"قومی دفاع اور عقیدے کی اس سرزمین میں، آپ کے درمیان آکر ،میں اپنے آپ خوش قسمت محسوس کرتا ہوں"
"اتراکھنڈ کی ترقی اور اس کے شہریوں کی بہبود، ہماری حکومت کے مشن کا مرکز ہے"
’’یہ دہائی اتراکھنڈ کی دہائی بننے والی ہے ‘‘
"اتراکھنڈ کے ہر گاؤں میں ملک کے محافظ موجود ہیں"
"ہماری کوشش ان لوگوں کو واپس لانے کی ہے، جو ان گاؤں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ہم ان گاؤں میں سیاحت کو بڑھانا چاہتے ہیں"
"ہماری حکومت ،ماؤں بہنوں کی ہر مشکل اور ہر تکلیف کو دور کرنے کے تئیں عہد بندہے"
"اتراکھنڈ میں سیاحت اور یاترا کو فروغ دینے کے لئے، ڈبل انجن والی حکومت کی کوششیں اب پھل دے رہی ہیں"
"اتراکھنڈ کے رابطے کو توسیع دینا، ریاست کی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا"
’’امرت کال ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کو سہولیات، عزت اور خوشحالی سے منسلک کرنے کا دور ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے  پتھورا گڑھ میں آج دیہی ترقی، سڑک، بجلی، آبپاشی، پینے کا پانی، باغبانی، تعلیم، صحت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں تقریباً 4200 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اپنے دورے پر اتراکھنڈ کے لوگوں کی بے مثال محبت اور پیار اور ان گنت آشیرواد کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "یہ  محبت  وپیار ، جذبات  کی گنگا کی طرح  ہے"۔  جناب مودی نے، روحانیت اور بہادری کی سرزمین، بالخصوص بہادر ماؤں کے سامنے جھک کر تعظیم دی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیدیا ناتھ دھام میں جے بدری وشال کے اعلان کے ساتھ، گڑھوال رائفلز کے سپاہیوں کا جوش اور ولولہ بڑھتا ہے اور گنگولیہاٹ کے کالی مندر میں گھنٹیوں کی آواز کماؤں رجمنٹ کے سپاہیوں میں نئی ہمت ولولہ پیدا کرتی ہے۔ مانس کھنڈ میں، وزیر اعظم نے بیدیا ناتھ، نندا دیوی، پورانگیری، کاسردیوی، کینچی دھام، کٹارمل، نانک مٹہ، ریٹھا صاحب اور دیگر ان گنت خانقاہوں  کا ذکر کیا جو اس سر زمین کی شان اور وراثت کو  ظاہر کرتے  ہیں۔ وزیر اعظم نے اظہار خیال کیا  کہ ’’جب میں آپ کے درمیان اتراکھنڈ میں ہوں تو میں اپنے آپ  کو ہمیشہ خوش قسمت محسوس کرتا ہوں۔’’

 

اس سے پہلے وزیر اعظم نے پاروتی کنڈ میں پوجا  کی اور درشن کئے۔ "میں نے ہر ہندوستانی کی اچھی صحت اور وکشت بھارت کے عہد کو مستحکم  کرنے کے لئے دعا کی۔ میں نے آشیرواد مانگا تاکہ اتراکھنڈ کے لوگوں کی تمام خواہشات پوری ہوں۔

وزیر اعظم نے فوجیوں، فنکاروں اور ذاتی مدد کے گروپوں  کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا اور سلامتی، خوشحالی اور ثقافت کے ستونوں سے ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے دہرایا کہ یہ دہائی، اتراکھنڈ کی دہائی بننے والی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہماری حکومت اتراکھنڈ کے لوگوں کی ترقی اور زندگی میں آسانی فراہم  کرنے کے لیے، پوری لگن اور دیانتداری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔" وزیر اعظم نے اتراکھنڈ کے ساتھ اپنی طویل رفاقت اور قربت کو یاد کیا۔ ناری شکتی وندن ادھینیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ریاست سے ملنے والی حمایت اور ردعمل کا ذکر کیا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی طرف سے کی گئی ترقی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ"دنیا ہندوستان اور ہندوستانیوں کے تعاون کو تسلیم کر رہی ہے"۔ ماضی کی مایوسی کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے عالمی سطح پر ہندوستان کی مضبوط آواز کو واضح  کیا، جو چیلنجوں سے گھری ہوئی ہے۔ انہوں نے جی- 20 کی صدارت اور سربراہ کانفرنس کے  انتظام کے لیے ہندوستان کے تئیں عالمی تعریف کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے ملک کی کامیابی کا سہرا عوام کو دیا کیونکہ انہوں نے ایک طویل وقفے کے بعد مرکز میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  انہیں  عالمی  پیمانے پر اپنی موجودگی میں، 140 کروڑ ہندوستانیوں کا اعتماد اور بھروسہ حاصل ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پچھلے 5 سالوں میں 13.5 کروڑ سے زیادہ ہندوستانی، غربت سے باہر آئے اور حکومت کے  اس شمولیاتی  رسائی  کی ستائش کی جس میں دور دراز کے لوگوں کو بھی سرکاری فوائد حاصل ہوتے  ہیں۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ"دنیا حیران ہے"۔  انہوں نے وضاحت کی کہ 13.5 کروڑ لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو دور دراز  کے نیز  پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ 13.5 کروڑ لوگ ایک مثال ہیں کہ ہندوستان اپنے بل بوتے پر ملک کی غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتا ہے۔

 

وزیر اعظم مودی نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پچھلی حکومتوں نے ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ تو ضرور لگایا تھا،  لیکن  یہ ’’مودی‘‘ ہے جو کہتا ہے کہ ملکیت اور ذمہ داری لے کر غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم مل کر غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں"۔  انہوں نے ہندوستان کے چندریان کا ذکر کیا جو چاند کے قطب جنوبی پر کامیابی سے اترنے میں کامیاب ہوا اور وہ کامیابی حاصل کی جو اب تک کوئی ملک حاصل نہیں کر سکا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "اس جگہ جہاں چندریان اترا تھا اسے شیو شکتی کا نام دیا گیا ہے اور اتراکھنڈ کی شناخت اب چاند  پر ہے"۔ انہوں نے کہا کہ شیوا شکتی یوگ کو اتراکھنڈ میں ہر قدم پر دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی کھیلوں کی مہارت کو اجاگر کیا اور ملک میں اب تک کے اعلیٰ تمغوں کی تعدادحاصل کرنے  کی خوشی کے بارے میں بات کی۔ اتراکھنڈ نے دستے میں 8 کھلاڑیوں کو بھیجا اور لکشیا سین اور وندنا کٹاریہ کی ٹیموں نے تمغے جیتے۔ وزیر اعظم کے نعرے  پر سامعین نے اپنے موبائل فونز کی ٹارچ کی روشنی جلاکر  اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت، کھلاڑیوں کو ان کی تربیت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ آج ہلدوانی میں ہاکی گراؤنڈ اور رودر پور میں ویلڈوروم کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ کو قومی کھیلوں کی بھرپور تیاری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

"اتراکھنڈ کے ہر گاؤں نے ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے پیدا کیے ہیں"، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت ہے جس نے ون رینک ون پنشن کے ان کے دہائیوں پرانے مطالبے کو پورا کیاہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ون رینک ون پنشن اسکیم کے تحت اب تک  سابق فوجیوں کو 70000 کروڑ روپے سے زیادہ پہلے ہی منتقل کیے جا چکے ہیں جس سے سابق فوجیوں کے 75000 سے زیادہ خاندانوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں سے ایک سرحدی علاقوں کی ترقی ہے۔ پچھلی حکومتوں کے دوران سرحدی علاقوں میں ترقی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بنیادی  ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ پڑوسی ممالک کی طرف سے زمینوں پر قبضہ کیے جانے کے خوف کے بارے میں بات کی۔ وزیر اعظم نے سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "نئے ہندوستان کو نہ تو کسی چیز کا خوف ہے اور نہ ہی یہ دوسروں میں خوف پیدا کرتا ہے"۔  انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 سالوں میں سرحدی علاقوں میں 4200 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، 250 پل اور 22 سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ آج کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کو سرحدی علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے جاری ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ وائبرنٹ ولیج اسکیم نے آخری گاؤں کو ملک کے پہلے گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "ہماری کوشش ان لوگوں کو واپس لانے کی ہے جو ان گاؤں کو چھوڑ چکے ہیں۔ ہم ان گاؤں میں سیاحت کو بڑھانا چاہتے ہیں” ۔  انہوں نے کہا کہ پانی، ادویات، سڑکوں، تعلیم اور طبی سہولیات کے حوالے سے ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے، لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں اتراکھنڈ میں نئی سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیب کی کاشت کو ،سڑکوں اور آبپاشی کی سہولیات اور آج شروع کی گئی پولی ہاؤس اسکیم سے فائدہ ہوگا۔ ان منصوبوں پر 1100 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ "اتراکھنڈ کے ہمارے چھوٹے کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کسان سمان ندھی کے تحت، اتراکھنڈ کے کسانوں کو اب تک 2200 کروڑ روپے سے زیادہ مل چکے ہیں"۔

وزیر اعظم نے شری انّ کے موضوع کو  چھوا، جو اتراکھنڈ میں کئی نسلوں سے اگائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اسے پوری دنیا میں لے جانے کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایک مہم شروع کی گئی ہے جس سے اتراکھنڈ کے چھوٹے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

خواتین کی قیادت میں ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ "ہماری حکومت ماؤں اور بہنوں کی ہر مشکل اور ہر تکلیف کو دور کرنے کے تئیں عہد بند ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت نے غریب بہنوں کو مستقل گھر دیے۔ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے بیت الخلا بنائے، انہیں گیس کنکشن دیے، بینک  کھاتے کھلوائے، مفت علاج اور مفت راشن کا انتظام کیا۔ ہر گھر جل یوجنا کے تحت، اتراکھنڈ میں 11 لاکھ خاندانوں کی بہنوں کو نل کے پانی کی سہولت ملی ہے۔ انہوں نے خواتین کے ذاتی مدد کے گروپوں  کو ڈرون فراہم کرنے کی اسکیم کا بھی ذکر کیا، جس کا اعلان انہوں نے لال قلعہ کی فصیل سے کیا تھا۔ یہ ڈرونز، زراعت اور پیداوار کی نقل و حمل میں بھی مدد کریں گے۔ وزیر اعظم نے زودے کر کہا  کہ "خواتین کے ذاتی مدد  کے گروپوں کو فراہم کردہ ڈرون ،اتراکھنڈ کو جدیدیت کی نئی بلندیوں پر لے جانے والے ہیں"۔

 وزیر اعظم نے تبصرہ کیا "اتراکھنڈ میں، ہر گاؤں میں گنگا اور گنگوتری ہے۔ بھگوان شیو اور نندا یہاں برف کی چوٹیوں پر رہتے ہیں” ۔ انہوں نے اتراکھنڈ کے میلوں، کوتھیگ، تھول، گانوں، موسیقی اور کھانے کی اپنی ایک الگ پہچان کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ سرزمین پانڈو رقص، چھولیا رقص، منگل گیت، پھولدی، ہریلا، بگوال اور رمن جیسے ثقافتی پروگراموں سے مالا مال ہے۔ انہوں نے زمین کے مختلف پکوانوں کا بھی ذکر  کیا اور آرسے، جھنگور کی کھیر، کفولی، پکوداس، رائتہ، الموڑہ کی بال مٹھائی اور سنگوری کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کالی گنگا کی سرزمین اور چمپاوت میں واقع ادویت آشرم کے ساتھ اپنے تاحیات تعلق کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے جلد چمپاوت کے ادویت آشرم میں وقت گزارنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ اتراکھنڈ میں سیاحت اور یاترا کی ترقی سے متعلق ڈبل انجن والی حکومت کی کوششوں کا اب نتیجہ نکل رہا ہے۔ اس سال اتراکھنڈ میں چار دھام یاترا کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد 50 لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ بابا کیدار کے آشیرواد سے کیدارناتھ دھام کی تعمیر نو سے متعلق پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ شری بدری ناتھ دھام میں بھی سینکڑوں کروڑ روپے کی لاگت سے بہت سے کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس آسانی کا ذکر کیا جو کیدارناتھ دھام اور ہیم کنٹ صاحب میں روپ ویز کی تکمیل کے بعد آئے گی۔ کیدارناتھ اور مانس کھنڈ کے درمیان رابطے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ مانس کھنڈ مندر مالا مشن جو آج شروع ہوا ہے، کماؤں  خطے کے بہت سے مندروں تک رسائی کو آسان بنائے گا اور عقیدت مندوں کو ان مندروں میں آنے کی ترغیب دے گا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اتراکھنڈ کے بڑھتے ہوئے رابطے سے ریاست کی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے جایا جائے گا۔ انہوں نے چاردھام میگا پروجیکٹ اور آل ویدر روڈ کے ساتھ ساتھ رشی کیش-کرن پریاگ ریل پروجیکٹ کا بھی ذکر کیا۔ اُڑان  اسکیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس پورے خطے میں سستی ہوائی خدمات کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے باگیشور سے کنالیچنا، گنگولی ہاٹ سے الموڑہ اور تانک پور گھاٹ سے پتھورا گڑھ تک سڑکوں  کےآج کے پروجکٹوں  کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف عام لوگوں کو سہولت ملے گی بلکہ سیاحت سے کمائی کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ زیادہ سے زیادہ روزگار کے شعبے کے طور پر سیاحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے حکومت کی جانب سے ہوم اسٹے کی حوصلہ افزائی کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا  کہ آنے والے وقتوں میں سیاحت کا شعبہ بہت زیادہ پھیلنے والا ہے۔ کیونکہ آج پوری دنیا، ہندوستان آنا چاہتی ہے۔ اور جو بھی ہندوستان دیکھنا چاہتا ہے وہ یقینی طور پر اتراکھنڈ آنا چاہے گا"۔

 

اتراکھنڈ کی آفات زدہ نوعیت کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے 4-5 سالوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے منصوبوں پر 4000 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا  کہ "اتراکھنڈ میں ایسی سہولیات تعمیر کی جائیں گی تاکہ آفت کی صورت میں راحت اور بچاؤ کا کام تیزی سے کیا جا سکے"۔

خطاب کا اختتام کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کا امرت کال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت،ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کو سہولیات، عزت اور خوشحالی سے منسلک کرنے  کا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بابا کیدار اور بدری وشال کے آشیرواد سے قوم تیزی سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس موقع پر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، اتراکھنڈ سرکار کے دیگر وزراء کے ساتھ موجود تھے۔

پس منظر

جن منصوبوں کا وزیر اعظم نے افتتاح کیا اور قوم کو وقف کیا ہے،ان میں 76 دیہی سڑکیں اور  پی ایم جی ایس وائی  کے تحت دیہی علاقوں میں بنائے گئے 25 پل شامل ہیں۔ 9 اضلاع میں بی ڈی او دفاتر کی 15 عمارتیں؛ سنٹرل روڈ فنڈ کے تحت بنائی گئی تین سڑکوں کی اپ گریڈیشن جیسے  کے سانی باگیشور روڈ، دھاری-دوبہ-گریچینہ روڈ اور ناگالا-کچھا روڈ؛ قومی شاہراہوں پر دو سڑکوں کی اپ گریڈیشن جیسے کے الموڑہ پیٹشال - پنوانولا - دنیا ( این ایچ 309بی ) اور تنک پور - چلتھی ( این ایچ  125)؛ پینے کے پانی سے متعلق تین منصوبے جیسے کے 38 پمپنگ پینے کے پانی کی اسکیمیں، 419 کشش ثقل پر مبنی پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور تین ٹیوب ویلوں پر مبنی پانی کی فراہمی کی اسکیمیں۔ پتھورا گڑھ میں تھرکوٹ مصنوعی جھیل؛ 132 کے وی  پتھورا گڑھ-لوہاگھاٹ (چمپاوات) پاور ٹرانسمیشن لائن؛ اتراکھنڈ میں 39 پل اور دہرادون میں اتراکھنڈ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (یو ایس ڈی ایم اے ) کی عمارت، عالمی بینک کی مالی اعانت سے اتراکھنڈ ڈیزاسٹر ریکوری پروجیکٹ کے تحت بنائے گئے ہیں۔

 

جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ان میں 21398 پولی ہاؤس کی تعمیر کی اسکیم بھی شامل ہے، جس سے پھولوں اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ اور ان کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اعلی  پیداوار والے سیب کے باغات کی کاشت کے لیے ایک اسکیم؛ این ایچ  سڑک کی اپ گریڈیشن کے لیے پانچ منصوبے؛ ریاست میں آفات کی تیاری اور لچک کے لیے متعدد اقدامات ،جیسے  کہ پلوں کی تعمیر، دہرادون میں اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی اپ گریڈیشن، بالیانہ، نینی تال میں لینڈ سلائیڈنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات اور آگ، صحت اور جنگل سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچے میں بہتری؛ ریاست بھر میں 20 ماڈل ڈگری کالج میں ہاسٹلز اور کمپیوٹر لیب کی ترقی؛ سومیشور، الموڑہ میں 100 بستروں والا سب ڈسٹرکٹ ہسپتال؛ چمپاوت میں 50 بستروں والا ہسپتال بلاک؛ ہلدوانی اسٹیڈیم، نینی تال میں آسٹروٹرف ہاکی گراؤنڈ؛ رودر پور میں ویلوڈوروم اسٹیڈیم؛ جاگیشور دھام (الموڑہ)، ہاٹ کالیکا (پتھورا گڑھ) اور نینا دیوی (نینی تال) مندروں سمیت مندروں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مانس کھنڈ مندر مالا مشن اسکیم شامل ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Centre launches Bhavya scheme to set up 100 industrial parks across country

Media Coverage

Centre launches Bhavya scheme to set up 100 industrial parks across country
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India's Strategic Ascent
May 24, 2026

The global balance of power is no longer centred on the Atlantic world. As economic growth, strategic influence, and geopolitical attention shift toward the Indo-Pacific, India has emerged as one of the principal forces shaping this transition. Since 2014, sustained economic expansion, growing state capacity, technological advancement, and strategic autonomy have enabled India to move from the margins of the global order to a position of increasing influence within it.
A Global power rebalancing has been underway, shifting economic, mi\NKNJYK Y U Y YYY YYYYYYYYYYYHNCXXXK8P.9.; litary, and strategic power from the Atlantic to the Indo-Pacific with the rise of Asian powers (colloquially termed 'Westlessness'). At its centre is the long-term economic growth spearheaded by India. The nation, once ridiculed as a developing country struggling with poverty and insecurity in the twentieth century and among the fragile five economies until 2013, is now the world's most vibrant economy and military power. India's diplomatic rise and tech prowess have fundamentally altered perceptions of global hierarchy. Since 2014, growth, state capacity, and external engagement have aligned, allowing India to reposition itself in the global system, and shift of power from the Atlantic to the Indo-Pacific
For a long time after the Cold War, Westerners explained global power as the United States as the primary power, China as the challenger, Russia as a disruptive force, and the European Union as an economic and regulatory centre. That structure is now obsolete and insufficient. India's rise has introduced a new variable that does not fit into such classifications.
Across sectors such as geopolitics, economic policy, technology, defence preparedness, demographic advantage, and diplomacy, India is being assessed as a country that can influence outcomes. Policymakers in Washington, Brussels, Beijing and Moscow are adjusting to this reality in their own ways.
India is one of the top five to six world economies in nominal terms and the third-largest in purchasing power parity. What distinguishes India today is not only its size but also the pace of its expansion.
Indian economic growth rates have been resilient, remaining in the 6–7% range (despite a pandemic-induced economic crisis, the War in Ukraine, and the conflict in West Asia), even as other major economies have faced slowdowns or stagnation.
This performance is supported by structural changes that have taken shape since 2014. The Modi government has emphasized infrastructure development across roads, ports, and logistics networks. Digital systems have formalized large parts of the Indian economy through tax reform and real-time payments. Domestic demand has remained a key driver, reducing India's excessive dependence on exports. At the same time, initiatives such as "Make in India" have aimed to expand manufacturing capacity.
For developed economies and businesses abroad, while earlier India was perceived as a destination for services or a consumption market, it is now being approached as a long-term economic partner and, in some sectors, as a stabilizing alternative to concentrated supply chains.

 Economic Power, Technology, and India’s Expanding Global Influence

India's technological profile has also changed significantly. The development of large-scale digital public infrastructure, such as Aadhaar for identity and UPI for payments, has created systems that operate at a population scale and are now exported to the rest of the World as India's contribution to the global public good. Beyond this, India continues to maintain strength in software services while expanding into areas such as artificial intelligence, semiconductor design, and space applications. The Indian Space Research Organisation has demonstrated impeccable and cost-effective mission capability, for instance, in Lunar and Mars missions. In pharmaceuticals and biotechnology, India is a major global supplier. It is the largest global supplier of generic medicines, accounting for around 20 per cent of global supply. The Modi Government's development model is one in which public digital systems and private innovation operate together rather than in isolation, and has boosted investor confidence in India. Over the last eleven financial years (2014–25), India has attracted FDI worth USD 748.78 billion.
India's defence profile has also evolved after 2014. It is among the top military spenders globally and maintains large, operationally active armed forces. It possesses nuclear capability, a functioning blue-water navy, and growing indigenous defence production. Additionally, since 2014, there has been an emphasis on reducing import dependence in defence equipment. The induction of domestically built aircraft carriers and submarines is part of the Modi Government's effort. Deterrence and control over vital maritime routes in the Indian Ocean define India's military posture today. India's geographic position places it close to major sea lanes linking Europe, West Asia, Africa and East Asia. It has acquired greater importance as tensions have increased in West Asia, the South China Sea, and the Taiwan Strait. But unlike the traditional power, New Delhi's focus has been on protecting trade flows rather than projecting force beyond immediate strategic interests.
Through groupings such as BRICS, Quad, SCO, and G20, India has taken on the role of a balancing actor. It has avoided formal alliance structures while remaining engaged in cooperative frameworks. For strategic policymakers across the world, who are now more attentive to the Indo-Pacific, India has moved from the margins of strategic thinking to a central position.

Strategic Autonomy and India’s Role in the Indo-Pacific Order

India's foreign policy today has a strong tinge of strategic autonomy. It maintains working relations with multiple power centres, the United States and its partners, Russia, the European Union and countries across the Global South. Even amid disagreements, New Delhi has ensured that channels of engagement remain open for India.
Prime Minister Narendra Modi has demonstrated India's ability to convene diverse countries and achieve workable outcomes during India's presidency of the G20. It also ensured that the concerns of developing countries were included in discussions without disrupting dialogue with advanced economies. This ability to operate across divides has increased India's relevance in multilateral settings.
But India's influence is not limited to state policy. As the world's largest democracy, it carries significant political credibility in many regions. India's cultural exports, that is, cinema, cuisine, and education. and a large diaspora contributes to its global presence. Prime Minister Modi has leveraged the Indian diaspora to strengthen economic and institutional connections in the United States, Europe, the Gulf, and parts of Africa. These networks function alongside formal diplomacy and reinforce it.
India's rise does not follow the trajectory of other countries in the Indo-Pacific. Democratic processes, federal structures and a mix of public and private initiative shape it. It slows decision-making in some areas, but it also builds resilience and adaptability.
Therefore, in a changing position in the global system. India can no longer be described only as an "emerging" economy. In terms of scale, capability and sustained growth, it has moved into a category where it influences how the system functions. Its rise does not displace other major powers, but it alters the balance among them. The shift in global power that began after 2008 has become more defined over the past decade. Since 2014, the Modi government has provided continuity in economic policy, external engagement and state capacity, allowing India to convert potential into influence.