’’کھیل کود کا جذبہ مستقبل میں تمام کھلاڑیوں کے لیے کامیابی کے دروازے کھولے گا‘‘
’’مقامی سطح پر مقابلے نہ صرف مقامی صلاحیت میں اضافہ کریں گے بلکہ پورے خطے کے کھلاڑیوں کے حوصلے کو تقویت بہم پہنچائیں گے‘‘
’’سانسد کھیل مہاکمبھ ایک نیا راستہ، ایک نیا نظام ہے‘‘
’’ کھیل کود کی دنیا میں ملک کے مضمرات کو اجاگر کرنے میں سانسد کھیل مہاکمبھ کا کردار بہت بڑا ہے ‘‘
’’سانسد کھیل مہاکمبھ کھیل کود کے مستقبل کے شاندار بنیادی ڈھانچے کی مضبوط بنیاد رکھتا ہے ‘‘
’’کھیل کو د کی وزارت کی بجٹی تخصیص 2014 کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زائد ہے‘‘

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ روی کشن شکلا جی، موجود نوجوان کھلاڑیوں، کوچز، سرپرست حضرات اور ساتھیو!

سب سے پہلے میں مہایوگی گرو گورکھ ناتھ کی مقدس سرزمین کو سلام کرتا ہوں۔ سانسد کھیل مقابلے میں شامل ہو رہے تمام کھلاڑیوں کو میں مباکباد دیتا ہوں، اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آپ سبھی نے بہت محنت کی ہے ۔  اس مقابلے میں کچھ کھلاڑیوں کو جیت حاصل ہوئی ہوگی، کچھ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ کھیل کا میدان ہو یا زندگی کا میدان، ہار جیت لگی رہتی ہے۔ میں کھلاڑیوں کو یہی کہوں گا کہ اگر آپ یہاں تک پہنچے ہیں، تو آپ ہارے نہیں ہیں۔ آپ نے جیتنے کے لیے بہت کچھ سیکھا ہے، علم حاصل کیا  ہے، تجربات حاصل کیے ہیں اور یہی تو جیتنے کے لیے سب سے اہم سرمایہ ہے۔آپ دیکھئے گا، آپ کا کھیل کود کا جذبہ کیسے مستقبل میں آپ کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھول دے گا۔

میرے نوجوان ساتھیو،

مجھے بتایا گیا ہے کہ اس مقابلے میں کشتی، کبڈی، ہاکی جیسے کھیلوں کے ساتھ ساتھ پینٹنگ،  لوک گیت، مقامی رقص اور طبلہ-بانسری وغیرہ کے  فنکاروں نے بھی حصہ لیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت، قابل ستائش اور ترغیب فراہم کرنے والی پہل ہے۔ قابلیت خواہ کھیل کی ہو یا پھر فن – موسیقی کی، اس کا جذبہ اور اس کی توانائی یکساں ہوتی ہے۔ خصوصاً جو ہمارے بھارتی فن ہیں ، جو مقامی فن ہیں، انہیں آگے بڑھانے کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہم سب پر ساجھی ذمہ داری ہے ۔ روی کشن جی خود اتنے باصلاحیت فن کار ہیں، اس لیے فطری ہے وہ فن کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ میں اس انعقاد کے لیے روی کشن جی کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سانسد کھیل مہاکمبھ میں یہ میرا تیسرا پروگرام ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اگر بھارت کو دنیا کی سرکردہ کھیل کود کی طاقت بننا ہے، تو اس کے لیے ہمیں نئے نئے طریقےتلاشنے ہوں گے، نئے راستے منتخب کرنے ہوں گے، نئے نظام بھی وضع کرنے  ہوں گے۔ یہ سانسد کھیل مہاکمبھ ایسا ہی ایک نیا راستہ ہے، نیا نظام ہے۔ کھیل کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ مقامی سطح پر مسلسل کھیل مقابلے ہوتے رہیں۔ لوک سبھا کی سطح پر اس طرح کے مقابلے مقامی صلاحیتوں کو تو نکھارتے ہی ہیں، ساتھ ہی پورے علاقے کے کھلاڑیوں کے حوصلے کو بھی تقویت بہم پہنچاتے ہیں۔ آپ دیکھئے، اس سے پہلے جب گورکھپور میں کھیل مہاکمبھ ہوا تھا، تو اس میں تقریباً 18-20 ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔ اس مرتبہ یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 24-25 ہزار ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 9 ہزار نوجوان کھلاڑی ہماری بیٹیاں ہیں ۔ آپ میں سے ہزاروں کی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں، جو کسی  چھوٹے گاؤں سے آئے ہیں، چھوٹے قصبے سے آئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سانسد کھیل مقابلے، کس طرح، نوجوان کھلاڑیوں کو نئے مواقع فراہم کرنے کا نیا پلیٹ فارم بن رہے ہیں۔

ساتھیو،

عہد طفلی میں اکثر ہم دیکھ دیکھتے ہیں کہ بچے کسی اونچی چیز سے، کسی پیڑ کی شاخ کو پکڑ کر لٹکنے لگتے ہیں کہ ان کی لمبائی تھوڑی اور بڑھ جائے۔ یعنی عمر کوئی بھی ہو، فٹ رہنے کی ایک اندرونی خواہش ہر کسی کے من میں رہتی ہے۔ ہمارے یہاں ایک وقت تھا جب گاؤں-دیہات میں ہونے والے میلوں میں کھیل کود بھی خوب ہوتے تھے۔ اکھاڑوں میں بھی طرح طرح کے کھیل کرائے جاتے تھے۔ لیکن وقت بدلا اور یہ سار پرانے نظام آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔ حالات تو یہ بھی ہوگئے کہ اسکولوں میں  جو پی ٹی کے پیرئیڈ ہوتے تھے ، انہیں بھی ٹائم پاس کا پیرئیڈ مانا جانے لگا۔ ایسی سوچ کی وجہ سے ملک نے اپنی تین چار پیڑھیاں گنوا دیں۔ نہ بھارت میں کھیل کود سے متعلق سہولتوں میں اضافہ ہوا اور نہ ہی کھیل نظام نے نئی شکل اختیار کی۔ آپ لوگ جو ٹی وی پر تمام طرح کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام دیکھتے ہیں تو یہ بھی پاتے ہیں کہ اس میں کتنے ہی بچے چھوٹے چھوٹے شہروں کے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے ملک میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں باہر آنے کے لیے بے تاب ہیں۔  کھیل  کود کی دنیا میں ایسی صلاحیت کو سامنے لانے میں سانسد کھیل مہاکمبھ کا بڑا کردار ہے۔ آج  ملک میں بھاجپا کے سینکڑوں سانسد ایسے کھیل مہاکمبھوں کا اہتمام کرا رہے ہیں۔ آپ تصور کیجئے، کتنی بڑی تعداد میں نوجوان کھلاڑیوں کو آگےبڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ ان مقابلوں سے آگے بڑھ کر کئی کھلاڑی ریاستی سطح اور قومی سطح پر کھیلیں گے۔ آپ میں سے ہی ایسی صلاحیتیں بھی نکلیں گی جو آگے جاکر اولمپکس جیسے بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کے لیے تمغات جیتیں گی۔ اس لیے میں سانسد کھیل مہاکمبھ کو اس مضبوط بنیاد کی طرح مانتا ہوں جس پر مستقبل کی بہت شاندار عمارت تعمیر ہونے جا رہی ہے۔

ساتھیو،

کھیل مہاکمبھ جیسے مقابلوں کے ساتھ ہی ملک کا زور چھوٹے شہروں میں مقامی سطح پر کھیل سہولتیں تیار کرنے کا بھی ہے۔ گورکھپور کا ریجنل اسپورٹس اسٹیڈیم اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ گورکھپور کے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کے لیے بھی 100  سے زیادہ کھیل میدان بنائے گئے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ چوری چورا میں دیہی منی اسٹیڈیم بھی بنایا جا رہا ہے۔ کھیلو انڈیا تحریک کے تحت دوسری کھیل کود سہولتوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اب ملک ایک جامع ویژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں اس کے لیے کئی تجاویز رکھی گئی ہیں۔ 2014  کے مقابلے میں کھیل کود کی وزارت کا بجٹ اب تقریباً 3 گنا زائد ہے۔ آج ملک میں متعدد جدید اسٹیڈیم بن رہے ہیں۔ ٹی او پی ایس جیسی اسکیموں کے ذریعہ کھلاڑیوں کو تربیت کے لیے لاکھوں روپئے کی مدد دی جا رہی ہے۔ کھیلو انڈیا کے ساتھ ساتھ فٹ انڈیا اور یوگ جیسی مہمات بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ اچھے تغذیہ  کے لیے ملیٹس یعنی موٹے اناج پر زور دیا جا رہا ہے جوار، باجرہ جیسے موٹے اناج، سوپر فوڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس لیے اب ملک نے انہیں ’شری اَن ‘ کی شناخت دی ہے۔ آپ سبھی کو ان مہمات سے جڑنا ہے، ملک کے اس مشن کی قیادت کرنی ہے۔ آج اولمپکس سے لے کر دوسرے بڑے مقابلوں تک، جس طرح بھارت کے کھلاڑی تمغات جیت رہے ہیں، اس وراثت کو آپ جیسے نوجوان کھلاڑی ہی آگے بڑھائیں گے۔

مجھے پورا یقین ہے، آپ سب اسی طرح روشن ہوں گے ، اور اپنی کامیابیوں کی روشنی سے ملک کا نام روشن کریں گے۔ اسی نیک خواہش کے ساتھ، آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication

Media Coverage

WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated: PM Modi at Agra rally
While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement: PM Modi
We are ending 'Tushtikaran' and working for 'Santushtikaran': PM Modi at election rally in UP's Agra
I went into the sea with great devotion, I went there to seek the blessings of Lord Shri Krishna but Congress 'Shehzada' made fun of it, says the PM
Addressing a public rally in Aonla, PM Modi says this election is an election to completely free the country from the mentality of 1000 years of slavery
Shahjahanpur and its surrounding areas are witnessing significant development under the BJP today: PM Modi at Shahjahanpur
Since Yogi ji took charge, the era of stalled progress has ended, and development is now gaining momentum: PM Modi

In anticipation of the 2024 Lok Sabha Elections, Prime Minister Narendra Modi delivered stirring addresses to massive crowds in Agra, Aonla and Shahjahanpur in Uttar Pradesh. Amidst an outpouring of affection and respect, PM Modi unveiled a transparent vision for a Viksit Uttar Pradesh and a Viksit Bharat. The PM exposed the harsh realities of the Opposition’s trickery and their “loot system”.

Initiating his positively voluminous speech, PM Modi warned the audience that, “Some unnecessary force opposes India's growing power,” but at the same time the PM also assured that, “A defence corridor is being built here to manufacture deadly weapons for our army and for export. Arms brokers, who used to bribe Congress leaders, are furious. They don't want India's army to be Aatmanirbhar. They're united against Modi. We need the BJP-NDA government again to stop them.”

“While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement. Congress's manifesto for the 2024 elections bears 100% imprint of the Muslim League, solely dedicated to strengthening their vote bank,” PM Modi remarked.

Addressing a crucial issue of the day, PM Modi shed light on the Opposition's deceitful tactics, remarking, “Congress, whether in Karnataka or Andhra Pradesh, has persistently pushed for religious-based reservation in its manifesto. Despite constitutional and judicial constraints, Congress is determined to pursue this agenda. Their strategy involves reallocating OBC quota to provide religious-based reservation, as seen in Karnataka where all Muslim castes were included in the OBC category by the Congress government.”

“In 2012, just before the Uttar Pradesh Assembly elections, the Congress government attempted to allocate a portion of OBC reservation to minorities based on religion but failed. Now, the people of UP, especially the OBC community, must recognize Congress and SP's dangerous game. They aim to take away the rights of OBC castes like Yadav, Kurmi, Maurya, Kushwaha, Jat-Gujjar, Rajbhar, Teli, and Pal, and give them to their preferred vote bank. The SP, for its own gains, is betraying the Yadavs and backward classes. This appeasement-driven mindset defines both the SP and Congress, who aim to surreptitiously redistribute OBC rights to their vote banks, before the arrival of Yogi ji, the slogan of the INDI Alliance here was – The land which is the government's, that land is ours,” the PM further added.

Launching his revolt against the Opposition parties, PM Modi observed that, “A new scheme by the Congress-INDI Alliance has emerged, and that is Congress Ki Loot…Jindagi Ke Sath Bhi, Jindagi Ke Baad Bhi! They claim they will investigate your belongings using the Congress Shehzaada's X-ray machine, seizing everything, including sisters' and daughters' jewellery, and distribute it among their vote banks. Not even the sisters' mangalsutras will be spared.”

With compelling facts and figures, PM Modi posed a critical question to the crowd: "The Congress-SP and INDI Alliance plans to impose a 55% tax on your inheritance. This means they'll seize a significant portion of what you leave for your children. If you built a 4-room house, only 2 rooms will go to your children, the rest seized by Congress-SP. Similarly, if you own 10 bighas of land, only 5 will be inherited by your children, the rest confiscated by Congress-SP. Are you ready to surrender your property to them?"

“Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated, and the money they've stolen from the poor will be returned to them. PM Modi is seeking legal advice on how to recover the looted money, including bungalows and vehicles seized from these corrupt individuals,” the PM established.

Also, PM Modi addressed the appalling paper leak incident in Rajasthan, highlighting its detrimental impact on the future of the nation's youth. He revealed that the Ashok Gehlot's government of the state played a significant role in the incident, placing the blame squarely on the Congress.

In his second rally in Aonla, PM Modi described the 2024 election as a choice to liberate the country entirely from the mentality of a thousand years of slavery. This election is about elevating India's pride to new heights.

In a blistering attack on Congress and SP, PM Modi stated, “Do you remember what the Samajwadi Party (SP) and Congress used to say ten years ago – ‘Mandir wahin banayenge, Tarikh nahi batayenge’. With your blessings, we built the temple, set a date, and even invited the SP and Congress. But they declined the invitation. Why? Because they feared upsetting their vote bank. They didn't abandon just Lord Ram, but also Lord Shyam. You know that our Lord Krishna's ancient city of Dwarka lies submerged beneath the sea. Some time ago, I went to visit Dwarka ji in the sea. But the scion of the Congress made a mockery of it too. And the family members of the SP, who claim to be from the Yadav dynasty, are now singing praises to those who ridiculed Lord Krishna.”

Emphasizing Modi's guarantee, PM Modi stated that the leaders of the INDI alliance are vying for votes to amend the Constitution and introduce reservation based on religion. “Today, I am pledging support to the OBC community of Uttar Pradesh, encompassing Yadavs, Kurmis, Maurya-Kushwahas, Jat-Gujjars, Rajbhar-Teli-Pal communities. I am committed to preventing the Samajwadi Party and Congress from depriving you of your reservation rights,” he said.

In the Aonla rally, PM Modi continued to criticize the opposition, whether it be the Congress or the Samajwadi Party, stating that they only think about their own families. He said, “For these people, their family is everything, and they do not care about anyone else. In Uttar Pradesh, the Samajwadi Party did not find a single Yadav outside their family to whom they could give a ticket. Whether it's Badaun, Mainpuri, Kannauj, Azamgarh, Firozabad, everywhere, tickets have been given only to members of the same family. Such people will always prioritize the welfare of their own family, and for them, anyone outside their family holds no significance.”

In the last rally of the day in Shahjahanpur, brimming with audience, PM Modi reflected, “Shahjahanpur and its surrounding areas are witnessing significant development under the BJP today. Before Yogi ji took office, this region suffered greatly under the 'Samajwadi Stop Everything Project'. Roads were in disrepair, the electricity system was unreliable, health services were inadequate, and law and order was compromised. However, since Yogi ji took charge, the era of stalled progress has ended, and development is now gaining momentum.”

PM Modi poses critical questions to the audience, engaging them in thought-provoking atmosphere, “Modi seeks votes by highlighting his development initiatives, but have you ever seen SP and Congress do the same for their tenure? While Modi has built medical colleges and a grand temple for Ramlala in Ayodhya, what do Congress and SP have to show? During their rule, Ayodhya and Varanasi were plagued by terrorist attacks, and instead of addressing the issue, they worked to release terrorists from jail. Even today, they boycott the Ram Mandir and label its devotees as hypocrites.”

Taking a sharp jibe at the Opposition party, PM Modi exclaimed, “A hallmark of the Congress party is its tendency to raise noise in the name of the country and the Constitution whenever it plans to commit a major misdeed. Just like in the 70s, when Congress imposed emergency in the country. Today, once again, Congress has released its flop film. With only two dialogues: ‘If Modi wins, dictatorship will come’ and ‘If Modi wins, reservation will go away.’ However, as soon as the trailer of the Congress film and their manifesto came out, the country became aware of their real intentions.”

In his closing words, PM Modi humbly requested everyone in the crowd to spare a moment for their sevak and bless the BJP with a resounding victory. He also urged the crowd to visit each home, conveying his heartfelt gratitude and best wishes.