آج پورا ملک اور ساری دنیا بھگوان شری رام کے جذبے سے بھر ی ہوئی ہے: وزیرِاعظم
دھرم دھوجا محض ایک پرچم نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ کا پرچم ہے: وزیر اعظم
ایودھیا وہ زمین ہے جہاں نمونے عمل میں بدل جاتے ہیں: وزیرِاعظم
شری رام مندر کا روحانی صحن بھی ہندوستان کی اجتماعی طاقت کے شعور کا مرکز بنتا جا رہا ہے: وزیرِاعظم
ہمارے رام لوگوں کو اختلافات سے نہیں بلکہ جذبات سے جوڑتے ہیں: وزیرِاعظم
ہم ایک متحرک اورشاندار معاشرہ ہیں اور آنے والی دہائیوں اور صدیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے دور اندیشی کے ساتھ کام کرنا چاہیے: وزیر اعظم
رام کا مطلب ہے آئیڈیلز، رام کا مطلب ہے نظم و ضبط اور رام کا مطلب ہے زندگی کا اعلیٰ کردار: وزیرِاعظم
رام محض ایک شخص نہیں، بلکہ رام ایک قدر، ایک نظم و ضبط اور ایک رہنمائی کی سمت ہیں: وزیرِاعظم
اگر ہندوستان کو سال 2047 تک ترقی یافتہ بننا ہے اور اگر معاشرے کو بااختیار ہونا ہے تو ہمیں اپنے اندر رام کو جگانا ہوگا: وزیرِاعظم
قوم کے آگے بڑھنے کے لیے، اسے اپنی وراثت پر فخر ہونا چاہیے: وزیرِاعظم
آنے والے دس سالوں میں، مقصد ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو غلامی کے ذہنیت سے آزاد کیا جائے: وزیرِاعظم
ہندوستان جمہوریہ کی ماں ہے اور یہ جمہوریت ہماری جینیات میں ہے: وزیرِاعظم
وکست بھارت کی راہ کو تیزگام کرنے کے لیے ہمیں ایک ایسا رتھ چاہیے جس کے پہیے شجاعت اور صبر ہوں، جس کا پرچم سچائی اور اعلیٰ کردار ہو، جس کے گھوڑے طاقت، حکمت، ضبط اور نفع رسانی ہوں اور جس کی لگامیں معافی، ہمدردی اور توازن ہوں: وزیرِاعظم

سیاور رام چندرکی جے!

سیاور رام چندرکی جے!

جے سیا رام!

اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سب سے قابل احترام سرسنگھ چالک، ڈاکٹر موہن بھاگوت جی، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جی، شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے صدر، قابل احترام مہنت نرتیہ گوپال داس جی،  سنت برادری، یہاں  آئے سبھی  عقیدت مند، ملک اور دنیا کے رام بھکت کی جو اس تاریخی لمحے کے گواہ ہیں، خواتین و حضرات!

آج ایودھیا شہر بھارت کی ثقافتی شعور کے ایک  اہم لمحے کا شا ہد بن رہا ہے۔ آج پورا بھارت، پورا جہان، رام  مے ہے۔ ہر رام بھکت کے دل میں بے مثال سکون ہے، لامحدود شکرگزاری ہے، بے پناہ روحانی خوشی ہے۔ صدیوں کے زخم بھر رہے ہیں، صدیوں کی تکلیف آج اختتام پا رہی ہے، صدیوں کا عزم آج اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ آج اُس یگ میں مکمل اثر پایا جا رہا ہے، جس کی اگنی 500 سال تک روشن رہی۔ وہ یُگ جو ایک لمحے کے لیے بھی عقیدت سے نہیں ہٹا، ایک لمحے کے لیے بھی  یقین سے نہیں ٹوٹا۔ آج، بھگوان شری رام کے  گربھ گرہ کی لافانی توانائی، شری رام  کنبےکابے پناہ نور، اس  دھرم دھوج کی صورت میں، اس سب سے  پوتر، شاندار مندر میں نصب کیا گیا ہے۔

اور  ساتھیوں،

یہ دھرم دھوج صرف ایک  پرچم نہیں ہے۔ یہ ہندوستانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ کا پرچم ہے۔ اس کا زعفرانی رنگ، اس پر کندہ سوریاونش کی شہرت، اس پر لکھا ہوا اوم لفظ، اور اس پر کندہ کوویدار کا درخت رام راجیہ کی شان کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پرچم ایک عہد ہے، یہ پرچم کامیابی ہے۔ یہ پرچم جدوجہد کے ذریعے تخلیق کی کہانی ہے۔ یہ پرچم ان خوابوں کا مجسمہ ہے جو صدیوں سے دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ پرچم  سنتوں کی  سادھنا اور معاشرے کی شرکت کی ظاہری علامت ہے۔

 

ساتھیوں،

آنے والی صدیوں اور ہزاروں سالوں تک یہ مذہبی  پرچم بھگوان رام کے نظریات اور اصولوں کا اعلان کرے گا ۔  یہ دھرم-دھوج کہے گا-ستیہ میوہ جیتے نانرتم  یعنی صرف سچائی  کی ہی جیت ہوتی ہے ، جھوٹ  کی نہیں ۔  یہ دھرم-دھوج اعلان کرے گا-ستیم-ایک پدم برہما ستیہ دھرم: پرتھشٹ۔  یعنی ، سچائی برہمن کا عکس ہے اور سچائی میں مذہب قائم ہوتا ہے ۔  یہ دھرم-دھوج ایک تحریک بن جائے گا- پَران جائے پر وچن نا جائے یعنی جو کہا جائے وہی کیا جائے ۔  یہ دھرم-دھوج پیغام دے گا-کرم پردھان وشو روچی راکھا! یعنی دنیا میں عمل اور فرض کی اولین حیثیت ہونی چاہیے ۔  یہ دھرم-دھوج  خواہش کرے گا- بیرنا  بگرا آس نا تراسا ۔ سکھ مئیں تاہی سدا سب آسا یعنی   بھید بھاؤ ، درد اور پریشانی سے آزادی ، معاشرے میں امن اور خوشی  ہو۔  یہ دھرم دھوج ہمیں یہ  عہد بستہ کرے گا ۔ ناہیں دردر کوو دکھی نہ دینا۔ یعنی ہمیں ایسا سماج بنانا چاہیے جہاں غربت نہ ہو ، کوئی تکلیف میں یا یا بے بس نہ ہو ۔

ساتھیوں،

ہمارے گرنتھ میں کہا گیا ہے ،’’اروپتم دھوجہ درشتم ، یہ ا ابھینندنتی دھرمیکہْ تے اپی سرو ےپرموچیتے، مہا پاتک کوٹیبھیہ۔‘‘ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے مندر میں نہیں آ سکتے، لیکن جو مندر کے دھوج کو دور سے سلام کرتے ہیں، انہیں بھی اتنی ہی  پنہ مل جاتا ہے۔

ساتھیوں،

یہ دھرم دھوج بھی اس مندر کے مشن کی علامت ہے۔ یہ  پرچم دور سے رام للا کی جنم بھومی کے درشن کرائے گا ۔ اور آنے والے زمانوں تک، یہ بھگوان شری رام کے احکامات اور ترغیبات کو تمام بنی نوع انسان تک پہنچاتا رہے گا۔

ساتھیوں،

میں اس ناقابل فراموش لمحے، اس منفرد موقع پر دنیا بھر کے لاکھوں رام بھکتوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج، میں ان تمام عقیدت مندوں کو بھی سلام کرتا ہوں اور رام مندر کی تعمیر میں تعاون کرنے والے ہر انسان دوست کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں رام مندر کی تعمیر میں شامل ہر مزدور، ہر کاریگر، ہر منصوبہ ساز، ہر معمار، سبھی کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیوں،

ایودھیا وہ سرزمین ہے جہاں آدرش طرز عمل میں بدل جاتے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جہاں سے شری رام نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا۔ اس ایودھیا نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح ایک شخص سماج کی طاقت اور اس کی اقدار سے  پروشتم بنتا ہے۔ جب شری رام نے  ونواس کے لیے ایودھیا چھوڑا تو وہ شہزادہ رام تھے، لیکن جب وہ واپس آئے تو وہ مریادا پروشتم بن کر آئے اور مریادا پروشتم بننے میں مہارشی وشیسٹھ کا علم، مہارشی وشوامتر کی دیکشا، مہارشی آگستیہ کی رہنمائی، نشادراج کی دوستی، ماں شبری کی محبت، بھکت ہنومان کا خود کو وقف کر دینے کا جذبہ، ان سب کا اور بے شما ر دیگر اہم کردار رہا ہے۔

 

ساتھیوں،

 وکست بھارت کی تعمیر کے لیے بھی سماج کی اس اجتماعی طاقت کی ضرورت ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ رام مندر کا یہ  وسیع صحن بھی ہندوستان کی اجتماعی طاقت کے شعور کی جگہ بن رہا ہے۔ یہاں سپتمندر بنے ہیں ۔ یہاں ماتا شبری کا مندر ہے، جو قبائلی برادری کی محبت اور مہمان نوازی کی علامت ہے۔ یہاں نشادراج کا مندر  بنا ہے، جو اس دوستی کا گواہ ہے جو اسباب نہیں، سادھنا کرنے والے کے جذبے کو پوجتا ہے۔ یہاں، ایک جگہ، ماتا اہلیہ ہیں، مہارشی والمیکی ہیں، مہارشی وشیسٹھ ہیں، مہارشی وشوامتر ہیں، مہارشی آگستیہ ہیں اور سنت تلسی داس ہیں۔ رام للا کے ساتھ یہ سارے  سنتوں کے درشن  بھی یہاں پر ہوتے ہیں۔ جٹایو اور گلہری  کی مورتیاں  بھی ہیں، جو  بڑے عزائم  کی تکمیل کے لیے  ہر چھوٹی سے چھوٹی کوشش کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج میں ملک کے ہر شہری سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ جب بھی رام مندر جائیں تو سپت مندر کے درشن  بھی ضرور  کریں۔ یہ مندر ہمارے عقیدے کے ساتھ، دوستی، فرض اور سماجی ہم آہنگی کی اقدار کو تقویت دیتے ہیں۔

ساتھیوں،

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے رام  بھید سے نہیں  بھاؤ سے جڑتے ہیں ۔  ان کے لیے کسی شخص کا نسب نہیں ، بلکہ ان کی عقیدت اہم ہے۔    انھیں نسب نہیں اصول پیارے ، انھیں طاقت نہیں اشتراک عظیم لگتا ہے،  آج ہم بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔  گزشتہ 11 سالوں میں خواتین ، دلت ، پسماندہ ، انتہائی پسماندہ ، قبائلی ، محروم ، کسان ، مزدور ، نوجوان ، ہر طبقے کو ترقی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے ۔  جب ملک کا ہر فرد ، ہر طبقہ ، ہر خطہ بااختیار ہوگا تو اس عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کی کوششیں ہوں گی اور سب کی کوششوں سے ہمیں 2047 تک ایک  وکست بھارت کی تعمیر کرنی ہوگی ، جب ملک آزادی کے 100 سال منائے گا ۔

ساتھیوں،

رام للا کی  پران پرتشٹھاکے تاریخی موقع پر میں نے رام  سے ملک کے عزم پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔  میں نے کہا تھا کہ ہمیں اگلے ایک ہزار سالوں کے لیے ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہے ۔  ہمیں یاد رکھنا ہوگا ، جو صرف حال کے بارے میں سوچتے ہیں ، وہ آنے والی نسلوں کے ساتھ نا انصاف کرتے ہیں ۔  ہمیں  حال کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا ۔  کیونکہ جب ہم نہیں تھے ، یہ ملک تب بھی تھا ، جب ہم نہیں رہیں  گے ، یہ ملک تب بھی رہے گا ۔  ہم ایک  زندہ سماج ہیں ، ہمیں  دور اندیشی کے ساتھ ہی کام کرنا ہوگا ۔  ہمیں آنے والی دہائیوں ، آنے والی صدیوں کو ذہن میں رکھنا  ہی ہوگا ۔

اورساتھیوں،

اس کے لیے بھی ہمیں بھگوان رام سے سیکھنا ہوگا ۔  ہمیں ان کی شخصیت کو سمجھنا ہے ، ہمیں ان کے رویے کو اپنانا ہے ، ہمیں یاد رکھنا ہے ، رام  یعنی آدرش ، رام یعنی مریادا ، رام یعنی زندگی کااعلی ترین کردار ۔  رام  یعنی   سچائی اور شجاعت کا سنگم – دویا گنے  شکرسموہ رام ستیہ پراکرم ۔  رام یعنی – دھرم پتھ پر چلنے والے شخص ، رام ستیہ پرشو لوکے ستیہ ستیہ پراین ، رام یعنی عوام کے سکھ کو ترجیح پر رکھنا ، پر جا سکھت وے چندرسے۔ رام یعنی صبر اور معافی کا دریا ۔  وسو دھایا چھما گنے ۔  رام  یعنی – علم اور دانشمند ی کی علامت،بودھیا برہسپتے تلیہ۔ رام یعنی –نرم مزاجی میں مضبوطی ، مردو پورو چہ بھاشتے۔رام یعنی دیانت داری کی عظیم مثال ،کداچن نوپکارین، کرتی نکین تشیتی۔ رام یعنی بہترین صحبت کا انتخاب ، شیل وردھیہ، گیان وردھیہ ویو وردھیہ چہ سجننے۔ رام یعنی   عاجزی میں  طاقت ،  ویروان  چہ ورین مہتا سوین وسمت ۔ رام یعنی سچائی کا غیر متزلزل عزم ، نا چے انرت کتھو ودوان۔  رام یعنی بیدار مند ، نظم و ضبط اور مخلص ذہن ، نستندری آپرمتہ چہ سوا دوش پر دوش وت۔

 

ساتھیوں،

رام صرف ایک شخص نہیں ہے۔ وہ ایک قدر،  مریادا، ایک سمت ہے۔ اگر ہندوستان کو 2047 تک وکست بنانا ہے ، اگر ہمیں معاشرے کو بااختیار بنانا ہے، تو ہمیں اپنے اندر کے ’’رام‘‘ کو بیدار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر رام  کی پران پرتشٹھا کرنی ہوگی ، اور اس  عہد کے لیے آج سے بہتر دن اور کیا  ہو سکتا ہے؟

ساتھیوں،

پچیس نومبر کا یہ تاریخی دن ہماری وراثت میں فخر کا ایک اور شاندار لمحہ لے کر آتا ہے۔ اس کی وجہ دھرم  دھون  پر  کندا کوویدر درخت ہے۔ یہ کوویدر کا درخت اس بات کی مثال ہے کہ جب ہم اپنی جڑوں سے کٹ جاتے ہیں تو ہماری شان تاریخ کے اوراق میں دفن ہو جاتی ہے۔

ساتھیوں،

جب بھرت اپنی فوج کے ساتھ چترکوٹ پہنچے تو لکشمن نے ایودھیا کی فوج کو دور سے پہچان لیا۔ والمیکی نے بیان کیا ہے کہ یہ کیسے ہوا اور والمیکی نے جو بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے کہا۔’’ویراجتی اُدر گت سکندھم، کویدار دھوجہ رتھے ۔’’ لکشمن کہتے ہیں ہے رام،  سامنے جو انتہائی روشن عظیم درخت جیسا پرچم دکھائی دے رہا ہے ، وہی ایودھیا کی فوج کا دھوج ہے ، اس پر کوویدار کا شبھ علامت کندہ ہے ۔‘‘

ساتھیوں،

آج، جب رام مندر کے صحن میں کوویدار کو دوبارہ قائم کیا جا رہا ہے، یہ صرف ایک درخت سے منسوب نہیں ہے بلکہ اس کا رشتہ ہماری یادوں سے وابستہ ہے ،  یہ ہماری شناخت کی نشاۃ ثانیہ ہے، ہماری عزت نفس کی تہذیب کا دوبارہ اعلان ہے۔ کوویدر کا درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم اپنی شناخت بھول جاتے ہیں تو ہم خود کو کھو دیتے ہیں۔ اور جب شناخت واپس آتی ہے تو  ملک کا خود اعتمادی بھی لوٹ آتا ہے اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ملک کو ترقی کرنی ہے تو اسے اپنی میراث پر فخر کرنا چاہیے۔

ساتھیوں،

اپنے وراثت پر فخر کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم چیز بھی اہم ہے: غلامی کی ذہنیت سے مکمل آزادی۔ آج سے  190 سال قبل 1835 میں میکالے نامی ایک انگریز نے ہندوستان کی جڑیں کمزور کرنے کا بیج بویا  تھا۔ میکالے نے ہندوستان میں ذہنی غلامی کی بنیاد رکھی۔ دس سال بعد 2035 میں اس ناپاک واقعے کو 200 سال مکمل ہو جائیں گے۔ ابھی چند دن پہلے میں نے ایک پروگرام میں زور دیا تھا کہ ہمیں  آنے والےدس سالوں تک  اس دس سال کا ہدف لے کر آگے بڑھنا ہوگا کہ ہندوستان کو غلامی کی ذہنیت سے آزاد کر کے رہیں گے ۔

 

ساتھیوں،

سب سے  افسوس کی بات یہ ہے کہ میکالے نے جو سوچا اس کا دور رس اثر پڑا ۔  ہمیں آزادی ملی ، لیکن احساس کمتری سے آزادی نہیں ملی ۔  ہمارے  یہاں ایک  برائی آگئی کہ بیرون ملک کی ہر چیز ، ہر نظام اچھا ہے  اور جو ہماری اپنی چیزیں ہیں ان میں کھوٹ ہی کھوٹ ہے ۔

ساتھیوں،

غلامی کی یہی ذہنیت ہے جس نے لگاتار یہ ثابت کیا کہ ہم نے بیرونی ملکوں سے جمہوریت حاصل کی ، کہا گیا ہے کہ ہمار ا آئین بھی بیرونی ممالک سے تر غیب یافتہ ہے جب کہ سچ یہ ہے کہ ہندوستان مادر جمہوریت ہے ، جمہوریت ہمارے ڈی این اے میں ہے ۔

ساتھیوں،

اگر آپ تمل ناڈو جائیں تو تمل ناڈو کے شمالی حصے میں اترمیرور نام کا ایک گاؤں ہے۔ ہزاروں سال پہلے کا ایک شیلا لیکھ موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس دور میں بھی کس طرح جمہوری طرز حکمرانی چلائی گئی، کس طرح لوگوں نے اپنی حکومت کا انتخاب کیا۔ لیکن یہاں، میگنا کارٹا کی تعریف کرنے کا رواج غالب رہا۔ یہاں تک کہ بھگوان بسونّا اور ان کے انوبھو منٹپا کی جانکارے بھی محدود رکھی گئیں۔ انو بھوو منٹپا یعنی جہاں سماجی ، مذہبی ، اقتصادی موضوعات پر اجتماعی طور پر بات چیت ہوتی ، جہاں اجتماعی طور پر فیصلے کیے جاتے تھے۔ لیکن غلامی کی ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان کی کئی نسلیں اس علم سے بھی محروم تھیں۔

ساتھیوں،

غلامی کی یہ ذہنیت ہمارے نظام کے ہر کونے میں پیوست تھی۔ آپ یاد کیجئے بھارتی بحریہ کا پرچم ، صدیوں تک اس پرچم پر ایسی علامات بنی رہیں جن کا ہماری تہذیب، ہماری طاقت، ہماری وراثت سے کوئی تعلق نہیں  تھا۔ اب ہم نے بحریہ کے پرچم سے غلامی کی ہر علامت کو ہٹا یاہے۔ ہم نے چھترپتی شیواجی مہاراج کی وراثت کو قائم کیا ہے۔ اور یہ صرف ڈیزائن کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ ذہنی تبدیلی کا لمحہ تھا۔ یہ ایک اعلان تھا کہ ہندوستان اب اپنی طاقت کا اظہاراپنی علامات سے کرے گی نہ کہ کسی اور کی وراثت ۔

اور ساتھیوں،

یہی تبدیلی آج ایودھیا میں نظر آرہی ہے۔

ساتھیوں،

یہی غلامی کی ذہنیت ہے جس نے اتنے سالوں تک رامتوسے انکار کیا ہے۔ بھگوان رام اپنے آپ میں ایک قدر کا نظام ہے۔ اورچھا کے  راجہ  رام سے لے کر رامیشورم کے بھکت رام تک، اور شبری کے بھگوان رام سے لے کر متھیلا کے مہمان رام تک، رام ہر گھر میں،  ہندوستان کے ہر گھر میں ہر ہندوستانی کے دل میں اور ہندوستان کے ہر گوشے میں رام ہیں ، لیکن غلامی کی ذہنیت اس قدر غالب ہو چکی ہے کہ بھگوان رام کو بھی خیالی قرار دیا جانے لگا۔

ساتھیوں،

اگر ہم عزم کر لیں ، اگلے دس سال میں ذہنی غلامی سے پوری طرح سے  نجات حاصل کر لیں گے ، اور تب جا کر  ایسی روشنی پھیلے گی ، ایسا اعتماد بڑھے گا کہ 2047 تک وکست بھارت کا خواب پورا  ہونے سے ہندوستان کو کوئی روک نہیں پائے گا ۔ ہندوستان کی بنیاد اگلے ہزار سال تک اسی وقت مضبوط ہو گی جب ہم اگلے دس سالوں میں میکالے کی غلامی کے منصوبے کو مکمل طور پر ختم کر کے دکھا دیں گے ۔

ساتھیوں،

ایودھیا دھام میں رام للا مندر کمپلیکس پہلے سے زیادہ شاندار ہوتا جا رہا ہےاور  ساتھ ہی ایودھیا کو سنوارنے کا کام مسلسل جاری ہے۔ آج ایودھیا ایک بار پھر ایک ایسا شہر بن رہا ہے جو دنیا کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔ تریتا یُگ کی ایودھیا نے انسانیت کو اخلاقیات دی، اور 21ویں صدی کی ایودھیا انسانیت کو ترقی کا ایک نیا ماڈل پیش کر رہی ہے۔ اس وقت، ایودھیا  مریاداکا مرکز تھا، اور اب ایودھیا وکست بھارت  کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ساتھیوں،

مستقبل کا ایودھیا افسانوں اور اختراعات کا سنگم ہوگا۔ دریائے سریو کا امرت اور ترقی کی دھارا ایک ساتھ بہیں گی ۔ یہاں ، روحانیت اور مصنوعی ذہانت کا تال میل نظر آئے گا ۔ رام  پتھ،  بھکتی پتھ، اور جنم بھومی پتھ سے نئی ایودھیا کی درشن ہوتے ہیں ۔ ایودھیا میں ایک شاندار ہوائی اڈہ اور ایک شاندار ریلوے اسٹیشن ہے۔ وندے بھارت اور امرت بھارت ایکسپریس جیسی ٹرینیں ایودھیا کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑ رہی ہیں۔ ایودھیا کے باشندوں کی زندگی میں سہولت پیدا کرنے اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔

ساتھیوں،

جب سے پران پرتشٹھا ہوئی ہے  تب سے لے کر آج تک تقریباً 45  کروڑ عقیدت مند یہاں درشن کے لیے آچکے ہیں۔ یہ وہ  پوترسرزمین ہے جہاں45 کروڑ لوگوں کے پاؤں زمین کو چھو چکے ہیں۔ اور اس سے  ایودھیا اور آس پاس کے لوگوں میں اقتصادی تبدیلی آئی ہے اور اس میں اضافہ ہو ا ہے ۔ ایودھیا، جو کبھی ترقی کے پیمانے میں بہت پیچھے تھا، اب اتر پردیش کے سرکردہ شہروں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔

ساتھیوں،

اکیسویں صدی کا آنے والا وقت بہت اہم ہے۔ آزادی کے بعد کے 70 سالوں میں، ہندوستان 11 ویں سب سے بڑی معیشت بنا ، لیکن گزشتہ 11 برس میں ہی ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔آنے والا وقت نئے مواقع اور نئے امکانات  کا ہے۔ اور دور حاضرمیں بھی بھگوان رام کے  نظریات ہی ہماری تحریک کا باعث بنیں گے ۔ جب بھگوان شری رام  کے سامنے راون کو شکست دینے جیسا بڑا ہدف تھا تب انھوں نے کہا تھا کہ ۔سورج  دھیرج تیہی رتھ چاکا۔ ستیہ سیل درڑھ دوھہ پتاکا۔بل ببیک دم پر ہت گھورے ۔ چھما کرپا سمتا رجو زوروے ۔ یعنی روان پر جیت حاصل کرنے کے لیے جو رتھ چاہیے بہادری اور ہمت اس کے پہیے ہیں ۔اس کا دھوج سچائی اور اچھے برتاؤ ہیں ۔ طاقت سمجھ بوجھ صبر اور صلہ رحمی اس رتھ کے گھوڑے ہیں ۔ لگام کی شکل میں معافی  ، ہمدردی اور مساوات ہیں جو رتھ کو صحیح سمت میں رکھتے ہیں ۔

ساتھیوں،

 وکست بھارت کے سفر کو رفتار دینے کے لیے ایسا ہی رتھ چاہیے ، ایسا رتھ جس کے پہیے بہادری اور ہمت ہو۔یعنی چیلنجوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی ہو اور نتائج آنے تک عزم کے ساتھ ڈٹے رہنے کی ہمت بھی ہو۔ ایسا رتھ جس کا دھوج سچائی اور بہترین اخلاق ہوں ،یعنی پالیسی، نیت اور اخلاقیات پرکبھی سمجھوتہ نہ ہو۔ ایسا رتھ جس کے گھوڑے طاقت ،سمجھ بوجھ ، صبر اور صلہ رحمی ہو یعنی طاقت بھی ہو ، عقل و دانش بھی ہو ، ضبط و تحمل بھی ہو اور دوسروں کے مفادات کے تئیں جذبہ بھی ہو۔ ایسا رتھ جس کی لگام معافی، ہمدردی ، مساوات کا جذبہ ہو ۔ یعنی جہاں کامیابی کا غرور نہیں ، اور ناکامی میں بھی دوسروں کا احترام رہے ۔ اور اس لیے میں احترام سے کہتا ہوں ، یہ لمحہ شانہ بشانہ ہونے کا ہے ، یہ لمحہ رفتار بڑھانے کا ہے ،ہمیں وہ ہندوستان بنانا ہے جو رام راجیہ سے ترغیب یافتہ ہو۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ذاتی مفادات سے پہلے ملک کے مفادات ہوں گے ۔ جب ملک مقدم رہے گا۔ ایک بار پھر آپ سبھی کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں ۔

جے سیا رام!

جے سیا رام!

جے سیا رام!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.