عزت مآب، میرےعزیز دوست صدر لولا،

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا کے سا تھیوں

نمسکار

‘‘بوا ترج’’!

‘ریو’ اور ‘برازیلیا’ میں پرتپاک استقبال کے لیے میں اپنے دوست صدر لولا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایمیزن کی خوبصورتی اور آپ کے خلوص دونوں نے ہمیں کافی متاثر کیاہے۔

آج برازیل کے صدر کی طرف سے برازیل کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز سے نوازا جانا نہ صرف میرے لیے، بلکہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کے لیے بڑے فخر اور جذبات کا لمحہ ہے۔ میں اس اعزاز کے لیے صدر ،برازیل کی حکومت اور برازیل کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

دوستو!

میرے دوست صدر لولا ہندوستان اور برازیل کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے چیف معمار ہیں۔ انہوں نے ہمارے تعلقات کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے ساتھ ہر ملاقات نے مجھے اپنی دونوں قوموں کی ترقی اور بہبود کے لیے مزید محنت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ میں اس اعزاز کو ہندوستان کے ساتھ ان کی مضبوط وابستگی اور ہماری پائیدار دوستی کے لیے وقف کرتا ہوں۔

 

دوستو!

آج کی بات چیت میں ہم نے تمام شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ ہم نے دو طرفہ تجارت کو اگلے پانچ سالوں میں 20 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

فٹ بال برازیل کاجنون ہے، جس طرح ہندوستان کے لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں۔ چاہے گیند کو باؤنڈری سے آگے بھیجنا ہو یا گول میں، جب دونوں ایک ہی ٹیم میں ہوں تو 20 بلین ڈالر کی شراکت کا حصول مشکل نہیں لگتا۔ ہم مل کرہندوستان-مرکوسور ترجیحی تجارتی معاہدے کی توسیع پر بھی کام کریں گے۔

دوستو!

توانائی کے شعبے میں ہمارا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماحولیات اور صاف توانائی دونوں ممالک کی اہم ترجیح ہے۔اس شعبہ میں تعاون کو بڑھانے کے لیے آج جو معاہدہ کیاگیا ہے، اس سے ہمارے سبز اہداف کو نئی سمت اور رفتار ملے گی۔ رواں برس ، برازیل میں ہونے جارہی COP-30اجلاس کےلیے میں صدر لولا کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

دوستو!

دفاع کے شعبے میں ہمارا بڑھتا ہوا تعاون ہمارے باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ ہم اپنی دفاعی صنعتوں کو جوڑنے اور اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

 

مصنوعی ذہانت اور سپر کمپیوٹرز کے شعبوں میں ہمارا تعاون بڑھ رہا ہے۔ یہ جامع ترقی اور انسانیت پر مرکوز اختراع کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

برازیل میں یو پی آئی کو اپنانے پر بھی دونوں فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور اسپیس جیسے شعبوں میں برازیل کے ساتھ ہندوستان کے کامیاب تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے خوشی ہوگی۔

زراعت اور مویشی پروری کے شعبوں میں ہمارا تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اب ہم زرعی تحقیق اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں میں بھی مل کر کام کریں گے۔ صحت کے شعبے میں بھی ہم اپنے نتیجہ خیز تعاون کو وسعت دے رہےہیں۔ ہم نے برازیل میں آیوروید اور روایتی ادویات کے فروغ پر بھی زور دیا ہے۔

دوستو!

عوام سے عوام کے درمیان رابطے ہمارے تعلقات کا ایک اہم ستون ہیں۔ دونوں ممالک میں کھیلوں میں گہری دلچسپی بھی ہمیں آپس میں جوڑتی ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ بغیر ویزا کاؤنٹر کی لمبی قطار کے، ہندوستان  اور برازیل کے تعلقات کارنیول کی طرح رنگین ہوں، فٹبال کی طرح جوشیلے ہوں اور سامبا کی طرح دلوں کو جوڑتے جائیں!اسی جذبے کے تحت ہم دونوں ممالک کے عوام، خاص طور پر سیاحوں، طلباء، کھلاڑیوں اور کاروباری افراد کے درمیان روابط کو آسان بنانے کے لیے کوشش کریں گے۔

 

دوستو!

عالمی سطح پر ہندوستان اور برازیل نے ہمیشہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کیا ہے۔ دو بڑے جمہوری ممالک کے طور پر ہمارا تعاون نہ صرف گلوبل ساؤتھ بلکہ پوری انسانیت کے لیے اہم ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ گلوبل ساؤتھ کے خدشات اور ترجیحات کو عالمی فورمز پر پیش کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

آج، جب دنیا کشیدگی اور غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے ،میرے دوست نےکافی تفصیل سے بتایا، اس لیے میں اسے نہیں دہراؤں گا … ہندوستان-برازیل کی یہ  شراکت داری استحکام اور توازن کا ایک اہم ستون ہے۔ ہم اس بات پر مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

 

ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں - صفر برداشت اور صفر دوہرا معیار۔ ہمار ا واضح موقف ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں دونوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔

عالی جناب،

ایک بار پھر اس اعلیٰ ترین قومی اعزاز کے لیے اور آپ کی دوستی کے لیے میں 140 کروڑ ہندوستان کے عوام کی جانب سے آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آپ کو  ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دیتا ہوں۔شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Patent application filings in India rise 30.2% to 143,000 in 2025-26: Goyal

Media Coverage

Patent application filings in India rise 30.2% to 143,000 in 2025-26: Goyal
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister pays homage to the martyrs of Jallianwala Bagh
April 13, 2026
PM shares a Sanskrit Subhashitam on nurturing benevolent forces

The Prime Minister Shri Narendra Modi, today paid his heartfelt homage to the brave martyrs of Jallianwala Bagh. Shri Modi remarked that their sacrifice stands as a powerful reminder of the indomitable spirit of our people.

The Prime Minister also shared a Sanskrit Subhashitam today highlighting the call for industrious people to nurture benevolent forces within society that make the nation prosperous, aware, and self-reliant, while firmly resisting destructive forces that create division, injustice, and discontent.

The Prime Minister wrote on X:

"On this day, we pay our heartfelt homage to the brave martyrs of Jallianwala Bagh. Their sacrifice stands as a powerful reminder of the indomitable spirit of our people. The courage and determination they displayed continue to inspire generations to uphold the values of liberty, justice and dignity.”

“ ਅੱਜ ਦੇ ਦਿਨ, ਅਸੀਂ ਜੱਲ੍ਹਿਆਂਵਾਲਾ ਬਾਗ਼ ਦੇ ਸੂਰਬੀਰ ਸ਼ਹੀਦਾਂ ਨੂੰ ਦਿਲੋਂ ਸ਼ਰਧਾਂਜਲੀ ਭੇਟ ਕਰਦੇ ਹਾਂ। ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੀ ਕੁਰਬਾਨੀ ਸਾਡੇ ਲੋਕਾਂ ਦੇ ਕਦੇ ਨਾ ਝੁਕਣ ਵਾਲੇ ਜਜ਼ਬੇ ਦੀ ਮਜ਼ਬੂਤ ਯਾਦ ਦਿਵਾਉਂਦੀ ਹੈ। ਉਨ੍ਹਾਂ ਵੱਲੋਂ ਵਿਖਾਇਆ ਗਿਆ ਹੌਸਲਾ ਅਤੇ ਪੱਕਾ ਇਰਾਦਾ, ਆਉਣ ਵਾਲੀਆਂ ਪੀੜ੍ਹੀਆਂ ਨੂੰ ਆਜ਼ਾਦੀ, ਇਨਸਾਫ਼ ਅਤੇ ਮਾਣ-ਸਨਮਾਨ ਦੀਆਂ ਕਦਰਾਂ-ਕੀਮਤਾਂ ਉੱਤੇ ਪਹਿਰਾ ਦੇਣ ਲਈ ਲਗਾਤਾਰ ਪ੍ਰੇਰਿਤ ਕਰਦਾ ਆ ਰਿਹਾ ਹੈ।”

“जलियांवाला बाग नरसंहार के सभी अमर बलिदानियों को मेरी आदरपूर्ण श्रद्धांजलि। विदेशी हुकूमत की बर्बरता के खिलाफ उनके अदम्य साहस और स्वाभिमान की गाथा देश की हर पीढ़ी को प्रेरित करती रहेगी।

इन्द्रं वर्धन्तो अप्तुरः कृण्वन्तो विश्वमार्यम्।
अपघ्नन्तो अराव्णः॥"

O industrious people! Nurture those benevolent forces within your society that make the nation prosperous, aware and self-reliant. At the same time, firmly resist the destructive forces that create division, injustice and discontent in society.