"قومی دفاع اور عقیدے کی اس سرزمین میں، آپ کے درمیان آکر ،میں اپنے آپ خوش قسمت محسوس کرتا ہوں"
"اتراکھنڈ کی ترقی اور اس کے شہریوں کی بہبود، ہماری حکومت کے مشن کا مرکز ہے"
’’یہ دہائی اتراکھنڈ کی دہائی بننے والی ہے ‘‘
"اتراکھنڈ کے ہر گاؤں میں ملک کے محافظ موجود ہیں"
"ہماری کوشش ان لوگوں کو واپس لانے کی ہے، جو ان گاؤں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ہم ان گاؤں میں سیاحت کو بڑھانا چاہتے ہیں"
"ہماری حکومت ،ماؤں بہنوں کی ہر مشکل اور ہر تکلیف کو دور کرنے کے تئیں عہد بندہے"
"اتراکھنڈ میں سیاحت اور یاترا کو فروغ دینے کے لئے، ڈبل انجن والی حکومت کی کوششیں اب پھل دے رہی ہیں"
"اتراکھنڈ کے رابطے کو توسیع دینا، ریاست کی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا"
’’امرت کال ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کو سہولیات، عزت اور خوشحالی سے منسلک کرنے کا دور ہے‘‘

بھارت ماتا کی- جئے

بھارت ماتا کی- جئے

اتراکھنڈ کے مقبول، نوجوان وزیر اعلیٰ بھائی پشکر سنگھ دھامی جی، مرکزی وزیر جناب اجے بھٹ جی، سابق وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال نشنک جی، ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر مہندر بھٹ جی، اتراکھنڈ حکومت کے وزراء، تمام ممبران پارلیمنٹ، ایم ایل اے، دیگر معززین۔ اور دیو بھومی کے میرے پیارے پریوار جنوں،آپ سب کو سلام۔ آج اتراکھنڈ نے کمال کر دیا ہے۔ ایسا منظر شاید پہلے کسی کو دیکھنے کی سعادت حاصل نہ ہوئی ہو۔ آج صبح کے بعد سے میں اتراکھنڈ میں جہاں بھی گیا، حیرت انگیز محبت، بے پناہ آشیرواد؛ یوں لگتا تھا جیسے محبت کی گنگا بہہ رہی ہو۔

میں اس روحانیت اور بے مثال بہادری کی سرزمین کو سلام کرتا ہوں۔ میں خاص طور پر بہادر ماؤں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جب بدری ناتھ دھام میں ’’جئے بدری-وشال‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو گڑھوال رائفلز کے ویروں کا جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔ جب گنگولیہاٹ کے کالیکا مندر کی گھنٹیاں "جئے مہاکالی" کے نعروں سے گونجتی ہیں، تو کماؤن رجمنٹ کے ویروں میں بے مثال ہمت بہنے لگتی ہے۔ یہاں کے مناسکھنڈ میں، باگیشور، بیجناتھ، نندا دیوی، گولو دیوتا، پورنگیری، کسار دیوی، کینچی دھام، کٹارمل، نانک متہ، ریٹھا صاحب، ان گنت، ان گنت دیوتا مقامات کے سلسلے کی شان، ہمارے پاس بہت بڑی وراثت ہے۔ میں جب بھی قومی دفاع اور عقیدہ کی اس مقدس مقام پر آیا ہوں، جب بھی میں نے آپ کو یاد کیا ہے، میں خوش کرتا ہوں۔

 

میرے پریوار جنوں،

یہاں آنے سے پہلے مجھے پاروتی کنڈ اور جوگیشوردھام میں پوجا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے  ملک کے  ہر باشندے کی اچھی صحت اور ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو مضبوط کرنے اور اپنے اتراکھنڈ کے تمام خوابوں اور قراردادوں کو پورا کرنے کے لیے آشیرواد مانگا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے سرحدی محافظوں اور اپنے فوجیوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ مجھے مقامی آرٹ اور سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ اپنی تمام بہنوں اور بھائیوں سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ یعنی میرے اس نئے سفر میں ہندوستان کی ثقافت، ہندوستان کی سلامتی اور ہندوستان کی خوشحالی سے جڑے  ان تین شکلوں میں  اس طرح سے میرے نئے طرح کا سفر بھی جڑ گیا۔ سبھی کے درشن ایک ساتھ ہوگئے۔ اتراکھنڈ کی یہ صلاحیت حیرت انگیز اور بے مثال ہے۔ اس لیے مجھے یقین ہے اور میں نے بابا کیدار کے قدموں میں بیٹھ کر اس یقین کا اظہار کیا۔ میرا ماننا ہے کہ یہ دہائی اتراکھنڈ کی دہائی بننے والی ہے۔ اور آج میں آدی کیلاش کے قدموں میں بیٹھ کر کے آیا ہوں۔میں اپنے اس یقین کو ایک بار پھر دہراتا ہوں۔

اتراکھنڈ ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچے اور آپ لوگوں کی  زندگی آسان ہو ، ہماری حکومت آج پوری ایمانداری، پوری لگن کے ساتھ اور صرف ایک ہی مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ ابھی یہاں 4 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا جا چکا ہے۔ ایک ہی پروگرام میں 4 ہزار کروڑ روپے، اتراکھنڈ کے میرے بھائیو اور بہنو، کیا آپ سوچ سکتے ہیں؟ میں آپ سب کو ان منصوبوں کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

میرے  پریوار جنوں،

نہ یہ راستے میرے لیے نئے ہیں نہ تم سب دوست نئے۔ اتراکھنڈ میں اپنے پن  کا احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بھی اپنے پن کے اسی حق کے ساتھ، اسی قربت کے ساتھ مجھ سے  جڑے رہتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے بہت سے دوست ، دور دراز کے گاؤں سے بھی مجھے خط لکھتے ہیں۔ ہر اچھے برے وقت میں ساتھ کھڑے  رہتے ہیں۔ گھر میں کوئی نیا مہمان بھی پیدا ہو تو وہ مجھے خبر بھیجتے ہیں۔ بیٹی پڑھائی میں کہیں آگے بڑھی ہو تو  بھی خط لکھتے ہیں۔ یعنی جیسےپورے اتراکھنڈ خاندان کا میں ایک فرد ہوں ویسے اتراکھنڈ مجھ سے جڑ گیا ہے۔

 

 

جب ملک کچھ بڑا حاصل کرتا ہے تب بھی آپ خوشی کا اشتراک کرتے ہیں۔ اگر آپ کو بہتری کی کوئی گنجائش نظر آتی ہے تو آپ مجھے وہ بھی بتانے سے گریز نہیں کرتے۔ حال ہی میں ملک نے لوک سبھا اور اسمبلی میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں ریزرو کرنے کا ایک بہت بڑا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ وہ کام جو 30-30، 40-40 سال سے التوا میں تھا، آپ کی متاؤں- بہنوں، آپ کے آشیرواد سے یہ آپ کا بھائی، آپ کا بیٹا کرپایا ہے۔ اور مزہ تو دیکھو اس دوران بھی یہاں کی بہنوں نے مجھے بہت سے خط بھیجے ہیں۔

میرے پریوار جنوں،

آپ سب کے آشیرواد سے آج ہندوستان ترقی کی نئی بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پوری دنیا میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کی تعریف کی جارہی ہے۔ یہ ہو رہا ہے، ہے نا؟پوری دنیا میں بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے، ہے نا؟ ایک وقت تھا جب چاروں طرف مایوسی کا ماحول تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پورا ملک مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس وقت ہم ہر مندر میں جاتے تھے اور خواہش کرتے تھے کہ ہندوستان جلد از جلد مشکلات سے نکل آئے۔ ہر ہندوستانی ملک کو ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں سے آزاد کرنا چاہتا تھا۔ سب کی خواہش تھی کہ ہندوستان کی شان بڑھے۔

آج دیکھو، چیلنجوں سے گھری اس دنیا میں، آپ دنیا کی حالت دیکھ رہے ہیں، چیلنجوں سے گھری دنیا میں ہندوستان کی آواز کتنی بلند ہوتی جارہی ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل G-20 کی ایسی شاندار تقریب ہوئی۔ اس میں بھی آپ نے دیکھا کہ دنیا نے ہم ہندوستانیوں کا کیسے لوہا مانا ہے۔۔ تم ہی بتاؤ، جب دنیا ہندوستان کی تعریفیں کرتی ہے ، جب دنیا میں ہندستان کا ڈنکا بجتا ہے، آپ بتائیں گے، جواب دیں  گے؟ کیا میں پوچھوں؟کیا آپ جواب دیں گے؟ کیا آپ کو اچھا لگتا ہے جب ہندوستان کا نام دنیا میں اونچا ہوتا ہے، آپ کو اچھا لگتا ہے؟  پوری طاقت سے بتاؤ، آپ کو اچھا لگتا ہے؟ جب بھارت دنیا کو  سمت دکھاتا ہے توآپ کو اچھا لگتا ہے؟

یہ سب کس نے کیا ہے؟ یہ سب کس نے کیا ہے؟ یہ  مودی نے نہیں کیاہے، یہ سب کچھ آپ  میرے پریوار جنوں  نے کیا ہے۔ اس کا سہرا آپ سب عوام کو جاتا ہے۔ کیوں؟ یاد رکھئے کیوں؟ کیونکہ آپ نے دہلی میں 30 سال بعد ایک مستحکم اور مضبوط حکومت بناکر مجھے آپ کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔آپ  کے ووٹ کی طاقت ہے، جب میں دنیا کے بڑ ے بڑے لوگوں سے ہاتھ ملاتا ہوں نا، آپ نے دیکھا ہوگا اچھے اچھوں سے ہورہا ہے معاملہ۔لیکن  جب میں  ہاتھ  ملاتا ہوں نہ تو برابر آنکھ  بھی ملاتاہوں۔ اور جب وہ میری طرف دیکھتے ہیں نا تو  نا مجھے نہیں دیکھتے ہیں ، 140 کروڑ ہندستانیوں کو دیکھتے ہیں۔

 

میرے پریوار جنوں،

جو دور دراز پہاڑوں اور ملک کے کونے کونے میں رہتے ہیں، ہمیں ان لوگوں کی بھی فکر ہے ۔ اس لیے صرف 5 سالوں میں ملک کے 13.5 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے۔ 13.5 کروڑ لوگ، کیا آپ کو یہ اعداد و شمار یاد ہوں گے؟ کیا آپ  اعدادوشمار یا رکھو گے۔؟ پانچ سالوں میں 13.5 کروڑ لوگوں کا غربت سے باہر آنا دنیا کے لیے حیران کن ہے۔ یہ 13.5 کروڑ لوگ کون ہیں؟ ان میں سے بہت سے لوگ، آپ کی طرح، پہاڑوں میں رہنے والے ہیں،  دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ 13.5 کروڑ لوگ اس حقیقت کی مثال ہیں کہ ہندوستان اپنی غربت کو ختم کرسکتا ہے۔

ساتھیو،

پہلے نعرہ دیا جاتا تھا، غریبی ہٹاؤ ۔ مطلب آپ ہٹاؤ،  انہوں نے کہہ دیا  غریبی ہٹاؤ۔  مودی کہہ رہا ہے ہم مل کر غریبی ہٹاتے رہیں گے۔ ہم (35.54) عہد اور ذمہ داری  لیتے ہیں اور پورے جی جان جٹ جاتے ہیں۔ آج ہمارا ترنگا ہر علاقے اور ہر میدان میں اونچا لہراہا رہا ہے۔ ہمارا چندریان، جہاں دنیا کا کوئی بھی  ملک نہیں پہنچ سکا ہے۔ اور بھارت نے اس جگہ کا نام شیو شکتی رکھا ہے جہاں اس کا چندریان گیا تھا ۔ میرے اتراکھنڈ کے لوگو، کیا آپ شیو شکتی کے خیال سے خوش ہیں یا نہیں؟ آپ کا دل خوش ہوا یا نہیں؟ یعنی میری اتراکھنڈ کی پہچان وہاں بھی پہنچ گئی۔ اتراکھنڈ میں ہمیں یہ سکھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ شیو اور شکتی کے اس امتزاج کا کیا مطلب ہے، یہ یہاں ہر قدم پر صاف نظر آتا ہے۔

 

ساتھیو،

آج دنیا نہ صرف خلا میں بلکہ کھیلوں میں بھی ہندوستان کی طاقت دیکھ رہی ہے۔ حال ہی میں ایشیائی کھیلوں کا اختتام ہوا ہے۔ اس میں ہندوستان نے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پہلی بار ہندوستانی کھلاڑیوں نے سنچری بنائی اور 100 سے زائد تمغے جیتنے کا ریکارڈ بنایا ہے اور آپ ذرا زور سے تالیاں بجانا، ایشین گیمز میں اتراکھنڈ کے بھی  8 بیٹے اور بیٹیاں بھی اپنا دم خم دکھانے گئے تھے۔اور اس میں ہماری لکشیا سین کی ٹیم نے بھی تمغہ جیتا اور وندنا کٹاریا کی ہاکی ٹیم نے بھی ملک کو شاندار تمغہ دیا ہے۔ کیا ہم ایک کام کریں گے، اتراکھنڈ کے ان بچوں نے کمال کر دیا ہے، کیا ہم ایک کام کریں گے، کیا ہم؟ اپنا موبائل فون نکالیں، اس کا فلیش آن کریں۔ اور اپنی ٹارچ کا استعمال کرکے ان تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دیں۔ سب، اپنا موبائل فون نکالو اور اسے فلیش کرو، شاباش۔ یہ ہمارے اتراکھنڈ کے بچوں کو سلام ہے، ہمارے کھلاڑیوں کو سلام ہے۔ میں ایک بار پھر دیو بھومی کے اپنے جوان بیٹوں اور بیٹیوں اور ان کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اور آپ نے بھی آج ایک نیا رنگ ڈال دیا۔/

ساتھیوں،

بیٹھو، میں آپ کا بہت مشکور ہوں۔ حکومت بھارت کے کھلاڑیوں کو ملک اور دنیا میں اپنا جھنڈا لہرانے کے لیے بھرپور مدد کر رہی ہے۔ کھانے سے لے کر کھلاڑیوں کی جدید تربیت تک حکومت کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ یہ سچ ہے لیکن اس کے برعکس بھی ہو رہا ہے۔ حکومت یہ کر رہی ہے لیکن لکش کا جو  خاندان ہے نا  اور لکش جو ہے جب بھی جیتتا ہے میرے لیے  بال مٹھائی لاتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کھلاڑیوں کو زیادہ سفر نہ کرنا پڑے، حکومت مختلف جگہوں پر کھیل کے میدان بھی بنا رہی ہے۔ آج ہی ہلدوانی میں ہاکی گراؤنڈ اور رودر پور میں ویلڈروم اسٹیڈیم کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ تالیاں بجاؤ میرے جوان، تمہارا کام ہو رہا ہے۔ میرے اتراکھنڈ کے نوجوانوں کو اس کا فائدہ ہوگا۔ میں دھامی جی اور ان کی پوری ٹیم کو بھی بہت بہت  مبارکباد دیتا ہوں، بہت بہت نیک خواہشات بھی پیش کروں گا، جو قومی کھیلوں کی تیار میں پورے جوش و خروش سے  لگی ہوئی ہے۔ آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارک باد۔

میرے پریوار جنوں،

اتراکھنڈ کے ہر گاؤں میں ملک کے محافظ ہیں۔ یہاں کی بہادر ماؤں نے بہادر بیٹوں کو جنم دیا ہے جو میرے ملک کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ون رینک ون پنشن کا ان کا دہائیوں پرانا مطالبہ ہماری اپنی حکومت نے پورا کر دیا ہے۔ اب تک ہماری حکومت نے ون رینک ون پنشن کے تحت سابق فوجیوں کو 70 ہزار کروڑ روپے اور اس سے بھی زیادہ رقم دی ہے۔ اتراکھنڈ کے 75 ہزار سے زیادہ سابق فوجیوں کے خاندان بھی اس سے مستفید ہوئے ہیں۔ سرحدی علاقوں کی ترقی بھی ہماری حکومت کی بڑی ترجیح ہے۔ آج سرحدی علاقوں میں سہولیات کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کی غلطی کیا تھی...پہلی حکومتوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ یہ آپ کا قصور نہیں تھا۔ پہلے کی حکومتوں نے سرحدی علاقوں کی ترقی اس خوف سے نہیں کی تھی کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھا کر اندر نہ آجائے، بتاؤ کیا دلیل دیتے تھے؟ آج کا نیا ہندوستان پچھلی حکومتوں کی اس خوفناک سوچ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ نہ ہم ڈرتے ہیں نہ  ہم ڈراتے ہیں۔

 

ہندوستان کی پوری سرحد جس پر ہم جدید سڑکیں، سرنگیں، پل بنا رہے ہیں۔ گزشتہ 9 سالوں میں ہی صرف سرحدی علاقوں میں 4200 کلومیٹر سے زائد طویل سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ ہم نے سرحد کے کنارے 250 بڑے پل اور 22 سرنگیں بھی بنائی ہیں۔ آج بھی اس پروگرام میں کئی نئے پلوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اب  تو ہم بارڈر پر ٹرینیں لانے کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔ اس بدلی ہوئی سوچ کا فائدہ اتراکھنڈ کو بھی ملنے والا ہے۔

میرے پریوار جنوں،

پہلے سرحدی علاقے، سرحدی دیہات کو ملک کا آخری گاؤں سمجھا جاتا تھا، ترقی کے معاملے  میں بھی اس کا نمبر بھی سب سے آخر میں  ہی آتا تھا۔ یہ بھی  ایک پرانی سوچ تھی۔ ہم نے سرحدی گاؤں کو آخری نہیں بلکہ ملک کے پہلے گاؤں کے طور پر ترقی دینا شروع کر دی ہے۔ وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت اسی طرح کے سرحدی گاؤں کی ترقی کی جارہی ہے۔ ہماری کوشش  یہی ہے کہ جو لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں وہ دوبارہ واپس آئیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان دیہاتوں میں سیاحت بڑھے اور  تیرتھ یاترا کو وسعت ملے۔

میرے پریوار جنوں،

ایک پرانی کہاوت ہے کہ پہاڑ کا پانی اور پہاڑکی جوانی پہاڑ کے کسی کام  نہیں آتی۔  میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ میں اس تصور کو بھی بدل دوں گا۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ کے کئی گاؤں ویران ہو گئے۔ سڑکیں، بجلی، پانی، تعلیم، دوائی، کمائی، ہر چیز کی کمی تھی اور اسی کمی کی وجہ سے لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔ جیسے جیسے اتراکھنڈ میں نئے مواقع اور نئی سہولیات پیدا ہو رہی ہیں، ویسے ویسے   بہت سے ساتھی اپنے گاؤں واپس لوٹنے  لگے ہیں۔

ڈبل انجن سرکار  کی کوشش ہے کہ گاؤں واپسی کا یہ کام تیزی سے  ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان سڑکوں، بجلی کے منصوبوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور کالجوں اور موبائل فون ٹاورز پر اتنی بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ آج بھی  یہاں ان سے جڑے  کئی منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔

یہاں سیب کے باغات اور پھلوں اور سبزیوں کے لئے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ اب جب یہاں سڑکیں بن رہی ہیں اور پانی پہنچ رہا ہے تو میرے کسان بھائیوں اور بہنوں کا حوصلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ آج جو پولی ہاؤس بنانے اور سیب کا باغ بنانے کا منصوبہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ان اسکیموں پر 1100 کروڑ روپے خرچ ہونے والے ہیں۔ اتراکھنڈ کے ہمارے چھوٹے کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت، اتراکھنڈ کے کسانوں کو اب تک 2200 کروڑ روپے  زیادہ مل چکے ہیں۔

 

ساتھیوں،

یہاں توموٹا اناج-شری انّ بھی یہاں کئی نسلوں سے اگایا جا تا ہے۔ جب میں تمہارے درمیان رہتا تھا تو میں نے بہت وقت تمہارے درمیان گزارا ہے۔ اس وقت ہر گھر میں موٹے اناج بھی وافر مقدار میں کھائے جاتے تھے۔ اب مرکزی حکومت اس موٹے اناج  شری انّ کو دنیا کے کونے کونے میں لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے ملک بھر میں مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ہمارے اتراکھنڈ کے چھوٹے کسانوں کو بھی ان سے بہت زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔

میرے  پریوار جنوں،

ہماری حکومت ماؤں بہنوں کی ہر مشکل اور ہر تکلیف کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت نے غریب بہنوں کو پکا گھر دیا۔ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے بیت الخلا بنائے، انہیں گیس کنکشن دیے، بینک اکاؤنٹ کھولے، مفت علاج کیا، مفت راشن آج بھی چل رہا ہےتا کہ غریب کے گھر کا چولہا جلتا  رہے۔

ہر گھر جل یوجنا کے تحت، اتراکھنڈ میں 11 لاکھ خاندانوں کی بہنوں کو پائپ سے پانی کی سہولت مل رہی ہے۔ اب بہنوں کے لیے ایک اور کام کیا جا رہا ہے۔ اس سال لال قلعہ سے میں نے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو ڈرون دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادویات، کھاد، بیج، ایسے بہت سے کام کھیتوں میں ڈرون کے ذریعے کیے جا سکیں گے۔ اب تو  ایسے ڈرون بھی بنائے جا رہے ہیں جو پھل اور سبزیوں  کو قریبی سبزی منڈی تک پہنچا سکیں۔ پہاڑوں میں ڈرون کے ذریعے ادویات جلدی پہنچائی جا سکتی ہیں، یعنی خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو فراہم کیے جانے والے یہ ڈرون اتراکھنڈ کو جدیدیت کی نئی بلندیوں پر لے جانے والے ہیں۔

میرے پریوار جنوں،

اتراکھنڈ میں ہر گاؤں میں گنگا اور گنگوتری ہے۔ بھگوان شیوجی اور نندا یہاں برف کی چوٹیوں پر رہتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے میلے، کوتھیگ، تھول، گانے، موسیقی اور کھانے کی اپنی الگ پہچان ہے۔ یہ سرزمین پانڈو رقص، چھولیا رقص، مانگل گیت، پھولدی، ہریلا، بگوال اور رمانڑ جیسے ثقافتی پروگراموں سے مالا مال ہے۔ لوک جیون کے ذائقے: روٹ، آرسے، جھنگورے کی کھیر، کفلی، پکوڑا، رائتہ، الموڑہ کی بال مٹھائی، سنگوری... ان کا ذائقہ کون بھول سکتا ہے۔ اور  یہ جو کالی گنگا کی سرزمین  ہے ،  اس سرزمین سے  تو میرا ناطہ بھی بہت رہا ہے۔ میرا یہاں چمپاوت میں واقع ادویت آشرم سے بھی گہرا تعلق ہے۔ وہ میری زندگی کا ایک عہد تھا۔

میری بہت سی یادیں یہاں کی زمین کے ایک ایک انچ سے وابستہ ہیں۔ اس بار میری بری خواہش تھی  کہ اس الہیاتی احاطہ میں زیادہ وقت گزاروں۔ لیکن کل دہلی میں G-20 سے متعلق ایک اور بڑی کانفرنس ہونے والی ہے۔ G-20 جو کہ ساری دنیا کی پارلیمنٹ  کے جو اسپیکر ہیں،ان کا  بہت بڑا سربراہی اجلاس ہےاور اس کی وجہ سے میں ادویت آشرم چمپاوت جا نہیں پارہا ہوں۔میری ایشور سے دعا ہے کہ مجھے جلد ہی دوبارہ اس آشرم میں آنے کا موقع ملے۔

 

میرے پریوار جنوں،

اتراکھنڈ میں سیاحت اور  تیرتھ یاترا کی ترقی سے متعلق ڈبل انجن والی حکومت کی کوششیں اب رنگ لا رہی ہیں۔ اس سال اتراکھنڈ میں چاردھام یاترا کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد 50 لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ بابا کیدار کے آشیرواد سے کیدارناتھ دھام کی تعمیر نو سے متعلق پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ شری بدری ناتھ دھام میں بھی سینکڑوں کروڑ روپے کی لاگت سے کئی کام ہو رہے ہیں۔ کیدارناتھ دھام اور شری ہیم کنڈ صاحب میں روپ وے کا کام مکمل ہوتے ہی معذور اور بزرگ یاتریوں کو کافی سہولت ملنے والی ہے۔ ہماری حکومت کیدارکھنڈ کے ساتھ ساتھ  اور اسی لیے میں آج یہاں آیا ہوں، مجھے مناسکھنڈ کو بھی اس بلندی پر لے جانا ہے۔ جو لوگ  کیدارکھنڈ اور مناسکھنڈ کے رابطے پر بھی بہت زور دے رہے ہیں۔جو لوگ  کیدارناتھ اور بدری ناتھ دھام جاتے ہیں وہ جاگیشور دھام، آدی کیلاش اور اوم پروت بھی آسانی سے آ سکیں، یہ کوشش کی جارہی ہے۔  مناسکھنڈ مندر مالا مشن جو آج شروع ہوا ہے اس سے کماؤن کے کئی مندروں تک آمدروفت  بھی آسان ہو جائے گی۔

میرا تجربہ کہتا ہے کہ بدری ناتھ اور کیدارناتھ آنے والے لوگ مستقبل میں یہاں ضرور آئیں گے۔ وہ اس علاقے کو نہیں جانتے۔ اور آج جب عوام ٹی وی پر یہ ویڈیو دیکھیں گے کہ مودی ایک چکر کاٹ  کر آیا ہے، تو آپ سب دیکھیں گے اور کہیں گے یارکچھ تو ہوگا، اور آپ تیاری کرو، عازمین کی تعداد بڑھنے والی ہے، میرے مانس کھنڈ میں آمدروفت تیز ہونے والی ہے۔

ساتھیوں،

اتراکھنڈ کا بڑھتا رابطہ یہاں کی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا ہے۔ آپ کو چاردھام عظیم منصوبے سے آ ل ویدر روڈ سے  آپ کو کافی سہولت ملی ہے۔ رشی کیش-کرن پریاگ ریل پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد، پورے علاقے میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔UDAN اسکیم کے تحت اس پورے خطے میں سستی ہوائی خدمات کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ آج ہی یہاں  باگیشور سے کنالیچناتک، گنگولی ہاٹ سے الموڑہ تک اور تانک پور گھاٹ سے پتھورا گڑھ تک سڑکوں پر کام شروع ہو ا ہے۔ اس سے نہ صرف عام لوگوں کو سہولت ملے گی بلکہ  ساتھ ساتھ سیاحت سے کمائی کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ یہاں کی حکومت ہوم اسٹے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں زیادہ سے زیادہ روزگار اور کم سے کم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں سیاحت کا شعبہ بہت زیادہ پھیلنے والا ہے۔ کیونکہ آج پوری دنیا ہندوستان آنا چاہتی ہے۔ بھارت کو دیکھنا چاہتی ہے۔ بھارت کو جاننا چاہتی ہے۔ اور جو ہندوستان دیکھنا چاہتا ہے،تو اس کا  ہندوستان کو دیکھنا اتراکھنڈ آئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔

میرے پریوار جنوں،

 

ماضی میں جس طرح سے اتراکھنڈ قدرتی آفات کی زد میں رہا ہے اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔ ہم نے اپنے بہت سے رشتہ داروں کو کھویا ہے۔ ہمیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو بہتر کرتے رہنا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔ اس کے لیے آنے والے 4-5 سالوں میں اتراکھنڈ میں 4 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس طرح کی سہولیات اتراکھنڈ میں تعمیر کی جائیں گی، جس سے آفات کی صورت میں راحت اور بچاؤ کا کام تیزی سے کیا جاسکے۔

یہ ہندوستان کا امرت کال ہے۔ یہ امرت کال ،ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کو سہولیات، عزت اور خوشحالی سے جوڑنے کا عہد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بابا کیدار اور بدری وشال کے آشیرواد سے، آدی کیلاش کے آشیرواد سے، ہم اپنے عزائم کو جلد پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایک بار پھر اتنا پیار دینے کے لیے… 7 کلومیٹر، واقعی، میرے پاس بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میں ہیلی کاپٹر سے نکلا، یہاں 7 کلو میٹر آیا۔ اور آنے میں تاخیر  اس لئے ہوئی کیونکہ 7 کلومیٹر کے دونوں طرف انسانی زنجیر نہیں  تھی، انسانی دیوار تھی۔ ایسا ہجوم تھا اور جیسے گھر والوں میں کوئی موقع ہو، ویسے تہوار کے لباس میں ملبوس، مبارک موقع کے کپڑے، پرمسرت ماحول میں، آرتی کے ساتھ، ماؤں کے ہاتھوں میں آرتی، پھولوں  کے گلدستے، آشیرواد دینے سے  نہیں رکتے تھے۔ یہ میرے لیے بہت جذباتی لمحات تھے۔ آج، میرے مناسکھنڈ نے پتھورا گڑھ  کو اور ضلع پتھورا گڑھ کے تمام لوگوں، اس پورے کھنڈ کو میر امانس کھنڈ ، اس نے آج جو پیار برسایا، جو خوش و جذبہ دکھایا میں شت شت نمن کرتا ہوں۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ایک بار پھر آپ سب کے لیے بہت سی نیک خواہشات۔ میرے ساتھ بولیئے،  دونوں ہاتھ اوپر کرکے پوری طاقت سے بولئے۔

بھارت ماتا کی جئے!

بھارت ماتا کی جئے!

بھارت ماتا کی جئے!

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.