ہماری حکومت ہر سطح پر ترقی کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم
آج مجھے اجمیر سے ملک گیر ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، ساتھ ہی کئی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا اور نوجوانوں کو تقررنامے تقسیم کیے گئے: وزیراعظم
ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم اجمیر سے شروع ہو چکی ہے، یہ مہم ملک کی ناری شکتی کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے: وزیراعظم
ڈبل انجن حکومت راجستھان کی وراثت اور ترقی دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی ہے: وزیراعظم
ہماری حکومت کی طرف سے شروع کی گئی دریاؤں کو مربوط کرنے کی مہم راجستھان کے لیے مفید ثابت ہوگی: وزیراعظم
راجستھان میں سورج کی روشنی کی کمی نہیں ہے، یہی سورج کی روشنی عام آدمی کے لیے بچت اور آمدنی کا ذریعہ بن رہی ہے: وزیراعظم
پی ایم سوریا گھر مفت بجلی اسکیم بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس اسکیم میں راجستھان کی تقدیر بدلنے کی طاقت ہے: وزیراعظم

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

تیرتھ راج پشکر اور ماتا ساوتری کی اس پوتر سرزمین پر آج مجھے آپ سب کے درمیان آنے اور آپ کا آشیرواد  حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس اسٹیج سے میں سرسرا کے تیجاجی دھام اور پرتھوی راج کی دھرتی اجمیر کو سلام پیش کرتا ہوں۔

میرے ساتھ بولیے

تیرتھ راج پشکر کی جے۔

تیرتھ راج پشکر کی جے۔

ویر تیجاجی مہاراج کی جے۔

ویر تیجاجی مہاراج کی جے۔

بھگوان دیو نارائن کی جے۔

بھگوان دیو نارائن کی جے۔

ورون اوتار بھگوان جھولے لال جی کی جے۔

بھگوان جھولے لال جی کی جے۔

اسٹیج پر موجود راجستھان کے گورنر ہری بھاؤ باگڈے جی، ریاست کے مقبول وزیر اعلیٰ جناب  بھجن لال شرما جی، سابق وزیر اعلیٰ بہن وسندھرا جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی بھگیرتھ چودھری جی، نائب وزرائے اعلیٰ پریم چند بھیروا جی اور دیا کماری جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی اور بی جے پی کے ریاستی صدر مدن راٹھور جی، دیگر وزراء، معزز شخصیات اور راجستھان کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو—میں معزز سنتوں کا خاص طور پر شکر گزار ہوں کہ وہ ہمیں آشیرواد دینے کے لیے بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔

 

ساتھیو،

اجمیر عقیدت اور بہادری کی سرزمین ہے۔ یہاں تیرتھ بھی ہے اور انقلابی جانبازوں کے نقوش بھی ہیں۔ ابھی کل ہی میں اسرائیل کے دورے سے واپس آیا ہوں۔ راجستھان کے سپوت میجر دلپت سنگھ کی بہادری کو اسرائیل کے لوگ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔ مجھے بھی اسرائیل کی پارلیمنٹ میں ان کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ملا۔ راجستھان کے بہادر جوانوں نے اسرائیل کے شہر حیفا کو آزاد کرانے میں جو کردار ادا کیا، اس کا ذکر کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔

ساتھیو،

کچھ عرصہ پہلے ہی راجستھان میں بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کو دو سال مکمل ہوئے ہیں۔ مجھے اطمینان ہے کہ آج راجستھان ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے۔ جن وعدوں کے ساتھ حکومت آپ کی خدمت میں آئی تھی، انہیں تیزی سے پورا کیا جا رہا ہے۔ آج کا دن اسی ترقیاتی مہم کو مزید تیز کرنے کا دن ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تقریباً 17 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا ہے۔ سڑک، بجلی، پانی، صحت اور تعلیم—ہر شعبے میں نئی طاقت شامل ہو رہی ہے۔ یہ منصوبے عوام کی سہولت بڑھائیں گے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔

ساتھیو،

ڈبل انجن حکومت مسلسل نوجوان طاقت کو مضبوط بنا رہی ہے۔ دو سال پہلے تک راجستھان میں بھرتیوں میں بدعنوانی اور پیپر لیک کی خبریں آتی تھیں۔ اب پیپر لیک پر لگام لگی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو رہی ہے۔ آج اسی اسٹیج سے 21 ہزار سے زائد نوجوانوں کو تقرری نامے دیے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ میں اس تبدیلی کے لیے، نئی نوکریوں کے لیے، سبھی ترقیاتی کاموں کے لیے، راجستھان کے سبھی لوگوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیو،

آج اس بہادر خواتین کی سرزمین سے مجھے ملک بھر کی بیٹیوں کے لیے ایک اہم مہم شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔ اجمیر سے ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز ہوا ہے۔ یہ مہم ملک کی ناری شکتی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

ساتھیو،

ہم سب جانتے ہیں کہ جب گھر میں ماں بیمار ہوتی ہے تو گھر بکھر جاتا ہے۔ اگر ماں صحت مند ہو تو کنبہ  ہر بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ حکومت نے خواتین کی مدد کے لیے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں۔

ساتھیو،

سال2014سے پہلے کا وہ دور ہم نے دیکھا ہے جب بیت الخلاء کی کمی کے باعث بہنوں اور بیٹیوں کو تکلیف اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسکولوں میں علیحدہ ٹوائلٹ نہ ہونے کے باعث لڑکیاں تعلیم چھوڑ دیتی تھیں۔ غریب بیٹیاں سینیٹری پیڈ نہیں خرید پاتی تھیں۔ پہلے کی حکومتوں کے لیے یہ چھوٹی باتیں تھیں، لیکن ہمارے لیے یہ ایک حساس مسئلہ تھا۔ اس لیے ہم نے مشن موڈ میں ان مسائل کا حل نکالا۔

ساتھیو

حمل کے دوران غذائی قلت ماؤں کے لیے بڑا خطرہ تھی۔ محفوظ زچگی کے لیے اسکیم شروع کی گئی جس کے تحت پانچ ہزار روپے بہنوں کے کھاتوں میں جمع کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں غذائیت مل سکے۔ ماں دھوئیں میں کھانستی رہتی تھی، مگر کچھ نہیں کہتی تھی۔ ہم نے کہا یہ نہیں چلے گا اور اس لیے  اجولا گیس یوجنا شروع کی گئی۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ بی جے پی کی سرکار اقتدار کے جذبے سے نہیں حساسیت کے ساتھ کام کرتی ہے۔

 

ساتھیو،

اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر چکا ہے۔ آج کا وقت راجستھان کی ترقی کے لیے اہم ہے۔ اچھی سڑک، اچھی ریل اور ہوائی سہولت نہ صرف سفر آسان کرتی ہے بلکہ علاقے کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ جب گاؤں تک سڑک پہنچتی ہے تو کسان اپنی فصل بہتر قیمت پر بیچ سکتا ہے۔کاروباری آسانی سے اپنا سامان باہر بیچ پاتے ہیں اور ہمارا اجمیر-پشکر تو سیاحت کی اُن کی طاقت کو کون نہیں جانتا۔ اچھی کنیکٹی ویٹی کا سیاحت پر سب سے اچھا اثر پڑتا ہے جب سفر آسان ہوتا ہے تو زیادہ لوگ گھومنے آتے ہیں۔

اورساتھیو،

جب سیاحت آتے ہیں تو فطری طور پر ہوٹل چلتے ہیں، ڈھابے چلتے ہیں کچوڑی اور دال باٹی زیادہ بکتی ہیں یہاں راجستھان کے کاریگروں کا بنایا سامان بکتا ہے، ٹیکسی چلتی ہے گائیڈ کو کام ملتا ہے یعنی ایک سیاحت کئی کنبوں کی روزی بن جاتا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہماری سرکار راجستھان میں جدید کنکٹی ویٹی پر زیادہ زور دے رہی ہے۔

ساتھیو،

جیسے جیسے کنیکٹیویٹی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں۔ دلّی-ممبئی صنعتی  کوریڈور کے اطراف بہترین بنیادی ڈھانچہ  تیار کیا جا رہا ہے تاکہ راجستھان کو مواقع کی سرزمین بنایا جا سکے۔ یعنی ڈبل انجن سرکار ہرشعبے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

ساتھیو،

راجستھان کی مائیں اپنے بچوں میں حب الوطنی کی ثقافت کو پروان چڑھاتی ہیں ۔  راجستھان کی یہ سرزمین جانتی ہے کہ ملک کی عزت کیا ہے اور اسی لیے آج راجستھان کی اس سرزمین پر میں آپ کو ایک اور بات بتانے آیا ہوں ۔ 

 

ساتھیو ،

حال ہی میں دلّی میں دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کانفرنس منعقد ہوئی ، جس میں دنیا کے کئی ممالک کے وزرائے اعظم ، کئی ممالک کے صدور ، کئی ممالک کے وزراء اس تقریب میں آئے ۔  دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ، ان کمپنیوں کے لیڈر ، وہ بھی ایک ہی جگہ  جمع ہوئے ۔  سب نے کھلے دل سے ہندوستان کی تعریف کی ۔  میں صرف راجستھان کے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔  جب دنیا کے اتنے سارے لوگ ہندوستان کی تعریف کرتے ہیں تو کیا آپ کو فخر محسوس ہوتا ہے یا نہیں ؟  آپ کو اس پر فخر ہے یا نہیں ؟  آپ کو اس پر فخر ہے یا نہیں ؟  آپ کا سر اوپر ہے یا نیچے ؟  کیا آپ کا سینہ چوڑا ہوایا نہیں ؟

ساتھیو ،

آپ کو فخر تھا ، لیکن آپ نے دیکھا کہ لگاتار شکستوں سے تھک کر کانگریس نے کیا کیا ۔  دنیا بھر کے مہمانوں کے سامنے کانگریس نے ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی ۔  انہوں نے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے ملک کی توہین کرنے کے لیے پورا ڈرامہ کیا ۔

ساتھیو ،

کانگریس پورے ملک میں لگاتار ہار رہی ہے ، اور غصے میں وہ ہندوستان کو بدنام کر کے بدلہ لے رہی ہے ۔  ایک زمانے میں کانگریس تھی ، آئی این سی یعنی انڈین نیشنل کانگریس ، لیکن اب کوئی آئی این سی نہیں ہے ، انڈین نیشنل کانگریس نہیں ہے ، آج یہ آئی این سی کی بجائے ایم ایم سی ، ایم ایم سی بن گئی ہے ۔  مسلم لیگ (ایم ایم سی) ماؤنواز کانگریس بن گئی ہے ۔

راجستھان کے میرے بہادرو،

تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ ہندوستان سے نفرت کرتی تھی اور اسی وجہ سے مسلم لیگ نے ملک کو تقسیم کیا ۔  آج کانگریس بھی یہی کر رہی ہے ۔  ماؤ نواز ہندوستان کی خوشحالی ، ہمارے آئین اور ہماری کامیاب جمہوریت سے بھی نفرت کرتے ہیں ۔یہ گھات لگاکر حملہ کرتے ہیں، کانگریس بھی گھات لگاکر ملک کو بدنام کرنے کے لیے کہیں بھی داخل ہوجاتی ہے۔  ملک کانگریس کی اس طرح کی غلطیوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا ۔

 

ساتھیو ،

ملک کو بدنام کرنا ، ملک کی قوتوں کو کمزور کرنا کانگریس کی پرانی عادت رہی ہے ۔  یاد رکھیں ، یہ وہی کانگریس تھی جس نے ہمارے فوجیوں کو ہتھیاروں اور وردیوں کے لیے ترسا  رکھا تھا ۔  یہ وہی کانگریس ہے جس نے برسوں سے ہمارے فوجی کنبوں  کو ون رینک ون پنشن سے محروم رکھا تھا ۔  یہ وہی کانگریس ہے ، جس کے دور میں بیرون ملک سے دفاعی سودوں میں بڑے گھوٹالے ہوئے تھے ۔

ساتھیو ،

گزشتہ 11 سالوں میں بھارتی فوج نے دہشت گردوں اور ملک کے دشمنوں کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا ہے ۔  ہماری فوج نے ہر مشن میں ، ہر محاذ پر فتح حاصل کی ۔  سرجیکل اسٹرائیک سے لے کر آپریشن سندور تک بہادری کا جشن منایا گیا ، لیکن کانگریس کے رہنماؤں نے اس میں بھی دشمنوں کے جھوٹ کو فروغ دیا ۔  جو بھی ملک کے لیے اچھا ہے ، جو بھی اچھا ہے ، جو بھی ملک کے لوگوں کے لیے اچھا کرنے والا ہے ، کانگریس ان سب کی مخالفت کرتی ہے ۔  اس لیے ملک آج کانگریس کو سبق سکھا رہا ہے ۔

ساتھیو ،

راجستھان میں آپ نے کانگریس کی بدانتظامی کا قریب سے تجربہ کیا ہے ۔  کانگریس کی حکومت یہاں جتنے بھی دن رہی ، وہ بدعنوانی اور اندرونی لڑائی میں الجھے رہے ۔  کانگریس نے ہمیشہ ہمارے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔  آپ کو یاد ہوگا کہ کس طرح کانگریس نے کئی دہائیوں تک آبپاشی کے منصوبوں کو لٹکائے رکھا ۔  راجستھان میں کسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔  ای آر سی پی پروجیکٹ کو کانگریس حکومتوں نے صرف فائلوں اور اعلانات میں رکھا تھا ۔  ہماری حکومت نے اس اسکیم کو آتے ہی فائلوں سے زمین پر لانے کی کوشش کی ہے ۔

 

ساتھیو ،

ہماری حکومت کی طرف سے دریاؤں کومربوط کرنے کے لیے شروع کی گئی مہم سے راجستھان کو یقینی طور پر بہت فائدہ ہوگا ۔  چاہے وہ تجدید شدہ پاروتی-کالی سندھ-چمبل لنک پروجیکٹ ہو ، جمنا-راجستھان لنک پروجیکٹ ہو ، ڈبل انجن والی حکومت آبپاشی کے ایسے بہت سے منصوبوں کا فائدہ کسانوں تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے ۔  جھالاواڑ ، باران ، کوٹا اور بوندی اضلاع کے لیے آج بھی کئی آبی منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے ۔  ہماری کوشش ہے کہ راجستھان میں زیر زمین پانی کی سطح بھی بڑھے ۔

ساتھیو ،

راجستھان کی صلاحیت کو محسوس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت اسکیمیں بنا رہی ہے اور ان پر عمل درآمد کر رہی ہے ۔  مجھے خوشی ہے کہ راجستھان اب سورج کی طاقت سے خوشحالی کی سرزمین بن گیا ہے ۔  ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے راجستھان میں دھوپ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔  اب یہ دھوپ عام آدمی کے گھر کے لیے بچت اور کمائی کا ذریعہ بن رہی ہے ۔  اور اس میں پردھان منتری سوریاگھر مکت بجلی یوجنا کا بہت بڑا رول ہے ۔  اس اسکیم میں راجستھان کی قسمت بدلنے کی طاقت ہے ۔  اس اسکیم کے تحت بی جے پی حکومت لوگوں کو اپنی چھتوں پر سولر پینل لگانے کے لیے 78 ہزار روپے کی امداد دیتی ہے ۔  حکومت براہ راست آپ کے بینک کھاتے میں رقم منتقل کرتی ہے ۔  تمام بجٹ دیکھیں ، آزادی کی تمام اسکیمیں دیکھیں ، جن میں متوسط طبقے کو سب سے زیادہ فائدہ ہونے والا ہے ۔  اس طرح کا منصوبہ کبھی نظر نہیں آئے گا ۔  آج حکومت ان کنبوں کو سولر پینل لگانے کے لیے براہ راست 78 ہزار روپے دیتی ہے ۔  متوسط طبقے کو سب سے زیادہ فائدہ ہو رہا ہے ۔  اور جس سے گھر میں ایک چھوٹا سا بجلی گھر تیار کیا جاتا ہے ۔  دن کے وقت ، سورج کی روشنی سے بجلی پیدا ہوتی ہے ، وہی بجلی گھر میں استعمال ہوتی ہے اور جتنی زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے ، بجلی گرڈ میں جاتی ہے ۔  اور جس گھر میں بجلی بنتی ہے اسے بھی اس کا فائدہ ملتا ہے ۔

ساتھیو ،

آج راجستھان میں 1.25 لاکھ سے زیادہ کنبے اس اسکیم میں شامل ہوئے ہیں ۔  اور اس اسکیم کی وجہ سے بہت سے گھروں کا بجلی کا بل تقریبا صفر پر آ رہا ہے ۔  یعنی خرچ میں کمی آئی ہے ، بچت میں اضافہ ہوا ہے ۔

ساتھیو ،

ہم وکست  راجستھان سے وکست  بھارت  کے منتر پر مسلسل کام کر رہے ہیں ۔  آج جن اسکیموں پر کام شروع ہوا ہے ، وہ ترقی یافتہ راجستھان کی بنیاد کو مزید مضبوط کریں گے ۔  جب راجستھان ترقی کرے گا تو یہاں کے ہر کنبے  کی زندگی خوشحال ہوگی ۔  ایک بار پھر ، میں آپ سب کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔  میرے ساتھ بولیے ...

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

ملک وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ منا رہا ہے ۔  میرے ساتھ بولیے...

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

وندے ماترم ۔

بہت بہت شکریہ ۔ 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.