’’لچھت بورپھوکن کی زندگی حب الوطنی اور راشٹر شکتی کی ایک تحریک ہے‘‘
’’ڈبل انجن کی سرکارسب کا ساتھ، سب کا وکاس،سب کا وشواش اور سب کا پریاس‘‘ کے جذبے سے کام کررہی ہے
’’امرت سروور کا پروجیکٹ پوری طرح عوام کی شرکت پر مبنی ہے‘‘
’’شمال مشرق میں 2014 کے بعد سے مشکلات کم ہورہی ہیں اور ترقی میں اضافہ ہورہا ہے‘‘
’’2020 میں بوڈو معاہدے نے مستقل امن کے لیے دروازے کھول دیے ہیں‘‘
’’گزشتہ 8 سال کے دوران ہم نے امن اوربہترقانون و انتظام کے حالات کی وجہ سے شمال مشرق کے کئی علاقوں سے اے ایف ایس پی اےمنسوخ کردیا ہے‘‘
’’آسام اور میگھالیہ کے درمیان طے پایا گیا معاہدہ دیگر معاملات کی حوصلہ افزائی کرے گااور ساتھ ہی ساتھ یہ پورے خطے کی ترقی کی آرزوؤں کو جہت دے گا‘‘
’’ہمیں ترقی کے لیے ذہن سازی کرنی ہوگی، جو ہم سابقہ دہائیوں میں حاصل نہیں کرسکے‘‘

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کے کربی آنگ لانگ ضلع میں دیپھو کے مقام پر امن، اتحاداورترقی سے متعلق خطاب کیا۔پروگرام کے دوران انہوں نے مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ وزیراعظم نے دیپھو میں مویشیوں کے کالج ،مغربی کربی آنگ لانگ نگ میں ڈگری کالج اور کولونگا ، مغربی کربی آنگ لانگ  میں زرعی کالج کا سنگ بنیاد رکھا۔500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ان پروجیکٹوں سے اس خطے میں ہنرمندی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے 2950 سے زیادہ امرت سروور پروجیکٹس کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ریاست تقریباً 1150 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے ان امرت سروور پروجیکٹس کو تیار کرے گا۔آسام کے گورنر جناب جگدیش مکھی اور وزیراعلیٰ ہیمنتا بسواسرما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کربی آنگ لانگ کے عوام کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پرجوش طریقے سے خیرمقدم کیا۔انہوں نے ایک ہی وقت میں آنے والے آزادی کا امرت مہوتسو اور آسام کے عظیم سپوت لچھت بورپھوکن کی 400ویںسالگرہ کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لچھت بورپھوکن کی زندگی حب الوطنی اور راشٹر شکتی کی ایک تحریک ہے اور میں کربی آنگ لانگ سے ملک کے اس عظیم ہیرو کو سلام کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈبل انجن کی سرکار سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواش اور سب کا پریاس کے جذبے کے ساتھ کام کررہی ہے اور آج اس عزم نے کربی آنگ لانگ کی اس سرزمیں کو دوبارہ مستحکم کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سمجھوتے پر کام بہت تیزی سے جاری ہے، جس پر آسام کی تیز ترقی اور مستقل امن کے لیے دستخط کیے گئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج 2600 سے زیادہ سروور کی تعمیر کی کام شروع ہورہا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ مکمل طور پر عوام کی شرکت پرمنحصرہے۔انہوں نے قبائلی طبقوں میں اس طرح کی سروور کی مالامال روایات کو تسلیم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تالاب نہ صرف گاوؤں کے لیے پانی کا ذخیرہ کریں گےبلکہ آمدنی کا وسیلہ بھی بنیں گے۔

وزیراعظم نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ 2014 کے بعد سے شمال مشرقی خطے میں مشکلات کم ہورہی ہے اور ترقی میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جب کوئی بھی آسام کے قبائلی علاقوں میں آتاہے یا شمال مشرق کی دوسری ریاستوں میں جاتا ہے تو وہ بدلتی ہوئی صورت حال کی تعریف ہی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے امن اور ترقی کے عمل میں کربی آنگ لانگ کی کئی تنظیموں کی پچھلے سال کی شمولیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں بوڈو معاہدے نے مستقل امن کے لیے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔اسی طرح وزیراعظم نے کہا کہ تری پورہ میں بھی این آئی ایف ٹی نے امن کی جانب قدم بڑھایا ہےاور ڈھائی دہائی پرانے گروریانگ کو حل کرلیا گیا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں مسلح افواج کے خصوصی اختیارات والا قانون اے ایف ایس پی اے نافذ تھا البتہ گزشتہ 8 سال کے دوران ہم نے مستقل امن اور بہتر قانون وانتظام کی صورت حال قائم ہونے کی وجہ سے شمال مشرق کے کئی علاقوں سے اے ایف ایس پی اے کو ہٹادیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سرحدی مسائل کا حل سب کا ساتھ سب کا وکاس کے جذبے سے تلاش کیا جارہا ہے۔وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آسام اور میگھالیہ کے درمیان طے پائے گئے معاہدے سے دیگر معاملات کو حوصلہ ملے گااور اس پورے خطے کی ترقیاتی آرزوؤں کو جہت دے گا۔

قبائلی طبقوں کی مالامال ثقافتی وراثت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی معاشرے کی ثقافت، اس کی زبان، کھانا،فن،دستکاری یہ سبھی بھارت کی مالا مال وراثت ہے۔ آسام اس لحاظ سے زیادہ خوش حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثقافتی وراثت ہندوستان کو جوڑتی ہے اور ایک بھارت سریشٹھ بھارت کے جذبے کو مستحکم کرتی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آزادی کے امرت کال میں کربی آنگ لانگ امن اور ترقی کے نئے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔اب یہاں سے ہم پیچھے مڑکر نہیں دیکھیں گے۔ آئندہ چند سالوں میں ہم مل کر ترقی کے لیے آگے بڑھیں گے جو اس سے قبل دہائیوں میں ہم حاصل نہیں کرسکے تھے۔ وزیراعظم نے خدمت ، جذبے اور جانفشانی کے ساتھ مرکز کی اسکیموں کو نافذ کرنے کے لیے خطے کی دیگر ریاستی سرکاروں اور آسام سرکار کی بھی ستائش کی۔انہوں نے اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ ایک بڑی تعداد میں خواتین آگے آرہی ہیں۔انہوں نے اس بات کو دوہرایا کہ حکومت کے تمام اقدامات میں خواتین کے وقار، ان کی زندگی کو آسان بنانے اور انہیں اوپر اٹھانے پر مسلسل توجہ مرکوزرہے گی۔

وزیراعظم نے آسام کے عوام کو یہ یقین دلاتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ وہ ان کی جانب سے ملنے والی محبت اور شفقت سود سمیت واپس کریں گے اور اپنے آپ کو اس خطے کی ترقی کے لیے وقف کردیں گے۔

6 کربی ملیٹنٹ تنظیموں کے ساتھ بھارت سرکار اور آسام سرکار کی جانب سے تصفیہ کے مفاہمت نامے پرحالیہ دستخط وزیراعظم کا اس خطے کی ترقی اور امن کے لیے  نہ ڈگمگانے والا عزم ایک مثال ہے۔تصفیہ کے اس مفاہمت نامے نے اس خطہ میں امن کے ایک نئے دورکا آغاز کردیا ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London

Media Coverage

Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s Departure Statement ahead of his visit to the UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy
May 15, 2026

Today, I embark on a five-nation visit to the United Arab Emirates, the Netherlands, Sweden, Norway, and Italy from 15-20 May 2026.

My first stop is the UAE. This will be my eighth visit to the UAE in the past 12 years, a reflection of a Comprehensive Strategic Partnership built on deep mutual trust, personal friendships, and strong people-to-people ties. I look forward to meeting my brother, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE. Under his leadership, the UAE has stood out for its resilience amid the profound geopolitical churn in West Asia. In these turbulent times, our energy partnership has emerged as a pillar of stability, and a strategic anchor for India’s energy security. We will exchange views on the regional situation, deepen our cooperation on energy security and resilient supply chains, and explore new avenues to further strengthen our investment partnership. The welfare of the 4.5 million-strong Indian community in the UAE, a cornerstone of our friendship, will also be on our agenda.

From the UAE, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Rob Jetten, I will pay an Official Visit to the Netherlands. I will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Jetten. Coming on the heels of the India-EU Free Trade Agreement, the visit will give a fresh impetus to our trade and investment ties, and to our cooperation across semiconductors, water, clean energy, green hydrogen, defence and innovation. I also look forward to engaging with the vibrant Indian community, our living bridge with the Netherlands.

From the Netherlands, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Ulf Kristersson, I will travel to Gothenburg, Sweden on 17 May. My consultations with Prime Minister Kristersson will aim to add greater depth and breadth to our cooperation, particularly in trade and investment, innovation, green transition, joint R&D and defence. Together with PM Kristersson and the President of the European Commission, H.E. Ms. Ursula von der Leyen, I look forward to a constructive engagement with European business leaders at the European Round Table for Industry, a timely conversation that will boost investment inflows from European businesses.

From Sweden, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre, I will pay a two-day visit to Norway. This will be my first visit to Norway, and the first by an Indian Prime Minister in 43 years. I will call on Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, hold delegation-level talks with Prime Minister Støre, and jointly inaugurate the India-Norway Business and Research Summit. Building on the India-EFTA Trade and Economic Partnership Agreement that entered into force on 1 October 2025, we will chart the next chapter of our bilateral cooperation in trade and investment, sustainability, offshore industry, research and higher education, Arctic and polar research, space, and talent mobility.

On 19 May, I will engage with my Nordic counterparts at the 3rd India-Nordic Summit in Oslo, building on our previous Summits in Stockholm (2018) and Copenhagen (2022). Our exchanges will give new strength to the vibrant India-Nordic ties, and strengthen joint collaborations in technology and innovation, trade and investment, green transition, blue economy, defence, digitalisation and Artificial Intelligence, and reform of global governance institutions. I will also have the opportunity to meet Nordic leaders bilaterally.

The final leg of my visit takes me to Italy on 19-20 May, at the invitation of Prime Minister H.E. Ms. Giorgia Meloni. I will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella, and hold talks with Prime Minister Meloni. A central focus of our discussions will be the India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC), a transformative initiative linking India to Europe through the Gulf, in which Italy is a key European partner. As IMEC moves from vision to implementation, India and Italy share a special responsibility in shaping a connectivity architecture that delivers prosperity and resilient supply chains. We will also review the implementation of our Joint Strategic Action Plan 2025-2029, and advance cooperation across trade and investment, defence and security, clean energy, and science and technology. In Rome, I will also visit the Headquarters of the Food and Agriculture Organisation (FAO), an occasion to reiterate India’s firm commitment to multilateralism and our resolve to work with FAO towards global food security and nutrition.

I am confident that these visits, from the Gulf to the Nordics to the Mediterranean, will reinforce India’s strategic partnerships across regions critical to our future, deepen our trade, investment and people-to-people ties, bolster India's energy security, and advance our shared vision of connectivity, prosperity, and a stable global order.