قومی شاہراہوں کے 5پروجیکٹوں کوقوم کے نام وقف کیااور سنگ بنیاد رکھا
103 کلومیٹر لمبی رائے پور - کھریار روڈ ریل لائن اور کیوٹی - انٹا گڑھ کو جوڑنے والی 17 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن کو دوطرفہ کرنے کے لیے وقف کیا
کوربا میں انڈین آئل کارپوریشن بوٹلنگ پلانٹ کو وقف کیا
ویڈیو لنک کے ذریعے انٹا گڑھ - رائے پور ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
آیوشمان بھارت کے تحت استفادہ کنندگان میں 75 لاکھ کارڈ کی تقسیم کا آغاز کیا
’’آج کے پروجیکٹ چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقوں میں ترقی اور سہولت کے ایک نئے سفر کی نشاندہی کرتے ہیں‘‘
’’حکومت ان مخصوص علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے جو ترقی کے لحاظ سے پیچھے ہیں‘‘
’’جدید انفراسٹرکچر کا تعلق سماجی انصاف سے بھی ہے‘‘
’’آج چھتیس گڑھ دو اقتصادی راہداریوں سے منسلک ہو رہا ہے‘‘
’’حکومت قدرتی دولت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے اور مزید صنعتیں لگانے کے لیے پرعزم ہے‘‘
’’حکومت نے منریگا کے تحت مناسب روزگار فراہم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کو 25000 کروڑ روپے سے زیادہ فراہم کیے ہیں‘‘

چھتیس گڑھ کے گورنر جناب وشو بھوشن ہری چندن جی، وزیر اعلیٰ جناب بھوپیش بگھیل جی، مرکزی وزارت میں میرے ساتھی، نتن گڈکری جی ، منسکھ منڈاویہ جی ، رینوکا سنگھ جی ، ریاست کے نائب وزرائے اعلیٰ، جناب  ٹی ایس۔ سنگھ دیو جی، بھائی شری رمن سنگھ جی، دیگر معززین، خواتین و حضرات، آج چھتیس گڑھ کے ترقی کے سفر میں ایک بہت اہم دن ہے، یہ ایک بہت بڑا دن ہے۔

آج چھتیس گڑھ کو 7 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا تحفہ مل رہا ہے۔ یہ تحفہ بنیادی ڈھانچے کے لیے ہے، کنیکٹیویٹی کے لیے ہے۔ یہ تحفہ چھتیس گڑھ کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے، یہاں کی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔ حکومت ہند کے ان منصوبوں سے یہاں روزگار کے کئی نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ دھان کے کاشتکاروں، معدنی دولت سے متعلق کاروباری اداروں اور یہاں کی سیاحت کو بھی ان منصوبوں سے کافی فائدہ ملے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سے قبائلی علاقوں میں سہولت اور ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوگا۔ میں ان تمام پروجیکٹوں کے لیے چھتیس گڑھ کے لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ 

ہندوستان میں ہم سب کا دہائیوں پرانا تجربہ ہے کہ جہاں بنیادی ڈھانچہ کمزور رہا وہاں ترقی اتنی ہی دیر سے پہنچی۔ اس لیے آج ہندوستان ان علاقوں میں زیادہ انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے۔ انفراسٹرکچر کا مطلب ہے لوگوں کی زندگی میں آسانی، انفراسٹرکچر کا مطلب کاروبار کرنے میں آسانی، انفراسٹرکچر کا مطلب ہے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنا، اور انفراسٹرکچر کا مطلب ہے تیز رفتار ترقی۔ آج ہندوستان میں جدید انفراسٹرکچر جس طرح ترقی کر رہا ہے، وہ یہاں چھتیس گڑھ میں بھی نظر آتا ہے۔ پچھلے 9 برسوں میں پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت چھتیس گڑھ کے ہزاروں قبائلی دیہاتوں تک سڑکیں پہنچ چکی ہیں۔ حکومت ہند نے یہاں تقریباً 3 ہزار  کلومیٹر طویل قومی شاہراہ کے منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ اس میں سے تقریباً تین ہزار کلومیٹر کے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلہ میں آج رائے پور-کوڈی بوڈ اور بلاس پور-پتھراپلی شاہراہوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ریل ہو، سڑک ہو، ٹیلی کام ہو، حکومت ہند نے چھتیس گڑھ میں ہر طرح کے رابطے کے لیے پچھلے 9 سالوں میں بے مثال کام کیا ہے۔

ساتھیو

جدید بنیادی ڈھانچے کا ایک اور بہت بڑا فائدہ ہے جس پر زیادہ بحث نہیں کی جاتی۔ جدید بنیادی ڈھانچے کا تعلق سماجی انصاف سے بھی ہے، جو صدیوں سے ناانصافی اور تکلیف کا شکار ہیں، حکومت ہند ان لوگوں کو جدید سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔ آج یہ سڑکیں، یہ ریلوے لائنیں غریبوں، دلتوں، پسماندگان، قبائلیوں کی بستیوں کو جوڑ رہی ہیں۔ ان دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے مریضوں، ماؤں اور بہنوں کو آج ہسپتال پہنچنے میں سہولت مل رہی ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ یہاں کے کسانوں اور مزدوروں کو مل رہا ہے۔ اس کی ایک اور مثال موبائل کنیکٹوٹی ہے۔ نو سال پہلے، چھتیس گڑھ کے 20 فیصد سے زیادہ دیہاتوں میں کسی قسم کی موبائل کنیکٹیویٹی نہیں تھی۔ آج یہ گھٹ کر تقریباً 6 فیصد تک آ گئی  ہے۔ ان میں سے زیادہ تر قبائلی گاؤں ہیں، جو نکسل تشدد سے متاثر ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان گاؤں کو بھی اچھی 4جی  کنیکٹیویٹی ملے،اس کے لئے حکومت ہند 700 سے زیادہ موبائل ٹاورز لگا رہی ہے۔ ان میں سے تقریباً 300 ٹاورز نے کام شروع کر دیا ہے۔ جن قبائلی دیہاتوں میں پہلے موبائل فون پہنچتے ہی خاموشی چھا جاتی تھی، آج انہی دیہاتوں میں موبائل کے رنگ ٹونز بج رہے ہیں۔ موبائل کنیکٹیویٹی کے آنے سے گاؤں کے لوگوں کو اب بہت سے کاموں میں مدد مل رہی ہے۔ اور یہی سماجی انصاف ہے۔ اور یہی سب کا ساتھ، سب کا وکاس ہے۔ 

ساتھیوں،

آج چھتیس گڑھ دو -دواقتصادی راہداریوں کے ذریعے آپس میں جڑ رہا ہے۔ رائے پور-دھنباد اقتصادی راہداری اور رائے پور-وشاکھاپٹنم اقتصادی راہداری اس پورے خطے کی قسمت بدلنے والی ہے۔ یہ اقتصادی راہداری ان خواہش مند اضلاع سے گزر رہی ہے جو کبھی پسماندہ کہلاتے تھے، جہاں کبھی تشدد اور انارکی کا راج تھا۔ آج ان اضلاع میں ترقی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے جو حکومت ہند کی کمان میں ہیں۔ رائے پور-وشاکھاپٹنم اقتصادی راہداری، جس پر آج کام شروع ہوا ہے، اس خطے کی نئی لائف لائن بننے جا رہی ہے۔ رائے پور اور وشاکھاپٹنم کے درمیان کا سفر اس راہداری سے آدھا رہ جائے گا۔ یہ 6 لین والی سڑک دھمتری کی دھان کی پٹی، کانکیر کی باکسائٹ پٹی اور کونڈاگاؤں کی دستکاری کی دولت کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی ایک بڑی سڑک بن جائے گی۔ اور مجھے ایک اور چیز پسند آئی۔ یہ سڑک جنگلی حیات کے علاقے سے گزرے گی، اس لیے جنگلی حیات کی سہولت کے لیے سرنگیں اور انیمل پاسیس بھی بنائے جائیں گے۔ دلی رجھاڑہ سے جگدل پور تک ریل لائن ہو، انٹا گڑھ سے رائے پور تک سیدھی ٹرین سروس ہو ، اس سے دور دراز علاقوں تک سفر کرنا  اور بھی آسان ہوجائےگا۔

ساتھیوں،

مرکزی حکومت کی ایک اور کوشش سے چھتیس گڑھ کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ حکومت ہند کی کوششوں سے چھتیس گڑھ میں 1 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ جن دھن بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ آج ان بینک کھاتوں میں 6 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہیں۔ یہ ان غریب خاندانوں، ان کے خاندان کے افراد، کسانوں، مزدوروں کا پیسہ ہے، جو پہلے اپنا پیسہ ادھر ادھر رکھنے پر مجبور تھے۔ آج ان جن دھن کھاتوں کی وجہ سے غریبوں کو حکومت سے براہ راست مدد مل رہی ہے۔ چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کے لیے حکومت ہند مسلسل کام کر رہی ہے، اگر وہ خود روزگار کرنا چاہتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مدرا یوجنا کے تحت چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو 40,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد دی گئی ہے۔ یہ رقم بھی بغیر کسی ضمانت کے دی گئی ہے۔ اس مدد سے ہمارے قبائلی نوجوانوں اور غریب خاندانوں کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے چھتیس گڑھ کے دیہاتوں میں کچھ کام شروع کیا ہے۔ حکومت ہند نے کرونا کے دور میں ملک کی چھوٹی صنعتوں کی مدد کے لیے لاکھوں کروڑ روپے کی ایک خصوصی اسکیم بھی شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت چھتیس گڑھ کے تقریباً 2 لاکھ کاروباری اداروں کو تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے کی مدد ملی ہے۔

ساتھیوں،

ہمارے ملک میں اس سے پہلے کبھی کسی حکومت نے ہمارے ریہٹری -پٹری والے کا، ٹھیلے والے  کا خیال نہیں رکھا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ گاؤں سے  ہی تو جا کر شہروں میں یہ کام کرتے ہیں۔ حکومت ہند ہر ریہٹری -پٹری والے  کو اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ اسی لیے ہم نے پہلی بار ان کے لیے پی ایم سواندھی یوجنا بنائی۔ انہیں بغیر گارنٹی کے قرضے دئیے۔ چھتیس گڑھ میں بھی اس کے 60 ہزار سے زیادہ مستفیدین ہیں۔ حکومت ہند نے دیہات میں منریگا کے تحت مناسب روزگار فراہم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کو 25,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم دی ہے۔ حکومت ہند کا یہ پیسہ گاؤں میں مزدوروں کی جیبوں میں پہنچ گیا ہے۔ 

کچھ دیر پہلے یہاں 75 لاکھ مستفیدین میں آیوشمان کارڈ کی تقسیم شروع ہوئی ہے۔ یعنی میرے ان غریب اور قبائلی بھائیوں اور بہنوں کو ہر سال 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی ضمانت ملی ہے۔ وہ چھتیس گڑھ کے 1500 سے زیادہ بڑے اسپتالوں میں اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ میں مطمئن ہوں کہ آیوشمان یوجنا غریب، قبائلی، پسماندہ اور دلت خاندانوں کی زندگیاں بچانے میں بہت مدد کر رہی ہے۔ اور اس اسکیم کی ایک اور خصوصیت ہے۔ اگر چھتیس گڑھ کا کوئی فائدہ کنندہ ہندوستان کی کسی دوسری ریاست میں ہے اور اسے وہاں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو یہ کارڈ وہاں بھی اپنے تمام کام مکمل کر سکتا ہے۔ اس کارڈ میں اتنی طاقت ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ہند چھتیس گڑھ کے ہر خاندان کی خدمت کے اسی جذبے کے ساتھ خدمت کرتی رہے گی۔ ایک بار پھر آپ سب کو ان ترقیاتی کاموں کے لیے بہت بہت مبارکباد۔ بہت بہت مبارک ہو! شکریہ! 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.