بینا – پَنکی کثیر مصنوعاتی پائپ لائن پروجیکٹ کا افتتاح کیا
’’ اتر پردیش کی ڈبل انجن والی حکومت آج ماضی میں ضائع ہوئے وقت کی بھرپائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ہم دوہری رفتار سے کام کر رہے ہیں ‘‘
’’ ہماری حکومت نے کانپور میٹرو کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت ہی اِسے وقف کر رہی ہے ۔ ہماری حکومت نے پوروانچل ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت نے کام مکمل کیا ‘‘
’’ اگر ہم اتر پردیش میں کانپور میٹرو ریل کی لمبائی کو شامل کریں تو یہ 90 کلو میٹر سے تجاوز کر گئی ہے ۔ 2014 ء میں یہ صرف 9 کلو میٹر اور 2017 ء میں صرف 18 کلو میٹر تھی ‘‘
’’ ریاستوں کی سطح پر سماج میں نا برابری کو ختم کرنا بہت اہم ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ سب کا وِکاس کے منتر پر کام کر رہی ہے ‘‘
’’ ڈبلو انجن والی حکومت جانتی ہے کہ کس طرح بڑے ہدف مقرر کئے جائیں اور کس طرح انہیں حاصل کیا جائے ‘‘

نئی دلّی ،28 دسمبر/ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کانپور میٹرو ریل پروجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے کانپور میٹرو ریل پروجیکٹ کا معائنہ کیا اور آئی آئی ٹی میٹرو اسٹیشن سے گیتا نگر تک کا میٹرو سے سفر کیا ۔ انہوں نے  بینا – پَنکی کثیر مصنوعاتی پائپ لائن پروجیکٹ کا افتتاح کیا   ۔ یہ پائپ لائن مدھہ پردیش میں بینا سے کانپور میں پَنکی  تک پہنچی ہے اور یہ خطے میں بینا ریفائنری سے پیٹرولیم مصنوعات کی رسائی میں مدد کرے گی ۔  اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ ،  مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری دیگر  شخصیات کے ساتھ موجود تھے ۔

          وزیر اعظم نے میٹرو کنکٹیویٹی اور پائپ لائن پروجیکٹ کے افتتاح پر  کانپور کے عوام کو  مبارکباد دی ۔ شہر سے اپنی  طویل وابستگی کو یار کرتے ہوئے ، انہوں نے  کئی مقامی  لوگوں کے حوالے سے اپنی تقریر شروع کی  اور  کانپور کے    خوش باش اور مزاح پسند لوگوں  کی باتوں کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے دین دیال اپادھیائے ، اٹل بہاری واجپئی اور سندر سنگھ بھنڈاری جیسی شخصیات   کی تشکیل میں  شہر  کے رول کا ذکر کیا ۔  انہوں نے آج کے دن یعنی منگل کے دن کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش پَنکی والے ہنومان جی کے آشیر واد سے اتر پردیش کی ترقی میں ایک اور سنہرے باب کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی ڈبل انجن والی حکومت  آج گزرے ہوئے وقت کے زیاں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوگنی رفتار سے کام کر رہے ہیں ۔

          وزیر اعظم نے  اتر پردیش ریاست کی  شبیہہ میں تبدیلی کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ریاست ، جو غیر قانونی ہتھیاروں کے لئے جانی جاتی تھی ، اب دفاعی راہداری کا مرکز ہے اور ملک کے تحفظ اور سلامتی میں تعاون کر رہی ہے ۔ وقت کی حد  پر عمل کرنے کے کلچر  پر تبصرہ کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ڈبل انجن والی حکومتیں  ، اُن کاموں کو پورا کرنے کے لئے دن رات کام کرتی ہیں ، جن کا آج سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے ۔  جناب مودی نے وضاحت کی  کہ  ہماری حکومت نے کانپور میٹرو کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت ہی  اِسے وقف کر رہی ہے ۔ ہماری حکومت نے پوروانچل ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا ، ہماری حکومت نے ہی ، اِس کا کام مکمل کیا ۔  انہوں نے اتر پردیش میں بننے والے سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے ، ملک میں سب سے طویل ایکسپریس وے  کی تعمیر  اور  اتر پردیش میں  مال برداری کے لئے وقف  راہداری  جیسی بڑی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا ۔

          وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ 2014 ء سے پہلے  اتر پردیش میں چلنے والی میٹرو کی کل لمبائی 9 کلو میٹر تھی ۔ 2014 ء اور 2017 ء کے درمیان میٹرو کی لمبائی بڑھ کر 18 کلو میٹر ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ  اگر ہم آج کانپور میٹرو کو بھی شامل کریں تو ریاست میں میٹرو کی لمبائی ، اب 90 کلو میٹر سے تجاوز کر گئی ہے ۔

          ماضی میں غیر یکساں ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اگر ایک حصہ ترقی کرتا تھا تو دوسرا پیچھے چھوٹ جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی  سطح پر  سماج میں ، اِس نا برابری کو ختم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ سب کا وِکاس کے منتر پر  کام کر رہی ہے ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کی ضروریات کو سمجھنے کے لئے ڈبل انجن کی حکومت  ٹھوس کام کر رہی ہے ۔  وزیر اعظم نے  اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اس سے پہلے پائپ کے ذریعے پانی اتر پردیش کے کروڑوں گھروں میں نہیں پہنچتا تھا ۔ آج ہم ہر گھر جل مشن کے ذریعے  اترپردیش کے ہر گھر میں   صاف پانی فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔

          ڈبل انجن کی حکومت  ، اتر پردیش کو ترقی کی نئی اونچائیوں تک لے جانے کے لئے سنجیدگی اور جوابدہی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔   ڈبل انجن کی حکومت جانتی ہے کہ کس طرح بڑے اہداف مقرر کئے جائیں اور کس طرح انہیں حاصل کیا جائے ۔ انہوں نے بجلی کی ترسیل کی صورتِحال ، اس میں بہتری ، شہروں اور دریاؤں میں صفائی  ستھرائی کی مثالیں دیں ۔ انہوں نے بتایا کہ  2014 ء تک شہری غریبوں کے لئے صرف ڈھائی لاکھ مکانات بنائے گئے تھے ، جب کہ   پچھلے ساڑھے چار برسوں کے دوران 17 لاکھ مکانوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ اسی طرح  ریڑھی پٹری والوں کو پہلی مرتبہ حکومت کی توجہ ملی ہے اور  پی ایم سوا ندھی یوجنا کے ذریعے ریاست میں  7 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو 700 کروڑ روپئے سے زیادہ ملے ہیں ۔  وباء کے دوران حکومت نے  ریاست کے 15 کروڑ سے زیادہ  شہریوں کے لئے  مفت راشن کا بندوبست کیا ۔ 2014 ء میں ملک میں صرف 14 کروڑ ایل پی جی کنکشن تھے ، اب 30 کروڑ سے زیادہ ہیں  ۔ صرف اتر پردیش میں ہی 1.60 کروڑ  کنبوں کو نئے ایل پی جی کنکشن ملے ہیں ۔

          امن و قانون کی بہتر  صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے یوگی حکومت کے ذریعے مافیا کلچر کے خاتمے کا ذکر کیا ، جس سے اترپردیش میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ۔  کاروبار  اور صنعت  کے کلچر کو فروغ دینے کی خاطر حکومت نے کانپور میں  اور فضل گنج میں میگا لیدر کلسٹر کو منظوری دی ہے ۔ ڈیفنس کاریڈور اور ایک ضلع ایک مصنوعات  جیسی اسکیموں سے  کانپور کے چھوٹے کاروباریوں اور صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون کے ڈر سے اب  جرائم پیشہ افراد پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے    کہا کہ حال ہی  میں عہدیداروں کے ذریعے چھاپوں کے ذریعے غیر قانونی رقم کا پتہ لگائے جانے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ لوگ  اب ایسے لوگوں  کے  ورک کلچر کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”