بینا – پَنکی کثیر مصنوعاتی پائپ لائن پروجیکٹ کا افتتاح کیا
’’ اتر پردیش کی ڈبل انجن والی حکومت آج ماضی میں ضائع ہوئے وقت کی بھرپائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ہم دوہری رفتار سے کام کر رہے ہیں ‘‘
’’ ہماری حکومت نے کانپور میٹرو کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت ہی اِسے وقف کر رہی ہے ۔ ہماری حکومت نے پوروانچل ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھا اور ہماری حکومت نے کام مکمل کیا ‘‘
’’ اگر ہم اتر پردیش میں کانپور میٹرو ریل کی لمبائی کو شامل کریں تو یہ 90 کلو میٹر سے تجاوز کر گئی ہے ۔ 2014 ء میں یہ صرف 9 کلو میٹر اور 2017 ء میں صرف 18 کلو میٹر تھی ‘‘
’’ ریاستوں کی سطح پر سماج میں نا برابری کو ختم کرنا بہت اہم ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ سب کا وِکاس کے منتر پر کام کر رہی ہے ‘‘
’’ ڈبلو انجن والی حکومت جانتی ہے کہ کس طرح بڑے ہدف مقرر کئے جائیں اور کس طرح انہیں حاصل کیا جائے ‘‘

بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے اترپردیش کے مقبول وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، مرکزی کابینہ میں میرے معاون ہردیپ پوری جی، یہاں کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ جی، سادھوی نرنجن جیوتی جی، بھانو پرتاپ ورما جی، یوپی سرکار میں وزیر جناب ستیش مہانا جی، نیلم کٹیار جی، رنویندر پرتاپ جی، لکھن سنگھ جی، یہاں موجود تمام معزز ممبران پارلیمنٹ ، تمام معزز ممبران اسمبلی، دیگر تمام عوامی نمائندگان اور میرے پیارے بھائیو اور بہنوں! رشیوں- مونیوں کی تپ استھلی،آزادی کے مجاہدین اور انقلابیوں کی تحریک کی سرزمین ، آزاد ہندوستان کی صنعتی اہلیت کو توانائی دینے والے اِس کانپور کو میرا سلام۔ یہ کانپور ہی ہے ،جس نے پنڈت دین دیال اپادھیائے، سندر سنگھ بھنڈاری جی اور اٹل بہاری واجپئی جیسے وِجنری قیادت  کی تعمیرو تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے اور آج صرف کانپور کو ہی خوشی ہے، ایسا نہیں ہے، ورون دیوتا جی کو بھی اس خوشی میں حصہ لینے کا دل ہوگیا۔

ساتھیوں!

کانپور کے لوگوں کا جو مزاج ہے، جو کانپوریا انداز ہے، جو اُن کی حاضر جوابی ہے، اس کی مثال ہی نہیں دی جاسکتی۔ یہ ٹھگّو کے لڈّو کے یہاں کیا لکھا ہوتا ہے؟ ہاں ٹھگّو کے لڈّو کے یہاں کیا لکھا ہے۔ ایسا کوئی سگا کوئی نہیں۔۔۔۔ایسا کوئی سگا نہیں۔ اب آج تک آپ جو کہتے ہیں وہ کہتے رہئے، لیکن میں تو یہیں کہوں گا اور جب میں یہ کہتا ہوں تو کہوں گا یہ کانپور ہی ہے، جہاں ایسا کوئی نہیں ، جس کو دلار نہ ملا ہو۔ساتھیوں، جب تنظیم کے کام کے لئے میرا آپ کے درمیان آنا ہوتا تھا، تو خوب سنتا تھا –جھاڑے رہے کلٹّر گنج!!!آج بھی آپ لو گ بولتے ہیں یا نئی نسل کے لوگ بھول گئے۔

ساتھیوں!

آج منگل کا دن ہے اور پنکی والے ہنومان جی کے آشیرواد سے ، آج اترپردیش کی ترقی میں ایک اور سنہرا باب جڑ رہا ہے۔ آج کانپور کو میٹرو کنکٹی وٹی ملی ہے۔ ساتھ ہی بینا ریفائنری  سے بھی کانپور اب جڑ گیا ہے۔اس سے کان پور کے ساتھ ساتھ یوپی کے متعدد اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات اب اور آسانی سے دسیتاب ہوں گی۔اِن دونوں منصوبوں کے لئے آپ سب کو ، پورے اترپردیش کو بہت بہت مبارکباد۔ آپ سب کے درمیان آنے سے پہلے آئی آئی ٹی کانپور میں میرا پروگرام تھا۔ میں پہلی بار میٹرو کا سفر کرنے پر کانپور والوں کے احساس ، ان کے جوش و حوصلے کا گواہ بننا چاہتا تھا، اس لئے میں نے میٹرو سے سفر کرنا طے کیا۔ یہ میرے  لیے واقعی ایک یادگار تجربہ رہا ہے۔

ساتھیوں!

یوپی میں پہلے جن لوگوں نے سرکار چلائی انہوں نے وقت کی اہمیت کبھی نہیں سمجھی۔ 21ویں صدی کے جس عہد میں یوپ کو تیز رفتاری سے ترقی کرنی تھی ، اس قیمتی وقت کو ، اُس اہم موقعے کو پہلے کی سرکاروں نے گنوا دیا۔ان کی اولیت میں یوپی کی ترقی نہیں تھی۔ ان کی عہد بندی یوپی کے لوگوں کے لئے نہیں تھی۔آج اترپردیش میں جو ڈبل انجن کی سرکار چل رہی ہے، وہ گزرے ہوئے عہد میں وقت کا جو نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی میں بھی مصروف ہے۔ ہم دوگنی رفتار سے کام کررہے ہیں، آج ملک کا سب سے بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ یوپی میں بن رہا ہے۔ آج ملک کا سب سے طویل ایکسپریس وے یوپی میں بن رہا ہے۔آج ملک کا پہلا ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم یوپی میں بن رہا ہے۔ ڈیڈیکٹیڈفریٹ کوریڈور کا ہب بھی یوپی ہونے والا ہے۔ جس یوپی کبھی غیر قانونی ہتھیاروں والے گینگ کے لئے بدنام کیا گیا تھا، وہیں ملک کے تحفظ کے لئے دفاعی راہداری بن رہی ہے۔ساتھیوں، اِسی لئے یوپی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ فرق صاف ہے۔ یہ فرق صرف منصوبوں-پروجیکٹوں کا ہی نہیں ہے، بلکہ کام کرنے کے طریقے کا بھی ہے۔ ڈبل انجن کی سرکار جس کام کو شروع کرتی ہے، اسے پورا کرنے کے لئے بھی ہم دن رات ایک کردیتے ہیں۔  کانپور میٹرو کی تعمیر کا یہ کام ہماری سرکار میں شروع ہوا اور ہماری ہی سرکار اس کو وقف بھی کررہی ہے۔ پوروانچل ایکسپریس وے کا افتتاح ہماری سرکار نے کیا ، ہماری ہی سرکار نے اس کا کام پوراکیا۔ دہلی –میرٹھ ایکسپریس وے کا افتتاح ہماری سرکار نے ہی کیا اور اِسے مکمل کرکے عوام کو وقف کرنے کا کام بھی ہم نے ہی کیا۔ میں آپ کو ایسے متعدد پروجیکٹ گنوا سکتاہوں۔یعنی مشرق ہو یا مغرب یا پھر ہمارا یہ علاقہ۔ یوپی میں ہر پروجیکٹ کو وقت پر پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ اِس لئے ضروری ہے ، کیونکہ جب منصوبہ وقت پر پورا ہوتا ہے، تو ملک کے پیسے کا صحیح استعمال ہوا ہے، ملک کے لوگوں کو اِس کا فائدہ ملتا ہے ۔ آپ مجھے بتائیے ٹریفک جام کو لے کر کانپور کے لوگوں کی شکایت برسوں سے رہی ہے۔ آپ کا کتنا وقت اِس میں برباد ہوتا، کتنا پیسہ برباد ہوتا تھا۔ اب آج پہلے مرحلے کی 9کلومیٹر لائن شروع ہونے سے اِن شکایتوں کو دور کرنے کی ایک شروعات ہوئی ہے۔ کورونا کی مشکل چنوتی کے باوجود دو سال کے اندر ہی اِس سیکشن کا شروع ہونا اپنے آپ میں انتہائی قابل تعریف ہے۔

ساتھیوں!

آزادی کے بعد دہائیوں تک ہمارے ملک میں، ایک سوچ رہی ہے کہ جو بھی کچھ نیا ہوگا،  اچھاہوگا، وہ تین چار بڑے شہروں میں ہی ہوگا۔ ملک کے بڑے میٹرو شہروں کے علاوہ جو شہر تھے، انہیں اپنے حال پرچھوڑ دیا گیا۔ اِن شہروں میں رہنے والوں لوگوں کی کتنی بڑی طاقت ہے، انہیں سہولیات مہیا کرنا کتنا ضروری ہے، یہ پہلے سرکا رچلانے والے کبھی سمجھ ہی نہیں پائے۔ اِن شہروں کی آرزوؤں کو اِن میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کی آرزو پر پہلے جو سرکا رمیں تھے اُنہوں توجہ ہی نہیں دی۔ جو لوگ ابھی ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اُن کی ترقی کی کوئی نیت نہیں تھی، اب ہماری سرکار ملک کے ایسے اہم شہروں کی ترقی کو بھی اولیت دے رہی ہے۔اِن شہروں کے لئے ربط اچھا ہو، وہاں اعلیٰ تعلیم کے اچھے ادارے ہوں، بجلی کی دقت نہ ہو، پانی کی دقت نہ ہو، سیویج سسٹم جدید ہو، اِن سب پر کام کیا جارہا ہے۔اگر میں میٹرو ہی کی بات کروں تو کانپور میٹرو کے پہلے مرحلے کا آج افتتاح ہوا ہے۔آگرہ اور میرٹھ میٹرو پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ کئی دیگر شہروں میں بھی میٹرو کی تجویز ہے۔ لکھنؤ، نوئیڈا اور غازی آباد میں میٹرو کو مسلسل وسعت دی جاری ہے۔ جس تیزی سے یوپی میں میٹرو کا کام ہورہا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔

ساتھیوں!

میں جو اعدادوشمار دے رہا ہوں، وہ اعدادوشمار ذرا توجہ سے سنیے۔دھیان سے سنیں گے نا۔ دیکھئے سنیئے سال 2014 ءسے پہلے یوپی میں جتنی میٹرو چلتی تھی، اُس کی کل طوالت 9کلو میٹر تھی، سال 2014ء سے لے کر 2017ء کے درمیان میٹرو کی طوالت بڑھ کر 18کلومیٹر ہوئی۔آج کانپور میٹرو کو شامل کردیں، تو یوپی میں میٹرو کی طوالت اب 90کلومیٹر سے زیادہ ہوچکی ہے۔ پہلے کی سرکار کیسے کام کررہی تھی، آج یوگی جی کی سرکار کیسے کام کررہی ہے، تبھی تو یوپی کہتا ہے-فرق صاف ہے۔

ساتھیوں!

2014ء کے پہلے پورے ملک کے صرف پانچ شہروں میں میٹرو کی سہولت تھی۔یعنی میٹرو ریل، صرف میٹرو کہے جانے والے شہروں میں ہی تھی۔ آج تنہا یوپی کے پانچ شہروں میں میٹرو چل رہی ہے۔آج ملک کے 27شہروں میں میٹرو پر کام چل رہا ہے۔اِن شہروں میں رہنے والے غریب خاندانوں، متوسط طبقات کو آج میٹرو ریل کی وہ سہولت مل رہی ہے، جو میٹرو شہروں میں دستیاب ہوتی تھی۔شہری غریبوں کی زندگی کی سطح بلند کرنے کے لئے جو کوشش کی گئی ہے، اُن سے ٹیئر-2، ٹیئر-3شہروں میں نوجوانوں کی خود اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ یوپی میں تو ڈبل انجن سرکار بننے کے بعد اِس میں بہت تیزی آئی ہے۔

ساتھیوں!

کوئی بھی ملک ہو یا ریاست، غیر متوازن ترقی کے ساتھ وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔دہائیوں تک ہمارے ملک میں جو صورتحال رہی کہ ایک طبقے کی تو ترقی ہوئی، دوسرا پیچھے چھوٹ گیا۔ ریاستوں کی سطح پر ، سماج کی سطح پر اس عدم یکسانیت کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس لئے ہماری سرکار سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے اصول پر کام کررہی ہے۔سماج کے ہر فرد ، دلت، محروم، پسماندہ طبقات، قبائل سب کو ہماری سرکار کے م منصوبوں سے یکساں فائدہ مل رہا ہے۔ہماری سرکار اُن لوگوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جنہیں پہلے کبھی پوچھا نہیں گیا، جن پر پہلے کبھی توجہ نہیں دی گئی۔

ساتھیوں!

شہروں میں رہنے والے غریبوں کو بھی پہلے کی سرکاروں نے بہت نظر انداز کیا ہے۔ ایسے شہری غریبوں کے لئے آج پہلی بار ہماری سرکار پوری ایمانداری سے کام کررہی ہے۔میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ 2017ء سے پہلے کے 10 سالوں کے دوران یوپی میں شہری غریبوں کے لئے صرف ڈھائی لاکھ پختہ مکان ہی بن پائے تھے۔پچھلے 4.5سال میں یوپی سرکار نے شہری غریبوں کے لئے 17لاکھ سے زیادہ گھر منظور کئے ہیں۔ اِن میں سے 9.5لاکھ بن بھی چکے ہیں اور باقی پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں!

ہمارے گاؤں سے بہت سے ساتھی شہروں میں کام کرنے آتے ہیں، اِن میں سے بہت سے لوگ شہروں میں آکر ریہڑھی ، ٹھیلہ ، پٹری پر سامان فروخت کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔ آج پہلی بار ہماری ہی سرکار نے اِن لوگوں کی فکر کی ہے۔ اِنہیں بینکوں سے آسانی سے مدد ملے، یہ لوگ بھی ڈیجیٹل لین دین کریں، اس سمت میں ہماری سرکار کام کررہی ہے۔پی ایم سونِدھی یوجنا کا فائدہ یہاں کانپور کے بھی متعدد ریہڑھی پٹری والے ساتھیوں کو ہوا ہے۔یوپی میں سونِدھی یوجنا کے تحت 7لاکھ سے زیادہ ساتھیوں کو 700کروڑ روپے سے زیادہ دیا جا چکا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں!

عام لوگوں کی ضروریات کو سمجھنا، ان کی خدمت کرناہم سب کا فرض ہے۔ ڈبل انجن کی سرکار یوپی کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے دمدار کام کررہی ہے۔یوپی کے کروڑوں گھروں میں پہلے پائپ سے پانی نہیں پہنچتا تھا ۔ آج ہم گھر گھر جل مشن سے، یوپی کے ہر گھر تک صاف پانی پہنچانے میں مصروف ہیں۔کورونا کے اِس مشکل دور میں یوپی کے 15کروڑ سے زیادہ لوگوں کے لئے مفت راشن کا انتظام ہماری ہی سرکار نے کیا ہے۔

ساتھیوں!

جو لوگ پہلے سرکار میں تھے، وہ اِس ذہنیت کے ساتھ سرکار چلاتے تھے کہ پانچ سال کے لئے لاٹری لگی ہے، جتنا ہو سکے یوپی کو لوٹتے چلو۔ آپ نے خود دیکھا ہے کہ یوپی میں پہلے کی سرکاریں جو پروجیکٹ شروع کرتی تھیں،ان میں کیسے ہزاروں کروڑوں کا گھپلہ ہوجاتا تھا۔ اِن لوگوں نے کبھی یوپی کے لئے  بڑے اہداف  پر کام نہیں کیا، بڑے وژن کےساتھ کام نہیں کیا۔ اِنہوں نے خود کو کبھی یوپی کے عوام کے لئے جواب دہ سمجھا ہی نہیں۔ آج ڈبل انجن کی سرکار ایمانداری اور پوری جواب دہی کے ساتھ یوپی کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لئے کام کررہی ہے۔ ڈبل انجن کی سرکار بڑے اہداف طے کرنا  اور اُنہیں پوراکرنا جانتی ہے۔کون سوچ سکتا تھا کہ یوپی میں بجلی کی پیداوار سے لے کر ٹرانسمیشن تک میں بہتری آسکتی ہے۔بجلی کیوں گئی، لوگ یہ نہیں سوچتے تھے، انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ گھنٹوں کٹوتی ہونی ہے۔ اُن کی تسلی اِسی سے ہوجاتی تھی کہ بغل والے کے یہاں بھی بجلی گئی ہے یا نہیں۔

ساتھیوں!

کون سوچ سکتا تھا کہ گنگا جی میں گرنے والا سیسامؤ جیسا عظیم  اور بڑا نالا بھی ایک دن بند ہوسکتاہے، لیکن یہ کام ہماری ڈبل انجن کی سرکار نے کرکے دکھایا ہے۔ بی پی سی ایل کے پنکی کانپور ڈپو کی صلاحیت کو 4گناسے زیادہ بڑھانے سے بھی کانپور کو بہت راحت ملے گی۔

بھائیوں اور بہوں!

کنکٹی وٹی  اور کمیونکیشن سے جڑے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ گیس اور پیٹرولیم پائپ لائن ، بنیادی ڈھانچے پر جو کام ہوا ہے، اُس کا بھی یوپی کو بہت فائدہ ہوا ہے۔2014ء تک ملک میں صرف 14کروڑ ایل پی جی گیس کنکشن تھے۔آج 30کروڑ سے زیادہ گیس کنکشن ہیں۔ا کیلے یوپی میں ہی تقریباً ایک کروڑ 60لاکھ غریب خاندانوں کو نئے گیس کنکشن دیئے گئے ہیں۔ پائپ سے سستی گیس کے کنکشن سے بھی 7سالوں میں 9گنا ہوچکے ہیں۔ یہ اِس لئے ہو پارہا ہے، کیونکہ گزرے ہوئے سالوں میں پیٹرولیم نیٹ ورک کی غیر معمولی توسیع کی گئی ہے۔ بینا –پنکی ملٹی پروڈکٹ  پائپ لائن اِس نیٹ ورک کو اور مضبوطی دے گی۔اب بینا ریفائنری سے پیٹرول ڈیزل جیسی مصنوعات کے لئے کانپور سمیت یوپی کے متعدد اضلاع کو ٹرکوں پر منحصر نہیں رہنا ہوگا۔ اِ س سے یوپی میں ترقی کے انجن کو رُکے بغیر توانائی ملتی رہے گی۔

ساتھیوں!

کسی بھی ریاست میں سرمایہ کاری کے لئے صنعتوں کے پھلے پھولنے کے لئے قانون و انتظام کا راج ضروری ہے۔ یوپی میں پہلے جو سرکاریں رہیں، انہوں نے مافیا واد کے درخت کو اتنا پھیلا دیا کہ اُس کی چھاؤں میں سارے کام دھندے چوپٹ ہوگئے۔ اب یوگی جی کی سرکار قانون و انتظام کا راج واپس لائی ہے، اس لئے یہاں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور مجرم اپنی ضمانت خود رد کروا کر جیل جارہے ہیں۔ ڈبل انجن کی سرکار اب یوپی میں صنعتی کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہاں کانپور میں میگا لیدر کلسٹر کو منظوری دی جاچکی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کی صلاحیت سازی کے لئے فضل گنج میں ٹیکنالوجی سینٹر کا بھی قیام ہوا ہے۔ دفاعی راہداری ہو یا پھر ایک جن پد، ایک اُتپاد یوجنا ، اس کا فائدہ کانپور کے ہمارے صنعت کار دوستوں کو بھی ہوگا۔

ساتھیوں!

مرکزی سرکار کی طرف بھی ایز آف ڈوئنگ بزنس بڑھانے کے لئے مسلسل کام ہورہا ہے۔ نئی اِکائیوں کے لئے کارپوریٹ ٹیکس میں کٹوتی کرکے 15فیصد کرنا ہو، جی ایس ٹی شروحوں کمی کرنا ہو، ڈھیر ساری قوانین کے جال کو ختم کرنا ہو، فیس لیس اسسمنٹ ہو، اسی سمت میں اٹھائے گئے قدم ہیں۔ نئے شعبوں کو بڑھاوا دینے کے لئے سرکا رنے پیداوار سے مربوط پہل بھی شروع کی ہے۔ سرکارنے کمپنی قوانین کے بہت سارے التزامات کو بھی ختم کردیا ہے، جو ہمارے کاروباری ساتھیوں کے مشکلات میں اضافہ کرتے تھے۔

بھائیوں اور بہنوں!

جن پارٹیوں کی اقتصادی پالیسی ہی بدعنوانی ہو، جن کی پالیسی مافیاؤں کا عزت و احترام ہو، وہ اترپردیش کی ترقی نہیں کرسکتے۔ اس لئے ان کو ہر اُس قدم سے پریشانی ہوتی ہے، جس سے سماج کو مضبوطی ملتی ہے۔ سماج کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے خواتین کو بااختیار بنانے کےلئے اٹھائے گئے قدموں کی بھی یہ مخالفت کرتے ہیں۔ خواہ تین طلاق کے خلاف سخت قانون ہویا پھر لڑکے یا لڑکیوں کی شادی کی عمر کو برابر کرنے کا موضوع ۔ یہ صرف مخالفت ہی کرتے ہیں۔ البتہ یوگی جی کی سرکار کے کام کو دیکھ کر یہ لوگ یہ بات ضرور کہتے ہیں، یہ توہم نے کیا تھا۔میں سوچ رہا تھا کہ پچھلے دنوں جو باکس بھر بھر کے نوٹ ملے ہیں، اس کے بعد بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ بھی ہم نے کیا ہے۔

ساتھیوں!

آپ کانپور والے تو کاروبار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ 2017ء سے پہلے بدعنوانی کا جو عطر اِنہوں نے پورے یوپی میں چھڑک رکھا تھا، وہ پھر سب کے سامنے آگیا ہے، لیکن وہ اب منہ پر تالا ڈال کر بیٹھے ہیں۔ کریڈٹ لینے کے لئے آگے نہیں آرہے ہیں۔نوٹوں کا جو پہاڑ پورے ملک نے دیکھا ، وہی اُن کی حصولیابی ہے، یہی اُن کی سچائی ہے۔ یوپی کے لوگ سب دیکھ رہے ہیں، سب سمجھ رہے ہیں، اس لئے وہ یوپی کی ترقی کرنے والوں کے ساتھ ہیں، یوپی کو نئی بلندیوں پر پہنچانے والوں کے ساتھ ہیں۔ بھائیوں-بہنوں آج اتنی بڑی سوغات آپ کے قدموں میں سپرد کرتے وقت کئی طرح کی خوشیوں سے بھرا ہوا یہ ماحول آج کا یہ اہم موقع ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت مبارک باد، بہت بہت شکریہ۔ بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے، بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost

Media Coverage

India’s manufacturing push: Govt identifies 100 products for Made-In-India boost
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.