Share
 
Comments
On one hand, the Government is trying to make the Armed Forces stronger; and on the other hand, there are those who do not want our Armed Forces to be strong: PM Modi
When it comes to the country's security and the requirements of the Armed Forces, our Government keeps only the interest of the nation in mind: PM
Those who deal only in lies are casting aspersions on the defence ministry, on the Air Force, and even on a foreign government: PM Modi

نئی دہلی،16/دسمبر وزیر اعظم جناب نریندر مودی، جو اترپردیش کے ایک روزہ دورے پر ہیں، نے آج رائے بریلی میں ماڈرن کوچ فیکٹری کا دورہ کیا۔ ایک عوامی جلسے میں انھوں نے 900ویں کوچ اور ایک ہمسفر ریک کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انھوں نے رائے بریلی میں بہت سے ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا، افتتاح کیا یا ان کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج جن پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا گیا ، افتتاح کیا گیا یا جن کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا مجموعی طور پر ان کی مالیت ایک ہزار کروڑ روپئے ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ماڈرن کوچ فیکٹری نوجوانوں کو روزگار فراہم کرا رہی ہے اور یہ رائے بریلی کو ریل کوچ تیار کرنے کا ایک عالمی مرکزی بنادے گی ۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ 1971 میں آج ہی کے دن ہندوستانی فوج نے ان کو شکست دی تھی جو دہشت ، ظلم اور لاقانونیت کی علامت ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ایک طرف تو حکومت مسلح دستوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو مسلح دستوں کو مضبوط بنانا نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا کہ وہ لوگ صرف جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور وزارتِ دفاع پر، فضائیہ پر اور یہاں تک کہ ایک غیرملکی حکومت پر بھی تہمت لگاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جھوٹ کے رجحان پر صرف سچ کے ذریعے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے تحفظ کا معاملہ آتا ہے اور مسلح دستوں کی ضرورت کی بات ہوتی ہے تو مرکزی حکومت کے ذہن میں صرف ملک کا مفاد ہی ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مرکزی حکومت نے پہلے ہی 22 فصلوں کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ کیا ہے۔ صرف اس فیصلے سے ہی کسانوں کو اضافی طور پر 60 ہزار کروڑ روپئے کی رقم مہیا کرائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا سے ایسے کسانوں کو بھی فائدہ ملا ہے جن کی فصل نامعلوم وجوہات کے باعث تباہ ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت ‘‘سب کا ساتھ سب کا وکاس’’ کے منتر پر عمل کے لیے عہد بند ہے۔

 

 

 

Click here to read full text speech

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Business optimism in India at near 8-year high: Report

Media Coverage

Business optimism in India at near 8-year high: Report
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس 2021 سے پہلے میڈیا کے لئے وزیراعظم کے بیان کا متن
November 29, 2021
Share
 
Comments

نمسکار  ساتھیو!

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  انتہائی اہم ہے۔ ملک  آزادی کا امرت مہوتسو  منا رہا ہے۔ ہندوستان میں چارو  ں اطراف  سے اس  آزادی کے  امرت مہو تسو  کے باقاعدہ تخلیقی، تعمیری، عوام کے مفاد کے لئے، قوم  کے مفاد کے لئے، عام شہری  بہت سے پروگرام منعقد کر رہے ہیں، قدم اٹھارہے ہیں،  اور آزادی کے دیوانوں نے ، جو خواب دیکھے تھے، ان  خوابوں کو پورا کرنے کے لئے  عام شہری بھی اس ملک کی اپنی کوئی نہ کوئی ذمہ داری  نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ خبریں اپنے آپ  میں بھارت کے  تابناک مستقبل کے لئے خوش آئند اشارے ہیں۔

کل ہم نے  دیکھا ہے کہ  گزشتہ دنوں یوم آئین بھی  نئے عزائم کے ساتھ  آئین کے جذبے کو  عملی شکل دینے کے لئے ہر کسی  کی ذمہ داری  کے سلسلے میں پورے ملک نے   ایک عزم  کیا ہے ۔ ان  سب کے تناظر میں ہم چاہیں گے، ملک بھی چاہے گا، ملک کا ہر عام شہری  چاہے گا کہ بھارت کا پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  اور آئندہ   اجلاس بھی آزادے کے دیوانوں کے جو جذبات تھے، جو روح تھی، آزادی کے امرت مہو تسو  کی  جو روح ہے، اس روح  کے مطابق  پارلیمنٹ بھی ملک کے مفاد میں مباحثہ کرے، ملک کی ترقی کے لئے راستے  تلاش کرے، ملک کی ترقی کے لئے نئے طریقہ کار  تلاش کرے،  اور  اس کے لئے یہ اجلاس  بہت  ہی  نظریات کی افراط والا، دیر پا اثر پیدا کرنے والے مثبت فیصلے کرنے والا بنے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں پارلیمنٹ کو  کیسا چلا، کتنا اچھا تعاون کیا، اس ترازو پر تولا جائے، نہ کہ کس نے کتنا زور لگا کر  پارلیمنٹ  کے اجلاس  کو روک دیا، یہ معیار نہیں ہو سکتا۔ معیار یہ  ہوگا  کہ پارلیمنٹ میں کتنے گھنٹے کام  ہوا، کتنا تعمیری  کام ہوا۔  ہم چاہتے ہیں کہ حکومت   ہر موضوع پر  مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے، کھلا مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت  ہر سوال کا جواب  دینے کے لئے تیار ہے اور آزادی کے امرت مہو تسو  میں ہم یہ بھی چاہیں گے کہ پارلیمنٹ میں سوال بھی  ہو ، پارلیمنٹ میں امن بھی ہو۔

ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف، حکومت کی پالیسیوں کے خلاف، جتنی آواز  اٹھنی چاہئے، لیکن پارلیمنٹ  کے وقار، اسپیکر کے  وقار، صدر نشیں کے وقار ، ان سب کے ضمن میں ہم  وہ رویہ اپنائیں، جو آنے والے دنوں میں ملک کی نوجوان نسل کے کام آئے۔ پچھلے اجلاس کے  بعد  کورونا کی  شدید  صورت حال میں بھی ملک  نے 100  کروڑ سے زیادہ  ٹیکے  ، کورونا ویکسین اور اب ہم  150  کروڑ کی طرف  تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ نئی قسم کی خبریں بھی ہمیں اور بھی چوکنا کرتی ہیں اور  بیدار کرتی ہیں۔ میں پارلیمنٹ  کے سبھی ساتھیوں  سے  بھی  چوکنا رہنے کی  درخواست کرتا ہوں۔ آپ سبھی ساتھیوں  سے بھی   چوکس رہنے کی   استدعا کرتا ہوں۔ کیونکہ آپ سب کی  عمدہ  صحت، ہم وطنوں کی عمدہ صحت، ایسی  بحران کی گھڑی میں ہماری ترجیح ہے۔

ملک کے  80  کروڑ سے زیادہ  شہریوں کو  اس کورونا دور کے بحران میں اور زیادہ تکلیف نہ ہو، اس لئے وزیراعظم غریب کلیان یوجنا  سے  اناج  مفت دینے کی  اسکیم  چل رہی ہے۔ اب اسے  مارچ  2022  تک  توسیع دے دی گئی ہے۔ قریب  دو لاکھ 60  ہزار  کروڑ روپے کی لاگت سے ، 80  کروڑ سے زیادہ  ملک کے شہریوں کو  غریب کے گھر  کا  چولہا جلتا رہے، اس کی  فکر کی گئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس میں ملک کے مفاد  میں فیصلے ہم تیزی  سے کریں، مل جل کر کریں۔ عام انسان کی امید ، امنگوں کو  پورا کرنے والے بنیں۔ ایسی  میری  توقع ہے، بہت بہت شکریہ!