پائیدار توانائی وسائل کے ذریعہ ہی پائیدار ترقی ممکن ہے
جو کچھ بھی اہداف بھارت نے اپنے لئے طے کئے ہیں ، میں انہیں چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ موقع کے طور پر سمجھتا ہوں
زیادہ باصلاحیت اورفعال شمسی موڈیول مینوفیکچرنگ کے لئے 19.5 ہزار کروڑروپے کا بجٹ اعلان ، جو شمسی موڈیول اور متعلقہ مصنوعات کی مینوفیکچرنگ اور تحقیق وترقی کے لئے بھارت کو ایک عالمی ہب بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا
بیٹریوں پر انحصار بڑھانے کی پالیسی اور باہم اثر پذیر معیارات سے متعلق اس سال کے بجٹ میں تجاویز شامل کی گئی ہیں، ان سے بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال میں درپیش مسائل کم ہوں گے
بجلی کو ذخیرہ کرنے کے چیلنج نے بجٹ میں خاطر خواہ توجہ حاصل کی ہے
دنیا ، ہر طرح کے قدرتی وسائل کو ختم ہوتا دیکھ رہی ہے،اس طرح کی صورتحال میں مدوّر معیشت وقت کا تقاضہ ہے اور ہم کو اسے اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنانا ہے

وزیر اعظم جناب نریند ر مودی نے آج پائیدار ترقی کے لئے توانائی کے بارے میں ایک ویبنار سے خطاب کیا ۔ بجٹ کے بعد ویبنار کے سلسلے میں  یہ نواں  ویبنار ہے، جس سے وزیر اعظم نے خطاب کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ  پائیدار ترقی کے لئے توانائی   نہ صرف  بھارتی روایت کے ہم آہنگ  یا عین مطابق ہے بلکہ یہ مستقبل کی ضرورتوں  اور آرزوؤں کوحاصل کرنے کا ایک راستہ  بھی ہے۔  وزیراعظم  نے کہا کہ پائیدار ترقی صرف توانائی کے ٹھوس وسائل  کے ذریعہ ممکن ہے ۔وزیراعظم نے 2070 تک نیٹ صفر  تک پہنچنے کے لئے گلاسگو میں کئے گئے اپنے  عزم کو دوہرایا ۔ انہوں نے  ماحولیاتی پائیدار طرز زندگی سے متعلق  لائف  (ایل آئی ایف ای ) کے اپنے وژن کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ،  بین الاقوامی شمسی اتحاد جیسے  عالمی اشتراک میں لیڈر شپ فراہم کررہا ہے ۔  انہوں نے  500 گیگاواٹ  غیر فوسل توانائی   کی صلاحیت  حاصل کرنے  کے  نشانے کے  بارے میں بات چیت کی اور 2030 تک  غیر فوسل توانائی کے ذریعہ  نصب شدہ  50فیصدتوانائی  کی صلاحیت حاصل کرنے کے بارے میں بھی بات کی ۔وزیراعظم نے کہا ، جو کچھ اہداف  بھارت نے اپنے لئے طے کئے ہیں ،  میں  انہیں  چیلنجز  کے طورپر نہیں  بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھتا  ہوں ۔  بھارت  گزشتہ کچھ سالوں سے اس وژن کے ساتھ پیش قدمی کررہا ہے اور یہی وژن اس سال کے بجٹ میں  پالیسی سطح  پر آگے لے گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں زیادہ صلاحیت کے شمسی موڈیول مینوفیکچرنگ  کے لئے 19.5  کروڑروپے کا اعلان کیا گیا ہے ، جو  ہندوستان کو   مینوفیکچرنگ   اور شمسی موڈیولز  کی تحقیق وترقی اور اس سے متعلق مصنوعات کے لئے  ایک عالمی  ہب بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

حال ہی میں  اعلان کئے گئے نیشنل ہائڈروجن مشن کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت  گرین ہائڈ روجن کا ہب  بن سکتا ہے،شرط  یہ ہے کہ اس کا موروثی فائدہ   ،ترک کی گئی قابل تجدید توانائی   پاور کی شکل میں ہو۔  انہوں  نے  اس شعبے میں  پرائیویٹ سیکٹر کی کوششوں کے لئے بھی کہا ۔

 جناب مودی نے  توانائی  کو ذخیرہ کرنے کے چیلنج  کی جانب بھی اشار ہ کیا ، جو  بجٹ میں  خاطر خواہ توجہ حاصل کرپائی ہے۔ بیٹری  پر انحصار بڑھانے کی پالیسی اور باہم اثر پذیر ی ، معیارات  سے  متعلق   اس سال کے بجٹ میں تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ ان سے ہندوستان میں بجلی کی گاڑیوں کے استعمال میں در پیش مسائل کم ہوں گے۔

وزیراعظم نے زوردیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ  توانائی کو  بچانا بھی  پائیداری کے لئے یکساں  طور پر اہم ہے۔انہوں نے شرکا کو تلقین کی کہ آپ کو اس طر  ح کا م کرنا چاہئے کہ ملک میں اے سی، فعال ہیٹرز ،گیسرز  اور اوون  کو  کیسے  توانائی سے پُر  زیادہ   موثر بنایا جائے ۔

فعال توانائی ، مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت  پر زوردیتے ہوئے وزیر اعظم نے بڑے  پیمانے پر ایل ای ڈی بلب کے فروغ  کی مثال پیش کی ۔  انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت  نے پیداوار کو فروغ دے کر ایل ای ڈی بلب کی لاگت کو کم کیا اور اس کے بعد اجولا اسکیم  کے تحت 37  کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے ۔اس سے 48 ہزار ملین کلوواٹ  گھنٹہ بجلی  کی بچت ہوئی   اور  غریبوں  اور متوسط طبقے کے کنبوں کے بجلی کے بلوں میں تقریباََ 20  ہزار  کروڑروپے کی بچت ہوئی ۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات  یہ ہے کہ سالانہ کاربن اخراج میں  4 کروڑٹن کی کمی دیکھی گئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں   پر ایل ای ڈی بلب کی روشنی  کی وجہ سے  ہر سال  مقامی ادارے 6000 کروڑروپے کی بچت کررہے ہیں۔

کوئلے کو گیس کی شکل دینا  کوئلے کے لئے ایک صاف متبادل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سال کے بجٹ میں کوئلے کو گیس کی شکل دینے کے لئے چار پائلیٹ  پروجیکٹس کا اعلان کیا گیا ہے جو ان  پروجیکٹوں کی تکنیکی اور مالی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد کریں گے۔اسی طرح حکومت لگاتار ایتھنول بلینڈنگ  کو فروغ دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے   غیر بلینڈڈ والے ایندھن کے لئے فاضل  ایکسائز ڈیوٹی کے بارے میں جمع لوگوں کو بتایا ۔ اندور  میں گوبردھن  پلانٹ کے حالیہ افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر اگلے دوسال میں  ملک میں  اس طرح کے  500 یا  1000 پلانٹ لگاسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے ہندوستان میں توانائی کی مانگ میں مستقبل میں اضافے کے بارے میں بات کی اور قابل تجدید توانائی کے لئے   اہم تغیر کا ذکر کیا ۔  انہوں  نے  ہندوستان میں  24 سے  25  کروڑ گھروں میں صاف ستھرا کھانا پکانے ،  جھیلوں میں شمسی  پینل  ، ہاؤس ہولڈ  گارڈن  یا بالکنی میں شمسی درخت اور شمسی درخت سے گھروں کے  لئے  15  فیصد توانائی یا بجلی حاصل کرنے کے لئے اس سمت میں کئے گئے  اقدامات  کا  ذکر کیا ۔انہوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کےلئے بہت چھوٹی  ہائڈل  پروجیکٹوں کا  پتہ لگانے کی بھی تجویز  پیش  کی ۔ دنیا  ہر طرح کے قدرتی وسائل کو ختم ہوتا دیکھ رہی ہے لہٰذا  اس طرح کے منظر نامے میں  مدوّر معیشت وقت کی مانگ  ہے اور ہم کو   اسے  اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنانا ہے ۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian Railways renews 54,600 km of tracks since 2014, boosting speed potential and safety

Media Coverage

Indian Railways renews 54,600 km of tracks since 2014, boosting speed potential and safety
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Shri Narendra Modi speaks with the President of Iran
March 12, 2026
President Pezeshkian shares his perspective on the situation in Iran and the region.
PM reiterates India’s consistent position on resolving all issues through dialogue and diplomacy.
PM highlights India’s priority regarding safety and well-being of Indian nationals and unhindered transit of energy and goods.

Prime Minister Shri Narendra Modi had a telephone conversation today with the President of the Islamic Republic of Iran, H.E. Dr. Masoud Pezeshkian.

President Pezeshkian briefed the Prime Minister on the current situation in Iran and shared his perspective on recent developments in the region.

The Prime Minister expressed deep concern about the evolving security situation in the region and reiterated India’s consistent position that all issues must be resolved through dialogue and diplomacy.

The Prime Minister highlighted India’s priority regarding the safety and well-being of Indian nationals in the region, including in Iran, as also the importance of unhindered transit of energy and goods.

The two leaders agreed to remain in touch.