بگرومبا دھوؤ ہماری عظیم بوڈو روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے: وزیر اعظم
2020 بوڈو امن معاہدے نے برسوں کے تنازعات کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد اعتماد واپس آیا اور ہزاروں نوجوان تشدد چھوڑ کر مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے: وزیر اعظم
باصلاحیت بوڈو نوجوان آج آسام کے ثقافتی سفیر بن کر ابھر رہے ہیں: وزیر اعظم
آسام کے بڑھتے ہوئے اعتماد، طاقت اور ترقی کے ساتھ، بھارت کی ترقی کی کہانی تیز تر ہو رہی ہے: وزیر اعظم

نَموشکار! کھُلُمبائی!

 ما کھوبور؟ ماگھ بِہو آرو ماگھ دوماشیر ہُبھیچھا آرو مروم جونائشو۔

آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ جی، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما جی، مرکز میں میرے ساتھی سربانند سونووال جی، پوترا مارگریٹا جی، آسام اسمبلی کے اسپیکر بشوجیت دویماری جی، بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہلاری جی، ریاستی حکومت کے وزراء، تمام معزز شہری بھائیو اور بہنو اور آسام کے میرے بھائیو اور بہنو!

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے آسام کی ثقافت، یہاں کی بوڈو روایات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے جتنا میں آسام آیا ہوں، پہلے کوئی پی ایم نہیں آیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ آسام کے فن و ثقافت کو بڑا اسٹیج ملے۔ عظیم الشان تقریبات کے ذریعے اس کی پہچان ملک اور دنیا میں بنے۔ اس کے لیے پہلے بھی مسلسل کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ بڑے پیمانے پر بِہو سے وابستہ پروگرام ہوں، جھومیر بنوندینی کا اظہار ہو، دہلی میں سوا سال پہلے ہونے والا عظیم الشان بوڈولینڈ فیسٹیول ہو، یا دوسرے ثقافتی پروگرام ہوں، آسام کے فن و ثقافت میں جو غیر معمولی خوشی ہے، وہ پانے کا میں کوئی بھی موقع نہیں چھوڑتا ہوں۔ آج ایک بار پھر باگورومبا کی یہ تقریب ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب بوڈو شناخت کا ایک جیتا جاگتا جشن ہے۔ یہ بوڈو معاشرے کا اور آسام کے ورثے کا احترام بھی ہے۔ میں اس تقریب سے وابستہ تمام لوگوں اور خاص طور پر تمام فنکاروں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیو!

’باگورومبا دہو‘ یہ صرف ایک تہوار نہیں ہے۔ یہ ایک ذریعہ ہے - ہماری عظیم بوڈو روایت کو احترام دینے کا، یہ ایک ذریعہ ہے - بوڈو معاشرے کی عظیم شخصیات کو یاد کرنے کا۔ بوڈوفا اوپیندر ناتھ برہما، گرو دیو کالی چرن برہما، روپ ناتھ برہما، ستیش چندر بسومتاری، مورادم برہما، کنکیشور نرجری، ایسی کئی عظیم شخصیات رہی ہیں، جنہوں نے سماجی اصلاحات، ثقافتی نشاۃ ثانیہ اور سیاسی شعور کو مضبوطی دی ہے۔ اس موقع پر، میں بوڈو معاشرے کی تمام عظیم شخصیات کو عقیدت کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

 بی جے پی، آسام کی ثقافت کو پورے بھارت کا فخر مانتی ہے۔ آسام کے ماضی، آسام کی تاریخ سے ہی بھارت کی تاریخ مکمل ہوتی ہے۔ اور اسی لیے، بی جے پی حکومت میں باگورومبا دہو جیسے اتنے بڑے عظیم الشان جشن ہوتے ہیں، بِہو کو قومی شناخت دی جاتی ہے، ہماری کوششوں سے ’شورائدیو موئدام‘ کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ ملتی ہے، آسامی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا جاتا ہے۔

بھائیوبہنو!

 ہم نے بوڈو زبان کو بھی آسام کی ایسوسی ایٹ آفیشل لینگویج کا درجہ دیا ہے۔ بوڈو زبان میں تعلیم کو مضبوط کرنے کے لیے الگ ڈائریکٹوریٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ ہماری اسی وابستگی کی وجہ سے، باتھوؤ مذہب کو پورے احترام کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے، باتھوؤ پوجا پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ بی جے پی ہی ہے جس کی حکومت میں ایک طرف عظیم جنگجو لست بورفوکن کا عظیم الشان مجسمہ نصب ہوتا ہے، تو ساتھ ہی، بوڈوفا اوپیندر ناتھ برہما کے مجسمے کی بھی نقاب کشائی ہوتی ہے۔ اسی طرح، شریمنت شنکر دیو کی بھکتی اور سماجی ہم آہنگی کی روایت، جیوتی پرساد اگروالا جی کے فن اور شعور، بی جے پی حکومت آسام کے ہر ورثے، ہر فخر کے احترام کو اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہے۔ اتفاق سے آج جیوتی پرساد اگروالا جی کی برسی بھی ہے۔ میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

 آج جب میں یہاں آیا ہوں تو میرے دل میں کتنا کچھ چل رہا ہے! میں یہ سوچ کر جذباتی بھی ہو رہا ہوں کہ، میرا آسام کتنا آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک وقت جہاں آئے دن خون خرابہ ہوتا تھا، آج وہیں ثقافت کے حیرت انگیز رنگ سج رہے ہیں! ایک وقت جہاں گولیوں کی گونج تھی، آج وہاں کھام اور سِفونگ کی مدھر آواز ہے۔ پہلے جہاں کرفیو کا سناٹا ہوتا تھا، آج وہاں موسیقی کے سُر گونج رہے ہیں۔ پہلے جہاں بدامنی اور عدم استحکام تھا، آج وہاں باگورُمبا کی ایسی دلکش پیشکشیں ہونے جا رہی ہیں۔ ایسی عظیم الشان تقریب، یہ صرف آسام کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ کامیابی پورے بھارت کی ہے۔ آسام کی اس تبدیلی پر ہر ہم وطن کو فخر ہے۔

ساتھیو!

 مجھے اطمینان ہے کہ میرے آسامی لوگوں نے، میرے بوڈو بھائیوں اور بہنوں نے، اس کے لیے مجھ پر بھروسہ جتایا۔ آپ نے ڈبل انجن حکومت کو امن اور ترقی کی جو ذمہ داری دی، آپ کے آشیرواد سے ہم نے اسے پورا کر کے دکھایا۔ 2020 کے بوڈو امن معاہدے نے برسوں سے چلے آ رہے تصادم کو ختم کیا۔ اس معاہدے کے بعد اعتماد لوٹا اور ہزاروں نوجوانوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر مرکزی دھارے کو اپنا لیا۔ معاہدے کے بعد بوڈو علاقے میں تعلیم اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے، امن صرف نظم و ضبط تک محدود نہیں رہا، بلکہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا اور اس میں آپ کی کوششوں کا سب سے بڑا کردار رہا۔

ساتھیو!

 آسام کا امن، آسام کی ترقی، اور آسام کا فخر، ان سب کے مرکز میں اگر کوئی ہے، تو وہ آسام کا نوجوان ہے۔ آسام کے نوجوانوں نے امن کے قیام کے لیے جو راستہ چنا ہے، اسے میں نے اور ہم سب نے روشن مستقبل تک لے کر جانا ہے۔ امن معاہدے کے بعد سے ہی ہماری حکومت، بوڈولینڈ کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ حکومت نے بازآباد کاری کے عمل کو تیز رفتار سے آگے بڑھایا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو کروڑوں روپے کی مالی امداد دی گئی، تاکہ وہ ایک نئی شروعات کر سکیں!

 

ساتھیو!

 بی جے پی حکومت کی کوششوں کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ میرے باصلاحیت بوڈو نوجوان آج آسام کے ثقافتی سفیر بن رہے ہیں۔ کھیل کے میدان میں بھی بوڈو معاشرے کے بیٹے بیٹیاں نام روشن کر رہے ہیں۔ وہ آج نئے اعتماد کے ساتھ کھل کر نئے خواب دیکھ رہے ہیں، اپنے خوابوں کو پورا کر رہے ہیں اور آسام کی ترقی کو بھی رفتار دے رہے ہیں۔

ساتھیو!

 جب ہم آسام کے فن، ثقافت اور شناخت کا احترام کرتے ہیں، تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں تکلیف ہو جاتی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں، آسام کا احترام کس پارٹی کے لوگوں کو اچھا نہیں لگتا؟ جواب ایک ہی ہے - کانگریس پارٹی! وہ کون سی پارٹی ہے جس نے بھوپین ہزاریکا جی کو بھارت رتن دینے کی مخالفت کی تھی؟ کانگریس پارٹی! آسام میں سیمی کنڈکٹر یونٹ کی مخالفت کس پارٹی نے کی تھی؟ خود کانگریس کی کرناٹک حکومت کے ایک وزیر نے، جو کانگریس کے قومی صدر کے بیٹے بھی ہیں۔ انہوں نے سیمی کنڈکٹر یونٹ کی، آسام میں کیوں لگ رہی ہے، اس کی مخالفت کی۔

ساتھیو!

 آج بھی میں جب آسام کی ثقافت سے جڑی کوئی چیز پہنتا ہوں، اگر گموچھا، اگر گموچھا میرے ساتھ ہوتا ہے، تو کون سی پارٹی آسام کا مذاق اڑاتی ہے؟ کانگریس پارٹی۔

 

بھائیو بہنو!

 آسام اور بوڈولینڈ کا علاقہ اتنی دہائیوں تک مرکزی دھارے سے کٹا رہا، اس کی ذمہ دار صرف اور صرف کانگریس ہی ہے۔ کانگریس نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے آسام میں عدم استحکام پیدا کیا، کانگریس نے آسام کو تشدد کی آگ میں دھکیلا، آزادی کے بعد آسام کے سامنے بھی اپنے چیلنجز تھے! لیکن، کانگریس نے کیا کیا؟ کانگریس نے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے، ان پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکیں۔ ضرورت اعتماد کی تھی لیکن، کانگریس نے تقسیم کو بڑھایا۔ ضرورت مکالمے کی تھی، لیکن، کانگریس نے نظر انداز کیا، بات چیت کے راستے بند کیے! خاص طور پر، بوڈولینڈ کا علاقہ، بوڈولینڈ کے لوگوں کی آواز کبھی ٹھیک سے سنی ہی نہیں گئی۔ جب ضرورت اپنے لوگوں کے زخم بھرنے کی تھی، جب ضرورت آسام کے لوگوں کی خدمت کرنے کی تھی، کانگریس تب دراندازوں کے لیے آسام کے دروازے کھول کر، ان کی آؤ بھگت میں لگی رہی۔

ساتھیو!

 کانگریس آسام کے لوگوں کو اپنا نہیں مانتی۔ کانگریس کے لوگوں کو غیر ملکی درانداز زیادہ پسند ہیں۔ کیونکہ وہ یہاں آکر کانگریس کا کٹر ووٹ بینک بن جاتے ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے راج میں، غیر ملکی درانداز آتے رہے، آسام کی لاکھوں بیگھہ زمین پر قبضہ کرتے رہے اور کانگریس حکومت ان کی مدد کرتی رہی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج ہیمنت جی کی حکومت، آسام کے لوگوں کے حق کی لاکھوں بیگھہ زمین کو دراندازوں سے آزاد کروا رہی ہے۔

ساتھیو!

 کانگریس نے ہمیشہ آسام اور پورے شمال مشرق کو نظر اندازی کی نظر سے دیکھا ہے۔ جو کانگریس کے لوگ شمال مشرق کی ہی ترقی کو ضروری نہیں مانتے تھے، ان کی توجہ آخر آسام کی ترقی پر کیسے جاتی؟ بوڈو علاقے کی امیدوں اور توقعات کے بارے میں سوچنے کی انہیں فرصت کہاں ہوتی؟ اسی لیے، کانگریس حکومتوں نے جان بوجھ کر اس علاقے کو مصیبتوں میں دھکیلا۔

 

بھائیو بہنو!

 کانگریس کے ان گناہوں کو صاف کرنے کا کام بھی ہماری ڈبل انجن حکومت کر رہی ہے۔ آج یہاں جس رفتار سے ترقی ہو رہی ہے، وہ آپ کے سامنے ہے۔ آپ دیکھیے، ہم نے بوڈو-کاچاری ویلفیئر آٹونومس کونسل تشکیل دی۔ بوڈولینڈ کے علاقے میں بہتر ترقی کے لیے 1500 کروڑ روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکیج دیا گیا۔ کوکراجھار میں میڈیکل کالج اور ہسپتال کی شروعات ہوئی۔ تمل پور میں بھی میڈیکل کالج کی تعمیر کو رفتار ملی۔ نرسنگ کالج اور پیرا میڈیکل اداروں کے ذریعے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے گئے۔ گوبردھنا، پاربت جھورا اور ہوریسنگا جیسے علاقوں میں پولی ٹیکنیک اور تربیتی ادارے بھی بنائے گئے۔

ساتھیو!

 بوڈولینڈ کے لیے الگ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور بوڈولینڈ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اس سے بوڈو برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اور بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

ساتھیو!

 بی جے پی کی حکومت نے دلوں کی دوریاں مٹائی ہیں، آسام اور دہلی کا فاصلہ ختم کیا ہے اور بہتر انفراسٹرکچر کے ذریعے، آسام میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی دوریاں بھی کم کر رہی ہے۔ جن علاقوں میں پہلے پہنچنا مشکل ہوتا تھا، آج وہاں ہائی ویز بن رہے ہیں۔ ایسی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں جس سے اس علاقے میں نئے مواقع کھلیں۔ کوکراجھار کو بھوٹان کی سرحد سے جوڑنے والے بشموری-سرالپارا سڑک منصوبے کے لیے کروڑوں روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کوکراجھار سے بھوٹان کے گیلیفُو تک مجوزہ ریل منصوبہ بھی ایک اور اہم قدم ہے۔ ہم نے اسے خصوصی ریلوے منصوبہ قرار دیا ہے۔ ہم نے اسے ایکٹ ایسٹ پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد تجارت اور سیاحت دونوں کو فروغ ملے گا۔

ساتھیو!

 جب معاشرہ اپنی جڑوں سے جڑا رہتا ہے، جب مکالمہ اور بھروسہ مضبوط ہوتا ہے اور جب مساوی مواقع ہر طبقے تک پہنچتے ہیں، تب مثبت تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ آسام اور بوڈولینڈ کا سفر اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ آسام کی خود اعتمادی، آسام کی صلاحیت اور آسام کی ترقی سے، بھارت کی گروتھ اسٹوری کو نئی طاقت مل رہی ہے۔ آج آسام تیزی سے آگے بڑھنے والی ریاستوں میں اپنی پہچان بنا رہا ہے۔ آسام کی معیشت رفتار پکڑ رہی ہے۔ اس ترقی میں، اس تبدیلی میں، بوڈولینڈ اور یہاں کے لوگ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں ایک بار پھر آج کی تقریب کے لیے آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.