“Lachit Borphukan’s life is an inspiration of patriotism and Rashtra Shakti”
“‘Double engine’ government is working with the spirit of Sabka Saath Sabka Vikas, Sabka Vishwas and Sabka Prayas”
“Project of Amrit Sarovars is completely based on people’s participation”
“Since 2014 difficulties in the North East are reducing and development is taking place”
“Bodo Accord in 2020 opened doors for permanent peace”
“During the last 8 years we have revoked AFSPA from many areas of North East due to peace and better law & order conditions”
“The agreement reached between Assam and Meghalaya will encourage other matters as well. This will give impetus to the development aspirations of the entire region”
“We have to make up for the development which we could not achieve in the earlier decades”

بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے۔

 

کاربی آنگ لونگ کورٹے انگجیر، کے-ڈو ان اپہانتا، نیلی کارڈوم پجیر اگلو۔

 

آسام کے گورنر جناب جگدیش مکھی جی، آسام کے مقبول وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت بسوا سرما جی، کاربی راجہ شری رامسنگ رونگہانگ جی، کاربی آنگلونگ خود مختار کونسل کے جناب تلیرام رونگھانگ جی، حکومت آسام کے وزرا، جناب پیوش ہزاریکا جی، جوگین موہن جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی جناب ہورین سنگ بے جی، ایم ایل اے جناب بھاویش کلیتا جی، دیگر تمام عوامی نمائندے اور کاربی آنگلونگ کے میرے پیارے بہنو اور بھائیو!

جب بھی مجھے آپ کے درمیان آنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کاب بھرپور پیار، آپ کا یہ تعلق، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خدا کی نعمتیں مل رہی ہوں۔ آج بھی اتنی بڑی تعداد میں آپ یہاں تشریف لائے، دور دور سے ہمیں آشیرواد دینے آئے اور وہ بھی جوش و خروش اور جشن کے موڈ میں، اپنے روایتی رنگا رنگ ملبوسات میں اور داخلی دروازے پر یہاں کے تمام لوگوں نے جس طرح اپنی روایتی رسومات ادا کیں۔ روایت کے مطابق ہم سب کو جو آشیرواد دیے اس کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنوں،

یہ ایک خوش آئند اتفاق ہے کہ آج جب ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، وہیں ہم اس دھرتی کے عظیم فرزند لچیت بورفوکن جی کا 400واں یوم پیدائش بھی منا رہے ہیں۔ ان کی زندگی حب الوطنی اور قومی طاقت کی تحریک ہے۔ کاربی آنگلونگ کی طرف سے، میں ملک کے اس عظیم ہیرو کے سامنے احترام کے ساتھ جھکتا ہوں، انھیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت جہاں بھی ہے، وہاں سب کا تعاون، سب کا وکاس، سب کا بھروسہ اور سب کی کوشش کے جذبے سے کام ہوتا ہے۔ آج کربی آنگلونگ کی اس سرزمین پر یہ عزم ایک بار پھر مضبوط ہوا ہے۔ آسام کے مستقل امن اور تیز رفتار ترقی کے لیے طے پانے والے معاہدے کو آگے بڑھانے کا کام آج تیزی سے جاری ہے۔ اس معاہدے کے تحت آج یہاں 1000 کروڑ روپے کے کئی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ڈگری کالج ہو، ویٹرنری کالج ہو، ایگریکلچر کالج ہو، یہ تمام ادارے یہاں کے نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرنے والے ہیں۔

ساتھیوں، آج سنگ بنیاد رکھنے کے جو پروگرام ہوئے ہیں۔ یہ صرف کسی عمارت کا سنگ بنیاد نہیں ہے۔ یہ صرف کسی کالج، کسی ادارے کا سنگ بنیاد نہیں ہے۔ یہ میرے نوجوانوں کے روشن مستقبل کا سنگ بنیاد ہے۔ یہاں اعلیٰ تعلیم کے مناسب انتظامات سے غریب ترین گھرانوں کے غریب افراد بھی اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دے سکیں گے۔ ساتھ ہی یہاں ان اداروں سے کسانوں اور مویشیوں کے مالکان کو بھی بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔ ان منصوبوں کے علاوہ آسام حکومت معاہدے کے دیگر پہلوؤں پر مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ہتھیار چھوڑ کر جو ساتھی قوم کی تعمیر کے لیے واپس لوٹے ہیں ان کی بحالی کے لیے بھی مسلسل کام جاری ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

آزادی کے امرت مہوتسو میں ملک نے جو اہم قراردادیں لی ہیں ان میں سے ایک امرت جھیلوں کی تعمیر سے متعلق ہے۔ آج ملک ہر ضلع میں کم از کم 75 ہزار امرت سروور بنانے کے اتنے بڑے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ میں نے اسے جموں و کشمیر سے کچھ دن پہلے ہی شروع کیا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ آج آسام میں بھی 2600 سے زیادہ امرت سروور بنانے کا کام شروع ہو رہا ہے۔ ان جھیلوں کی تعمیر مکمل طور پر عوامی شراکت پر مبنی ہے۔ قبائلی معاشرے میں ایسی جھیلوں کی بھرپور روایت بھی ہے۔ اس سے دیہاتوں میں پانی کے ذخائر پیدا ہوں گے، اس کے ساتھ وہ آمدنی کا ذریعہ بھی بنیں گے۔ مچھلی آسام میں خوراک اور معاش کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مچھلی پالن کو بھی ان امرت جھیلوں سے کافی فائدہ ہونے والا ہے۔

آپ سب نے پچھلی دہائیوں میں ایک طویل عرصہ بہت مشکل سے گزرا ہے۔ لیکن 2014 سے شمال مشرق میں مشکلات مسلسل کم ہو رہی ہیں، لوگ ترقی کر رہے ہیں۔ آج جب کوئی آسام کے قبائلی علاقوں میں آتا ہے، شمال مشرق کی دوسری ریاستوں میں جاتا ہے تو حالات کو بدلتے ہوئے دیکھ کر اسے بھی اچھا لگتا ہے۔ کاربی آنگلونگ ہو یا کوئی اور قبائلی علاقہ، ہم ترقی اور اعتماد کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔

ساتھیوں،

آپ اچھی طرح جانتے ہیں، میں آپ کے مسائل، اس علاقے کے مسائل کو آپ کے اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھ چکا ہوں، آپ کے بھائی کی طرح، آپ کے بیٹے کی طرح، میں نے ہر مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور آپ نے مجھے مزید سمجھایا ہے۔ عقل سے زیادہ دل سے سمجھایا ہے۔ آپ نے ہر بار میرے دل کو چھوا ہے۔ میرا دل جیت لیا ہے۔ جب خاندان کے افراد کے طور پر ہم سب ایک خاندان کی طرح حل تلاش کرتے ہیں، اس میں ایک حساسیت ہوتی ہے، درد اور تکلیف کو محسوس کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو سمجھتے ہیں، اپنے عزم کو سمجھتے ہیں۔

ساتھیوں،

ہر انسان کو، یہاں تک کہ آسام کے اس دور افتادہ علاقے کے لوگوں، جنگلوں میں رہنے والے میرے نوجوانوں میں بھی آگے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے، اور اس احساس، آپ کے خوابوں کو سمجھتے ہوئے، ہم سب آپ کے خوابوں کو پورا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اور میں ہر عزم کو ثابت کرنے کے لیے مل کر کام کر رہا ہوں، ہم بھی اس کام میں مصروف ہیں، آپ بھی مصروف ہیں، آپ مل کر کام کر رہے ہیں اور آپ مل کر جیتنے والے ہیں۔

بھائیو اور بہنوں،

آج پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ تشدد، انارکی اور بد اعتمادی کے دہائیوں پرانے مسائل کیسے حل ہو رہے ہیں، کیسے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ یہ علاقہ کبھی زیر بحث ہوتا تھا۔ کبھی بم کی آواز سنائی دیتی تھی، کبھی گولیوں کی آواز سنائی دیتی تھی۔ آج تالیاں بج رہی ہیں۔ جیکار ہو ہرا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں کاربی آنگلونگ کی کئی تنظیمیں امن اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کے عہد کے ساتھ شامل ہوئیں۔ 2020 میں ہونے والے بوڈو معاہدے نے دیرپا امن کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ آسام کے علاوہ این ایل ایف ٹی نے تریپورہ میں بھی امن کی راہ پر قدم اٹھایا۔ برو ریانگ سے متعلق مسئلہ جو تقریباً ڈھائی دہائیوں سے چل رہا تھا، وہ بھی حل ہو گیا۔ دیگر مقامات پر بھی دیرپا امن کے لیے ہماری کوششیں مسلسل جاری ہیں، سنجیدگی سے جاری ہیں۔

ساتھیوں،

وہ جو تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، بدامنی سے، جنہوں نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے، جن کے آنسو کبھی خشک نہیں ہوئے ہیں۔ وہ ہماری مائیں ہیں، ہماری بہنیں ہیں، ہمارے بچے ہیں۔ آج جب میں جنگل سے جوانوں کو ہتھیاروں کے ساتھ اپنے گھر والوں کے ساتھ واپس لوٹتے دیکھتا ہوں اور ان ماؤں کی آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو ان ماؤں کی آنکھوں میں خوشی محسوس ہوتی ہے، خوشی کے آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔ ماں کی زندگی کو تسلی ملتی ہے، اطمینان ملتا ہے، تب میں آشیرواد کو محسوس کرتا ہوں۔ آج بھی اتنی بڑی تعداد میں مائیں بہنیں یہاں آئی ہیں، یہ مائیں بہنیں یہاں آکر آشیرواد دیتی ہیں، امن کی کوششوں کو نئی طاقت، نئی توانائی بھی دیتی ہیں۔ مرکز اور ریاست کی ڈبل انجن حکومت اس خطہ کے لوگوں کی بہتر زندگی، ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

آسام میں، شمال مشرق میں حکومت اور سماج کی اجتماعی کوششوں سے جیسے جیسے امن لوٹ رہا ہے، پرانے اصولوں کو بھی بدلا جا رہا ہے۔ شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں طویل عرصے سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) نافذ ہے۔ لیکن پچھلے 8 سالوں کے دوران، ہم نے مستقل امن اور بہتر امن و امان کے نفاذ کی وجہ سے شمال مشرق کے بہت سے علاقوں سے AFSPA کو ہٹا دیا ہے۔ پچھلے 8 سالوں کے دوران شمال مشرق میں تشدد کے واقعات میں تقریباً 75 فیصد کمی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ AFSPA کو پہلے تریپورہ اور پھر میگھالیہ سے ہٹایا گیا۔ آسام میں یہ 3 دہائیوں سے لاگو تھا۔ حالات میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے پہلے کی حکومتیں بار بار اس کو آگے بڑھاتی رہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں میں حالات کو اس طرح سنبھالا گیا کہ آج آسام کے 23 اضلاع سے AFSPA ہٹا دیا گیا ہے۔ دیگر علاقوں میں بھی ہم تیزی سے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے بھی اسے ہٹایا جا سکے۔ ناگالینڈ اور منی پور میں بھی اس سمت میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

ساتھیوں،

شمال مشرقی ریاستوں کے اندرونی مسائل کو تو حل کیا ہی جا رہا ہے، ریاستوں کے درمیان کئی دہائیوں پرانے سرحدی تنازعات کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا جا رہا ہے۔ میں آج ہیمنتا جی اور شمال مشرق کے دیگر وزرائے اعلیٰ کو بھی مبارکباد دوں گا کہ ان کی کوششوں سے شمال مشرقی اب ملک کی ایک مضبوط اقتصادی اکائی بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے جذبے کے ساتھ آج سرحد سے متعلق مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔ آسام اور میگھالیہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ دیگر معاملات کو بھی فروغ دے گا۔ اس سے پورے خطے کی ترقی کی خواہشات کو تقویت ملے گی۔

بھائیو اور بہنوں،

قوم کی ترقی، ریاست کی ترقی اور ریاست کی ترقی کے لیے گاؤں کی ترقی، شہروں کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دیہات کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ترقیاتی منصوبے مقامی ضروریات کے مطابق، مقامی حالات کے مطابق بنائے جائیں اور ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اس لیے گزشتہ برسوں میں مرکز کے منصوبوں میں ہم نے مقامی ضروریات کو بہت زیادہ مد نظر رکھا ہے۔ اس لیے پردھان منتری آواس یوجنا میں ایک بڑی تبدیلی کی گئی ہے کہ رقم براہ راست فائدہ اٹھانے والے کے بینک اکاؤنٹ میں جائے گی۔ اس کے بعد وہ مستحق اپنی مرضی کے مطابق اپنا گھر بنائے گا اور دنیا کو بتائے گا کہ میرا گھر ہے، میں نے بنایا ہے۔ ہمارے لیے یہ پردھان منتری آواس یوجنا حکومت کی مہربانی کا پروگرام نہیں ہے۔ ہمارے لیے پردھان منتری آواس یوجنا غریبوں کے خوابوں کا محل بنانا ایک خواب ہے، غریبوں کی خواہشات کے مطابق تعمیر کرنا ایک خواب ہے۔ گاؤں کی ترقی میں گاؤں کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شراکت کا یہ جذبہ ہر گھر جل یوجنا میں بھی ہے۔ جو پانی گھر گھر پہنچ رہا ہے اس کا انتظام گاؤں کی واٹر کمیٹیوں کو کرنا چاہیے اور اس میں بھی زیادہ تر کمیٹیاں ماؤں بہنوں پر مشتمل ہونی چاہئیں۔ کیونکہ پانی کی اہمیت کیا ہے، وہ اتنی نہیں سمجھتے جتنی مائیں بہنیں سمجھتی ہیں، اتنے مرد نہیں سمجھتے اور اسی لیے ہم نے ماؤں بہنوں کو بیچ میں رکھ کر منصوبوں کو مضبوط کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس اسکیم کے آغاز تک، جہاں گاؤں کے 2 فیصد سے بھی کم گھرانوں کو یہاں پائپ کے ذریعے پانی تک رسائی حاصل تھی۔ اب تقریباً 40 فیصد گھرانوں کو پائپ پانی تک رسائی حاصل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جلد ہی آسام کے ہر گھر میں پائپ کے ذریعے پانی پہنچنا شروع ہو جائے گا۔

ساتھیوں،

آزادی کے اس امرت دور میں کاربی آنگلونگ بھی امن اور ترقی کے ایک نئے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب یہاں سے ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے۔ آنے والے چند سالوں میں ہمیں مل کر وہ ترقی کرنی ہے جو ہم پچھلی دہائیوں میں نہیں کر سکے۔ آسام کی ترقی کی کوششوں میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں۔ میں ایک بار پھر اتنی بڑی تعداد میں آپ جو آشیرواد دینے آئے ہیں۔ میں ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ کا یہ جو پیار ہے، میں اس پیار کو سود کے ساتھ واپس کروں گا۔ میں ترقی کر کے لوٹاؤں گا، میں آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

کارڈوم! شکریہ!

بھارت ماتا کی جے

بھارت ماتا کی جے

بھارت ماتا کی جے

بہت شکریہ! کارڈوم!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London

Media Coverage

Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s Departure Statement ahead of his visit to the UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy
May 15, 2026

Today, I embark on a five-nation visit to the United Arab Emirates, the Netherlands, Sweden, Norway, and Italy from 15-20 May 2026.

My first stop is the UAE. This will be my eighth visit to the UAE in the past 12 years, a reflection of a Comprehensive Strategic Partnership built on deep mutual trust, personal friendships, and strong people-to-people ties. I look forward to meeting my brother, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE. Under his leadership, the UAE has stood out for its resilience amid the profound geopolitical churn in West Asia. In these turbulent times, our energy partnership has emerged as a pillar of stability, and a strategic anchor for India’s energy security. We will exchange views on the regional situation, deepen our cooperation on energy security and resilient supply chains, and explore new avenues to further strengthen our investment partnership. The welfare of the 4.5 million-strong Indian community in the UAE, a cornerstone of our friendship, will also be on our agenda.

From the UAE, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Rob Jetten, I will pay an Official Visit to the Netherlands. I will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Jetten. Coming on the heels of the India-EU Free Trade Agreement, the visit will give a fresh impetus to our trade and investment ties, and to our cooperation across semiconductors, water, clean energy, green hydrogen, defence and innovation. I also look forward to engaging with the vibrant Indian community, our living bridge with the Netherlands.

From the Netherlands, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Ulf Kristersson, I will travel to Gothenburg, Sweden on 17 May. My consultations with Prime Minister Kristersson will aim to add greater depth and breadth to our cooperation, particularly in trade and investment, innovation, green transition, joint R&D and defence. Together with PM Kristersson and the President of the European Commission, H.E. Ms. Ursula von der Leyen, I look forward to a constructive engagement with European business leaders at the European Round Table for Industry, a timely conversation that will boost investment inflows from European businesses.

From Sweden, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre, I will pay a two-day visit to Norway. This will be my first visit to Norway, and the first by an Indian Prime Minister in 43 years. I will call on Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, hold delegation-level talks with Prime Minister Støre, and jointly inaugurate the India-Norway Business and Research Summit. Building on the India-EFTA Trade and Economic Partnership Agreement that entered into force on 1 October 2025, we will chart the next chapter of our bilateral cooperation in trade and investment, sustainability, offshore industry, research and higher education, Arctic and polar research, space, and talent mobility.

On 19 May, I will engage with my Nordic counterparts at the 3rd India-Nordic Summit in Oslo, building on our previous Summits in Stockholm (2018) and Copenhagen (2022). Our exchanges will give new strength to the vibrant India-Nordic ties, and strengthen joint collaborations in technology and innovation, trade and investment, green transition, blue economy, defence, digitalisation and Artificial Intelligence, and reform of global governance institutions. I will also have the opportunity to meet Nordic leaders bilaterally.

The final leg of my visit takes me to Italy on 19-20 May, at the invitation of Prime Minister H.E. Ms. Giorgia Meloni. I will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella, and hold talks with Prime Minister Meloni. A central focus of our discussions will be the India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC), a transformative initiative linking India to Europe through the Gulf, in which Italy is a key European partner. As IMEC moves from vision to implementation, India and Italy share a special responsibility in shaping a connectivity architecture that delivers prosperity and resilient supply chains. We will also review the implementation of our Joint Strategic Action Plan 2025-2029, and advance cooperation across trade and investment, defence and security, clean energy, and science and technology. In Rome, I will also visit the Headquarters of the Food and Agriculture Organisation (FAO), an occasion to reiterate India’s firm commitment to multilateralism and our resolve to work with FAO towards global food security and nutrition.

I am confident that these visits, from the Gulf to the Nordics to the Mediterranean, will reinforce India’s strategic partnerships across regions critical to our future, deepen our trade, investment and people-to-people ties, bolster India's energy security, and advance our shared vision of connectivity, prosperity, and a stable global order.