ مینوفیکچرنگ کا بھی ایک سنہری موقع ہے۔سولر ماڈیولس ہوں، سیلس ہوں، اسٹوریج ہو یا ریسرچ ہوں۔اس میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔
یہ ہمارا مستقبل ہے۔ہم مستقبل پرجتنی سرمایہ کاری آج کریں گے ، اتنی ہیغیر ملک پر انحصاری کم ہوگی۔آج ملک میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے میں بھی شمال مشرق، خصوصاً آسام بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔بہت جلد  شمال مشرق کے سیمی کنڈکٹر پلانٹ سے پہلی ‘میڈ اِن انڈیا’ چِپ ملک کو ملنے والی ہے۔اس پلانٹ ن شمال مشرق میں سیمی کنڈکٹرسیکٹر کے لیے دیگر کٹنگ ایج ٹیکنالوجیز کے لیے نئے دروازے کھول  دیے ہیں۔

 

ساتھیو،

رائزنگ نارتھ ایسٹ صرف ایک انویسٹرز سمٹ نہیں ہے۔ یہ ایک تحریک ہے، یہ ایک کال ٹو ایکشن ہے۔ہندوستان کا مستقبل،  شمال مشرق کے روشن مستقبل سے ہی نئی بلندیوں تک پہنچے گا۔مجھے آپ سبھی بزنس لیڈرز پر مکمل اعتماد ہے۔آئیے، ہم سب مل کر ہندوستان کی‘اشٹ لکشمی’ کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان کےلیے ترغیب بنائیںاور مجھے پورا یقین ہےآج کا یہ اجتماعی عزم، آپ سب کی شراکت، جوش، اور عہد،امید کو اعتماد میں بدل رہا ہےاور مجھے پختہ یقین ہے کہ جب ہم دوسری رائزنگ نارتھ ایسٹ سمٹ منعقد کریں گے،تب تک ہم بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔ آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات!

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.