نارتھ اور ساؤتھ بلاکس میں بننے والے نیشنل میوزیم کے ورچوئل واک تھرو کا افتتاح کیا
انٹرنیشنل میوزیم ایکسپو کے میسکٹ ، گرافک ناول - میوزیم میں ایک دن، انڈین میوزیم کی ڈائریکٹری، کرتویہ پتھ کا پاکٹ میپ اور میوزیم کارڈزکی نقاب کشائی
’’میوزیم ماضی سے تحریک اور مستقبل کے لیے فرض کا احساس بھی دلاتا ہے‘‘
’’ملک میں ایک نیا ثقافتی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے‘‘
’’حکومت ہر ریاست اور معاشرے کے ہر طبقے کے ورثے کے ساتھ مقامی اور دیہی میوزیمس کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی مہم چلا رہی ہے‘‘
’’بھگوان بدھکی مقدس یادگاریں زمانے سے محفوظ ہیں جواب پوری دنیا میں بھگوان بدھ کے پیروکاروں کو متحد کر رہی ہیں‘‘
’’ہماری میراث عالمی اتحاد کی نقیب بن سکتی ہے‘‘
’’معاشرے میں تاریخی اہمیت کی چیزوں کو محفوظ رکھنے کا مزاج پیدا کیا جاناچاہئے ‘‘
’’خاندانوں، اسکولوں، اداروں اور شہروں کے اپنے میوزیم ہونے چاہئیں‘‘
’’نوجوان عالمی ثقافتی عمل کا وسیلہ بن سکتے ہیں‘‘
’’کسی بھی ملک کے کسی میوزیم میں ایسا کوئی فن پارہ نہیں ہونا چاہیے، جو وہاں غیر اخلاقی طریقے سے پہنچا ہو، ہمیں اسے تمام میوزیمس کے لیے اخلاقی عہد بستگی بنانا چاہیے‘‘
’’ہم اپنے ورثے کا تحفظ کریں گے اور ایک نئی وراثت بھی قائم کریں گے‘‘

کابینہ میں میرے ساتھی جناب کشن ریڈی جی، میناکشی لیکھی جی، ارجن رام میگھوال جی، لوورے میوزیم کے ڈائریکٹر مینوئل رباطے جی، دنیا کے الگ الک ملکوں کے مہمانان، دیگر معززین، خواتین و حضرات، آپ سب کو انٹرنیشنل میوزیم ڈے کی بہت بہت مبارکباد۔ آج یہاں عجائب گھر کی دنیا کے باکمال لوگ جمع ہیں۔ آج کا موقع اس لیے بھی خاص ہے کہ ہندوستان اپنی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر امرت مہوتسو منا رہا ہے۔

انٹرنیشنل میوزیم ایکسپو میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے جڑ کر تاریخ کے مختلف ابواب زندہ ہو رہے ہیں۔ جب ہم کسی میوزیم میں جاتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہمیں گزرے ہوئے زمانے سے، اس دور سے متعارف کرایا جا رہا ہے، ہمارا تعارف کیا جا رہا ہے۔ میوزیم میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نظر آتا ہے، وہ شواہد پر مبنی ہوتا ہے۔ عجائب گھر میں ایک طرف تو ہمیں ماضی سے ترغیب ملتی ہے اور دوسری طرف مستقبل کے تئیں اپنے فرائض کا احساس بھی ہوتا ہے۔

 

آپ کا جو موضوع ہے- پائیداری اور فلاح و بہبود، آج کی دنیا کی ترجیحات کو نمایاں کرتا ہے، اور اس پروگرام کو مزید معنویت کا حامل بناتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی کوششوں سے نوجوان نسل کی عجائب گھروں میں دلچسپی مزید بڑھے گی، انہیں ہمارے ورثے سے متعارف کرایا جائے گا۔ میں آپ سب کو ان کوششوں کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

یہاں آنے سے پہلے عجائب گھر میں چند لمحے گزارنے کا موقع ملا، بہت سے پروگراموں میں جانے کا موقع ملتا ہے، سرکاری، غیر سرکاری، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ من پر اثر ڈالنے والی پوری پلاننگ، اس کی تعلیم اور حکومت بھی اس اونچائی کا کام کر سکتی ہے جس کے لیے بہت فخر ہوتا ہے، ایسا نظام موجود ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ آج کا موقع ہندوستانی عجائب گھروں کی دنیا میں ایک بہت بڑا موڑ لائے گا۔ یہ میرا پختہ یقین ہے۔

ساتھیو،

سینکڑوں سال کی طویل غلامی نے ہندوستان کو یہ نقصان بھی پہنچایا کہ ہمارا بہت سا تحریری اور غیر تحریری ورثہ تباہ ہو گیا۔ غلامی کے دور میں بہت سے مخطوطات، بہت سی لائبریریاں جلا دی گئیں، تباہ کر دی گئیں۔ یہ صرف ہندوستان کا نقصان نہیں ہے، یہ پوری دنیا کا، پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد ہمارے ورثے کو بچانے کے لیے جو کوششیں کی جانی چاہیے تھیں وہ کافی نہیں ہوئیں۔

 

تاریخی ورثے کے بارے میں لوگوں میں شعور کی کمی نے اس نقصان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اور اسی لیے ہندوستان نے آزادی کے امرت کال میں جن ‘پنچ پران’ کا اعلان کیا ہے، ان میں اہم ہے - اپنے ورثے پر فخر! امرت مہوتسو میں ہندوستان کے ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہم نیا ثقافتی ڈھانچہ بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ وطن عزیز کی ان کاوشوں میں جدوجہد آزادی کی تاریخ بھی ہے اور ہزاروں سال کا ثقافتی ورثہ بھی۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس تقریب میں مقامی اور دیہی عجائب گھروں کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ حکومت ہند مقامی اور دیہی عجائب گھروں کو محفوظ کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم بھی چلا رہی ہے۔ ہماری ہر ریاست، ہر علاقے اور ہر معاشرے کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم 10 خصوصی عجائب گھر بھی تعمیر کر رہے ہیں تاکہ جدوجہد آزادی میں اپنی قبائلی برادری کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری دنیا میں ایک ایسا منفرد اقدام ہے جس میں قبائلی تنوع کی ایسی جامع جھلک دیکھنے کو ملے گی۔ مہاتما گاندھی جس راستے پر نمک ستیہ گرہ کے دوران چلتے تھے، وہ ڈانڈی راستہ بھی محفوظ ہے۔ اس جگہ پر ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کی گئی ہے جہاں گاندھی نے نمک کے قانون کو توڑا تھا۔ آج پورے ملک اور دنیا سے لوگ ڈانڈی کُٹیر تعداد میں دیکھنے کے لیے گاندھی نگر آتے ہیں۔

وہ جگہ جہاں ہمارے آئین کے معمار باباصاحب امبیڈکر کا انتقال ہوا، وہ جگہ کئی دہائیوں سے خستہ حال تھی۔ ہماری حکومت نے دہلی میں 5 علی پور روڈ اس جگہ کو قومی یادگار میں تبدیل کر دیا ہے۔ باباصاحب کی زندگی سے متعلق پنچ تیرتھ، مہو میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، لندن میں جہاں وہ رہتے تھے، ناگپور میں جہاں انہوں نے دیکشا لی، ممبئی میں چیتیا بھومی جہاں ان کی سمادھی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی 580 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو جوڑنے والے سردار صاحب کا فلک بوس مجسمہ - اسٹیچو آف یونٹی آج  ملک کا فخر بن گیا ہے۔ اسٹیچو آف یونٹی کے اندر ایک میوزیم بھی ہے۔

پنجاب کا جلیانوالہ باغ ہو، گجرات میں گووند گرو جی کی یادگار ہو، یوپی میں وارانسی کا مان محل میوزیم ہو، گوا میں کرسچن آرٹ کا میوزیم ہو، ایسی کئی جگہوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ میوزیم سے متعلق ایک اور منفرد کاوش ہندوستان میں ہوئی ہے۔ ہم نے راجدھانی دہلی میں ملک کے تمام سابق وزرائے اعظم کے سفر اور ان کی شراکت کے لیے وقف ایک پی ایم میوزیم بنایا ہے۔ آج پورے ملک سے لوگ پی ایم میوزیم آ رہے ہیں تاکہ آزادی کے بعد ہندوستان کے ترقی کے سفر کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ میں یہاں آنے والے اپنے مہمانوں سے خصوصی درخواست کروں گا کہ ایک بار اس میوزیم کو ضرور دیکھیں۔

 

ساتھیو،

جب کوئی ملک اپنے ورثے کو محفوظ کرنے لگتا ہے تو اس کا دوسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ پہلو دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں قربت کا ہے۔ جیسا کہ بھگوان بدھ کے مہاپری نروان کے بعد، ہندوستان نے ان کے مقدس آثار کو نسل در نسل محفوظ رکھا ہے۔ اور آج وہ مقدس آثار نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں بدھ مت کے کروڑوں پیروکاروں کو متحد کر رہے ہیں۔ ابھی پچھلے سال ہم نے بدھ پورنیما کے موقع پر 4 مقدس آثار منگولیا بھیجے تھے۔ وہ مقدس آثار پورے منگولیا کے لیے ایمان کا ایک عظیم تہوار بن گیا۔

بدھا کے آثار جو ہمارے پڑوسی ملک سری لنکا میں ہیں، کو بھی بدھ پورنیما کے موقع پر یہاں کشی نگر لایا گیا تھا۔ اسی طرح گوا میں سینٹ کوئین کیتیون کے مقدس آثار کا ورثہ بھی ہندوستان کے پاس محفوظ ہے۔ مجھے یاد ہے، جب ہم نے سینٹ کوئین کیتیون کے آثار جارجیا بھیجے تو وہاں قومی جشن کا ماحول تھا۔ اس دن جارجیا کے بہت سے شہری وہاں سڑکوں پر جمع تھے، وہاں بہت بڑے میلے جیسا ماحول تھا۔ یعنی ہمارا ورثہ بھی عالمی اتحاد کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور اس لیے اس ورثے کو محفوظ رکھنے والے ہمارے عجائب گھروں کا کردار بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔

ساتھیو،

جس طرح ہم کل کے لیے خاندان میں وسائل کا اضافہ کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں پوری زمین کو ایک خاندان سمجھ کر اپنے وسائل کو بچانا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمارے عجائب گھر ان عالمی کوششوں میں سرگرم حصہ دار بنیں۔ ہماری کرہ ارض نے پچھلی صدیوں میں کئی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے۔ ان کی یادیں اور علامتیں آج بھی موجود ہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عجائب گھروں میں ان علامتوں اور ان سے متعلق تصاویر کی گیلری کی سمت سوچنا چاہیے۔

ہم مختلف اوقات میں زمین کی بدلتی ہوئی تصویر کو بھی پیش کر سکتے ہیں۔ اس سے آنے والے وقت میں لوگوں میں ماحولیات کے بارے میں بیداری بڑھے گی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ایکسپو میں گیسٹرونومک کے تجربے کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہے۔ لوگ یہاں آیوروید اور موٹے اناج شری ان سے تیار کردہ پکوانوں کا بھی تجربہ کریں گے۔

ہندوستان کی کوششوں سے آیوروید اور موٹے اناج شری ان ان دنوں ایک عالمی تحریک بن چکے ہیں۔ ہم ہزاروں سال کے اناج اور مختلف نباتات کے سفر پر مبنی نئے عجائب گھر بھی بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں اس علمی نظام کو آنے والی نسلوں تک لے جائیں گی اور انہیں امر کر دیں گی۔

 

ساتھیو،

ان تمام کوششوں میں ہمیں کامیابی اسی وقت ملے گی جب ہم تاریخی چیزوں کے تحفظ کو ملک کی فطرت بنائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے ورثے کی حفاظت ملک کے عام شہری کی فطرت کیسے بنے گی؟ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ ہندوستان میں ہر خاندان اپنے گھر میں اپنا فیملی میوزیم کیوں نہیں بناتا؟ گھر کے لوگوں کے بارے میں، اس کے اپنے گھر والوں کی معلومات۔ اس میں گھر کے بزرگوں کی پرانی اور کچھ خاص چیزیں رکھی جا سکتی ہیں۔ آج آپ جو کاغذ لکھ رہے ہیں وہ آپ کو عام لگتا ہے۔ لیکن آپ کی تحریر کا وہی کاغذ تین چار نسلوں کے بعد جذباتی ملکیت بن جائے گا۔ اسی طرح ہمارے اسکولوں، ہمارے مختلف اداروں اور تنظیموں کے بھی اپنے عجائب گھر ہونے چاہئیں۔ دیکھیے گا، مستقبل کے لیے کتنا بڑا اور تاریخی سرمایہ تیار ہو گا۔

ملک کے مختلف شہر سٹی میوزیم جیسے منصوبے بھی جدید شکل میں تیار کر سکتے ہیں۔ اس میں ان شہروں سے متعلق تاریخی اشیاء رکھی جا سکتی ہیں۔ ریکارڈ رکھنے کی پرانی روایت جو ہم مختلف فرقوں میں دیکھتے ہیں اس سمت میں بھی ہماری بہت مدد کرے گی۔

ساتھیو،

مجھے خوشی ہے کہ آج عجائب گھر نہ صرف دیکھنے کی جگہ بن رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے کیریئر کا آپشن بھی بن رہے ہیں۔ لیکن میں یہ چاہوں گا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف میوزیم ورکرز کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ تاریخ اور فن تعمیر جیسے مضامین سے وابستہ یہ نوجوان عالمی ثقافتی تبادلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ نوجوان دوسرے ملکوں میں جا سکتے ہیں، وہاں کے نوجوانوں سے دنیا کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں، انہیں ہندوستان کی ثقافت کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ ان کا تجربہ اور ماضی کے ساتھ وابستگی ہمارے ملک کے ورثے کو محفوظ رکھنے میں بہت کارآمد ثابت ہوگی۔

 

ساتھیو،

آج جب ہم مشترکہ ورثے کی بات کر رہے ہیں تو میں ایک مشترکہ چیلنج کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ چیلنج نوادرات کی اسمگلنگ اور تخصیص ہے۔ ہندوستان جیسے قدیم ثقافت والے ملک سینکڑوں سالوں سے اس سے نبرد آزما ہیں۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں بہت سے نوادرات ہمارے ملک سے غیر اخلاقی طریقے سے اٹھائے گئے ہیں۔ اس قسم کے جرائم کو روکنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج دنیا میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ کے درمیان اب مختلف ممالک نے ہندوستان کو اپنا ورثہ واپس کرنا شروع کردیا ہے۔ بنارس سے چرائی گئی ماں انا پورنا کی مورتی ہو، گجرات سے چوری ہوئی مہیشسورمردینی کی مورتی ہو، یا چولا سلطنت کے دوران بنائی گئی نٹراج کی مورتیاں، تقریباً 240 قدیم نوادرات ہندوستان واپس لائے گئے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے کئی دہائیوں تک یہ تعداد 20 تک نہیں پہنچی تھی۔ ہندوستان سے ثقافتی نوادرات کی اسمگلنگ بھی ان 9 سالوں میں کافی کم ہوئی ہے۔

 

میں دنیا بھر کے فن کے ماہروں، خاص طور پر عجائب گھروں سے وابستہ افراد سے اس شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کی اپیل کرتا ہوں۔ کسی بھی ملک کے کسی میوزیم میں ایسا کوئی فن پارہ نہیں ہونا چاہیے، جو وہاں غیر اخلاقی طریقے سے پہنچا ہو۔ ہمیں اسے تمام عجائب گھروں کے لیے اخلاقی عہدبستگی بنانا چاہیے۔

ساتھیو،

مجھے یقین ہے کہ ہم ماضی سے جڑے رہتے ہوئے مستقبل کے لیے نئے آئیڈیاز پر کام کرتے رہیں گے۔ ہم ورثے کو محفوظ کریں گے اور نیا ورثہ بھی بنائیں گے۔ اسی خواہش کے ساتھ، آپ سبھی کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List

Media Coverage

Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Participants of Viksit Vibrant Village Programme share their experiences with PM Modi
July 26, 2026
Solo travel is a way of discovering the world while discovering oneself: PM
Every young person and every daughter of the country should move forward with confidence and self-belief: PM
Border villages may be geographically distant, but their residents are emotionally deeply connected with the nation: PM
Those who were last in priority earlier are now the first: PM
Journey of young participants reflects the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat: PM
Citizens should spend at least five per cent of their travel budget on purchasing local products: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi today interacted virtually with participants of the Viksit Vibrant Village Programme 2026, during which young MYBharat Volunteers shared their experiences from border villages in Himachal Pradesh, Uttarakhand and Ladakh. The interaction highlighted the transformation of these villages through improved infrastructure, connectivity and public services, along with women-led development, tourism, community participation and stronger national integration. More than 5,000 MYBharat Volunteers from 245 districts across the country joined the programme virtually.

Introducing the programme, MYBharat Volunteer Shri Divyansh Joshi from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu outlined initiatives including the Viksit Bharat Young Leaders Dialogue, Viksit Bharat Youth Parliament, Budget Twist, mentorship and volunteering programmes. He said more than 2.30 crore young people had benefitted from MYBharat initiatives, while 2.86 lakh youth participated in the nationwide quiz through which 403 volunteers were selected to visit border villages. Recounting his visit to Leo village in Kinnaur district of Himachal Pradesh, he highlighted interactions with residents, senior citizens and schoolchildren, career counselling for local youth, sports and cultural activities, the leadership of the woman Sarpanch and the functioning of the Ayushman Arogya Mandir. He said his homestay experience showed that belonging transcends language and State boundaries, adding that the volunteers paid homage to the country’s brave soldiers at the Kargil War Memorial and would compile their experiences for submission to the Prime Minister while remaining committed to the vision of Viksit Bharat.

MYBharat Volunteer Ms Nikita Pravin Solanki from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu said her selection through the MYBharat quiz enabled her first independent journey to Dhar Chango Nichla village in Kinnaur district. The affectionate welcome extended by the villagers strengthened her confidence and reflected changing societal attitudes towards women. Through her interactions with the woman Pradhan, Panchayat representatives, farmers, senior citizens and children, she witnessed the multiple responsibilities shouldered by rural women and found, contrary to her earlier perceptions, quality roads, regular electricity, drinking-water connections and digital connectivity, which residents attributed to the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana, Jal Jeevan Mission and Ayushman Bharat. She also participated in cleanliness, sports and cultural activities, recalled the curiosity of village children about her home region and said she continued to remain in touch with her host family.

Recalling his Diwali visit to the Chango region in 2016, the Prime Minister said Ms Solanki’s journey reflected the growing confidence of India’s daughters and that MYBharat had transformed individual journeys into one national family. “Solo travelling is a way of discovering the world while discovering yourself,” observed Shri Modi.

MYBharat Volunteer Shri Sunil Kumar Kela from Jalore, Rajasthan, said that being from a border village himself enabled him to connect readily with the people of Dhar Chango Uprela village in Himachal Pradesh. Despite geographical and climatic differences, he found the people of both regions united by courage, patriotism and warmth. He remained connected with his family through video calls, showing them the Sutlej River, school, Jan Aushadhi Kendra, hospital and sports facilities, while his social-media posts encouraged friends to explore MYBharat. His initial apprehensions regarding roads, accommodation, electricity and mobile connectivity were dispelled by the high-quality roads reaching the homestay, solar-energy installations and improved infrastructure that had transformed daily life. He added that he remained in contact with his host family and had invited them to visit Rajasthan.

The Prime Minister observed that young people from border villages across Rajasthan, Kashmir, Himachal Pradesh and the North-East shared a common outlook and that border residents, though geographically distant, remained emotionally deeply connected with the nation. “Those who were last in priority earlier are now the first,” remarked Shri Modi.

MYBharat Volunteer Ms Bhavya Shri from Chittoor district of Andhra Pradesh said her desire to learn beyond academics led her to MYBharat and to Harsil Valley in Uttarkashi district of Uttarakhand. Her initial concerns about the unfamiliar climate, food, culture and lifestyle were dispelled by the hospitality of local residents and officials, while interactions with Indo-Tibetan Border Police personnel deepened her appreciation of their discipline, humility, dedication and commitment to the nation. She said participants from different States, languages and cultures arrived as strangers but returned as one family, reflecting the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. Photographs of the Nelang and Jadung Valleys and apple orchards generated considerable interest among her friends, many of whom subsequently registered on MYBharat. She also recalled the equipment provided to help participants adapt to the cold climate, the resilience of a resident who chose to remain in his landslide-affected native village despite hardship, and the peaceful, meditative character of the Garhwali dance in contrast with the energetic folk dances of her home State.

Recalling his visit to Mukhwa village in Uttarakhand, the Prime Minister said the interaction reaffirmed his belief that India’s youth place the nation first. “The manner in which all of you have lived the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat will inspire many more young people,” observed Shri Modi.

Twenty-one-year-old MYBharat Volunteer Ms Sayantika Mistry from the Andaman and Nicobar Islands thanked the Prime Minister for envisioning MYBharat as a platform enabling crores of young people to contribute to nation-building. Recounting her journey from sea level to Maan village in Ladakh at an altitude of nearly 17,000 feet, she described suffering from acute mountain sickness and the care extended by the MYBharat team and ITBP personnel, including doctors who prioritised treating her as their guest before attending to their own personnel. She said the experience showed that ITBP personnel not only protected the borders but also cared deeply for citizens and made her appreciate the resilience required to live in high-altitude conditions. Contrary to her family’s expectation of poor connectivity, she found reliable internet, QR-code and UPI payment facilities and Wi-Fi in the border region. She also interacted with local children, one of whom expressed a desire to visit the Andaman and Nicobar Islands, and highlighted the community spirit through which residents collectively organised weddings and monastery events, restored a damaged mobile tower and constructed a storage facility for its batteries.

Encouraging Ms Mistry to document her experience through articles or a book so that others could better understand the country’s vastness, people and shared sense of belonging, Shri Modi remarked, “When you share joy, it multiplies.”

MYBharat Volunteer Shri Ashish Soni from Jaunpur district of Uttar Pradesh, who is preparing for the Civil Services Examination, thanked the Prime Minister for enabling young people to contribute suggestions during the Budget-making process. Sharing his experience of Kaza Khas in Himachal Pradesh’s Spiti region, he said his parents, who remembered a time when mobile connectivity in remote areas was difficult, were astonished when he video-called them from nearly 14,000 feet. Describing MYBharat as a bridge between a generation that had witnessed struggle and another witnessing transformation, he recounted writing letters from the world’s highest post office at Hikkim to the Prime Minister, his family, the Ministry of Youth Affairs, the Defence Minister and his District Magistrate. He said India was connected not only through metros and airports but also through institutions serving its remotest regions and highlighted QR-code payments at around 14,500 feet as evidence that Digital India had become a source of trust across the country. His interactions with women’s self-help groups introduced him to entrepreneurship through homestays, digital platforms and sea buckthorn-based products, while discussions on the PM MUDRA Yojana and Deendayal Antyodaya Yojana focused on expanding livelihood opportunities. He also highlighted the role of the Border Roads Organisation-built Chicham Bridge in improving connectivity, tourism and economic activity, besides noting the region’s potential for night tourism.

Observing that technology had reached every corner of the country and that purchasing local products would generate employment, support livelihoods and carry regional identities across India, Shri Modi urged, “Wherever you travel, spend at least five per cent of your travel budget on buying products from local people.”

Concluding the interaction, the Prime Minister extended his best wishes to the young participants. The programme highlighted MYBharat’s role in enabling young people to experience first-hand the transformation of India’s border villages, dispel outdated perceptions and deepen their understanding of the country’s cultural diversity, developmental progress, community participation and the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat.