وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
اسمارٹ سٹی مشن کے تحت ، یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا آغازکیا
"جب کاشی کے شہریوں کے کام کی تعریف کی جاتی ہے، تو مجھے بے حد فخر محسوس ہوتا ہے"
’’جب کاشی ترقی کرتا ہے تو یوپی ترقی کرتا ہے، اور جب یوپی ترقی کرتا ہے، تو ملک ترقی کرتا ہے‘‘
’’کاشی پورے ملک کے ساتھ، وکست بھارت کے عزم کے تئیں عہد بند ہے‘‘
"مودی کی گارنٹی کی گاڑی ایک سپر ہٹ ہے، کیونکہ حکومت شہریوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، کوئی اور دوسرا راستہ نہیں"
"اس سال بناس ڈیری نے یوپی کے کسانوں کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے"
پوروانچل کے پورے ا علاقے کو کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن مہادیو کے آشیرواد سے اب مودی آپ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے شہر  وارانسی میں 19150 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔

 

ان پروجیکٹوں میں ریلوے کے دیگر پروجیکٹوں کے علاوہ تقریباً 10900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح بھی شامل ہے۔ انہوں نے وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین، دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو   ٹرین اور نئے افتتاح کردہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پر لمبی دوری کی مال گاڑیوں  کی ایک جوڑی کو ہری جھنڈی دکھاکر روانہ  کیا۔  انہوں نے بنارس لوکوموٹیو ورکس کی طرف سے بنائے گئے 10000 ویں لوکوموٹیو کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے 370 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے دو آر او بی کے ساتھ گرین فیلڈ شیو پور-پھلواریا-لہارتارا سڑک کا بھی  افتتاح کیا۔ وزیراعظم کے ذریعے افتتاح کیے جانے والے دیگر اہم منصوبوں میں 20 سڑکوں کو مضبوط اور چوڑا کرنا شامل ہے؛ کیتھی گاؤں میں سنگم گھاٹ روڈ اور پنڈت دین دیال اپادھیائے اسپتال میں رہائشی عمارتوں کی تعمیر، پولیس لائن اور پی اے سی بھولن پور میں 200 والی  دو اور 150 بستروں پر مشتمل کثیر المنزلہ بیرک کی عمارتیں، 9 مقامات پر بنائے گئے اسمارٹ بس شیلٹرز اور علی پور میں تعمیر کردہ 132 کلو واٹ کا سب اسٹیشن  شامل ہے ۔  انہوں نے اسمارٹ سٹی مشن کے تحت یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا بھی آغاز کیا۔

وزیر اعظم نے تقریباً 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع چترکوٹ میں 800 میگاواٹ کا شمسی  پارک، مرزا پور میں 1050 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پیٹرولیم آئل ٹرمینل سمیت 6500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔  ان میں وارانسی-بھدوہی این ایچ  731  بی (پیکیج-2) کو 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے چوڑا کرنا؛ جل جیون مشن کے تحت 280 کروڑ روپے کی لاگت سے 69 دیہی پینے کے پانی کی اسکیمیں اور صحت کے شعبے کے دیگر پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے وارانسی کے لوگوں کو دیو دیپاولی کے دوران سب سے زیادہ دیے روشن کرنے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے پر مبارکباد دی۔ اگرچہ وہ خود اس  نظارے  کا تجربہ کرنے کے لیے موجود نہیں تھے، وزیر اعظم نے کہا کہ وارانسی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی معززین اور سیاحوں کے ذریعے انھیں اپ ڈیٹ رکھا گیا اور وارانسی اور اس کے شہریوں کی تعریفیں سن کر انھوں نے اس ستائش پر فخر محسوس کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "جب کاشیوں کے شہریوں کے کام کی تعریف کی جاتی ہے تو مجھے بے حد فخر محسوس  ہوتا ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ بھگوان مہادیو کی سرزمین کی خدمت کے لیے وقف  کرنے  کا  جذبہ کبھی بھی کافی نہیں ہو سکتا۔

 

 

وزیر اعظم نے تقریباً 20000 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر اسی یقین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کاشی جب ترقی کرتا ہے تو یوپی ترقی کرتا ہے  اور جب یوپی ترقی کرتا ہے تو ملک ترقی کرتا ہے۔‘‘، انہوں نے وارانسی کے دیہاتوں کو پانی کی فراہمی، بی ایچ یو ٹراما سینٹر میں کریٹیکل کیئر یونٹ، سڑکیں، ریلوے، ہوائی اڈے، بجلی، شمسی توانائی، گنگا گھاٹ اور دیگر مختلف شعبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے خطے میں ترقی کی رفتار میں مزید  اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کل شام کاشی-کنیا کماری تمل سنگم ٹرین  اور وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس نیز دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو  ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سب کو مبارکباد دی۔

"کاشی کے ساتھ ساتھ پورے ملک وکست بھارت کے عزم کے تئیں  عہد بند  ہے"، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا، ہزاروں گاؤں اور شہروں تک پہنچ چکی ہے، جہاں کروڑوں شہری اس سے منسلک ہو رہے ہیں۔ جناب مودی نے وارانسی میں وکست بھارت سنکلپ یاترا میں شامل ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ وی بی ایس وائی وین کو لوگ ’’مودی کی گارنٹی کی گاڑی‘‘ کے نام سے پکار رہے ہیں۔ "حکومت کا مقصد اُن تمام اہل شہریوں کو شامل کرنا ہے، جو سرکاری اسکیموں کے حقدار ہیں"، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ہے جو شہریوں تک پہنچ رہی ہے اور کوئی  اور دوسر راستہ نہیں۔ "مودی کی گارنٹی کی گاڑی ایک سپر ہٹ ہے"، وزیر اعظم نے یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں استفادہ کنندگان جو پہلے محروم رہے، وارانسی میں وی بی ایس وائی  سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آیوشمان کارڈز، مفت راشن کارڈ، پکے مکانات، نلکے کے پانی کے کنکشن، اور اجولا گیس کنکشن جیسے فوائد کی مثالیں دیں جو وی بی ایس وائی  کے دوران حاصل کیے گئے تھے۔ " وی بی ایس وائی نے لوگوں میں کسی بھی چیز سے زیادہ اعتماد پیدا کیا ہے"، وزیر اعظم نے کہا کہ اس یقین نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کو مضبوط کیا ہے۔ وزیر اعظم نے آنگن واڑی بچوں کی خود اعتمادی پر بے حد اطمینان کا اظہار کیا۔ اور انہوں  نے اپنے وی بی ایس وائی  کے دورے کے دوران محترمہ  چندا دیوی، ایک مستفید اور لکھپتی دیدی کے ساتھ بات چیت کی بھی تعریف کی۔ وی بی ایس وائی کے اپنے سیکھنے کے تجربے پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، " وی بی ایس وائی پبلک ڈومین میں کام کرنے والوں کے لیے، ایک سفر کرنے والی یونیورسٹی ہے۔"

 

وزیراعظم نے شہر کی خوبصورتی کے فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عقیدت  اور سیاحت کے مرکز کے طور پر،  کاشی کی شان روز بروز فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحت روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے کیونکہ تزئین و آرائش کے بعد 13 کروڑ سے زیادہ عقیدت مندوں نے کاشی وشوناتھ دھام میں درشن کیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو لال قلعہ کی فصیل سے بیرون ملک جانے کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے،  15 گھریلو مقامات کا دورہ کرنے کے بارے میں اپنی  نصیحت کے بارے میں یاد دہانی کرائی ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ لوگ گھریلو سیاحت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اسمارٹ سٹی مشن کے تحت یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم اور شہر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے سیاحتی ویب سائٹ 'کاشی' کے آغاز سمیت سیاحتی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی فہرست کی تفصیلات بتائی۔ انہوں نے گنگا گھاٹوں پر تزئین و آرائش کے کام کے آغاز، جدید بس شیلٹرز، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن پرحاصل  سہولیات کا بھی ذکر کیا۔

ریلوے سے متعلق پروجیکٹوں کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیراعظم  مودی نے مشرقی اور مغربی فریٹ کوریڈورز، نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور کے افتتاح کے بارے میں بات کی۔ وزیراعظم نے مقامی فیکٹری میں تیار ہونے والے 10000ویں ریلوے انجن کو چالو  کرنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شمسی توانائی کے شعبے میں ڈبل انجن والی حکومت کی کوششوں کو بھی اجاگر  کیا۔ انہوں نے کہا کہ چترکوٹ میں 800 میگاواٹ کا شمسی  پاور پارک ، یوپی میں قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے لیے ہماری وابستگی کی ایک مثال ہے۔ دیورائی اور مرزا پور میں سہولیات، ریاست میں پٹرول ڈیزل، بائیو سی این جی اور ایتھنول پروسیسنگ کے حوالے سے پٹرولیم مصنوعات کی ضرورت کو پورا کریں گی۔

 

وزیر اعظم نےوکست بھارت کی پیشگی  ضرورت کے طور پر  ناری شکتی، یووا شکتی، کسانوں اور غریبوں کی ترقی پر زور دیا۔ جناب مودی نے زور دیا کہ ’’میرے لیے صرف یہی چار ذاتیں ہیں اور ان کو مضبوط کرنے سے قوم مضبوط ہوگی‘‘۔  اس یقین کے ساتھ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے ۔ انہوں نے  پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیموں کا ذکر کیا، جن میں  کسانوں کے بینک کھاتوں میں 30000 کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے  کسان کریڈٹ کارڈ، قدرتی کھیتی پر زور، اور کسان ڈرون کا  بھی  ذکر کیا ، جس سے جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاؤ آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے نمو ڈرون دیدی پروگرام کا بھی ذکر کیا جہاں ذاتی مدد  کے  گروپس سے وابستہ خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

بناس ڈیری کے آنے والے جدید پلانٹ کا ذکر کرتے ہوئے ،جہاں بناس ڈیری 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور ڈیری مویشیوں کو بڑھانے کی مہم چلا رہی ہے،وزیراعظم مودی نے کہا کہ بنارس کے کسانوں کے لیے بناس ڈیری ایک وردان ثابت ہوگی۔ بناس ڈیری کے پلانٹ لکھنؤ اور کانپور میں پہلے ہی چل رہے ہیں۔ اس سال بناس ڈیری نے یوپی کے 4 ہزار سے زیادہ گاؤں کے کسانوں کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے۔ آج کے پروگرام میں بناس ڈیری نے منافع کے طور پر یوپی ڈیری کسانوں کے کھاتوں میں 100 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کرائے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وارانسی میں ترقی کا دھارا پورے خطے کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پوروانچل کا علاقہ کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا تھا، اب مہادیو کے آشیرواد سے مودی اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ چند مہینوں میں عام انتخابات کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے کہا کہ مودی نے تیسری مدت میں ہندوستان کو دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی طاقت بنانے کی ضمانت دی ہے۔ وزیر اعظم نے اختتام کیا کہ ‘‘ اگر میں آج ملک کو یہ گارنٹی دے رہا ہوں تو یہ آپ سب کی وجہ سے ہے، میرے کاشی کے اہل خانہ۔ آپ ہمیشہ  سے میرے ساتھ کھڑے ہیں، میری قراردادوں کو مضبوط کرتے ہوئے"۔

اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور حکومت اتر پردیش کے وزراء موجود تھے۔

 

پس منظر

پچھلے نو سالوں میں، وزیر اعظم نے وارانسی کے منظر نامے کو تبدیل کرنے اور وارانسی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی کی آسانی کو بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی  ہے۔ اس سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے، وزیر اعظم نے تقریباً 19,150 کروڑ روپے کی لاگت والے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور  انہیں قوم کے نام  وقف کیا ۔

وزیر اعظم نے تقریباً 10900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ ریلوے کے دیگر پروجیکٹ،جن کا افتتاح کیا جائے گا ، ان میں دیگر کے علاوہ بلیا-غازی پور سٹی ریل لائن کو ڈبل کرنے کا منصوبہ اندرا-دوہری گھاٹ ریل لائن گیج کی تبدیلی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم نے نئے افتتاح کردہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور میں وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین، دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو  ٹرین اور لمبی دوری کی مال گاڑیوں  کی ایک جوڑی کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے بنارس لوکوموٹیو ورکس کی طرف سے بنائے گئے 10000 ویں لوکوموٹیو کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

وزیر اعظم نے 370 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے دو آر او بی کے ساتھ، گرین فیلڈ شیو پور-پھلواریا-لہارتارا سڑک کا افتتاح کیا۔ یہ وارانسی شہر کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان، ٹریفک کے لمحات کو آسان بنائے گا اور زائرین کی سہولت میں اضافہ کرے گا۔ علاوہ ازیں  مزید اہم منصوبوں کا وزیر اعظم افتتاح کر رہے ہیں، جن میں 20 سڑکوں کو مضبوط اور چوڑا کرنا ،کیتھی گاؤں میں سنگم گھاٹ سڑک اور پنڈت دین دیال اپادھیائے اسپتال میں رہائشی عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔

 

 

مزید برآں، وزیر اعظم نے پولیس اہلکاروں کی رہائش کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، پولیس لائن اور پی اے سی بھولن پور میں دو 200 اور 150 بستروں والی کثیر المنزلہ بیرک عمارتیں، 9 مقامات پر بنائے گئے ،اسمارٹ بس شیلٹرز اور علی پور میں بنائے گئے 132 کلو واٹ سب اسٹیشن کا افتتاح کیا۔

اسمارٹ سٹی مشن کے تحت، سیاحوں کی تفصیلی معلومات کے لیے ایک ویب سائٹ اور یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا وزیر اعظم نے آغاز کیا۔ یونیفائیڈ پاس شری کاشی وشوناتھ دھام، گنگا کروز، اور سارناتھ کے لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کے لیے سنگل پلیٹ فارم ٹکٹ کی بکنگ فراہم کرے گا، جو مربوط کیو آر  کوڈ خدمات پیش کرے گا۔

وزیر اعظم نے 6500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ غیر قابل تجدید توانائی کے وسائل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے، وزیر اعظم نے چترکوٹ ضلع میں تقریباً 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے 800 میگاواٹ کے شمسی  پارک کا سنگ بنیاد رکھا۔ پیٹرولیم  کے اقدار ی سلسلے کو بڑھانے کے لیے، وہ مرزا پور میں ایک نئے پیٹرولیم آئل ٹرمینل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے ، جو 1050 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔

 

دیگر پروجیکٹ  جن کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے رکھا، ان میں وارانسی-بھدوہی این ایچ  731 بی  (پیکیج-2) کو 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے چوڑا کرنا، 280 کروڑ روپے کی لاگت سے جل جیون مشن کے تحت 69 دیہی پینے کے پانی کی اسکیمیں؛ بی ایچ یو ٹراما سینٹر میں 150 بستروں کی صلاحیت کے کریٹیکل کیئر یونٹ کی تعمیر؛ 8 گنگا گھاٹوں کی بحالی کا کام، دیویانگ رہائشی سیکنڈری اسکول کا تعمیراتی کام اور دیگر شامل ہے۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
HAL gets Rs 65K cr MoD tender for 97 more Tejas Mark 1A fighter jets

Media Coverage

HAL gets Rs 65K cr MoD tender for 97 more Tejas Mark 1A fighter jets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
I.N.D.I alliance have disregarded the culture as well as development of India: PM Modi in Udhampur
April 12, 2024
After several decades, it is the first time that Terrorism, Bandhs, stone pelting, border skirmishes are not the issues for the upcoming Lok Sabha elections in the state of JandK
For a Viksit Bharat, a Viksit JandK is imminent. The NC, PDP and the Congress parties are dynastic parties who do not wish for the holistic development of JandK
Abrogation of Article 370 has enabled equal constitutional rights for all, record increase in tourism and establishment of I.I.M. and I.I.T. for quality educational prospects in JandK
The I.N.D.I alliance have disregarded the culture as well as the development of India, and a direct example of this is the opposition and boycott of the Pran-Pratishtha of Shri Ram
In the advent of continuing their politics of appeasement, the leaders of I.N.D.I alliance lived in big bungalows but forced Ram Lalla to live in a tent

भारत माता की जय...भारत माता की जय...भारत माता की जय...सारे डुग्गरदेस दे लोकें गी मेरा नमस्कार! ज़ोर कन्ने बोलो...जय माता दी! जोर से बोलो...जय माता दी ! सारे बोलो…जय माता दी !

मैं उधमपुर, पिछले कई दशकों से आ रहा हूं। जम्मू कश्मीर की धरती पर आना-जाना पीछले पांच दशक से चल रहा है। मुझे याद है 1992 में एकता यात्रा के दौरान यहां जो आपने भव्य स्वागत किया था। जो सम्मान किया था। एक प्रकार से पूरा क्षेत्र रोड पर आ गया था। और आप भी जानते हैं। तब हमारा मिशन, कश्मीर के लाल चौक पर तिरंगा फहराने का था। तब यहां माताओं-बहनों ने बहुत आशीर्वाद दिया था।

2014 में माता वैष्णों देवी के दर्शन करके आया था। इसी मैदान पर मैंने आपको गारंटी दी थी कि जम्मू कश्मीर की अनेक पीढ़ियों ने जो कुछ सहा है, उससे मुक्ति दिलाऊंगा। आज आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी की है। दशकों बाद ये पहला चुनाव है, जब आतंकवाद, अलगाववाद, पत्थरबाज़ी, बंद-हड़ताल, सीमापार से गोलीबारी, ये चुनाव के मुद्दे ही नहीं हैं। तब माता वैष्णो देवी यात्रा हो या अमरनाथ यात्रा, ये सुरक्षित तरीके से कैसे हों, इसको लेकर ही चिंताएं होती थीं। अगर एक दिन शांति से गया तो अखबार में बड़ी खबर बन जाती थी। आज स्थिति एकदम बदल गई है। आज जम्मू- कश्मीर में विकास भी हो रहा है और विश्वास भी बढ़ रहा है। इसलिए, आज जम्मू-कश्मीर के चप्पे-चप्पे में भी एक ही गूंज सुनाई दे रही है-फिर एक बार...मोदी सरकार ! फिर एक बार...मोदी सरकार ! फिर एक बार...मोदी सरकार !

भाइयों और बहनों,

ये चुनाव सिर्फ सांसद चुनने भर का नहीं है, बल्कि ये देश में एक मजबूत सरकार बनाने का चुनाव है। सरकार मजबूत होती है तो जमीन पर चुनौतियों के बीच भी चुनौतियों को चुनौती देते हुए काम करके दिखाती है। दिखता है कि नहीं दिखता है...दिखता है कि नहीं दिखता है। यहां जो पुराने लोग हैं, उनको 10 साल पहले का मेरा भाषण याद होगा। यहीं मैंने आपसे कहा था कि आप मुझपर भरोसा कीजिए, याद है ना मैंने कहा था कि मुझ पर भरोसा कीजिए। मैं 60 वर्षों की समस्याओं का समाधान करके दिखाउंगा। तब मैंने यहां माताओं-बहनों के सम्मान देने की गारंटी दी थी। गरीब को 2 वक्त के खाने की चिंता न करनी पड़े, इसकी गारंटी दी थी। आज जम्मू-कश्मीर के लाखों परिवारों के पास अगले 5 साल तक मुफ्त राशन की गारंटी है। आज जम्मू कश्मीर के लाखों परिवारों के पास 5 लाख रुपए के मुफ्त इलाज की गारंटी है। 10 वर्ष पहले तक जम्मू कश्मीर के कितने ही गांव थे, जहां बिजली-पानी और सड़क तक नहीं थी। आज गांव-गांव तक बिजली पहुंच चुकी है। आज जम्मू-कश्मीर के 75 प्रतिशत से ज्यादा घरों को पाइप से पानी की सुविधा मिल रही है। इतना ही नहीं ये डिजिटल का जमाना है, डिजिटल कनेक्टिविटी चाहिए, मोबाइल टावर दूर-सुदूर पहाड़ों में लगाने का अभियान चलाया है। 

भाइयों और बहनों,

मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। आप याद कीजिए, कांग्रेस की कमज़ोर सरकारों ने शाहपुर कंडी डैम को कैसे दशकों तक लटकाए रखा था। जम्मू के किसानों के खेत सूखे थे, गांव अंधेरे में थे, लेकिन हमारे हक का रावी का पानी पाकिस्तान जा रहा था। मोदी ने किसानों को गारंटी दी थी और इसे पूरा भी कर दिखाया है। इससे कठुआ और सांबा के हजारों किसानों को फायदा हुआ है। यही नहीं, इस डैम से जो बिजली पैदा होगी, वो जम्मू कश्मीर के घरों को रोशन करेगी।

भाइयों और बहनों,

मोदी विकसित भारत के लिए विकसित जम्मू-कश्मीर के निर्माण की गारंटी दे रहा है। लेकिन कांग्रेस, नेशनल कॉन्फ्रेंस और पीडीपी और बाकी सारे दल जम्मू-कश्मीर को फिर उन पुराने दिनों की तरफ ले जाना चाहते हैं। इन ‘परिवार-चलित’ पार्टियों ने, परिवार के द्वारा ही चलने वाली पार्टियों ने जम्मू कश्मीर का जितना नुकसान किया, उतना किसी ने नहीं किया है। यहां तो पॉलिटिकल पार्टी मतलब ऑफ द फैमिली, बाई द फैमिली, फॉर द फैमिली। सत्ता के लिए इन्होंने जम्मू कश्मीर में 370 की दीवार बना दी थी। जम्मू-कश्मीर के लोग बाहर नहीं झांक सकते थे और बाहर वाले जम्मू-कश्मीर की तरफ नहीं झांक सकते थे। ऐसा भ्रम बनाकर रखा था कि उनकी जिंदगी 370 है तभी बचेगी। ऐसा झूठ चलाया। ऐसा झूठ चलाया। आपके आशीर्वाद से मोदी ने 370 की दीवार गिरा दी। दीवार गिरा दी इतना ही नहीं, उसके मलबे को भी जमीन में गाड़ दिया है मैंने। 

मैं चुनौती देता हूं हिंदुस्तान की कोई पॉलीटिकल पार्टी हिम्मत करके आ जाए। विशेष कर मैं कांग्रेस को चुनौती देता हूं। वह घोषणा करें कि 370 को वापस लाएंगे। यह देश उनका मुंह तक देखने को तैयार नहीं होगा। यह कैसे-कैसे भ्रम फैलाते हैँ। कैसे-कैसे लोगों को डरा कर रखते हैं। यह कहते थे, 370 हटी तो आग लग जाएगी। जम्मू-कश्मीर हमें छोड़ कर चला जाएगा। लेकिन जम्मू कश्मीर के नौजवानों ने इनको आइना दिखा दिया। अब देखिए, जब यहां उनकी नहीं चली जम्मू-कश्मीर को लोग उनकी असलीयत को जान गए। अब जम्मू-कश्मीर में उनके झूठे वादे भ्रम का मायाजाल नहीं चल पा रही है। तो ये लोग जम्मू-कश्मीर के बाहर देश के लोगों के बीच भ्रम फैलाने का खेल-खेल रहे हैं। यह कहते हैं कि 370 हटने से देश का कोई लाभ नहीं हुआ। जिस राज्य में जाते हैं, वहां भी बोलते हैं। तुम्हारे राज्य को क्या लाभ हुआ, तुम्हारे राज्य को क्या लाभ हुआ? 

370 के हटने से क्या लाभ हुआ है, वो जम्मू-कश्मीर की मेरी बहनों-बेटियों से पूछो, जो अपने हकों के लिए तरस रही थी। यह उनका भाई, यह उनका बेटा, उन्होंने उनके हक वापस दिए हैं। जरा कांग्रेस के लोगों जरा देश भर के दलित नेताओं से मैं कहना चाहता हूं। यहां के हमारे दलित भाई-बहन हमारे बाल्मीकि भाई-बहन देश आजाद हुआ, तब से परेशानी झेल रहे थे। जरा जाकर उन बाल्मीकि भाई-बहनों से पूछो और गड्डा ब्राह्मण, कोहली से पूछो और पहाड़ी परिवार हों, मचैल माता की भूमि में रहने वाले मेरे पाड्डरी साथी हों, अब हर किसी को संविधान में मिले अधिकार मिलने लगे हैं।

अब हमारे फौजियों की वीर माताओं को चिंता नहीं करनी पड़ती, क्योंकि पत्थरबाज़ी नहीं होती। इतना ही नहीं घाटी की माताएं मुझे आशीर्वाद देती हैं, उनको चिंता रहती थी कि बेटा अगर दो चार दिन दिखाई ना दे। तो उनको लगता था कि कहीं गलत हाथों में तो नहीं फंस गया है। आज कश्मीर घाटी की हर माता चैन की नींद सोती है क्योंकि अब उनका बच्चा बर्बाद होने से बच रहा है। 

साथियो, 

अब स्कूल नहीं जलाए जाते, बल्कि स्कूल सजाए जाते हैं। अब यहां एम्स बन रहे हैं, IIT बन रहे हैं, IIM बन रहे हैं। अब आधुनिक टनल, आधुनिक और चौड़ी सड़कें, शानदार रेल का सफर जम्मू-कश्मीर की तकदीर बन रही है। जम्मू हो या कश्मीर, अब रिकॉर्ड संख्या में पर्यटक और श्रद्धालु आने लगे हैं। ये सपना यहां की अनेक पीढ़ियों ने देखा है और मैं आपको गारंटी देता हूं कि आपका सपना, मोदी का संकल्प है। आपके सपनों को पूरा करने के लिए हर पल आपके नाम, आपके सपनों को पूरा करने के लिए हर पल देश के नाम, विकसित भारत का सपना पूरा करने के लिए 24/7, 24/74 फॉर 2047, यह मोदी के गारंटी है। 10 सालों में हमने आतंकवादियों और भ्रष्टाचारियों पर घेरा बहुत ही कसा है। अब आने वाले 5 सालों में इस क्षेत्र को विकास की नई ऊंचाई पर ले जाना है।

साथियों,

सड़क, बिजली, पानी, यात्रा, प्रवास वो तो है। सबसे बड़ी बात है कि जम्मू-कश्मीर का मन बदला है। निराशा में से आशा की और बढ़े हैं। जीवन पूरी तरीके से विश्वास से भरा हुआ है, इतना विकास यहां हुआ है। चारों तरफ विकास हो रहा। लोग कहेंगे, मोदी जी अभी इतना कर लिया। चिंता मत कीजिए, हम आपके साथ हैं। आपका साथ उसके प्रति तो मेरा अपार विश्वास है। मैं यहां ना आता तो भी मुझे पता था कि जम्मू कश्मीर का मेरा नाता इतना गहरा है कि आप मेरे लिए मुझे भी ज्यादा करेंगे। लेकिन मैं तो आया हूं। मां वैष्णो देवी के चरणों में बैठे हुए आप लोगों के बीच दर्शन करने के लिए। मां वैष्णो देवी की छत्रछाया में जीने वाले भी मेरे लिए दर्शन की योग्य होते हैं और जब लोग कहते हैं, कितना कर लिया, इतना हो गया, इतना हो गया और इससे ज्यादा क्या कर सकते हैं। मेरे जम्मू कश्मीर के भाई-बहन अपने पहले इतने बुरे दिन देखे हैं कि आपको यह सब बहुत लग रहा है। बहुत अच्छा लग रहा है लेकिन जो विकास जैसा लग रहा है लेकिन मोदी है ना वह तो बहुत बड़ा सोचता है। यह मोदी दूर का सोचता है। और इसलिए अब तक जो हुआ है वह तो ट्रेलर है ट्रेलर। मुझे तो नए जम्मू कश्मीर की नई और शानदार तस्वीर बनाने के लिए जुट जाना है। 

वो समय दूर नहीं जब जम्मू-कश्मीर में भी विधानसभा के चुनाव होंगे। जम्मू कश्मीर को वापस राज्य का दर्जा मिलेगा। आप अपने विधायक, अपने मंत्रियों से अपने सपने साझा कर पाएंगे। हर वर्ग की समस्याओं का तेज़ी से समाधान होगा। यहां जो सड़कों और रेल का काम चल रहा है, वो तेज़ी से पूरा होगा। देश-विदेश से बड़ी-बड़ी कंपनियां, बड़ी-बड़ी फैक्ट्रियां औऱ ज्यादा संख्या में आएंगी। जम्मू कश्मीर, टूरिज्म के साथ ही sports और start-ups के लिए जाना जाएगा, इस संकल्प को लेकर मुझे जम्मू कश्मीर को आगे बढ़ाना है। 

भाइयों और बहनों,

ये ‘परिवार-चलित’ परिवारवादी , परिवार के लिए जीने मरने वाली पार्टियां, विकास की भी विरोधी है और विरासत की भी विरोधी है। आपने देखा होगा कि कांग्रेस राम मंदिर से कितनी नफरत करती है। कांग्रेस और उनकी पूरा इको सिस्टम अगर मुंह से कहीं राम मंदिर निकल गया। तो चिल्लाने लग जाती है, रात-दिन चिल्लाती है कि राम मंदिर बीजेपी के लिए चुनावी मुद्दा है। राम मंदिर ना चुनाव का मुद्दा था, ना चुनाव का मुद्दा है और ना कभी चुनाव का मुद्दा बनेगा। अरे राम मंदिर का संघर्ष तो तब से हो रहा था, जब कि भाजपा का जन्म भी नहीं हुआ था। राम मंदिर का संघर्ष तो तब से हो रहा था जब यहां अंग्रेजी सल्तनत भी नहीं आई थी। राम मंदिर का संघर्ष 500 साल पुराना है। जब कोई चुनाव का नामोनिशान नहीं था। जब विदेशी आक्रांताओं ने हमारे मंदिर तोड़े, तो भारत के लोगों ने अपने धर्मस्थलों को बचाने की लड़ाई लड़ी थी। वर्षों तक, लोगों ने अपनी ही आस्था के लिए क्या-क्या नहीं झेला। कांग्रेस और उसके सहयोगी दलों के नेता बड़े-बड़े बंगलों में रहते थे, लेकिन जब रामलला के टेंट बदलने की बात आती थी तो ये लोग मुंह फेर लेते थे, अदालतों की धमकियां देते थे। बारिश में रामलला का टेंट टपकता रहता था और रामलला के भक्त टेंट बदलवाने के लिए अदालतों के चक्कर काटते रहते थे। ये उन करोड़ों-अरबों लोगों की आस्था पर आघात था, जो राम को अपना आराध्य कहते हैं। हमने इन्हीं लोगों से कहा कि एक दिन आएगा, जब रामलला भव्य मंदिर में विराजेंगे। और तीन बातें कभी भूल नहीं सकते। एक 500 साल के अविरत संघर्ष के बाद ये हुआ। आप सहमत हैं। 500 साल के अविरत संघर्ष के बाद हुआ है, आप सहमत हैं। दूसरा, पूरी न्यायिक प्रक्रिया की कसौटी से कस करके, न्याय के तराजू से तौल करके अदालत के निर्णय से ये काम हुआ है, सहमत हैं। तीसरा, ये भव्य राम मंदिर सरकारी खजाने से नहीं, देश के कोटि-कोटि नागरिकों ने पाई-पाई दान देकर बनाया है। सहमत हैं। 

जब उस मंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा हुई तो पिछले 70 साल में कांग्रेस ने जो भी पाप किए थे, उनके साथियों ने जो रुकावटें डाली थी, सबको माफ करके, राम मंदिर के जो ट्रस्टी हैं, वो खुद कांग्रेस वालों के घर गए, इंडी गठबंधन वालों के घर गए, उनके पुराने पापों को माफ कर दिया। उन्होंने कहा राम आपके भी हैं, आप प्राण-प्रतिष्ठा में जरूर पधारिये। सम्मान के साथ बुलाया। लेकिन उन्होंने इस निमंत्रण को भी ठुकरा दिया। कोई बताए, वो कौन सा चुनावी कारनामा था, जिसके दबाव में आपने राम मंदिर के प्राण-प्रतिष्ठा के निमंत्रण को ठुकरा दिया। वो कौन सा चुनावी खेल था कि आपने प्राण-प्रतिष्ठा के पवित्र कार्य को ठुकरा दिया। और ये कांग्रेस वाले, इंडी गठबंधन वाले इसे चुनाव का मुद्दा कहते हैं। उनके लिए ये चुनावी मुद्दा था, देश के लिए ये श्रद्धा का मुद्दा था। ये धैर्य की विजय का मुद्दा था। ये आस्था और विश्वास का मु्द्दा था। ये 500 वर्षों की तपस्या का मुद्दा था।

मैं कांग्रेस से पूछता हूं...आप ने अपनी सरकार के समय दिन-रात इसका विरोध किया, तब ये किस चुनाव का मुद्दा था? लेकिन आप राम भक्तों की आस्था देखिए। मंदिर बना तो ये लोग इंडी गठबंधन वालें के घर प्राण प्रतिष्ठा का आमंत्रण देने खुद गए। जिस क्षण के लिए करोड़ों लोगों ने इंतजार किया, आप बुलाने पर भी उसे देखने नहीं गए। पूरी दुनिया के रामभक्तों ने आपके इस अहंकार को देखा है। ये किस चुनावी मंशा को देखा है। ये चुनावी मंशा थी कि आपने प्राण प्रतिष्ठा का आमंत्रण ठुकरा दिया। आपके लिए चुनाव का खेल है। ये किस तरह की तुष्टिकरण की राजनीति थी। भगवान राम को काल्पनिक कहकर कांग्रेस किसे खुश करना चाहती थी?

साथियों, 

कांग्रेस और इंडी गठबंधन के लोगों को देश के ज्यादातर लोगों की भावनाओं की कोई परवाह नहीं है। इन्हें लोगों की भावनाओं से खिलवाड़ करने में मजा आता है। ये लोग सावन में एक सजायाफ्ता, कोर्ट ने जिसे सजा की है, जो जमानत पर है, ऐसे मुजरिम के घर जाकर के सावन के महीने में मटन बनाने का मौज ले रहे हैं इतना ही नहीं उसका वीडियो बनाकर के देश के लोगों को चिढ़ाने का काम करते हैं। कानून किसी को कुछ खाने से नहीं रोकता। ना ही मोदी रोकता है। सभी को स्वतंत्रता है की जब मन करें वेज खायें या नॉन-वेज खाएं। लेकिन इन लोगों की मंशा दूसरी होती है। जब मुगल यहां आक्रमण करते थे ना तो उनको सत्ता यानि राजा को पराजित करने से संतोष नहीं होता था, जब तक मंदिर तोड़ते नहीं थे, जब तक श्रद्धास्थलों का कत्ल नहीं करते थे, उसको संतोष नहीं होता था, उनको उसी में मजा आता था वैसे ही सावन के महीने में वीडियो दिखाकर वो मुगल के लोगों के जमाने की जो मानसिकता है ना उसके द्वारा वो देश के लोगों को चिढ़ाना चाहते हैं, और अपनी वोट बैंक पक्की करना चाहते हैं। ये वोट बैंक के लिए चिढ़ाना चाहते हैं । आप किसे चिढ़ाना चाहते हैंनवरात्र के दिनों में आपका नॉनवेज खाना,  आप किस मंशा से वीडियो दिखा-दिखा कर के लोगों की भावनाओं को चोट पहुंचा करके, किसको खुश करने का खेल कर रहे हो।  

मैं जानता हूं मैं  जब आज ये  बोल रहा हूं, उसके बाद ये लोग पूरा गोला-बारूद लेकर गालियों की बौछार मुझ पर चलाएंगे, मेरे पीछे पड़ जाएंगे। लेकिन जब बात  बर्दाश्त के बाहर हो जाती है, तो लोकतंत्र में मेरा दायित्व बनता है कि सही चीजों का सही पहलू बताऊं। और मैं वो अपना कर्तव्य पूरा कर रहा हूं। ये लोग ऐसा जानबूझकर इसलिए करते हैं ताकि इस देश की मान्यताओं पर हमला हो। ये इसलिए होता है, ताकि एक बड़ा वर्ग इनके वीडियो को देखकर चिढ़ता रहे, असहज होता रहे। समस्या इस अंदाज से है। तुष्टिकरण से आगे बढ़कर ये इनकी मुगलिया सोच है। लेकिन ये लोग नहीं जानते, जनता जब जवाब देती है तो बड़े-बड़े शाही खानदान के युवराजों को बेदखल होना पड़ता है।

साथियों, 

ये जो परिवार-चलित पार्टियां हैं, ये जो भ्रष्टाचारी हैं, अब इनको फिर मौका नहीं देना है। उधमपुर से डॉ. जितेंद्र सिंह और जम्मू से जुगल किशोर जी को नया रिकॉर्ड बनाकर सांसद भेजना है। जीत के बाद दोबारा जब उधमपुर आऊं तो, स्वादिष्ट कलाड़ी का आनंद ज़रूर लूंगा। आपको मेरा एक काम और करना है। इतना निकट आकर मैं माता वैष्णों देवी जा नहीं पा रहा हूं। तो माता वैष्णों देवी को क्षमा मांगिए और मेरी तरफ से मत्था टेकिए। दूसरा एक काम करोगे। एक और काम करोगे, मेरा एक और काम करोगे, पक्का करोगे। देखिए आपको घर-घर जाना है। कहना मोदी जी उधमपुर आए थे, मोदी जी ने आपको प्रणाम कहा है, राम-राम कहा है। जय माता दी कहा है, कहोगे। मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय ! 

बहुत-बहुत धन्यवाद