نارتھ اور ساؤتھ بلاکس میں بننے والے نیشنل میوزیم کے ورچوئل واک تھرو کا افتتاح کیا
انٹرنیشنل میوزیم ایکسپو کے میسکٹ ، گرافک ناول - میوزیم میں ایک دن، انڈین میوزیم کی ڈائریکٹری، کرتویہ پتھ کا پاکٹ میپ اور میوزیم کارڈزکی نقاب کشائی
’’میوزیم ماضی سے تحریک اور مستقبل کے لیے فرض کا احساس بھی دلاتا ہے‘‘
’’ملک میں ایک نیا ثقافتی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے‘‘
’’حکومت ہر ریاست اور معاشرے کے ہر طبقے کے ورثے کے ساتھ مقامی اور دیہی میوزیمس کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی مہم چلا رہی ہے‘‘
’’بھگوان بدھکی مقدس یادگاریں زمانے سے محفوظ ہیں جواب پوری دنیا میں بھگوان بدھ کے پیروکاروں کو متحد کر رہی ہیں‘‘
’’ہماری میراث عالمی اتحاد کی نقیب بن سکتی ہے‘‘
’’معاشرے میں تاریخی اہمیت کی چیزوں کو محفوظ رکھنے کا مزاج پیدا کیا جاناچاہئے ‘‘
’’خاندانوں، اسکولوں، اداروں اور شہروں کے اپنے میوزیم ہونے چاہئیں‘‘
’’نوجوان عالمی ثقافتی عمل کا وسیلہ بن سکتے ہیں‘‘
’’کسی بھی ملک کے کسی میوزیم میں ایسا کوئی فن پارہ نہیں ہونا چاہیے، جو وہاں غیر اخلاقی طریقے سے پہنچا ہو، ہمیں اسے تمام میوزیمس کے لیے اخلاقی عہد بستگی بنانا چاہیے‘‘
’’ہم اپنے ورثے کا تحفظ کریں گے اور ایک نئی وراثت بھی قائم کریں گے‘‘

کابینہ میں میرے ساتھی جناب کشن ریڈی جی، میناکشی لیکھی جی، ارجن رام میگھوال جی، لوورے میوزیم کے ڈائریکٹر مینوئل رباطے جی، دنیا کے الگ الک ملکوں کے مہمانان، دیگر معززین، خواتین و حضرات، آپ سب کو انٹرنیشنل میوزیم ڈے کی بہت بہت مبارکباد۔ آج یہاں عجائب گھر کی دنیا کے باکمال لوگ جمع ہیں۔ آج کا موقع اس لیے بھی خاص ہے کہ ہندوستان اپنی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر امرت مہوتسو منا رہا ہے۔

انٹرنیشنل میوزیم ایکسپو میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے جڑ کر تاریخ کے مختلف ابواب زندہ ہو رہے ہیں۔ جب ہم کسی میوزیم میں جاتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہمیں گزرے ہوئے زمانے سے، اس دور سے متعارف کرایا جا رہا ہے، ہمارا تعارف کیا جا رہا ہے۔ میوزیم میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نظر آتا ہے، وہ شواہد پر مبنی ہوتا ہے۔ عجائب گھر میں ایک طرف تو ہمیں ماضی سے ترغیب ملتی ہے اور دوسری طرف مستقبل کے تئیں اپنے فرائض کا احساس بھی ہوتا ہے۔

 

آپ کا جو موضوع ہے- پائیداری اور فلاح و بہبود، آج کی دنیا کی ترجیحات کو نمایاں کرتا ہے، اور اس پروگرام کو مزید معنویت کا حامل بناتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی کوششوں سے نوجوان نسل کی عجائب گھروں میں دلچسپی مزید بڑھے گی، انہیں ہمارے ورثے سے متعارف کرایا جائے گا۔ میں آپ سب کو ان کوششوں کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

یہاں آنے سے پہلے عجائب گھر میں چند لمحے گزارنے کا موقع ملا، بہت سے پروگراموں میں جانے کا موقع ملتا ہے، سرکاری، غیر سرکاری، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ من پر اثر ڈالنے والی پوری پلاننگ، اس کی تعلیم اور حکومت بھی اس اونچائی کا کام کر سکتی ہے جس کے لیے بہت فخر ہوتا ہے، ایسا نظام موجود ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ آج کا موقع ہندوستانی عجائب گھروں کی دنیا میں ایک بہت بڑا موڑ لائے گا۔ یہ میرا پختہ یقین ہے۔

ساتھیو،

سینکڑوں سال کی طویل غلامی نے ہندوستان کو یہ نقصان بھی پہنچایا کہ ہمارا بہت سا تحریری اور غیر تحریری ورثہ تباہ ہو گیا۔ غلامی کے دور میں بہت سے مخطوطات، بہت سی لائبریریاں جلا دی گئیں، تباہ کر دی گئیں۔ یہ صرف ہندوستان کا نقصان نہیں ہے، یہ پوری دنیا کا، پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد ہمارے ورثے کو بچانے کے لیے جو کوششیں کی جانی چاہیے تھیں وہ کافی نہیں ہوئیں۔

 

تاریخی ورثے کے بارے میں لوگوں میں شعور کی کمی نے اس نقصان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اور اسی لیے ہندوستان نے آزادی کے امرت کال میں جن ‘پنچ پران’ کا اعلان کیا ہے، ان میں اہم ہے - اپنے ورثے پر فخر! امرت مہوتسو میں ہندوستان کے ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہم نیا ثقافتی ڈھانچہ بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ وطن عزیز کی ان کاوشوں میں جدوجہد آزادی کی تاریخ بھی ہے اور ہزاروں سال کا ثقافتی ورثہ بھی۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس تقریب میں مقامی اور دیہی عجائب گھروں کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ حکومت ہند مقامی اور دیہی عجائب گھروں کو محفوظ کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم بھی چلا رہی ہے۔ ہماری ہر ریاست، ہر علاقے اور ہر معاشرے کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم 10 خصوصی عجائب گھر بھی تعمیر کر رہے ہیں تاکہ جدوجہد آزادی میں اپنی قبائلی برادری کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری دنیا میں ایک ایسا منفرد اقدام ہے جس میں قبائلی تنوع کی ایسی جامع جھلک دیکھنے کو ملے گی۔ مہاتما گاندھی جس راستے پر نمک ستیہ گرہ کے دوران چلتے تھے، وہ ڈانڈی راستہ بھی محفوظ ہے۔ اس جگہ پر ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کی گئی ہے جہاں گاندھی نے نمک کے قانون کو توڑا تھا۔ آج پورے ملک اور دنیا سے لوگ ڈانڈی کُٹیر تعداد میں دیکھنے کے لیے گاندھی نگر آتے ہیں۔

وہ جگہ جہاں ہمارے آئین کے معمار باباصاحب امبیڈکر کا انتقال ہوا، وہ جگہ کئی دہائیوں سے خستہ حال تھی۔ ہماری حکومت نے دہلی میں 5 علی پور روڈ اس جگہ کو قومی یادگار میں تبدیل کر دیا ہے۔ باباصاحب کی زندگی سے متعلق پنچ تیرتھ، مہو میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، لندن میں جہاں وہ رہتے تھے، ناگپور میں جہاں انہوں نے دیکشا لی، ممبئی میں چیتیا بھومی جہاں ان کی سمادھی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی 580 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو جوڑنے والے سردار صاحب کا فلک بوس مجسمہ - اسٹیچو آف یونٹی آج  ملک کا فخر بن گیا ہے۔ اسٹیچو آف یونٹی کے اندر ایک میوزیم بھی ہے۔

پنجاب کا جلیانوالہ باغ ہو، گجرات میں گووند گرو جی کی یادگار ہو، یوپی میں وارانسی کا مان محل میوزیم ہو، گوا میں کرسچن آرٹ کا میوزیم ہو، ایسی کئی جگہوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ میوزیم سے متعلق ایک اور منفرد کاوش ہندوستان میں ہوئی ہے۔ ہم نے راجدھانی دہلی میں ملک کے تمام سابق وزرائے اعظم کے سفر اور ان کی شراکت کے لیے وقف ایک پی ایم میوزیم بنایا ہے۔ آج پورے ملک سے لوگ پی ایم میوزیم آ رہے ہیں تاکہ آزادی کے بعد ہندوستان کے ترقی کے سفر کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ میں یہاں آنے والے اپنے مہمانوں سے خصوصی درخواست کروں گا کہ ایک بار اس میوزیم کو ضرور دیکھیں۔

 

ساتھیو،

جب کوئی ملک اپنے ورثے کو محفوظ کرنے لگتا ہے تو اس کا دوسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ پہلو دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں قربت کا ہے۔ جیسا کہ بھگوان بدھ کے مہاپری نروان کے بعد، ہندوستان نے ان کے مقدس آثار کو نسل در نسل محفوظ رکھا ہے۔ اور آج وہ مقدس آثار نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں بدھ مت کے کروڑوں پیروکاروں کو متحد کر رہے ہیں۔ ابھی پچھلے سال ہم نے بدھ پورنیما کے موقع پر 4 مقدس آثار منگولیا بھیجے تھے۔ وہ مقدس آثار پورے منگولیا کے لیے ایمان کا ایک عظیم تہوار بن گیا۔

بدھا کے آثار جو ہمارے پڑوسی ملک سری لنکا میں ہیں، کو بھی بدھ پورنیما کے موقع پر یہاں کشی نگر لایا گیا تھا۔ اسی طرح گوا میں سینٹ کوئین کیتیون کے مقدس آثار کا ورثہ بھی ہندوستان کے پاس محفوظ ہے۔ مجھے یاد ہے، جب ہم نے سینٹ کوئین کیتیون کے آثار جارجیا بھیجے تو وہاں قومی جشن کا ماحول تھا۔ اس دن جارجیا کے بہت سے شہری وہاں سڑکوں پر جمع تھے، وہاں بہت بڑے میلے جیسا ماحول تھا۔ یعنی ہمارا ورثہ بھی عالمی اتحاد کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور اس لیے اس ورثے کو محفوظ رکھنے والے ہمارے عجائب گھروں کا کردار بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔

ساتھیو،

جس طرح ہم کل کے لیے خاندان میں وسائل کا اضافہ کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں پوری زمین کو ایک خاندان سمجھ کر اپنے وسائل کو بچانا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمارے عجائب گھر ان عالمی کوششوں میں سرگرم حصہ دار بنیں۔ ہماری کرہ ارض نے پچھلی صدیوں میں کئی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے۔ ان کی یادیں اور علامتیں آج بھی موجود ہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عجائب گھروں میں ان علامتوں اور ان سے متعلق تصاویر کی گیلری کی سمت سوچنا چاہیے۔

ہم مختلف اوقات میں زمین کی بدلتی ہوئی تصویر کو بھی پیش کر سکتے ہیں۔ اس سے آنے والے وقت میں لوگوں میں ماحولیات کے بارے میں بیداری بڑھے گی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ایکسپو میں گیسٹرونومک کے تجربے کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہے۔ لوگ یہاں آیوروید اور موٹے اناج شری ان سے تیار کردہ پکوانوں کا بھی تجربہ کریں گے۔

ہندوستان کی کوششوں سے آیوروید اور موٹے اناج شری ان ان دنوں ایک عالمی تحریک بن چکے ہیں۔ ہم ہزاروں سال کے اناج اور مختلف نباتات کے سفر پر مبنی نئے عجائب گھر بھی بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں اس علمی نظام کو آنے والی نسلوں تک لے جائیں گی اور انہیں امر کر دیں گی۔

 

ساتھیو،

ان تمام کوششوں میں ہمیں کامیابی اسی وقت ملے گی جب ہم تاریخی چیزوں کے تحفظ کو ملک کی فطرت بنائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے ورثے کی حفاظت ملک کے عام شہری کی فطرت کیسے بنے گی؟ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ ہندوستان میں ہر خاندان اپنے گھر میں اپنا فیملی میوزیم کیوں نہیں بناتا؟ گھر کے لوگوں کے بارے میں، اس کے اپنے گھر والوں کی معلومات۔ اس میں گھر کے بزرگوں کی پرانی اور کچھ خاص چیزیں رکھی جا سکتی ہیں۔ آج آپ جو کاغذ لکھ رہے ہیں وہ آپ کو عام لگتا ہے۔ لیکن آپ کی تحریر کا وہی کاغذ تین چار نسلوں کے بعد جذباتی ملکیت بن جائے گا۔ اسی طرح ہمارے اسکولوں، ہمارے مختلف اداروں اور تنظیموں کے بھی اپنے عجائب گھر ہونے چاہئیں۔ دیکھیے گا، مستقبل کے لیے کتنا بڑا اور تاریخی سرمایہ تیار ہو گا۔

ملک کے مختلف شہر سٹی میوزیم جیسے منصوبے بھی جدید شکل میں تیار کر سکتے ہیں۔ اس میں ان شہروں سے متعلق تاریخی اشیاء رکھی جا سکتی ہیں۔ ریکارڈ رکھنے کی پرانی روایت جو ہم مختلف فرقوں میں دیکھتے ہیں اس سمت میں بھی ہماری بہت مدد کرے گی۔

ساتھیو،

مجھے خوشی ہے کہ آج عجائب گھر نہ صرف دیکھنے کی جگہ بن رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے کیریئر کا آپشن بھی بن رہے ہیں۔ لیکن میں یہ چاہوں گا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف میوزیم ورکرز کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ تاریخ اور فن تعمیر جیسے مضامین سے وابستہ یہ نوجوان عالمی ثقافتی تبادلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ نوجوان دوسرے ملکوں میں جا سکتے ہیں، وہاں کے نوجوانوں سے دنیا کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں، انہیں ہندوستان کی ثقافت کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ ان کا تجربہ اور ماضی کے ساتھ وابستگی ہمارے ملک کے ورثے کو محفوظ رکھنے میں بہت کارآمد ثابت ہوگی۔

 

ساتھیو،

آج جب ہم مشترکہ ورثے کی بات کر رہے ہیں تو میں ایک مشترکہ چیلنج کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ چیلنج نوادرات کی اسمگلنگ اور تخصیص ہے۔ ہندوستان جیسے قدیم ثقافت والے ملک سینکڑوں سالوں سے اس سے نبرد آزما ہیں۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں بہت سے نوادرات ہمارے ملک سے غیر اخلاقی طریقے سے اٹھائے گئے ہیں۔ اس قسم کے جرائم کو روکنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج دنیا میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ کے درمیان اب مختلف ممالک نے ہندوستان کو اپنا ورثہ واپس کرنا شروع کردیا ہے۔ بنارس سے چرائی گئی ماں انا پورنا کی مورتی ہو، گجرات سے چوری ہوئی مہیشسورمردینی کی مورتی ہو، یا چولا سلطنت کے دوران بنائی گئی نٹراج کی مورتیاں، تقریباً 240 قدیم نوادرات ہندوستان واپس لائے گئے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے کئی دہائیوں تک یہ تعداد 20 تک نہیں پہنچی تھی۔ ہندوستان سے ثقافتی نوادرات کی اسمگلنگ بھی ان 9 سالوں میں کافی کم ہوئی ہے۔

 

میں دنیا بھر کے فن کے ماہروں، خاص طور پر عجائب گھروں سے وابستہ افراد سے اس شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کی اپیل کرتا ہوں۔ کسی بھی ملک کے کسی میوزیم میں ایسا کوئی فن پارہ نہیں ہونا چاہیے، جو وہاں غیر اخلاقی طریقے سے پہنچا ہو۔ ہمیں اسے تمام عجائب گھروں کے لیے اخلاقی عہدبستگی بنانا چاہیے۔

ساتھیو،

مجھے یقین ہے کہ ہم ماضی سے جڑے رہتے ہوئے مستقبل کے لیے نئے آئیڈیاز پر کام کرتے رہیں گے۔ ہم ورثے کو محفوظ کریں گے اور نیا ورثہ بھی بنائیں گے۔ اسی خواہش کے ساتھ، آپ سبھی کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From Free Ration To ₹12.75 Lakh Tax-Free Income: PM Modi Lists Govt's Achievements Over 12 Years

Media Coverage

From Free Ration To ₹12.75 Lakh Tax-Free Income: PM Modi Lists Govt's Achievements Over 12 Years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
عالمی قائدین نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو طویل ترین عرصے تک بھارت کا منتخب وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی
June 09, 2026

طویل ترین عرصے تک بھارت کا منتخب وزیر اعظم بننے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو عالمی قائدین کی جانب سے مبارکبادی پیغام حاصل ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے عالمی قائدین نے وزیر اعظم کی انقلابی طرز حکومت، گلوبل ساؤتھ کے لیے ان کے آواز اٹھانے، اور ایک مبنی بر شمولیت اور اقتصادی طور پر فعال بھارت کے ان کے وژن کی ستائش کی۔

سری لنکا کے صدر عزت مآب انورا کمارا دسانائیکے  نے  مؤرخہ 8 جون 2026 کو وزیر اعظم کے نام ایک مراسلے میں  حکومت اور سری لنکا کے عوام کی جانب سے انہیں تہہ دل سے مبارکباد  دی، اور کہا: ’’ یہ سنگِ میل نہ صرف آپ کے دورِ اقتدار کے سالوں کا ثبوت ہے، بلکہ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے عوام نے آپ کی قیادت پر بار بار اعتماد اور بھروسے کا اظہار کیا ہے۔‘‘ محترم صدر  بھارت کے قابل ذکر اقتصادی اور سماجی تغیر کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی کے وژن نے  سری لنکا سمیت بھارت کی سرحدوں کے  پار متعدد  ممالک کے عوام کو ترغیب فراہم کی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے 4-6 اپریل 2025 تک سری لنکا کا دورہ کیا، ان کا اس جزیرے کے ملک کا چوتھا دورہ، جس کے دوران انہیں ایک غیر ملکی معزز کو سری لنکا کا سب سے بڑا شہری اعزاز، ’مترا وبھوشن‘ سے نوازا گیا۔ اس دورے نے بھارت کی ہمسائے کو اولیت کی پالیسی کی ازسر نو تصدیق کی، اور سری لنکا بھارت کی مضبوط شراکت داری کے قریب ترین استفادہ کنندگان میں سے ایک ہے، اس میں 2022 میں سری لنکا کے اقتصادی بحران کے دوران بھارت کا اہم تعاون بھی شامل ہے۔

پاپوا نیو گینی کے وزیر اعظم عزت مآب جیمس ماریپ  ایک ذاتی ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم مودی کو ’’ایک مثالی شخصیت اور قیادت کی مثال‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ – ’’200 ملین سے زائد افراد کو ناداری کے دائرے سے نکال کر انہیں اچھی زندگی دینا ایک شانداری کارنامہ ہے۔‘‘ وزیر اعظم ماریپ نے پاپوا نیو گنی کی گہری دوستی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مئی 2023 میں تیسری 'فورم فار انڈیا-پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن(ایف آئی پی آئی سی-III) سربراہ کانفرنس کے لیے وزیر اعظم مودی کا پاپوا نیو گنی کا تاریخی دورہ، جو کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا، بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کے ساتھ بھارت کے روابط میں ایک سنگِ میل لمحہ تھا۔ اس دورے نے گلوبل ساؤتھ کے ایک پرعزم شراکت دار کے طور پر بھارت کے کردار کو اجاگر کیا۔

اس موقع ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی وزیر اعظم عزت مآب کملا پرساد بسیسر نے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی، اور کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کی قیادت میں، بھارت عالمی معاملات میں ایک اہم آواز کے طور پر ابھرا ہے۔‘‘ انہوں نے معمولی شروعات سے لے کر تین میعادوں تک 1.4 ارب آبادی پر مشتمل ملک کی قیادت کرنے تک کے وزیر اعظم مودی کے سفر پر روشنی ڈالی، اور خارجہ پالیسی، اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے، اور سماجی و اقتصادی ترقی میں بھارت کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے 3 سے 4 جولائی 2025 کو ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کا ایک تاریخی دورہ کیا، جو 26 برسوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا باہمی دورہ تھا، اور یہ دورہ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں بھارتی تارکینِ وطن کی آمد کی 180 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔