نئی دہلی،22جنوری/ وزیراعظم جناب نریندرمودی نے آج وارانسی کے دین دیال ہستھ کلا سنکول میں پرواسی  بھارتیہ دیوس کے 15ویں ایڈیشن کا اجلاس کاافتتاح کیا۔

پرواسی بھارتیہ دیوس(پی بی ڈی)2019، کے مہمان خصوصی ماریشیس کے وزیراعظم پروند جگ ناتھ، اترپردیش کے گورنر جناب رام نائک، امور خارجہ کی وزیر محترمہ سشما سوراج کے ساتھ اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ، ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کھٹر، اترا کھنڈ کے وزیراعلی ترویندر سنگھ راوت، بیرون ملک ہندوستانی امور کے وزیرمملکت جنرل(سبکدوش) وی کے سنگھ اور متعدد معزز شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم جناب نریندرمودی نے کہا کہ یہ ہند نثراد برادری کا اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین کے تئیں محبت اور  لگاؤ ہے جو  انہیں ہندوستان لایا ہے۔انہوں نے غیرمقیم ہندوستانی برادری( این آر آئی) سے ہندوستان کی تعمیر میں ہاتھ بٹانے کی اپیل کی۔

وزیراعظم نے واسودھیوا کٹمبکم کی روایت کو برقرار رکھنے میں ہند نثراد برادری  کے کردار کی تعریف کی۔ انہو ں نے کہا کہ این آر آئی صرف ہندوستان کے برانڈ ایمسڈر نہیں ہیں بلکہ یہ اس  کی طاقت، صلاحیتوں اور خصوصیات کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے ہند نثراد برادری سے نئے بھارت کی تعمیر میں خصوصا تحقیق اور اختراع کے میدان میں حصہ لینے کی اپیل کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کی تیزرفتار ترقی ہندوستان کو پوری دنیا میں بلندیوں پر دیکھاجارہا ہے اور اس حالت میں آگیا ہے کہ عالمی برادری کی قیادت کرسکیں۔انٹر  نیشنل سولر ایلائنس( بین الاقوامی شمسی اتحاد) ایسی ایک مثال ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ مقامی حل اور عالمی استعمال ،ہمارا منتر ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی شمسی اتحاد کو ایک دنیا، ایک سورج، ایک گرڈ کی سمت ایک قدم قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان عالمی معیشت کاپاور ہاؤس بننے کی راہ پر گامزن ہے۔اس کے پاس سب سے بڑا اسٹارٹ اپ اقتصادی نظام اور دنیا کا سب سے بڑی حفظان صحت کی اسکیم اس کے پاس ہے۔ہم نے میک ان انڈیا میں بڑی جست کے ساتھ آگے بڑھیں ہے۔ کثیر مقدار میں زرعی پیداوار ہماری اہم حصولیابی رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ حکومت میں قوت اداری  اور مناسب پالیسی کی فقدان کی وجہ سے ان کے لئے مختص بڑا فنڈ استفادہ کنندگان کو دستیاب نہیں ہوا۔ پھر بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم نے نظام میں موجود خامیوں کو دور کردیا ہے۔عوام کے پیسوں کو لوٹ رک گئی ہے اور کھو جانے والی 85 فیصد رقم کو مہیا کرایا گیا ہے اور انہیں براہ راست استفادہ کنندگان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیاگیا ہے۔وزیراعظم نے کہا گزشتہ  چار برسوں کے دوران 580000 کروڑ روپے عوام کے بینک کھاتوں میں براہ راست منتقل کئے گئے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ استفادہ کنندگان کے ناموں کی فہرست سے کس طرح 7 کروڑ فرضی ناموں کو قلم زد کیاگیا ہے جو کہ برطانیہ ، فرانس اور اٹلی کی آبادی کے تقریباً مساوی تھے۔

وزیراعظم نے اپنی حکومت کے ذریعہ کی گئی تبدیلیوں میں سے  چند پر روشنی ڈالی۔ جو نئے ہندوستان میں  نئے اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نئے ہندوستان کے لئے ہمارے فیصلے میں ہند نثراد برادری کی مساوی اہمیت ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ ان کی حفاظت  ہماری تشویش ہے اور اس سلسلے میں بتایا کہ متصادم زون میں 2لاکھ سے زائد  ہندوستانیوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے چیلنج کا کس طرح سامنا کیا تھا۔

 

غیرمقیم ہندوستانیوں کی فلاح وبہبود کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ پاسپورٹ اور ویزے کے ضابطے کو سہل بنا دیا گیا ہے اور ان کے سفر کے لئے ای۔ ویزا کو کافی آسان بناد یا گیا ہے۔ تمام پرواسی بھارتیہ کو اب پاسپورٹ سیوا کے ساتھ منسلک کیا جارہا ہے اور انہیں چپ کے حامل ای۔ پاسپورٹ جاری کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ پرواسی تیرتھ درشن یوجنا شروع کی جارہی ہیں۔  انہوں نے بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں سے پانچ اہل ہندوستانی خاندان کے ہندوستان کے دورے کی دعوت دینے کی اپیل کی ہے۔وزیراعظم نے ان سے گاندھی جی ،نانک دیو جی کی قدروں کو پھیلانے اور ان کی  سالگرہ کی تقریبات کاحصہ بننے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر کااحساس ہوتا ہے کہ بابو کے پسندیدہ بھجن وشنو جن۔۔۔کے مرتب کرنے میں عالمی برادری نے حصہ لیا ہے۔

وزیراعظم نے پرواسی بھارتیہ دیوس اپنی پرتپاک میزبانی سے کامیاب بنانے میں کاشی کے مکینوں کے کردار کی تعریف کی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسکول ملک کے امتحانات منعقد ہونے سے قبل وہ29 جنوری 2019 کو صبح 11:00  بجے نمو ایپ پر پریکشا پر چرچا کے ذریعہ وہ طلبا اور ان کے والدین کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
GCCs now influence up to $55 billion of India's IT services exports: Deloitte

Media Coverage

GCCs now influence up to $55 billion of India's IT services exports: Deloitte
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves scheme of Chemical Parks “Bharat Audyogik Vikas Yojana Rasayan (BHAVYA Rasayan)
July 24, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi has approved Bharat Audyogik Vikas Yojana Rasayan or BHAVYA - Rasayan Scheme for establishing three dedicated Chemical Parks in the country. The Scheme was announced in the Union Budget of FY 2026–27.

The Scheme will have a total financial outlay of Rs.3,030 crore, with Rs.3,000 crore towards meeting the cost of establishing the Common Infrastructure Facilities and Basic Utilities inside the park and Rs. 30 Crores as administrative expenditure. The scheme would run for a period of 5 years from FY 2026-27 to FY 2030-31.

In terms of the said scheme, the Centre would provide a grant of up to Rs.1,000 crore per park. This will be subject to minimum contribution of Rs.500 crore by the concerned State Government.

BHAVYA Rasayan Scheme is expected to bring the following benefits to the economy:

  • It will promote development of the Chemical industry along the whole value chains including upstream, downstream and ancillary industries promoting efficient utilization of resources, leading to lower logistics cost.
  • Through shared Common Infrastructure Facilities and Basic Utilities, keeping the needs of chemicals industry in mind, it will lead to enhanced cost competitiveness and will make the Indian Industry globally competitive.
  • It will help the Indian Chemical industry better integrate in Global Value Chains leading to greater exports and higher import substitution.
  • It will promote development of Indian Chemical industry in a sustainable way by creating an environment friendly ecosystem which will consist of centralized facilities such as Common Effluent Treatment Plant, Treatment, Storage, and Disposal Facility, and Hazardous Waste Management infrastructure. It will ensure better compliance management with environmental regulations, thereby promoting development of industry in eco-friendly manner.
  • Development of Chemical sector will lead to a cascading effect through enhanced development of downstream sectors of the economy as well, thereby leading to higher employment generation and greater development of the economy, helping achieve the goal of Viksit Bharat @ 2047.
Recognising that this sector produces Chemicals and Petrochemicals which are used in various downstream industries such as Agriculture, Textiles, Pharmaceuticals, Nutraceuticals, Construction, Automobile, Electronics, introducing BHAVYA Rasayan Scheme shall facilitate development of the sector by attracting domestic and foreign investments, enhancing domestic production capacity and generating employment. It will boost the global competitiveness of the sector thereby, promoting Atmanirbharta.
 
In terms of the said Scheme, the Centre will facilitate development of three dedicated Chemical Parks by the State Governments under Challenge Route. Each such park will have a minimum contiguous area of 8 sq. km. (minimum 2,000 acres) of encumbrance-free land. These parks will provide plug-and-play infrastructure, in the form of Common Infrastructure Facilities and Basic Utilities for the chemical industry such as:
  • Common Effluent Treatment Plant (CETP),
  • Treatment, Storage, and Disposal Facility (TSDF),
  • Water supply and distribution systems,
  • Solvent recovery and distillation facilities,
  • Steam generation and distribution network,
  • Interconnected pipeline network,
  • Logistics and warehousing facilities.