وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
اسمارٹ سٹی مشن کے تحت ، یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا آغازکیا
"جب کاشی کے شہریوں کے کام کی تعریف کی جاتی ہے، تو مجھے بے حد فخر محسوس ہوتا ہے"
’’جب کاشی ترقی کرتا ہے تو یوپی ترقی کرتا ہے، اور جب یوپی ترقی کرتا ہے، تو ملک ترقی کرتا ہے‘‘
’’کاشی پورے ملک کے ساتھ، وکست بھارت کے عزم کے تئیں عہد بند ہے‘‘
"مودی کی گارنٹی کی گاڑی ایک سپر ہٹ ہے، کیونکہ حکومت شہریوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، کوئی اور دوسرا راستہ نہیں"
"اس سال بناس ڈیری نے یوپی کے کسانوں کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے"
پوروانچل کے پورے ا علاقے کو کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن مہادیو کے آشیرواد سے اب مودی آپ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے شہر  وارانسی میں 19150 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔

 

ان پروجیکٹوں میں ریلوے کے دیگر پروجیکٹوں کے علاوہ تقریباً 10900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح بھی شامل ہے۔ انہوں نے وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین، دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو   ٹرین اور نئے افتتاح کردہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پر لمبی دوری کی مال گاڑیوں  کی ایک جوڑی کو ہری جھنڈی دکھاکر روانہ  کیا۔  انہوں نے بنارس لوکوموٹیو ورکس کی طرف سے بنائے گئے 10000 ویں لوکوموٹیو کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے 370 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے دو آر او بی کے ساتھ گرین فیلڈ شیو پور-پھلواریا-لہارتارا سڑک کا بھی  افتتاح کیا۔ وزیراعظم کے ذریعے افتتاح کیے جانے والے دیگر اہم منصوبوں میں 20 سڑکوں کو مضبوط اور چوڑا کرنا شامل ہے؛ کیتھی گاؤں میں سنگم گھاٹ روڈ اور پنڈت دین دیال اپادھیائے اسپتال میں رہائشی عمارتوں کی تعمیر، پولیس لائن اور پی اے سی بھولن پور میں 200 والی  دو اور 150 بستروں پر مشتمل کثیر المنزلہ بیرک کی عمارتیں، 9 مقامات پر بنائے گئے اسمارٹ بس شیلٹرز اور علی پور میں تعمیر کردہ 132 کلو واٹ کا سب اسٹیشن  شامل ہے ۔  انہوں نے اسمارٹ سٹی مشن کے تحت یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا بھی آغاز کیا۔

وزیر اعظم نے تقریباً 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع چترکوٹ میں 800 میگاواٹ کا شمسی  پارک، مرزا پور میں 1050 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پیٹرولیم آئل ٹرمینل سمیت 6500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔  ان میں وارانسی-بھدوہی این ایچ  731  بی (پیکیج-2) کو 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے چوڑا کرنا؛ جل جیون مشن کے تحت 280 کروڑ روپے کی لاگت سے 69 دیہی پینے کے پانی کی اسکیمیں اور صحت کے شعبے کے دیگر پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے وارانسی کے لوگوں کو دیو دیپاولی کے دوران سب سے زیادہ دیے روشن کرنے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے پر مبارکباد دی۔ اگرچہ وہ خود اس  نظارے  کا تجربہ کرنے کے لیے موجود نہیں تھے، وزیر اعظم نے کہا کہ وارانسی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی معززین اور سیاحوں کے ذریعے انھیں اپ ڈیٹ رکھا گیا اور وارانسی اور اس کے شہریوں کی تعریفیں سن کر انھوں نے اس ستائش پر فخر محسوس کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "جب کاشیوں کے شہریوں کے کام کی تعریف کی جاتی ہے تو مجھے بے حد فخر محسوس  ہوتا ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ بھگوان مہادیو کی سرزمین کی خدمت کے لیے وقف  کرنے  کا  جذبہ کبھی بھی کافی نہیں ہو سکتا۔

 

 

وزیر اعظم نے تقریباً 20000 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر اسی یقین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کاشی جب ترقی کرتا ہے تو یوپی ترقی کرتا ہے  اور جب یوپی ترقی کرتا ہے تو ملک ترقی کرتا ہے۔‘‘، انہوں نے وارانسی کے دیہاتوں کو پانی کی فراہمی، بی ایچ یو ٹراما سینٹر میں کریٹیکل کیئر یونٹ، سڑکیں، ریلوے، ہوائی اڈے، بجلی، شمسی توانائی، گنگا گھاٹ اور دیگر مختلف شعبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے خطے میں ترقی کی رفتار میں مزید  اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کل شام کاشی-کنیا کماری تمل سنگم ٹرین  اور وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس نیز دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو  ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سب کو مبارکباد دی۔

"کاشی کے ساتھ ساتھ پورے ملک وکست بھارت کے عزم کے تئیں  عہد بند  ہے"، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا، ہزاروں گاؤں اور شہروں تک پہنچ چکی ہے، جہاں کروڑوں شہری اس سے منسلک ہو رہے ہیں۔ جناب مودی نے وارانسی میں وکست بھارت سنکلپ یاترا میں شامل ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ وی بی ایس وائی وین کو لوگ ’’مودی کی گارنٹی کی گاڑی‘‘ کے نام سے پکار رہے ہیں۔ "حکومت کا مقصد اُن تمام اہل شہریوں کو شامل کرنا ہے، جو سرکاری اسکیموں کے حقدار ہیں"، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ہے جو شہریوں تک پہنچ رہی ہے اور کوئی  اور دوسر راستہ نہیں۔ "مودی کی گارنٹی کی گاڑی ایک سپر ہٹ ہے"، وزیر اعظم نے یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں استفادہ کنندگان جو پہلے محروم رہے، وارانسی میں وی بی ایس وائی  سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آیوشمان کارڈز، مفت راشن کارڈ، پکے مکانات، نلکے کے پانی کے کنکشن، اور اجولا گیس کنکشن جیسے فوائد کی مثالیں دیں جو وی بی ایس وائی  کے دوران حاصل کیے گئے تھے۔ " وی بی ایس وائی نے لوگوں میں کسی بھی چیز سے زیادہ اعتماد پیدا کیا ہے"، وزیر اعظم نے کہا کہ اس یقین نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کو مضبوط کیا ہے۔ وزیر اعظم نے آنگن واڑی بچوں کی خود اعتمادی پر بے حد اطمینان کا اظہار کیا۔ اور انہوں  نے اپنے وی بی ایس وائی  کے دورے کے دوران محترمہ  چندا دیوی، ایک مستفید اور لکھپتی دیدی کے ساتھ بات چیت کی بھی تعریف کی۔ وی بی ایس وائی کے اپنے سیکھنے کے تجربے پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، " وی بی ایس وائی پبلک ڈومین میں کام کرنے والوں کے لیے، ایک سفر کرنے والی یونیورسٹی ہے۔"

 

وزیراعظم نے شہر کی خوبصورتی کے فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عقیدت  اور سیاحت کے مرکز کے طور پر،  کاشی کی شان روز بروز فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحت روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے کیونکہ تزئین و آرائش کے بعد 13 کروڑ سے زیادہ عقیدت مندوں نے کاشی وشوناتھ دھام میں درشن کیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو لال قلعہ کی فصیل سے بیرون ملک جانے کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے،  15 گھریلو مقامات کا دورہ کرنے کے بارے میں اپنی  نصیحت کے بارے میں یاد دہانی کرائی ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ لوگ گھریلو سیاحت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اسمارٹ سٹی مشن کے تحت یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم اور شہر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے سیاحتی ویب سائٹ 'کاشی' کے آغاز سمیت سیاحتی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی فہرست کی تفصیلات بتائی۔ انہوں نے گنگا گھاٹوں پر تزئین و آرائش کے کام کے آغاز، جدید بس شیلٹرز، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن پرحاصل  سہولیات کا بھی ذکر کیا۔

ریلوے سے متعلق پروجیکٹوں کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیراعظم  مودی نے مشرقی اور مغربی فریٹ کوریڈورز، نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور کے افتتاح کے بارے میں بات کی۔ وزیراعظم نے مقامی فیکٹری میں تیار ہونے والے 10000ویں ریلوے انجن کو چالو  کرنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شمسی توانائی کے شعبے میں ڈبل انجن والی حکومت کی کوششوں کو بھی اجاگر  کیا۔ انہوں نے کہا کہ چترکوٹ میں 800 میگاواٹ کا شمسی  پاور پارک ، یوپی میں قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے لیے ہماری وابستگی کی ایک مثال ہے۔ دیورائی اور مرزا پور میں سہولیات، ریاست میں پٹرول ڈیزل، بائیو سی این جی اور ایتھنول پروسیسنگ کے حوالے سے پٹرولیم مصنوعات کی ضرورت کو پورا کریں گی۔

 

وزیر اعظم نےوکست بھارت کی پیشگی  ضرورت کے طور پر  ناری شکتی، یووا شکتی، کسانوں اور غریبوں کی ترقی پر زور دیا۔ جناب مودی نے زور دیا کہ ’’میرے لیے صرف یہی چار ذاتیں ہیں اور ان کو مضبوط کرنے سے قوم مضبوط ہوگی‘‘۔  اس یقین کے ساتھ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے ۔ انہوں نے  پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیموں کا ذکر کیا، جن میں  کسانوں کے بینک کھاتوں میں 30000 کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے  کسان کریڈٹ کارڈ، قدرتی کھیتی پر زور، اور کسان ڈرون کا  بھی  ذکر کیا ، جس سے جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاؤ آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے نمو ڈرون دیدی پروگرام کا بھی ذکر کیا جہاں ذاتی مدد  کے  گروپس سے وابستہ خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

بناس ڈیری کے آنے والے جدید پلانٹ کا ذکر کرتے ہوئے ،جہاں بناس ڈیری 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور ڈیری مویشیوں کو بڑھانے کی مہم چلا رہی ہے،وزیراعظم مودی نے کہا کہ بنارس کے کسانوں کے لیے بناس ڈیری ایک وردان ثابت ہوگی۔ بناس ڈیری کے پلانٹ لکھنؤ اور کانپور میں پہلے ہی چل رہے ہیں۔ اس سال بناس ڈیری نے یوپی کے 4 ہزار سے زیادہ گاؤں کے کسانوں کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے۔ آج کے پروگرام میں بناس ڈیری نے منافع کے طور پر یوپی ڈیری کسانوں کے کھاتوں میں 100 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کرائے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وارانسی میں ترقی کا دھارا پورے خطے کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پوروانچل کا علاقہ کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا تھا، اب مہادیو کے آشیرواد سے مودی اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ چند مہینوں میں عام انتخابات کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے کہا کہ مودی نے تیسری مدت میں ہندوستان کو دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی طاقت بنانے کی ضمانت دی ہے۔ وزیر اعظم نے اختتام کیا کہ ‘‘ اگر میں آج ملک کو یہ گارنٹی دے رہا ہوں تو یہ آپ سب کی وجہ سے ہے، میرے کاشی کے اہل خانہ۔ آپ ہمیشہ  سے میرے ساتھ کھڑے ہیں، میری قراردادوں کو مضبوط کرتے ہوئے"۔

اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور حکومت اتر پردیش کے وزراء موجود تھے۔

 

پس منظر

پچھلے نو سالوں میں، وزیر اعظم نے وارانسی کے منظر نامے کو تبدیل کرنے اور وارانسی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی کی آسانی کو بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی  ہے۔ اس سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے، وزیر اعظم نے تقریباً 19,150 کروڑ روپے کی لاگت والے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور  انہیں قوم کے نام  وقف کیا ۔

وزیر اعظم نے تقریباً 10900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ نئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر-نیو بھاؤپور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ ریلوے کے دیگر پروجیکٹ،جن کا افتتاح کیا جائے گا ، ان میں دیگر کے علاوہ بلیا-غازی پور سٹی ریل لائن کو ڈبل کرنے کا منصوبہ اندرا-دوہری گھاٹ ریل لائن گیج کی تبدیلی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم نے نئے افتتاح کردہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور میں وارانسی-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین، دوہری گھاٹ-ماؤ ایم ای ایم یو  ٹرین اور لمبی دوری کی مال گاڑیوں  کی ایک جوڑی کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے بنارس لوکوموٹیو ورکس کی طرف سے بنائے گئے 10000 ویں لوکوموٹیو کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

وزیر اعظم نے 370 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے دو آر او بی کے ساتھ، گرین فیلڈ شیو پور-پھلواریا-لہارتارا سڑک کا افتتاح کیا۔ یہ وارانسی شہر کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان، ٹریفک کے لمحات کو آسان بنائے گا اور زائرین کی سہولت میں اضافہ کرے گا۔ علاوہ ازیں  مزید اہم منصوبوں کا وزیر اعظم افتتاح کر رہے ہیں، جن میں 20 سڑکوں کو مضبوط اور چوڑا کرنا ،کیتھی گاؤں میں سنگم گھاٹ سڑک اور پنڈت دین دیال اپادھیائے اسپتال میں رہائشی عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔

 

 

مزید برآں، وزیر اعظم نے پولیس اہلکاروں کی رہائش کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، پولیس لائن اور پی اے سی بھولن پور میں دو 200 اور 150 بستروں والی کثیر المنزلہ بیرک عمارتیں، 9 مقامات پر بنائے گئے ،اسمارٹ بس شیلٹرز اور علی پور میں بنائے گئے 132 کلو واٹ سب اسٹیشن کا افتتاح کیا۔

اسمارٹ سٹی مشن کے تحت، سیاحوں کی تفصیلی معلومات کے لیے ایک ویب سائٹ اور یونیفائیڈ ٹورسٹ پاس سسٹم کا وزیر اعظم نے آغاز کیا۔ یونیفائیڈ پاس شری کاشی وشوناتھ دھام، گنگا کروز، اور سارناتھ کے لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کے لیے سنگل پلیٹ فارم ٹکٹ کی بکنگ فراہم کرے گا، جو مربوط کیو آر  کوڈ خدمات پیش کرے گا۔

وزیر اعظم نے 6500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ غیر قابل تجدید توانائی کے وسائل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے، وزیر اعظم نے چترکوٹ ضلع میں تقریباً 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے 800 میگاواٹ کے شمسی  پارک کا سنگ بنیاد رکھا۔ پیٹرولیم  کے اقدار ی سلسلے کو بڑھانے کے لیے، وہ مرزا پور میں ایک نئے پیٹرولیم آئل ٹرمینل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے ، جو 1050 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔

 

دیگر پروجیکٹ  جن کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے رکھا، ان میں وارانسی-بھدوہی این ایچ  731 بی  (پیکیج-2) کو 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے چوڑا کرنا، 280 کروڑ روپے کی لاگت سے جل جیون مشن کے تحت 69 دیہی پینے کے پانی کی اسکیمیں؛ بی ایچ یو ٹراما سینٹر میں 150 بستروں کی صلاحیت کے کریٹیکل کیئر یونٹ کی تعمیر؛ 8 گنگا گھاٹوں کی بحالی کا کام، دیویانگ رہائشی سیکنڈری اسکول کا تعمیراتی کام اور دیگر شامل ہے۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.