For ages, conservation of wildlife and habitats has been a part of the cultural ethos of India, which encourages compassion and co-existence: PM Modi
India is one of the few countries whose actions are compliant with the Paris Agreement goal of keeping rise in temperature to below 2 degree Celsius: PM

پیارے دوستو!

مجھے آپ سب لوگوں کا مہاتماگاندھی کی سرزمین گاندھی نگر میں مہاجر جانوروں سے متعلق کنونشن پر  13 ویں  کانفرنس  آف پارٹیز  میں آپ  سب کا خیر مقدم کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔

بھارت دنیا میں سب سے زیادہ متنوع ممالک میں سے ایک ہے۔ دنیا کے  2.4 فیصد زمینی رقبے کے اس ملک میں عالمی  حیاتیاتی تنوع کا تقریبا 8 فیصد یہاں موجود ہے۔ بھارت  مختلف اقسام کے ماحولیاتی  مسکنوں کا ملک ہے، جہاں حیاتیاتی تنوع کے چار  بڑے مقام ہیں۔ ان میں مشرقی ہمالیہ ، مغربی گھاٹ ، بھارت – میانما  کا منظر نامہ اور انڈو  مان ونکوبار جزائر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت  پوری دنیا  کے تقریبا 500 مہاجر پرندوں کا بھی  گھر ہے۔

خواتین وحضرات!

صدیوں سے جنگلی حیات  اور مسکنوں  کا تحفظ بھارت کی ثقافتی اقدار کا ایک حصہ ہیں جو ہمدردی اور  بقائے باہم  کی ہمت افزائی کرتا ہے۔ ہمارے ویدوں میں جانوروں کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔ سمراٹ اشوک نے جنگلات  کو  تباہ کرنے اور جانوروں کو ہلاک کرنے   پر پابندی پر بہت زور دیا۔ گاندھی جی  سے تحریک پاکر  علم  تشدد کے اقدار پر جانوروں اور  فطرت کے  تحفظ  کا ہمارے آئین میں بھی مناسب طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کی عکاسی  کئی قوانین اور  ضابطوں سے بھی  ہوتی ہے۔

کئی سال سے جاری  پائیدار کوششوں سے  امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ محفوظ علاقوں کی تعداد ، جو 2014 میں  745 تھی ، 2019  میں بڑھ کر 870 ہوگئی ہے، جو  تقریبا  ایک لاکھ 70 ہزار مربع  کلو میٹر  پر محیط ہے۔

بھارت میں جنگلات کے رقبے میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ملک میں  جنگلات کا  کل رقبہ، ملک کے  کُل  جغرافیائی  رقبے کا  21.67 فیصد ہے۔

بھارت تحفظ ، پائیدار طرز حیات  اور  سبز ترقی کے ماڈل  کی اقدار  کی بنیاد پر  آب وہوا  سے متعلق  سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ ہمارے اقدامات میں  450  میگاواٹ  قابل تجدید توانائی  حاصل کرنے کا ہدف ، الیکٹرک موٹر گاڑیوں کے لئے  ہمت افزائی ، اسمارٹ سٹی  اور پانی وغیرہ کے تحفظ  جیسے اقدامات  شامل ہیں۔

بین الاقوامی شمسی اتحاد ،آفات میں محفوظ رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کے لئے اتحاد  اور  سوئڈن کے ساتھ  صنعتی تبدیلی میں قیادت  جیسے اقدامات میں وسیع ممالک کی شرکت امید افزا ہے۔

بھارت اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے  جن کی سرگرمیاں  درجہ حرارت کو  د و ڈگری سیلسیس سے کم رکھنے ، پیرس معاہدے کے ہدف  پر عمل در آمد  پر مبنی ہے۔

بھارت نے  جانوروں کے تحفظ کے مخصوص  پروجیکٹ ؍ پروگرام شروع کئے ہیں۔ ان کے  بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ شیروں کے لئے ریزرو علاقوں میں ،  جو ابتدائی برسوں میں  9 تھے ، اب  تک بڑھ کر 50 ہوگئے ہیں۔ فی الحال بھارت میں شیروں کی تعداد  تقریبا 2970 ہے۔ بھارت نے  شیروں کی تعداد دوگنی کرنے کے اپنے ہدف کو  مقررہ 2022  سے  دو سال پہلے ہی  حاصل کرلیا ہے۔ میں  شیروں کی آبادی والے ملکوں اور دوسرے ملکوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ  یہاں آئیں اور  شیروں کے تحفظ  کے  مؤثر طریقوں  میں ساجھیداری کریں اور اپنے  شیروں کے تحفظ کو مستحکم بنائیں۔

بھارت میں  ایشیائی ہاتھیوں کی کل  عالمی آبادی  کا 60 فیصد حصہ  موجود ہے۔ ہماری ریاستوں نے  ہاتھیوں کے لئے 30 مخصوص علاقے محفوظ کئے ہیں۔ بھارت  نے  ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ کے لئے  کئی اہم اقدامات کئے ہیں اور  نئے معیار قائم کئے ہیں۔

ہم نے  بالائی ہمالیہ میں برفانی تیندوئے  اور اس کے مسکن  کے تحفظ کے لئے  پروجیکٹ اسنولیوپارڈ شروع کیا ہے۔ بھارت نے  12 ملکوں کی عالمی برفانی تیندوئے کے ماحولیاتی نظام کے پروگرام (جی ایس ایل ای پی) کی  اسٹیئرنگ کمیٹی  کی میزبانی  کی تھی جس میں  نئی دہلی اعلانیہ منظور کیا گیا ۔ اس  اعلانئے میں  برفانی تیندوئے کے تحفظ کے لئے  ہر ملک کے لئے مخصوص فریم ورک اور  سبھی ملکوں کے درمیان تعاون  پر زور دیا  گیا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے  خوشی ہورہی ہے کہ بھارت عوام کی شرکت کے ساتھ پہاڑوں کے ماحولیات  کے تحفظ سمیت  سبز معیشت  کو فروغ دینے میں  ایک قائدانہ رول ادا کرے گا۔

دوستو!

گجرات میں  گیر کا علاقہ ایشیائی ببر  شیر وں کا مسکن ہے  اور جو ملک کے لئے  ایک فخر کی بات ہے۔ ہم نے جنوری 2019 میں  ایشیائی ببر شیروں کے تحفظ کیلئے  ایک خصوصی پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ مجھے  یہ بتاتے ہوئے  خوشی ہورہی ہے کہ آج ایشیائی ببر شیروں  کی  تعداد 523 تک پہنچ چکی ہے۔

بھارت میں ایک سینگ والے گینڈے آسام ، اترپردیش اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں۔ حکومت ہند نے  2019 میں  ایک سینگ والے بھارتی گینڈوں کے تحفظ کی قومی حکمت عملی  کا آغاز کیا۔

گریٹ انڈین بسٹرڈ ( سون چریا)  کے تحفظ کے لئے بھی ہماری کوششیں جاری ہیں کیونکہ یہ پرندہ بھی  معدوم ہونے کی کگار پر ہے۔ ان کی افزائش کے  ایک پروگرام کے طور پر 9 انڈوں کو کامیابی سے سہہ کر بچے نکالے گئے ہیں۔ اس کام  کو بھارتی سائنس دانوں اور  محکمہ جنگلات نے  ابو ظہبی کے حوبارہ  تحفظ کے  بین الاقوامی فنڈ کی تکنیکی امداد  سے انجام دیا ہے۔ یہ  وجہ ہے کہ ہم نے ’’جی بی  -دی گریٹ‘‘  کا میسکوٹ  بنایا ہے جو سون چریا کے لئے  خراج عقیدت ہے۔

دوستو!

بھارت کے لئے   گاندھی نگر میں مہاجر جانوروں سے متعلق کنونشن پر  13 ویں کانفرنس آف پارٹیز  کی میزبانی  کرنا ایک بڑے فخر کی بات ہے۔

جیسا کہ آپ نے  محسوس کیا ہوگا کہ ، سی ایم ایس  ، سی او پی – 13  کا لوگو جنوبی ہندوستان کے روایتی  ’’کولم ‘‘ سے تحریک حاصل کرکے تیار کیا گیا ہے، جو  فطرت کے ساتھ ہم آہنگی  سے رہنے  کے لئے  ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔

دوستو!

ہم روایتی  طور پر  ’’ اتیتھی دیوو بھوا‘‘  کے منتر پر عمل کررہے ہیں، جس کا اظیار  سی ایم ایس ، سی او پی – 13  کے نعرے ؍ موضوع سے ہوتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’مہاجر جانور  کرہ ارض کو جوڑتے ہیں اور  ہم سب مل کر ان کی    گھر واپسی کا خیر مقدم کرتے ہیں‘‘۔ یہ جانور  کسی پاسپورٹ یا ویزا کے بغیر  ملکوں میں آتے جاتے ہیں لیکن یہ  امن اور خوشحالی کے  پیامبر ہیں اور  ان کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

خواتین وحضرات!

 بھارت  آنے والے تین برسوں کے لئے اس کنونشن کی صدارت سنبھالے گا۔ اپنی صدارت کے دوران بھارت  درج ذیل  شعبوں میں کام کرنے کی  کوشش کرے گا۔

بھارت مہاجر پرندوں کے لئے  وسط ایشیائی  اُڑان کا راستہ ہے ۔ وسطی ایشیاء  کے  اس  فلائی وے  میں اور  ان کے مسکنوں میں پرندوں کے تحفظ کے لئے بھارت نے  وسطی ایشیائی  فلائی وے  پر  مہاجر پرندوں کے تحفظ کا قومی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ بھارت اس سلسلے میں دوسرے ملکوں کے لئے بھی  ایکشن پلان تیار کرنے میں سہولت فراہم کرکے خوشی محسوس کرے گا۔ ہم  وسط ایشیائی فلائی وے  میں آنے والے ملکوں کے سرگرم تعاون کے ساتھ مہاجر پرندوں کے تحفظ کو ایک نئی اونچائی  تک لے جانے کے خواہش مند ہیں۔ میں ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرکے تحقیق  ، مطالعات ، جائزوں ، صلاحیت سازی  اور  تحفظ کے اقدامات  پر عمل در آمد کے لئے  ایک ادارہ جاتی نظام  قائم کرنے کا خواہش مند ہوں۔

دوستو!

بھارت کے پاس  7500 کلو میٹر کے قریب ساحلی پٹی ہے اور  بھارتی سمندر متنوع جانوروں اور  مختلف اقسام کے پیڑ پودوں سے مالا مال ہے۔ بھارت آسیان اور  مشرقی ایشیاء سمیٹ کے ملکوں کے ساتھ اپنی  تنظیم کو  مستحکم کرنے کی تجویز رکھتا ہوں۔ یہ  بھارت بحر الکاہل پہل (آئی پی او آئی ) کے خطوط پر ہوگا جس میں بھارت ایک قائدانہ رول ادا کرے گا۔ بھارت 2020 تک اپنی  سمندری  کچھوئے  کی پالیسی اور  سمندری  کناروں سے متعلق  بندوبست کی پالیسی  کا آغاز کرے گا۔ یہ  بہت چھوٹی چھوٹی پلاسٹک  کے ذریعے  پیدا ہونے والی  آلودگی  سے بھی نمٹے گی۔ ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک  ماحولیات کے تحفظ کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور  ہم نے بھارت میں اس کے استعمال کو  ایک مشن کے طور پر کم کرنے  کا قدم اٹھایا ہے۔

دوستو!

بھارت میں کئی  محفوظ علاقے ایسے ہیں جن کی پڑوسی ملکوں کے محفوظ علاقوں کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں سرحد پار  محفوظ علاقوں کے قیام سے جنگلی حیات  کے تحفظ میں تعاون بہت  مثبت نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔

دوستو!

 میری حکومت  ٹھوس طریقے سے پائیدار ترقی میں یقین رکھتی ہے۔ ہم  اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ ترقی  ماحولیات کو  نقصان  پہنچائے  بغیر  حاصل ہوسکے۔ ہم نے  ماحولیاتی  طور پر نازک علاقوں میں ترقی کے لئے  لائنیئر انفرا اسٹرکچر پالیسی رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔

قدرتی وسائل  کو اگلی نسلوں کے لئے برقرار رکھنے کے کام میں عوام  کو  اہم ساجھیدار بنایا  جارہا ہے۔ میری حکومت  ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس،  سب کا وشواس‘‘ کے نعرے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔  ملک میں جنگلاتی علاقوں کے قرب وجوار میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو اب جنگلات کی مشترکہ بندو بست کمیٹیوں اور ماحولیات کے فروغ  کی کمیٹیوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور یہ لوگ جنگلات اور جنگلی  حیات  کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔

دوستو!

 مجھے یقین ہے کہ یہ کانفرنس جانوروں اور ان کے مسکنوں کے  تحفظ کے شعبے میں تجربات میں ساجھیداری اور صلاحیت سازی  کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ میں یہ بھی امید کرتا ہے کہ آپ لوگ بھارت کی میزبانی اور  یہاں کے تنوع کا بھی  پورا مزہ لیں گے۔

شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.