بینا – پَنکی کثیر مصنوعاتی پائپ لائن پروجیکٹ کا افتتاح کیا
’’ اتر پردیش کی ڈبل انجن والی حکومت آج ماضی میں ضائع ہوئے وقت کی بھرپائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ہم دوہری رفتار سے کام کر رہے ہیں ‘‘
’’ ہماری حکومت نے کانپور میٹرو کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت ہی اِسے وقف کر رہی ہے ۔ ہماری حکومت نے پوروانچل ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت نے کام مکمل کیا ‘‘
’’ اگر ہم اتر پردیش میں کانپور میٹرو ریل کی لمبائی کو شامل کریں تو یہ 90 کلو میٹر سے تجاوز کر گئی ہے ۔ 2014 ء میں یہ صرف 9 کلو میٹر اور 2017 ء میں صرف 18 کلو میٹر تھی ‘‘
’’ ریاستوں کی سطح پر سماج میں نا برابری کو ختم کرنا بہت اہم ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ سب کا وِکاس کے منتر پر کام کر رہی ہے ‘‘
’’ ڈبلو انجن والی حکومت جانتی ہے کہ کس طرح بڑے ہدف مقرر کئے جائیں اور کس طرح انہیں حاصل کیا جائے ‘‘

نئی دلّی ،28 دسمبر/ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کانپور میٹرو ریل پروجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے کانپور میٹرو ریل پروجیکٹ کا معائنہ کیا اور آئی آئی ٹی میٹرو اسٹیشن سے گیتا نگر تک کا میٹرو سے سفر کیا ۔ انہوں نے  بینا – پَنکی کثیر مصنوعاتی پائپ لائن پروجیکٹ کا افتتاح کیا   ۔ یہ پائپ لائن مدھہ پردیش میں بینا سے کانپور میں پَنکی  تک پہنچی ہے اور یہ خطے میں بینا ریفائنری سے پیٹرولیم مصنوعات کی رسائی میں مدد کرے گی ۔  اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ ،  مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری دیگر  شخصیات کے ساتھ موجود تھے ۔

          وزیر اعظم نے میٹرو کنکٹیویٹی اور پائپ لائن پروجیکٹ کے افتتاح پر  کانپور کے عوام کو  مبارکباد دی ۔ شہر سے اپنی  طویل وابستگی کو یار کرتے ہوئے ، انہوں نے  کئی مقامی  لوگوں کے حوالے سے اپنی تقریر شروع کی  اور  کانپور کے    خوش باش اور مزاح پسند لوگوں  کی باتوں کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے دین دیال اپادھیائے ، اٹل بہاری واجپئی اور سندر سنگھ بھنڈاری جیسی شخصیات   کی تشکیل میں  شہر  کے رول کا ذکر کیا ۔  انہوں نے آج کے دن یعنی منگل کے دن کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش پَنکی والے ہنومان جی کے آشیر واد سے اتر پردیش کی ترقی میں ایک اور سنہرے باب کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی ڈبل انجن والی حکومت  آج گزرے ہوئے وقت کے زیاں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوگنی رفتار سے کام کر رہے ہیں ۔

          وزیر اعظم نے  اتر پردیش ریاست کی  شبیہہ میں تبدیلی کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ریاست ، جو غیر قانونی ہتھیاروں کے لئے جانی جاتی تھی ، اب دفاعی راہداری کا مرکز ہے اور ملک کے تحفظ اور سلامتی میں تعاون کر رہی ہے ۔ وقت کی حد  پر عمل کرنے کے کلچر  پر تبصرہ کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ڈبل انجن والی حکومتیں  ، اُن کاموں کو پورا کرنے کے لئے دن رات کام کرتی ہیں ، جن کا آج سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے ۔  جناب مودی نے وضاحت کی  کہ  ہماری حکومت نے کانپور میٹرو کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت ہی  اِسے وقف کر رہی ہے ۔ ہماری حکومت نے پوروانچل ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا ، ہماری حکومت نے ہی ، اِس کا کام مکمل کیا ۔  انہوں نے اتر پردیش میں بننے والے سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے ، ملک میں سب سے طویل ایکسپریس وے  کی تعمیر  اور  اتر پردیش میں  مال برداری کے لئے وقف  راہداری  جیسی بڑی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا ۔

          وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ 2014 ء سے پہلے  اتر پردیش میں چلنے والی میٹرو کی کل لمبائی 9 کلو میٹر تھی ۔ 2014 ء اور 2017 ء کے درمیان میٹرو کی لمبائی بڑھ کر 18 کلو میٹر ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ  اگر ہم آج کانپور میٹرو کو بھی شامل کریں تو ریاست میں میٹرو کی لمبائی ، اب 90 کلو میٹر سے تجاوز کر گئی ہے ۔

          ماضی میں غیر یکساں ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اگر ایک حصہ ترقی کرتا تھا تو دوسرا پیچھے چھوٹ جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی  سطح پر  سماج میں ، اِس نا برابری کو ختم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ سب کا وِکاس کے منتر پر  کام کر رہی ہے ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کی ضروریات کو سمجھنے کے لئے ڈبل انجن کی حکومت  ٹھوس کام کر رہی ہے ۔  وزیر اعظم نے  اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اس سے پہلے پائپ کے ذریعے پانی اتر پردیش کے کروڑوں گھروں میں نہیں پہنچتا تھا ۔ آج ہم ہر گھر جل مشن کے ذریعے  اترپردیش کے ہر گھر میں   صاف پانی فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔

          ڈبل انجن کی حکومت  ، اتر پردیش کو ترقی کی نئی اونچائیوں تک لے جانے کے لئے سنجیدگی اور جوابدہی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔   ڈبل انجن کی حکومت جانتی ہے کہ کس طرح بڑے اہداف مقرر کئے جائیں اور کس طرح انہیں حاصل کیا جائے ۔ انہوں نے بجلی کی ترسیل کی صورتِحال ، اس میں بہتری ، شہروں اور دریاؤں میں صفائی  ستھرائی کی مثالیں دیں ۔ انہوں نے بتایا کہ  2014 ء تک شہری غریبوں کے لئے صرف ڈھائی لاکھ مکانات بنائے گئے تھے ، جب کہ   پچھلے ساڑھے چار برسوں کے دوران 17 لاکھ مکانوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ اسی طرح  ریڑھی پٹری والوں کو پہلی مرتبہ حکومت کی توجہ ملی ہے اور  پی ایم سوا ندھی یوجنا کے ذریعے ریاست میں  7 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو 700 کروڑ روپئے سے زیادہ ملے ہیں ۔  وباء کے دوران حکومت نے  ریاست کے 15 کروڑ سے زیادہ  شہریوں کے لئے  مفت راشن کا بندوبست کیا ۔ 2014 ء میں ملک میں صرف 14 کروڑ ایل پی جی کنکشن تھے ، اب 30 کروڑ سے زیادہ ہیں  ۔ صرف اتر پردیش میں ہی 1.60 کروڑ  کنبوں کو نئے ایل پی جی کنکشن ملے ہیں ۔

          امن و قانون کی بہتر  صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے یوگی حکومت کے ذریعے مافیا کلچر کے خاتمے کا ذکر کیا ، جس سے اترپردیش میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ۔  کاروبار  اور صنعت  کے کلچر کو فروغ دینے کی خاطر حکومت نے کانپور میں  اور فضل گنج میں میگا لیدر کلسٹر کو منظوری دی ہے ۔ ڈیفنس کاریڈور اور ایک ضلع ایک مصنوعات  جیسی اسکیموں سے  کانپور کے چھوٹے کاروباریوں اور صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون کے ڈر سے اب  جرائم پیشہ افراد پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے    کہا کہ حال ہی  میں عہدیداروں کے ذریعے چھاپوں کے ذریعے غیر قانونی رقم کا پتہ لگائے جانے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ لوگ  اب ایسے لوگوں  کے  ورک کلچر کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Firm economic growth helped Indian automobile industry post 12.5% sales growth

Media Coverage

Firm economic growth helped Indian automobile industry post 12.5% sales growth
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
April 14, 2024
BJP's manifesto is a picture of the future and bigger changes: PM Modi in Mysuru
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
India will be world's biggest Innovation hub, creating affordable medicines, technology, and vehicles: PM Modi in Mysuru

नीमागेल्ला नन्ना नमस्कारागलु।

आज चैत्र नवरात्र के पावन अवसर पर मुझे ताई चामुंडेश्वरी के आशीर्वाद लेने का अवसर मिल रहा है। मैं ताई चामुंडेश्वरी, ताई भुवनेश्वरी और ताई कावेरी के चरणों में प्रणाम करता हूँ। मैं सबसे पहले आदरणीय देवगौड़ा जी का हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। आज भारत के राजनीति पटल पर सबसे सीनियर मोस्ट राजनेता हैं। और उनके आशीर्वाद प्राप्त करना ये भी एक बहुत बड़ा सौभाग्य है। उन्होंने आज जो बातें बताईं, काफी कुछ मैं समझ पाता था, लेकिन हृदय में उनका बहुत आभारी हूं। 

साथियों

मैसुरु और कर्नाटका की धरती पर शक्ति का आशीर्वाद मिलना यानि पूरे कर्नाटका का आशीर्वाद मिलना। इतनी बड़ी संख्या में आपकी उपस्थिति, कर्नाटका की मेरी माताओं-बहनों की उपस्थिति ये साफ बता रही है कि कर्नाटका के मन में क्या है! पूरा कर्नाटका कह रहा है- फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार!

साथियों,

आज का दिन इस लोकसभा चुनाव और अगले five years के लिए एक बहुत अहम दिन है। आज ही बीजेपी ने अपना ‘संकल्प-पत्र’ जारी किया है। ये संकल्प-पत्र, मोदी की गारंटी है। और देवगौड़ा जी ने अभी उल्लेख किया है। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अपना घर देने के लिए Three crore नए घर बनाएंगे। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अगले Five year तक फ्री राशन मिलता रहेगा। ये मोदी की गारंटी है कि- Seventy Year की आयु के ऊपर के हर senior citizen को आयुष्मान योजना के तहत फ्री चिकित्सा मिलेगी। ये मोदी की गारंटी है कि हम Three crore महिलाओं को लखपति दीदी बनाएँगे। ये गारंटी कर्नाटका के हर व्यक्ति का, हर गरीब का जीवन बेहतर बनाएँगी।

साथियों,

आज जब हम Ten Year पहले के समय को याद करते हैं, तो हमें लगता है कि हम कितना आगे आ गए। डिजिटल इंडिया ने हमारे जीवन को तेजी से बदला है। बीजेपी का संकल्प-पत्र, अब भविष्य के और बड़े परिवर्तनों की तस्वीर है। ये नए भारत की तस्वीर है। पहले भारत खस्ताहाल सड़कों के लिए जाना जाता था। अब एक्सप्रेसवेज़ भारत की पहचान हैं। आने वाले समय में भारत एक्सप्रेसवेज, वॉटरवेज और एयरवेज के वर्ल्ड क्लास नेटवर्क के निर्माण से विश्व को हैरान करेगा। 10 साल पहले भारत टेक्नालजी के लिए दूसरे देशों की ओर देखता था। आज भारत चंद्रयान भी भेज रहा है, और सेमीकंडक्टर भी बनाने जा रहा है। अब भारत विश्व का बड़ा Innovation Hub बनकर उभरेगा। यानी हम पूरे विश्व के लिए सस्ती मेडिसिन्स, सस्ती टेक्नोलॉजी और सस्ती गाडियां बनाएंगे। भारत वर्ल्ड का research and development, R&D हब बनेगा। और इसमें वैज्ञानिक रिसर्च के लिए एक लाख करोड़ रुपये के फंड की भी बड़ी भूमिका होगी। कर्नाटका देश का IT और technology hub है। यहाँ के युवाओं को इसका बहुत बड़ा लाभ मिलेगा।

साथियों,

हमने संकल्प-पत्र में स्थानीय भाषाओं को प्रमोट करने की बात कही है। हमारी कन्नड़ा देश की इतनी समृद्ध भाषा है। बीजेपी के इस मिशन से कन्नड़ा का विस्तार होगा और उसे बड़ी पहचान मिलेगी। साथ ही हमने विरासत के विकास की गारंटी भी दी है। हमारे कर्नाटका के मैसुरु, हम्पी और बादामी जैसी जो हेरिटेज साइट्स हैं, हम उनको वर्ल्ड टूरिज़्म मैप पर प्रमोट करेंगे। इससे कर्नाटका में टूरिज्म और रोजगार के नए अवसर सृजित होंगे।

साथियों,

इन सारे लक्ष्यों की प्राप्ति के लिए भाजपा जरूरी है, NDA जरूरी है। NDA जो कहता है वो करके दिखाता है। आर्टिकल-370 हो, तीन तलाक के खिलाफ कानून हो, महिलाओं के लिए आरक्षण हो या राम मंदिर का भव्य निर्माण, भाजपा का संकल्प, मोदी की गारंटी होता है। और मोदी की गारंटी को सबसे बड़ी ताकत कहां से मिलती है? सबसे बड़ी ताकत आपके एक वोट से मिलती है। आपका हर वोट मोदी की ताकत बढ़ाता है। आपका हर एक वोट मोदी की ऊर्जा बढ़ाता है।

साथियों,

कर्नाटका में तो NDA के पास एचडी देवेगौड़ा जी जैसे वरिष्ठ नेता का मार्गदर्शन है। हमारे पास येदुरप्पा जी जैसे समर्पित और अनुभवी नेता हैं। हमारे HD कुमारास्वामी जी का सक्रिय सहयोग है। इनका ये अनुभव कर्नाटका के विकास के लिए बहुत काम आएगा।

साथियों,

कर्नाटका उस महान परंपरा का वाहक है, जो देश की एकता और अखंडता के लिए अपना सब कुछ बलिदान करना सिखाता है। यहाँ सुत्तुरू मठ के संतों की परंपरा है। राष्ट्रकवि कुवेम्पु के एकता के स्वर हैं। फील्ड मार्शल करियप्पा का गौरव है। और मैसुरु के राजा कृष्णराज वोडेयर के द्वारा किए गए विकास कार्य आज भी देश के लिए एक प्रेरणा हैं। ये वो धरती है जहां कोडगु की माताएं अपने बच्चों को राष्ट्रसेवा के लिए सेना में भेजने के सपना देखती है। लेकिन दूसरी तरफ कांग्रेस पार्टी भी है। कांग्रेस पार्टी आज टुकड़े-टुकड़े गैंग की सुल्तान बनकर घूम रही है। देश को बांटने, तोड़ने और कमजोर करने के काँग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे आज भी वैसे ही हैं। आर्टिकल 370 के सवाल पर काँग्रेस के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने कहा कि कश्मीर का दूसरे राज्यों से क्या संबंध? और, अब तो काँग्रेस देश से घृणा की सारी सीमाएं पार कर चुकी है। कर्नाटका की जनता साक्षी है कि जो भारत के खिलाफ बोलता है, कांग्रेस उसे पुरस्कार में चुनाव का टिकट दे देती है। और आपने हाल में एक और दृश्य देखा होगा, काँग्रेस की चुनावी रैली में एक व्यक्ति ने ‘भारत माता की जय’ के नारे लगवाए। इसके लिए उसे मंच पर बैठे नेताओं से परमीशन लेनी पड़ी। क्या भारत माता की जय बोलने के लिए परमीशन लेनी पड़े। क्या ऐसी कांग्रेस को देश माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को कर्नाटका माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को मैसुरू माफ करेगा। पहले वंदेमातरम् का विरोध, और अब ‘भारत माता की जय’ कहने तक से चिढ़!  ये काँग्रेस के पतन की पराकाष्ठा है।

साथियों,

आज काँग्रेस पार्टी सत्ता के लिए आग का खेल खेल रही है। आज आप देश की दिशा देखिए, और काँग्रेस की भाषा देखिए! आज विश्व में भारत का कद और सम्मान बढ़ रहा है। बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। दुनिया में भारत का नाम हो रहा है कि नहीं हो रहा है। भारत का गौरव बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। हर भारतीय को दुनिया गर्व से देखती है कि नहीं देखती है। तो काँग्रेस के नेता विदेशों में जाकर देश को नीचा दिखाने के कोई मौके छोड़ते नहीं हैं। देश अपने दुश्मनों को अब मुंहतोड़ जवाब देता है, तो काँग्रेस सेना से सर्जिकल स्ट्राइक के सबूत मांगती है। आतंकी गतिविधियों में शामिल जिस संगठन पर बैन लगता है। काँग्रेस उसी के पॉलिटिकल विंग के साथ काम कर रहा है। कर्नाटका में तुष्टीकरण का खुला खेल चल रहा है। पर्व-त्योहारों पर रोक लगाने की कोशिश हो रही है। धार्मिक झंडे उतरवाए जा रहे हैं। आप मुझे बताइये, क्या वोटबैंक का यही खेल खेलने वालों के हाथ में देश की बागडोर दी जा सकती है। दी जा सकती है।

साथियों, 

हमारा मैसुरु तो कर्नाटका की कल्चरल कैपिटल है। मैसुरु का दशहरा तो पूरे विश्व में प्रसिद्ध है। 22 जनवरी को अयोध्या में 500 का सपना पूरा हुआ। पूरा देश इस अवसर पर एक हो गया। लेकिन, काँग्रेस के लोगों ने, उनके साथी दलों ने राममंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा जैसे पवित्र समारोह तक पर विषवमन किया! निमंत्रण को ठुकरा दिया। जितना हो सका, इन्होंने हमारी आस्था का अपमान किया। कांग्रेस और इंडी अलायंस ने राममंदिर प्राण-प्रतिष्ठा का बॉयकॉट कर दिया। इंडी अलांयस के लोग सनातन को समाप्त करना चाहते हैं। हिन्दू धर्म की शक्ति का विनाश करना चाहते हैं। लेकिन, जब तक मोदी है, जब तक मोदी के साथ आपके आशीर्वाद हैं, ये नफरती ताक़तें कभी भी सफल नहीं होंगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

Twenty twenty-four का लोकसभा चुनाव अगले five years नहीं, बल्कि twenty forty-seven के विकसित भारत का भविष्य तय करेगा। इसीलिए, मोदी देश के विकास के लिए अपना हर पल लगा रहा है। पल-पल आपके नाम। पल-पल देख के नाम। twenty-four बाय seven, twenty-four बाय seven for Twenty Forty-Seven.  मेरा ten years का रिपोर्ट कार्ड भी आपके सामने है। मैं कर्नाटका की बात करूं तो कर्नाटका के चार करोड़ से ज्यादा लोगों को मुफ्त राशन मिल रहा है। Four lakh fifty thousand गरीब परिवारों को कर्नाटका में पीएम आवास मिले हैं। One crore fifty lakh से ज्यादा गरीबों को मुफ्त इलाज की गारंटी मिली है। नेशनल हाइवे के नेटवर्क का भी यहाँ बड़ा विस्तार किया गया है। मैसुरु से बेंगलुरु के बीच एक्सप्रेसवे ने इस क्षेत्र को नई गति दी है। आज देश के साथ-साथ कर्नाटका में भी वंदेभारत ट्रेनें दौड़ रही हैं। जल जीवन मिशन के तहत Eight Thousand से अधिक गांवों में लोगों को नल से जल मिलने लगा है। ये नतीजे बताते हैं कि अगर नीयत सही, तो नतीजे भी सही! आने वाले Five Years में विकास के काम, गरीब कल्याण की ये योजनाएँ शत प्रतिशत लोगों तक पहुंचेगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

मोदी ने अपने Ten year साल का हिसाब देना अपना कर्तव्य माना है। क्या आपने कभी काँग्रेस को उसके sixty years का हिसाब देते देखा है? नहीं न? क्योंकि, काँग्रेस केवल समस्याएँ पैदा करना जानती है, धोखा देना जानती है। कर्नाटका के लोग इसी पीड़ा में फंसे हुये हैं। कर्नाटका काँग्रेस पार्टी की लूट का ATM स्टेट बन चुका है। खाली लूट के कारण सरकारी खजाना खाली हो चुका है। विकास और गरीब कल्याण की योजनाओं को बंद किया जा रहा है। वादा किसानों को मुफ्त बिजली का था, लेकिन किसानों को पंपसेट चलाने तक की बिजली नहीं मिल रही। युवाओं की, छात्रों की स्कॉलर्शिप तक में कटौती हो रही है। किसानों को किसान सम्मान निधि में राज्य सरकार की ओर से मिल रहे four thousands रुपए बंद कर दिये गए हैं। देश का IT hub बेंगलुरु पानी के घनघोर संकट से जूझ रहा है। पानी के टैंकर की कालाबाजारी हो रही है। इन सबके बीच, काँग्रेस पार्टी को चुनाव लड़वाने के लिए hundreds of crores रुपये ब्लैक मनी कर्नाटका से देशभर में भेजा जा रहा है। ये काँग्रेस के शासन का मॉडल है। जो अपराध इन्होंने कर्नाटका के साथ किया है, इसकी सजा उन्हें Twenty Six  अप्रैल को देनी है। 26 अप्रैल को देनी है।

साथियों,

मैसूरु से NDA के उम्मीदवार श्री यदुवीर कृष्णदत्त चामराज वोडेयर, चामराजनागर से श्री एस बालाराज, हासन लोकसभा से एनडीए के श्री प्रज्जवल रेवन्ना और मंड्या से मेरे मित्र श्री एच डी कुमार स्वामी,  आने वाली 26 अप्रैल को इनके लिए आपका हर वोट मोदी को मजबूती देगा। देश का भविष्य तय करेगा। मैसुरु की धरती से मेरी आप सभी से एक और अपील है। मेरा एक काम करोगे। जरा हाथ ऊपर बताकर के बताइये, करोगे। कर्नाटका के घर-घर जाना, हर किसी को मिलना और मोदी जी का प्रणाम जरूर पहुंचा देना। पहुंचा देंगे। पहुंचा देंगे।

मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय

भारत माता की जय

भारत माता की जय

बहुत बहुत धन्यवाद।