"ہندوستانی تاریخ میں، میرٹھ صرف ایک شہر نہیں رہا ہے بلکہ ثقافت اور طاقت کا ایک اہم مرکز رہا ہے"
ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں پر یقین ہو اور کھیلوں کو بطور پیشہ اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ میرا عزم اور میرا خواب ہے"
"گاؤں اور چھوٹے شہروں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے آغاز سے ، وہاں کے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے"
"وسائل اور نئے سلسلے کے ساتھ ابھرتا ہوا کھیلوں کا ماحولیاتی نظام نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔ اس سے معاشرے میں یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کی طرف بڑھنا درست فیصلہ ہے"
’’میرٹھ نہ صرف لوکل کے لیے ووکل ہے بلکہ مقامی کے لیے گلوبل بھی بن رہا ہے‘‘
"ہمارا مقصد واضح ہے۔ نوجوانوں کو نہ صرف رول ماڈل بننا چاہئے بلکہ اپنے رول ماڈل کو بھی پہچاننا چاہئے

نئی دہلی۔ 02 جنوری      وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اتر پردیش کے میرٹھ میں میجر دھیان چند اسپورٹس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔یہ ا سپورٹس یونیورسٹی تقریباً 700 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کی جائے گی اور جدید اور جدید ترین کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے سے آراستہ ہوگی جس میں مصنوعی ہاکی گراؤنڈ، فٹ بال گراؤنڈ، باسکٹ بال/ والی بال/ ہینڈ بال/ کبڈی گراؤنڈ، لان ٹینس کورٹ، جمنازیم ہال، مصنوعی رننگ اسٹیڈیم، سوئمنگ پول، کثیر مقصدی ہال اور ایک سائیکلنگ ویلڈروم شامل ہیں۔ یونیورسٹی میں دیگر سہولیات کے علاوہ شوٹنگ، اسکواش، جمناسٹک، ویٹ لفٹنگ، تیر اندازی، کینوئنگ اور کیکنگ کی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔ یونیورسٹی میں 540 خواتین اور 540 مرد کھلاڑیوں سمیت 1080 کھلاڑیوں کو تربیت دینے کی صلاحیت ہوگی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے آزاد ہندوستان کو ایک نئی سمت دینے میں میرٹھ اور آس پاس کے علاقے کی اہم شراکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے لوگوں نے قوم کے دفاع کے لیے سرحد پر قربانیاں دی ہیں اور کھیل کے میدان میں ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اس خطے نے حب الوطنی کے شعلے کو زندہ رکھا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا "ہندوستانی تاریخ میں، میرٹھ صرف ایک شہر ہی  نہیں بلکہ ثقافت اور طاقت کا ایک اہم مرکز بھی رہا ہے"۔ وزیر اعظم نے آزادی کے عجائب گھر، امر جوان جیوتی اور بابا اوگھر ناتھ جی کے مندر میں انہوں نے ، جو جوش و جذبہ محسوس کیا ، اس کا بھی اظہار کیا ۔

وزیر اعظم نے میجر دھیان چند ،جو میرٹھ میں سرگرم تھے، کو یاد کیا ۔ چند ماہ قبل مرکزی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے اسپورٹس ایوارڈ کو کھیل کے اس آئیکون کے  نام سے منسوب کیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میرٹھ کی اسپورٹس یونیورسٹی آج میجر دھیان چند  کے نام وقف کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے ریاست اتر پردیش میں اخلاقیات کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پہلے مجرم اور مافیا اپنا کھیل کھیلا کرتے تھے۔ انہوں نے اس دور کو یاد کیا جب غیر قانونی قبضے، بیٹیوں کو ہراساں کرنے  والے آزادانہ گھومتے تھے۔ انہوں نے ماضی کے عدم تحفظ اور لاقانونیت کو یاد کیا ۔ انہوں نے یوگی حکومت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت ایسے مجرموں میں قانون کا خوف مسلط کر رہی ہے۔ اس تبدیلی نے بیٹیوں میں پورے ملک کے لیے نام روشن کرنے کا اعتماد پیدا کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان نئے ہندوستان کا سنگ میل اور توسیع بھی ہیں۔ نوجوان ہی نئے ہندوستان کے معمار اور رہنما بھی ہیں۔ آج ہمارے نوجوانوں کے پاس قدیم ورثہ اور جدیدیت کا احساس بھی ہے ۔ اور اس طرح جہاں نوجوان جائیں گے وہیں ہندوستان بھی جائے گا۔ اور دنیا وہیں جارہی ہے جہاں ہندوستان جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پچھلے کچھ سالوں میں، ان کی حکومت نے ہندوستانی کھلاڑیوں کےلیے وسائل، تربیت کے لیے جدید سہولیات، بین الاقوامی ایکسپوزر اور انتخاب میں شفافیت جیسے چارآلات حاصل کرنے کو اولین ترجیح دی ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کا کھیلوں پر اعتماد ہو اور انہیں کھیلوں کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔انہوں نے کہا  "یہ میرا عزم ہے، اور میرا خواب بھی! میری خواہش ہے کہ ہمارے نوجوان کھیلوں کو دوسرے پیشوں کی طرح دیکھیں"۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے کھیلوں کو روزگار سے جوڑاہے۔ ٹارگٹ اولمپکس پوڈیم (ٹی او پی ایس) جیسی اسکیمیں سرکردہ کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے ہر طرح کی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ کھیلو انڈیا ابھیان بہت جلدصلاحیت کی شناخت کر رہا ہے اور انہیں بین الاقوامی سطح کے لیے تیار کرنے کے لیے ہر طرح کی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اولمپکس اور پیرا اولمپکس میں ہندوستان کی حالیہ کارکردگی کھیل کے میدان میں ایک نئے ہندوستان کے عروج کا ثبوت ہے۔ گاؤں اور چھوٹے شہروں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے آغاز سے ، ان شہروں کے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں کھیلوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کھیلوں کو اب سائنس، کامرس یا دیگر علوم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ پہلے کھیلوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کے طور پر سمجھا جاتا تھا، لیکن اب کھیلوں کے اسکولوں میں اسے ایک مناسب مضمون کے طور پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسپورٹس، اسپورٹس مینجمنٹ، اسپورٹس رائٹنگ، اسپورٹس سائیکولوجی وغیرہ پر مشتمل کھیلوں کا ماحولیاتی نظام نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کی جانب قدم بڑھانا درست فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسائل کے ساتھ کھیلوں کا کلچر تشکیل پاتا ہے اور اسپورٹس یونیورسٹی اس میں بڑا کردار ادا کرے گی۔ میرٹھ کے کھیلوں کی ثقافت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ یہ شہر 100 سے زائد ممالک کو کھیلوں کا سامان برآمد کرتا ہے۔ اس طرح، میرٹھ نہ صرف مقامی کے لیے ووکل ہے بلکہ مقامی کے لیے  گلوبل بھی بن رہا ہے، وزیر اعظم نے ابھرتے ہوئے کھیلوں کے ذریعہ  ملک کو اس شعبے میں خود انحصار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ اتر پردیش میں ڈبل انجن والی حکومت کئی یونیورسٹیاں قائم کر رہی ہے۔ گورکھپور میں مہایوگی گرو گورکھ ناتھ آیوش یونیورسٹی، پریاگ راج میں ڈاکٹر راجندر پرساد لاء یونیورسٹی، لکھنؤ میں اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک سائنس، علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی، سہارنپور میں ما ں شکومبری یونیورسٹی اور میرٹھ میں میجر دھیان چند یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا "ہمارا مقصد واضح ہے۔ نوجوانوں کو نہ صرف رول ماڈل بننا چاہئے بلکہ اپنے رول ماڈل کو بھی پہچاننا چاہئے”۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ سوامیتو اسکیم کے تحت 75 اضلاع میں 23 لاکھ سے زیادہ ٹائٹل (گھروونی) دیے گئے ہیں۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ریاست کے کسانوں کو ان کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپےمنتقل کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ گنے کے کاشتکاروں کو ریکارڈ ادائیگی سے ریاست کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوا ہے۔ اسی طرح اتر پردیش سے 12 ہزار کروڑ روپے کا ایتھنول خریدا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومتوں کا کردار ایک سرپرست جیسا ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صلاحیت مند  افراد کی حوصلہ افزائی کرے اور غلطیوں کو نوجوانوں کی حماقت قرار دینے کی کوشش نہ کرے۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لیے ریکارڈ تعداد میں سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے موجودہ اتر پردیش حکومت کو مبارکباد دی۔ آئی ٹی آئی سے تربیت حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کو بڑی کمپنیوں میں ملازمت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اپرنٹس شپ اسکیم اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا سے لاکھوں نوجوانوں نے استفادہ کیا ہے۔ میرٹھ گنگا ایکسپریس وے، ریجنل ریپڈ ریل ٹرانزٹ سسٹم اور میٹرو کے ذریعے رابطے کا مرکز بھی بن رہا ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.