Share
 
Comments
Hands over keys of flats to eligible Jhuggi Jhopri dwellers at Bhoomiheen Camp
“Country is moving on the path of Sabka Saath, Sabka Vikas, Sabka Vishwas and Sabka Prayas for everyone’s upliftment”
“Our government belongs to poor people. Poor remain central to policy formation and decision-making systems”
“When there is this security in life, the poor work hard to lift themselves out of poverty”
“We live to bring change in your lives”
“Work is going on to regularise the houses built in unauthorised colonies of Delhi through the PM-UDAY scheme”
“The aim of the central government is to turn Delhi into a grand city complete with all amenities in accordance with its status as the capital of the country”
“Delhi’s poor and middle class are both aspirational and talented”

پروگرام میں موجود کابینہ میں میرے ساتھی جناب ہردیپ سنگھ پوری جی، وزیر مملکت جناب کوشل کشور جی، میناکشی لیکھی جی، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ونے کمار سکسینہ جی، دہلی کے تمام معزز اراکین پارلیمنٹ، دیگر تمام معززین اور جوش و جذبے سے پُر تمام استفادہ کنندگان۔ بھائیو اور بہنو!

وگیان بھون میں پروگرام  تو بہت ہوتے ہیں۔ کوٹ، پینٹ، ٹائی والے بھی بہت  لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن آج جس طرح یہاں سب ہمارے خاندان کے  لوگ نظر آرہے ہیں ، ان کا جو جوش و جذبہ نظر  آرہا  ہے۔ وہ واقعی وگیان بھون بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ آج دہلی کے سینکڑوں خاندانوں کے لیے، ہزاروں غریب ہمارے بھائی بہنوں کے لیے یہ بہت بڑا دن ہے۔ برسوں سے جو خاندان دہلی کی جھگیوں میں رہ رہے تھے، آج ان کے لیے ایک طرح سے زندگی کی  نئی شروعات ہونے جارہی ہے۔ دہلی کے غریب خاندانوں کو پکا گھر دینے کی جو مہم شروع ہوئی ہے  وہ یہاں کے  ہزاروں غریب خاندانوں کا خوابوں پورا  کرے گی۔ آج یہاں سینکڑوں استفادہ کنندگان کو ان کے گھر کی چابی ملی ہے اور مجھے  جن چار پانچ خاندانوں سے ملنے کا موقع ملا، میں دیکھ رہا تھا، ان کے چہرے پر جو خوشی ، جو اطمینان  اور وہ اپنے کسی نہ کسی جذبے کا اظہار کرتے تھے، وہ اندر کی جو خوشی تھی وہ ظاہر ہورہی تھی، ایک اطمینان ان کے چہرے پر مہک رہا تھا۔ اکیلے کالکاجیایکسٹینشن  فرسٹ فیز میں ہی  3000 سے زیادہ گھر بناکر تیار کرلئے گئےہیں اور بہت ہی جلد  یہاں رہنے والے دوسرے خاندانوں کو بھی ’ گریہہ پرویش‘ کا موقع ملے گا۔ مجھے یقین ہے کہ  آنے والے وقت میں  حکومت ہند کےذریعہ کی جانے والی یہ کوشش  دہلی کو ایک آئیڈیل  شہر بنانے میں  بڑا رول ادا کرے گی۔

ساتھیو،

دہلی جیسے بڑے شہروں میں ہم جو ترقی دیکھتے ہیں، بڑے خواب اور بلندیاں دیکھتے ہیں، ان کی بنیاد میں  میرے ان غریب بھائی بہنوں کی محنت ہے، ان کا پسینہ ہے، ان  کی مشقت ہے لیکن بد قسمتی دیکھئے، سچائی یہ بھی کہ شہروں کی ترقی میں  جن غریبوں کا خون پسینہ لگتا ہے،  وہ اسی شہر میں بدحالی کی زندگی  جینے کے لئے مجبور ہوتے رہےہیں۔ جب تعمیر کا کام کرنے والا ہی پیچھے رہ جاتا ہے، تو تعمیر بھی ادھوری ہی رہ جاتی ہے اور اسی لئے  گزشتہ سات دہائیوں میں  ہمارے شہر کلی ترقی سے  متوازن ترقی سے، جامع ترقی سے محروم رہ گئے۔ جس شہر میں ایک طرف اونچی اونچی شاندار عمارتیں اور چمک دمک ہوتی ہے،  اسی کی بغل میں  جھگی جھونپڑیوں میں بدحالی نظر آتی ہے۔ ایک طرف شہر میں کچھ علاقوں کو پوش کہا جاتا ہے، تو دوسری طرف کئی علاقوں میں لوگ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کےلئے ترستے رہے ہیں۔ جب ایک ایک ہی شہر میں  اتنی نابرابری ہو،  اتنا بھید بھاؤ ہو، تو کلی ترقی کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے۔آزادی کے امرت کال میں  ہمیں اس کھائی کو پاٹنا ہی ہوگا اور اس لئے ہی آج ملک  ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشوا س اور سب کا پریاس‘ اس منتر پر چل کر  سب کو اوپر اٹھانے کے لئے کوشش کررہا ہے۔

ساتھیو،

کئی دہائیوں تک ملک میں جو نظام رہا،  اس میں یہ سوچ بن گئی تھی کہ غریبی  صرف غریب کاہی مسئلہ ہے۔ لیکن آج ملک میں جو حکومت ہے،  وہ غریب کی حکومت ہے۔ اس لئے وہ غریب کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ  سکتی اور اس لئے  آج ملک کی پالیسیوں کے مرکز میں غریب ہے۔ آج ملک کے فیصلوں کے مرکز میں غریب ہے۔خاص طور پر  شہر میں رہنے والے غریب بھائی بہنوں پر بھی ہماری حکومت اتنی ہی توجہ دے رہی ہے۔

ساتھیو،

کوئی بھی یہ جان کر حیران رہ جائے گاکہ یہاں  دہلی میں ہی  50 لاکھ سے زیادہ لوگ ایسے تھے،  جن کے پاس بینک کھاتہ تک نہیں تھا۔یہ لوگ  بھارت کے بینکنگ نظام سے نہیں جڑے تھے۔ بینکوں سے ملنے والے ہر فائدے سےمحروم تھے۔ بلکہ سچائی یہ بھی تھی  کہ غریب بینک کے دروازے تک جانے سے ڈرتا تھا۔ یہ لوگ دلی میں تھے لیکن دہلی ان کے لئے بہت دور تھی۔ اس صورت حال کو ہماری حکومت نے تبدیل کیا۔  مہم چلاکر دہلی کے غریبوں کے ، ملک کے غریبوں کے بینک کھاتے کھلوائے گئے۔ تب کسی نے شاہد ہی یہ سوچا ہوگا کہ اس کے کیا کیا فائدے ہوسکتے ہیں۔ آج دہلی کے غریب کو بھی حکومت کی پالیسیوں کا سیدھا فائدہ مل رہا ہے۔ آج دلی میں ہزاروں ساتھی ریہڑی پٹری کی دکان لگاتے ہیں، سبزیاں اور پھل بیچتے ہیں۔ کئی ساتھی آٹو رکشا چلاتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے پاس آج بھیم۔ یو پی آئی نہ ہو۔ پیسے سیدھے موبائل پر آتے ہیں۔ موبائل سے پے منٹ بھی ہوجاتا ہے۔ اس سے کتنا بڑا اقتصادی تحفظ ملا ہے۔ بینکنگ نظام سے  جڑنے کی یہی طاقت  پی ایم سواندھی یوجنا  کی بھی بنیاد بنی ہے۔ اس یوجنا کے تحت شہر میں رہنے والے  ہمارے ریہڑی پٹری والےبھائیوں اور بہنوں کو  اپنا کام آگے بڑھانے کے لئے  مالی مدد دی جارہی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ دہلی کے بھی 50 ہزار سے زیادہ ریہڑی پٹری والےمیرے بھائی بہنوں  نے سواندھی یوجنا کا فائدہ اٹھایا ہے۔  اس کے علاوہ  مُدرا یوجنا کے تحت بغیر گارنٹی  دی گئی  30 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی مدد بھی دہلی کے چھوٹے  کاروباریوں افراد کو  کافی مدد ملی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے غریب ساتھیوں کو  ایک بڑی دقت راشن کارڈ سے  متعلق بدانتظامی سے بھی ہوتی  ہے۔ ہم نے  ون نیشن، ون راشن کارڈ کا انتظام کرکے  ملک کے لاکھوں غریبوں کی زندگی کو آسان بنایا ہے۔ہمارے جو  مہاجر مزدور دوسری ریاستوں سے کام کرنےآتے ہیں،  پہلے ان کا راشن کارڈ یہاں بیکار ہوجاتا تھا۔ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتا تھا۔ اس سے ان کےلئے  راشن کا مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا۔  ’ون نیشن، ون راشن کارڈ‘ کے ذریعہ  اس فکر سے نجات مل رہی ہے۔ اس اسکیم کا فائدہ  کورونا  عالمی وبا کے دور میں دہلی کے غریبوں نے بھی اٹھایا ہے۔ اس عالمی بحران کے وقت میں  دہلی کے لاکھوں غریبوں کو مرکزی حکومت گزشتہ دو سال سے مفت راشن بھی دے رہی ہے۔ اس پر صرف دہلی میں ہی  مرکزی حکومت کے ذریعہ  ڈھائی ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے گئےہیں۔ یہ  جنتی چیزیں میں نے شمار کرائی ہیں،  اب بتایئے کتنے روپیوں کا مجھے اشتہار دینا چاہیے تھا۔ کتنے اخبار کے پیچ بھرنے پڑتے۔ اخبار میں مودی  فوٹو چمکتی ہو، اور کتنے دے دیتے۔ اتنا سارا کام  میں ابھی جو  شمار کرارہا ہوں ، ابھی تو بہت کم  شمار کرا رہا ہوں،  ورنہ وقت بہت زیادہ چلا جائے گا کیونکہ  ہم آپ کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے جیتے ہیں۔

ساتھیو،

دہلی میں مرکزی حکومت نے 40 لاکھ سے زیادہ غریبوں کو  بیمہ کا تحفظ بھی فراہم کرایا ہے۔دواؤں کا خرچ کم کرنے کے لئے  جن اوشدھی کیندروں کی سہولت دی ہے۔ جب زندگی میں یہ تحفظ ہوتا ہے، تو غریب مطمئن ہوکر  پوری طاقت سے محنت کرتا ہے۔ وہ خود کو غریبی سے باہر نکالنے کےلئے  غریبی سےلڑائی لڑنے کےلئے، غریبی کو شکست دینے کےلئے  جی جان سے جھک جاتا ہے۔ یہ اطمینان  غریب کی زندگی میں کتنا اہم ہوتا ہے۔ وہ کسی غریب سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔

ساتھیو،

دہلی میں  ایک اور معاملہ  دہائیوں پہلے تعمیر ہونے والی   غیر منظور شدہ  کالونیوں کا بھی رہا ہے۔ ان کالونیوں میں ہمارے لاکھوں بھائی بہن رہتے ہیں۔ ان کی پوری پوری زندگی  اسی فکر میں نکل رہی تھی کہ ان کے گھروں کا ہوگا کیا؟ دہلی کے لوگوں کی اسی فکر کو کم کرنے کا کام بھی مرکزی حکومت نےکیا۔ پی ایم  اودے  یوجنا کے ذریعہ سے  دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں میں بنے گھروں کو   باضابطہ کرنے کا کام چل رہا ہے۔ اب تک ہزاروں   لوگ اس اسکیم کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے  دہلی کے  متوسط طبقے کی بھی، ان کے گھر کا خواب پورا کرنے میں بہت مدد کی ہے۔ دہلی کے  نچلے اور  متوسط طبقے کے لوگ  اپنا گھر بنا پائیں،  اس کے لئے انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے  سود میں سبسڈیدی گئی ہے۔ اس پر بھی مرکزی حکومت کی طرف سے  700 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے گئے ہیں۔

ساتھیو،

مرکزی حکومت کا مقصد ہے  کہ ہم دلی کو  ملک کی راجدھانی کےمطابق  ایک شاندار، سہولتوں والا  شہر بنائیں۔ دہلی کی ترقی کو رفتار دینے کےلئے  ہم نے جو کام کئے ہیں، دہلی کے لوگ ، دہلی کے غریب، دہلی کا  بہت بڑا متوسط طبقہ ، وہ ان سب  کے گواہ کے طور پر  ہر جگہ  اپنی بات بتاتے ہیں۔ اس بار لال قلعہ سے میں نے ملک کی  خواہش مند سوسائٹی کی بات کی تھی۔ دہلی کا غریب ہو یا متوسط طبقہ، وہ خواہش مند بھی اور  بے مثال  صلاحیت سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی سہولت ، اس کی خواہش کی تکمیل  حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔

ساتھیو،

سال 2014 میں جب ہماری حکومت آئی تھی، تو دہلی ۔ این سی آر میں   190 کلو میٹر روٹ پر ہی میٹرو چلا کرتی تھی۔ آج دہلی۔ این سی آر میں میٹرو کی توسیع  تقریباً 400 کلو میٹر تک ہوچکی ہے۔ گزشتہ 8 برسوں میں  یہاں  135 نئے میٹرو اسٹیشن تیار کئے گئے ہیں ۔ آج میرے پاس دہلی میں کالج جانے والے  کتنے ہی بیٹےبیٹیاں ، بڑی تعداد میں نوکری پیشہ لوگ چٹھی لکھ کر  میٹرو سروس کےلئے  ممنونیت کا اظہار کرتے ہیں۔ میٹرو کی سہولت کی توسیع ہونے سے  ہر روز ان کےپیسے بھی بچ رہےہیں اور وقت کی بھی بچت ہورہی ہے۔ دہلی کو ٹریفک کی بھیڑ بھاڑ سے  راحت دلانے کے لئے  حکومت ہند کے ذریعہ 50 ہزار کروڑ روپے  کی سرمایہ کاری سے  سڑکوں کو چوڑا کیا جارہا ہے، جدید بنایا جارہا ہے۔دہلی میں جہاں ایک طرف پیری فیرل ایکسپریس وے بن رہے ہیں، تو دوسری جانب کرتویہ پتھ  جیسی تعمیر بھی ہورہی ہے۔دوارکا ایکسپریس وے ہویا اربن ایکسٹینشن روڈ ،  اکشر دھام سے باغپت  چھ لین ایکسزکنٹرول ہائی وے ہو یا گرورو گرام سونا روڈ کی شکل میں  ایلی ویٹیڈ کوریڈور ۔ ایسے کتنے ہی ترقیاتی کام  دہلی میں مرکزی حکومت کے ذریعہ کئےجارہےہیں جو ملک کی راجدھانی میں  جدید انفرا اسٹرکچر کو توسیع دیں گے۔

 ساتھیو،

 دہلی ۔ این سی آر کے لئے ریپڈ ریل  جیسی خدمات بھی مستقبل قریب میں ہی شروع ہونے جارہی ہیں۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن  کی جو شاندار تعمیر ہونے جارہی ہے،  اس کی تصویریں بھی آپ نے ضرور دیکھی ہوں گی۔ مجھے خوشی ہے کہ  دوارکا میں 80ہیکٹئر زمین پر بھارت وندنا پارک کی تعمیر کا کام اب آئندہ چند مہینوں میں پورا ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ  ڈی ڈی اے کے ذریعہ دہلی کے 700 سے زیادہ بڑے پارکوں کی دیکھ ریکھ کی جاتی ہے۔ وزیراعظم بیراج سے لے کر اوکھلا بیراج کے درمیان  کا جو 22 کلو میٹر کا اسٹریچ ہے،  اس پر بھی ڈی ڈی اے کے ذریعہ  مختلف پارک تیار کئے جارہےہیں۔

ساتھیو،

آج میرے اتنے سارے بھائی بہن اپنی زندگی میں ایک نئی شروعات کرنےجارہے ہیں تو میں ان سےضرور کچھ توقعات بھی رکھتا ہوں۔ اگر میں آپ سے کوئی توقع رکھوں گا، تو پوری کروگے نا؟  میں بتا سکتا ہوں کوئی کام آپ لوگوں کو؟ کریں گے؟  بھول جائیں گے، پھر بھول جائیں گے، نہیں بھول جائیں گے۔ اچھا حکومت ہند  کروڑوں کی تعداد میں غریبوں کےلئےگھر بنا رہی ہے۔ گھر میں نل سے پانی دے رہی ہے۔ بجلی کا کنکشن دے رہی ہے۔ ماؤں بہنوں کو بغیر دھوئیں کےکھانےبنانے کی سہولت ملے، اس کے لئےاجولا سلینڈر بھی مل رہا ہے۔ ان سہولتوں کے درمیان ہمیں یہ بات پکی کرنی ہے کہ ہم اپنے گھر میں  ایل ای ڈی بلب ہی استعمال کریں گے۔ کریں گے؟ دوسری بات ہم کسی بھی حالت میں کالونی میں پانی کو برباد نہیں ہونے دیں گے، ورنہ آپ کو معلوم ہے کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔ باتھ روم میں بالٹی رکھ دیتے ہیں، نل چالو رکھتےہیں۔ صبح چھ بجے اٹھنا ہے تو گھنٹی کا کام کرتا ہے، پانی آئے گا، بالٹی کی آواز آئےگی تو لگے گا۔ دیکھئے پانی بچانا بہت ضروری ہے، بجلی بچانا بہت ضروری ہے اور اس سے بھی آگے ایک بات ہمیں یہاں  جھگی جھونپڑی کا ماحول نہیں بننے دینا ہے۔ ہماری کالونی صاف ستھری ہو،خوبصورت ہو،  صفائی ستھرائی کا ماحول ہو اور میں تو کہوں گا کہ آپ ہی لوگ اپنی کالونی میں  ٹاور ٹاور کے درمیان میں مسابقت کیجئے۔ ہر مہینے مقابلہ ، کون سا ٹاور سب سے زیادہ صاف ستھرا ہے۔ جھگیوں کی بارے میں اتنی دہائیوں سے  جو تصور بناکر کے رکھا گیا تھا،  جھگیوں کو جس طرح گندگی سےجوڑا جاتا تھا، اب ہماری ذمہ داری ہے، اس کو ختم کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے  ۔ آپ تمام لوگ دہلی اور ملک کی ترقی میں اسی طرح اپنا رول ادا کرتے رہیں گے۔ دہلی کے ہر ایک شہری  کے تعاون سے  دہلی اور ملک کی ترقی کا یہ سفر   بغیر رکاوٹ کے آگے بڑھتا رہے گا۔ اسی یقین کے ساتھ  آپ سبھی کو ایک بار پھر  بہت بہت نیک خواہشات، بہت بہت مبارک ہو!

بہت بہت شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Media Coverage

"India most attractive place...": Global energy CEOs' big endorsement of India Energy Week in Bengaluru
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM shares creative way of learning Kannada language
February 06, 2023
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi who has always advocated learning  the language of other states and often starts his speeches with greetings and introductory sentences in the local language, today shared a fun way of learning Kannada language.

Quoting a tweet by Kiran Kumar S about pictorial way of teaching Kannada alphabet, the Prime Minister tweeted :

"A creative way to make learning languages a fun activity, in this case the beautiful Kannada language."