جمہوریہ قبرص کے صدر سے وزیراعظم کی ملاقات

Published By : Admin | June 16, 2025 | 15:15 IST

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج جمہوریہ قبرص کے صدر عزت مآب جناب نیکوس کرسٹوڈولائڈس سے  رسمی بات چیت کی۔ صدارتی محل پہنچنے پر صدر کرسٹوڈولائیڈس کی جانب سے وزیراعظم کا رسمی استقبال کیا گیا۔  گزشتہ روز دورے کی اہمیت کے مد نظر، وزیراعظم کا صدر کرسٹوڈولائڈس نے ہوائی اڈے پر پرتپاک استقبال کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور پائیدار دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ان مشترکہ اقدار کی توثیق کی جو ہندوستان-قبرص تعلقات کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے اپریل 2025 میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کے لیے قبرص کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کے مضبوط عزم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے قبرص کے اتحاد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے حصول کی بنیاد پر قبرص کے سوال کے پرامن حل کے لیے ہندوستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری، سائنس اور تحقیق، ثقافتی تعاون اور عوام سے عوام کے تعلقات اور فن ٹیک، اسٹارٹ اپس، دفاعی صنعت، کنیکٹیویٹی، اختراع، ڈیجیٹلائزیشن، اے آئی اور نقل و حرکت کے نئے شعبوں میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا شامل ہے۔ دونوں فریقوں نے اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے سائبر اور میری ٹائم سیکورٹی ڈائیلاگ اور دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کے معاملات پر معلومات کے حقیقی تبادلے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوری2025 میں دستخط کیے گئے دو طرفہ دفاعی تعاون پروگرام کو سراہا جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو ٹھوس شکل دے گا۔ انہوں نے اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے انڈیا-یونان-قبرص (آئی جی سی) بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کاروبار، سیاحت، علم اور اختراعی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے فضائی رابطے بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان مشرق وسطیٰ یورپ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای سی) خطے میں امن اور خوشحالی میں مدد دے گی۔

دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات سمیت کثیرجہتی اور عالمی گورننس اداروں میں اصلاحات کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے لیے قبرص کی حمایت کا اعادہ کرنے کے لیے صدر کرسٹوڈولائڈس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا اور یورپ میں جاری تنازعات سمیت عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم نے صدر کرسٹوڈولائڈس کو ہندوستان کے دورے کی دعوت دی۔ اس دورے کے دوران نیکوسیا یونیورسٹی میں انڈیا اسٹڈیز آئی سی سی آر چیئر کے قیام کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ میٹنگ کے بعد ہندوستان-قبرص پارٹنرشپ پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا [لنک]

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Third India-Nordic Summit: Nordic nations to invest $100 bn in 15 years

Media Coverage

Third India-Nordic Summit: Nordic nations to invest $100 bn in 15 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister shares a Sanskrit Subhashitam emphasising that well-ordered standards must guide human conduct
May 20, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi today shared a Sanskrit Subhashitam, noting that righteous conduct is like a lamp that illuminates not only an individual but the entire society. Shri Modi highlighted that adopting this very ideal, the people of our country are engaged in nation-building today with complete restraint, capability, and devotion to duty.

The Prime Minister posted on X:

"श्रेष्ठ आचरण वह दीपक है, जिससे व्यक्ति के साथ-साथ समाज भी आलोकित होता है। इसी आदर्श को अपनाते हुए हमारे देशवासी आज पूरे संयम, सामर्थ्य और कर्तव्यनिष्ठा से राष्ट्र निर्माण में जुटे हुए हैं।

तस्माच्छास्त्रं प्रमाणं ते कार्याकार्यव्यवस्थितौ।
ज्ञात्वा शास्त्रविधानोक्तं कर्म कर्तुमिहार्हसि।।"

The determination of what ought to be done and what ought not to be done should not rest upon subjective opinion or momentary impulse but upon a well-ordered standard grounded in the Śāstra, which imparts direction and discipline to conduct. Therefore, a person ought to act in accordance with that established system of standards, so that one's conduct becomes balanced, validated and meaningful.