نمسکار!

یہ جو پروگرام، تھوڑا  آپ کو  خاص لگتا ہوگا ، اس بار بجٹ کے بعد ہم نے طے کیا کہ بجٹ میں جو چیزیں طے کی گئی ہیں، انہیں چیزوں کو لے کر کے الگ الگ سیکٹر ، جن کا  اس بجٹ کے التزامات  سے  سیدھا تعلق ہے، ان سے  تفصیل سے بات کریں اور یکم اپریل سے  جب نیا بجٹ  لاگو ہو تو اسی دن سے   تمام اسکیمیں بھی  لاگو ہوں،  ساری اسکیمیں آگے بڑھیں اور فروری اور مارچ ، اس کا بھر پور استعمال اس تیاری کے لئے  کیا جائے۔

بجٹ، جب  ہم نے  پہلے کے مقابلے  تقریبا  ایک مہینہ پہلے کردیا ہو، تو ہمارے پاس دو مہینے کا وقت ہے۔ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ  ہم کیسے اٹھائیں اور اس لئے  لگا تار  الگ الگ شعبے کے لوگوں سے  بات ہو رہی ہے۔ کبھی انفراسٹرکچر سے متعلق  سب سے بات ہوئی، کبھی  ڈیفنس سیکٹر سے متعلق سب سے  بات ہوئی۔  آج مجھے ہیلتھ  سیکٹر کے لوگوں سے  بات کرنے کا موقع ملا ہے۔

اس سال کے بجٹ میں  ہیلتھ سیکٹر کو  جتنا بجٹ دیا گیا ہے، وہ  غیر معمولی ہے۔ یہ  ملک کے ہر شہری کو  بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے ہمارے عہد کی  علامت ہے۔ پچھلا سال ایک طرح سے  ملک کے لئے ، دنیا کے لئے ، پوری انسانیت کے لئے اور خاص کر  ہیلتھ سیکٹر کے لئے  ایک  سخت امتحان کی طرح تھا۔

 مجھے خوشی ہے کہ آپ سبھی ، ملک کا ہیلتھ سیکٹر ، اس امتحان میں ہم  کامیاب ہوئے ہیں۔ متعدد افراد کی زندگی بچانے میں ہم کامیاب رہے ہیں۔ کچھ مہینے کے اندر ہی  جس طرح ملک میں  تقریبا  ڈھائی ہزار  لیبس  کا نیٹ ورک کھڑا کیا، کچھ درجن ٹیسٹ سے  ہم آج  تقریبا 21 کروڑ  ٹیسٹ کے  سنگ میل تک  پہنچ پائے، یہ سب  سرکار اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کرنے سے یہ ممکن ہوا ہے۔

ساتھیو،

کورونا نے ہمیں  یہ سبق دیا ہے کہ  ہمیں صرف آج ہی  وبائی مرض سے نہیں لڑنا ہے، بلکہ مستقبل میں  آنے والی  ایسی کسی بھی حالت کے لئے بھی  ملک کو تیار کرنا ہے۔ اس لئے ہیلتھ کیئر سے جڑے  ہر شعبے کو مضبوط کرنا بھی  اتنا ہی ضروری ہے۔ طبی آلات سے لے کر  دواؤں تک ، وینٹی لیٹر سے لے کر  ٹیکے تک، سائنسی تحقیق سے لے کر  نگرانی کے بنیادی ڈھانچے تک، ڈاکٹر وں سے لے کر  وبائی مرض کے ماہرین تک  ہمیں سبھی پر دھیان دینا ہے تاکہ ملک میں مستقبل میں  صحت سے متعلق کسی بھی آفت کے لئے بہتر طریقے سے  تیار رہیں۔

پی ایم- آتم نربھر سووستھ بھارت یوجنا  کے  پیچھے  بنیادی طور پر  یہی  جذبہ کار فرما ہے۔ اس اسکیم کے تحت  ریسرچ سے لے کر ٹیسٹنگ اور ٹریٹمنٹ تک  ملک میں ہی  ایک جدید  حیاتیاتی نظام تیار کرنے کا فیصلہ  کیا گیا ہے۔ پی ایم آتم نربھر سوستھ بھارت یوجنا  ہر  گوشے میں ہماری صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ 15 ویں مالیاتی کمیشن ، اس کی سفارشیں قبول کرنے کے بعد  ہمارے جو مقامی ادارے ہیں، ان کو  طبی  خدمات  کی سہولیات کے لئے  70 ہزار کروڑ روپے  سے زیادہ  ملنے والا ہے۔ یعنی  سرکار کا زور  صرف ہیلتھ کیئر میں  سرمایہ کاری  پر ہی نہیں ہے بلکہ  ملک کے دور دراز علاقوں تک  ہیلتھ کیئر کو  پہنچانے پر بھی ہے۔ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ  ہیلتھ سیکٹر میں کی گئی سرمایہ کاری  صحت ہی نہیں بلکہ  روز گار کے مواقع  بھی بڑھاتی ہے۔

 

ساتھیو،

کورونا کے دوران  بھارت  کے ہیلتھ سیکٹر نے  جو مضبوطی دکھائی ہے، اپنے جس تجربہ اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، اسے دنیا نے  بہت باریکی سے نوٹ کیا ہے۔ آج پوری دنیا میں  بھارت کے ہیلتھ سیکٹر  کی  عظمت  اور بھارت کے ہیلتھ سیکٹر پر بھروسہ ، ایک نئی سطح پر پہنچا ہے۔ ہمیں اس بھروسے کو  دھیان میں رکھتے ہوئے بھی  اپنی تیاریاں کرنی ہیں۔ آنے والے وقت میں  ہندوستانی ڈاکٹروں کی مانگ  دنیا میں  اور زیادہ بڑھنے والی ہے اور وجہ ہے  یہ بھروسہ۔ آنے والے وقت میں  ہندوستانی نرسیں، ہندوستانی پیر امیڈیکل اسٹاف کی مانگ پوری دنیا  میں بڑھے گی، آپ لکھ کر کے رکھئے۔ اس دوران ہندوستانی دواؤں  اور ہندوستانی ٹیکوں نے  ایک نیا اعتماد حاصل کیا ہے۔ ان کی بڑھتی مانگ کے لئے بھی  ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی۔ ہمارے میڈیکل ایجوکیشن سسٹم پر بھی  قدرتی طور پر  لوگوں کا دھیان جائے گا، اس پر  بھروسہ بڑھے گا۔ آنے والے دنوں میں دنیا کے اور ممالک سے بھی  میڈیکل ایجوکیشن کے لئے ، بھارت میں  تعلیم حاصل کرنے کے لئے طلباء کے آنے کے امکانات میں بھی  اضافہ ہونے والا ہے اور ہمیں  اس کی  ترغیب دینی چاہئے۔

کورونا کے دوران  ہم نے وینٹی لیٹر اور دیگر سامان  بنانے میں بھی مہارت   حاصل کرلی ہے۔ اس کی عالمی مانگ  پوری  کرنے کے لئے بھی بھارت کو  تیزی سے کام کرنا  ہوگا۔ کیا بھارت یہ خواب دیکھ سکتا ہے کہ  دنیا کو جس جس  جدید  طبی  آلے کی ضرورت ہے، وہ سستا کیسے بنے؟  بھارت  گلوبل سپلائر کیسے بنے؟  اور  سستا نظام ہوگا، مستحکم نظام ہوگا، صارف دوست ٹیکنالوجی ہوگی؛ میں  پکا مانتا ہوں  کہ دنیا کی نظر  بھارت کی طرف جائے گی اور ہیلتھ سیکٹر میں ضرور جائے گی۔

ساتھیو،

 سرکار کا بجٹ یقینی  طور پر  ایک  کیٹیلیٹک ایجنٹ ہوتا ہے، لیکن  بات تبھی بنے گی جب ہم سب مل کر کام کریں گے۔

ساتھیو،

صحت کو لے کر ہماری سرکار کا اپروچ  پہلے کی سرکاروں کی سوچ سے  ذرا الگ ہے، اس بجٹ کے بعد  آپ بھی  یہ سوال  دیکھ رہے  ہوں گے، جس میں  صفائی کی بات ہوگی،  غذائیت کی بات ہوگی،  تندرستی کی بات ہوگی،  آیوش کی  ہیلتھ پلاننگ  ہوگی۔ یہ ساری چیزیں  ایک  ہولسٹک اپروچ کے ساتھ  ہم آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہی  وہ سوچ ہے، جس کی وجہ سے  پہلے ہیلتھ سیکٹر  کو  عام طور پر ٹکڑوں میں دیکھا جاتا تھا اور ٹکڑوں میں ہی اسے  ہینڈل کیا جا تا تھا۔

ہماری سرکار  صحت سے متعلق مسائل کو  ٹکڑوں کی بجائے ہولسٹک طریقے سے ، ایک انٹیگریٹڈ اپروچ  کی طرح اور  ایک فوکس طریقے سے  دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لئے ہم نے ملک میں  صرف علاج ہی نہیں ، تندرستی پر فوکس کرنا شروع کیا ہے۔ ہم نے  روک تھام سے لے کر علاج تک  ایک مربوط نظریہ اپنایا ہے۔ بھارت کو  صحت مند رکھنے کے لئے  ہم  چار  محاذ پر  ایک ساتھ کام کرر ہے ہیں۔

 پہلا محاذ ہے،  بیماریوں کو روکنے کا۔ سوچھ بھارت مہم ہو، یوگا پر فوکس ہو، غذائیت سے لے کر  حاملہ  خواتین اور بچوں کو  وقت  پر  صحیح  دیکھ بھال  اور علاج  فراہم ہو،  پینے کا صاف پانی  پہنچانے کی کوشش ہو، ایسے  ہر طریقے  اس کا حصہ ہیں۔

دوسرا محاذ،  غریب سے غریب کو  سستا اور اثر دار علاج دینے کا ہے، آیوشمان  بھارت  یوجنا  اور  پردھان منتری  جن اوشدھی کیندر  جیسی اسکیمیں  یہی کام کر رہی ہیں۔

تیسرا محاذ ہے،  ہیلتھ انفراسٹرکچر اور ہیلتھ کیئر پروفیشنل کی تعداد اور معیار میں اضافہ کرنا۔ گزشتہ 6  سال سے  ایمس  اور  اس سطح کے  دوسرے اداروں کی توسیع  ملک کی  دور دراز  کی ریاستوں تک کی جارہی ہے۔ ملک میں زیادہ سے زیادہ  میڈیکل کالج بنانے کے پیچھے  بھی یہی سوچ ہے۔

چوتھا محاذ ہے،  مسائل پر قابو پانے کے لئے مشن موڈ پر ، فوکس طور پر  اور  مقررہ مدت کے اندر  ہمیں کام کرنا ہے۔ مشن اندر دھنش کی توسیع  ملک کے آدیواسی  اور  دور دراز کے علاقوں تک  کی گئی ہے۔

ملک  سے ٹی بی کے خلاف جنگ  اور ٹی بی کو ختم کرنے کے لئے  دنیا نے  2030  کا  ٹارگیٹ رکھا ہے،  بھارت نے  2025  تک کا  ہدف رکھا ہے اور میں ٹی بی کی طرف  اس وقت  خاص  دھیان دینے کے لئے  اس  لئے کہوں گا کہ  ٹی بی بھی متاثرہ شخص سے نکلنے والی بوندوں  سے ہی پھیلتی ہے۔ ٹی بی کی روک تھام میں بھی  ماسک پہننا ، جلدی تشخیص اور علاج ، یہ ساری باتیں اہم ہیں۔

 ایسے میں کورونا کے دور میں  ہم نے  جو تجربہ حاصل کیا ہے، جو ایک طرح سے ہندوستان کے  عام لوگوں تک پہنچ چکا ہے، اب اسی  ہماری پریکٹس کو ہم ٹی بی کے شعبے میں بھی  اسی  موڈ میں  کام کریں گے، تو ٹی بی سے جو ہمیں  لڑائی لڑنی ہے، بہت آسانی سے ہم جیت سکیں گے۔  اور اس لئے کورونا کا تجربہ، کورونا کے سبب عوام الناس  میں جو بیداری آئی ہے، وہ  بیماری سے بچنے میں  بھارت کے  عام شہریوں نے جو تعاون دیا ہے، ان ساری چیزوں کو  دیکھ کر لگتا ہے کہ اسی ماڈل کو  ضروری  اصلاح کے ساتھ   اضافی متبادل کے ساتھ  اگر ہم ٹی بی پر بھی  لاگو کریں گے تو  2025  کا  ٹی بی سے پاک بھارت کا خواب  ہم  پورا کرسکتے ہیں۔

اسی طرح آ پ کو یاد ہوگا کہ ہمارے یہاں  خاص کر اترپردیش میں  گورکھپور وغیرہ  کے جو علاقے ہیں، جسے  پوروانچل بھی  کہتے ہیں، اس پروانچل میں دماغی بخار سے  ہر سال  ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی  افسوسناک  موت ہو جاتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی  اس کا ذکر ہوتا ہے۔ اس بار تو  اس  موضوع پر بحث کرتے ہوئے  ہمارے  موجودہ اترپردیش کے  وزیراعلی یوگی  جی  رو پڑے تھے، ان بچوں کی  مرنے کی صورت حال دیکھ کر، لیکن جب سے  وہاں کے مکھیہ  منتری بنے  انہوں نے ایک طرح سے  فوکس ایکٹی ویٹی کی پوری طرح   زور  لگایا۔ آج ہمیں بہت  امید افزا نتائج مل رہے ہیں۔ ہم نے  دماغی بخار کو پھیلنے سے روکنے پر  زور دیا ، علاج کی  سہولیات بڑھائیں تو اس کا اب اثر  بھی دکھ رہا ہے۔

ساتھیو،

کورونا  دور میں  آیوش سے جڑے ہمارے  نیٹ ورک نے بھی بہترین کام کیا ہے۔ نہ صرف انسانی وسائل کو لے کر  بلکہ  قوت مدافعت اور  سائنسی  تحقیق کو لے کر بھی  ہمارا  آیوش کا بنیادی ڈھانچہ  دیش  کے بہت کام آیا ہے۔

بھارت کی  دواؤں اور  بھارت کی ویکسین کے ساتھ ساتھ  ہمارے مسالوں، ہمارے  کاڑوں کا بھی  کتنا بڑا  حصہ ہے ، یہ دنیا آج محسوس کررہی ہے۔ ہماری روایتی ادویہ نے بھی دنیا  بھر میں  اپنی ایک جگہ بنائی ہے، جو روایتی  ادویہ سے جڑے ہوئے لوگ ہیں، جو اس کی پیداوار کے ساتھ  جڑے ہوئے لوگ ہیں، جو  آریوویدک روایات سے  معروف  لوگ ہیں؛ ہمارا فوکس بھی گلوبل ہونا چاہئے۔

دنیا جس طرح سے  یوگ کو آسانی سے  قبول کر رہی ہے، ویسے ہی دنیا  ہولسٹک صحت دیکھ بھال کی طرف  گئی ہے۔ سائڈ ایفکٹ سے  پاک  صحت دیکھ بھال کی طرف  دنیا کا دھیان  گیا ہے۔ اس میں  ہندوستان کی روایتی ادویہ  بہت کام آسکتی ہے۔ بھارت کی  جو روایتی ادویہ ہیں، وہ  اصل میں  ہربل بیسڈ ہیں اور  اسی وجہ سے  دنیا میں  اس کا استعمال بہت  تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ نقصان کے  تعلق میں لوگ بے فکر   ہوتے ہیں کہ  اس میں کوئی  چیز نقصان دہ نہیں ہے۔ کیا ہم  اس کو بھی  زور  لگا سکتے ہیں؟  ہمارے ہیلتھ کے بجٹ کو  اور اس شعبے میں کام کرنے والے لوگ مل کر کچھ کرسکتے ہیں۔

کورونا کے دوران  ہماری روایتی  ادویہ کی  طاقت دیکھنے کے بعد ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور  آیوروید میں روایتی ادویہ میں  بھروسہ کرنے والے بھی  سبھی  اور  اس سے الگ  ہمارے  طبی  پیشے سے جڑے ہوئے لوگوں کے لئے فخر کی بات ہے کہ  عالمی صحت مرکز ، ڈبلیو ایچ او  ہندوستان میں اپنا  روایتی ادویہ کا عالمی مرکز بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ پہلے ہی انہوں نے  اعلان  کردیا ہے۔ ہندوستانی سرکار  اس کی کارروائی بھی کر رہی ہے۔ یہ جو   مان – سمان ملا ہے اس کو  دنیا تک پہنچانا  ہماری ذمہ داری بنتا ہے۔

ساتھیو،

رسائی  اور  برداشت کرنے کو اب  اگلی سطح پر لے جانے کا وقت ہے۔ اس لئے اب  صحت کے شعبے میں  جدید ترین ٹیکنا لوجیوں کا  استعمال بڑھا یا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ مشن، دیش  کے معزز  شہریوں کو  وقت پر ، سہولت کے مطابق  مؤثر علاج  دینے  میں بہت مدد کرے گا۔

ساتھیو،

گزرے برسوں کی ایک اور  اپروچ کو بدلنے کا کام تیزی سے کیا گیا ہے۔ یہ بدلاؤ  آتم نربھر بھارت کے لئے بہت ضروری ہے۔ آج ہم  فارمیسی آف دی ورلڈ،  اس بات پر فخر کرتے ہیں،  لیکن آج بھی کئی باتوں کے لئے  جو  خام مال ہے، ہم  اس کے لئے  غیر ملکوں پر  انحصار کرتے ہیں۔

دواؤں اور  طبی آلات  کے خام مال کے لئے  ملک کا  دوسرے ملکوں پر  انحصار ،  دوسرے ملکوں پر گزارا کرنا  ہماری صنعت کے لئے کتنا برا  تجربہ رہا ہے، یہ ہم دیکھ چکے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔ اس لئے  غریبوں کو سستی دوائیں  اور آلات دینے میں بھی  یہ بہت بڑی مشکل پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں اس کا راستہ تلاش کرنا ہی ہوگا۔ ہندوستان کو ہمیں ان شعبوں میں خود کفیل بنانا ہی ہوگا۔ اس  کے لئے چار   خصوصی یوجنائیں ان دنوں شروع کی گئی ہیں۔ بجٹ میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آپ نے بھی  ادھیان کیا  ہوگا ۔

اس کے تحت  دیش میں ہی دواؤں اور  طبی آلات کے  خام مال کی پیداوار کے لئے  پیداوار سے منسلک ترغیبات دی جارہی ہیں، اسی طرح دوائیں اور طبی آلات بنانے کے لئے میگا پارکس  کی  تعمیر کو بھی  اچھا رسپاؤنس مل رہا ہے۔

ساتھیو،

 دیش کو  صرف  آخری  میل تک صحت رسائی ہی نہیں چاہئے بلکہ ہمیں ہندوستان کے ہر کونے میں ، دور دراز کے علاقوں میں.... جیسے ہمارے یہاں  جب الیکشن ہوتا ہے تو  رپورٹ آتی ہے، ایک رائے دہندہ تھا ، وہاں بھی  پولنگ بوتھ لگا، مجھے لگتا ہے کہ  صحت کے شعبے میں بھی اور  تعلیم ، دو موضوع ہیں کہ جہاں ایک شہری بھی ہوگا تو بھی ہم پہنچیں گے۔ یہ ہمارا مزاج ہونا  چاہئے اور ہمیں اس پر  زور دینا ہے۔ اس پر ہمیں پوری کوشش کرنی ہے، اور اس لئے سبھی علاقوں میں  صحت بہتری  پر بھی  ہمیں زور دینا ہے۔ ملک کو  تندرستی کے  مراکز چاہئے،  ملک کو  ضلعی  اسپتال چاہئے، ملک کو  کریٹیکل کیئر یونٹ چاہئے، ملک کو  صحت نگرانی کے بنیادی ڈھانچے چاہئے، ملک کو  ایڈوانس  لیبس چاہئے، ملک کو  ٹیلی میڈیسین چاہئے، ہمیں ہر سطح پر کام کرنا ہے، ہر سطح کر بڑھا وا دینا ہے۔

ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ  ملک کے لوگ، چاہے وہ غریب سے غریب ہوں، چاہے وہ  دور دراز  کے  علاقوں میں رہتے ہوں، انہیں ہر ممکن بہترین علاج ملے اور  وقت  پر ملے۔ اور  ان سبھی کے لئے جب مرکزی سرکار ،  سبھی  ریاستی سرکاریں،  مقامی  ادارے  اور  ملک کا  نجی شعبہ مل کر کام کریں گے، تو  بہتر نتیجے بھی ملیں گے۔

نجی شعبہ، پی ایم – جے اے وائی  میں  حصہ داری کے ساتھ ساتھ  سرکاری  صحت لیبارٹریوں کا نیٹ ورک بنانے میں  پی پی پی  ماڈلس کو بھی   سپورٹ کرسکتا ہے۔ قومی ڈیجیٹل صحت مشن ،  شہریوں کے ڈیجیٹل، صحت ریکارڈ اور دوسری  جدید ترین  ٹیکنالوجی کو لے کر بھی  ساجھیداری ہوسکتی ہے۔ 

مجھے یقین ہے کہ  ہم سبھی مل کر ایک مضبوط ساجھیداری کے راستے  نکال پائیں گے، صحت مند اور خوش حال ہندوستان کے لئے  خود کفالت  کا  مقصد  تلاش کر پائیں گے۔ میری   آپ سب سے گزارش  ہے کہ ہم جو  شراکت داروں کے ساتھ ،  اس  موضوع کے جو  معروف لوگ ہیں، ان کے ساتھ  تبادلہ خیال کر رہے ہیں.... بجٹ جو آنا تھا، وہ آگیا۔ بہت سی آپ  کی  توقعات  ہوں گی،  وہ شاید اس میں نہیں ہوگا  لیکن اس کے لئے یہ کوئی  آخری بجٹ نہیں ہے.... اگلے بجٹ میں دیکھیں گے۔ آج تو جو بجٹ آیا ہے، اس کا  تیز رفتار سے زیادہ سے زیادہ  اور جلد سے جلد  ہم مل کر  کیسے نفاذ کریں ،  امکانات کیسے  واضح کریں،  عام آدمی تک  پہنچنے میں ہم تیزی کیسے لائیں۔  میں چاہوں گا کہ آپ سب کا تجربہ ، آپ کی باتیں آج ہندوستانی سرکار کو بجٹ کے بعد .... ہم پارلیمنٹ میں  تو چر چا کرتے ہیں، پہلی بار بجٹ کی  چرچا  متعلقہ لوگوں سے ہم کر رہے ہیں۔ بجٹ کے بعد کی چر چا کرتے ہیں، تب  تجویز کی ہوتی ہے.... بجٹ کے بعد چرچا کرتے ہیں، تب سمادھان کی ہوتی ہے۔

 اور اس لئے آیئے ہم سب مل کر کے حل نکالیں، ہم مل کر کے بہت تیز رفتار سے آگے بڑھیں اور ہم مل کر کے چلیں۔ سرکار اور آپ الگ نہیں ہیں، سرکار بھی  آپ کی ہی ہے، اور  آپ بھی دیش کے لئے ہی ہیں۔ ہم سب مل کر کے دیش کے غریب سے غریب شخص کو  دھیان میں رکھتے ہوئے  صحت کے شعبے کے تابناک  مستقبل، تندرست بھارت کے لئے  ہم سب اس  بات کو آگے بڑھائیں گے۔ آپ سب نے  وقت نکالا ہے،آپ کی رہنمائی  بہت کام آئے گی۔ آپ کی اہم  بھاگیداری  بہت کام آئے گی۔

میں پھر ایک بار ...... آپ نے وقت نکالا، اس  کے لئے آپ کا  شکریہ ادا کرتا ہوں اور  آپ کی  قیمتی   رائے ہمیں آگے لے جانے میں بہت کام آئیں گی۔ آپ رائے بی دیں گے، ساجھیداری بھی کریں گے۔ آپ توقعات بھی کریں گے، ذمہ داری بھی اٹھائیں گے، اسی یقین کے ساتھ.....

 بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s electric PV retail sales jump 44% in February; Tata Motors leads: FADA

Media Coverage

India’s electric PV retail sales jump 44% in February; Tata Motors leads: FADA
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi lays Foundation Stone of Kota Airport; Highlights transformation of Hadoti Region
March 07, 2026
Today is a day of new hope and new achievement for the entire Hadoti region including Kota, Bundi, Baran and Jhalawar: PM
This modern airport, to be built at a cost of ₹1,500 crore, will give new momentum to the development of the entire region in the coming time: PM
When this airport becomes operational, travel will be easier and trade will grow rapidly across the entire area, including Kota : PM
Kota is today advancing rapidly in the field of connectivity: PM
Under the Amrit Bharat Station Scheme, both major railway stations of Kota are being equipped with modern facilities: PM
The Delhi-Mumbai Expressway, which passes through Kota and Bundi, is opening a new gateway for the development of the entire region: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi addressed the foundation stone-laying ceremony of the Kota Airport via video message today, marking a significant milestone for the Hadoti region. “Rajasthan is progressing at an unprecedented pace, with the new airport set to become a catalyst for economic and industrial growth”, Shri Modi emphasized.

Addressing the gathering, the Prime Minister noted his recent visit to Ajmer where development projects worth thousands of crores were inaugurated and appointment letters were handed over to over 21,000 youth. He stated that these back-to-back programs within a week send a powerful message about the state’s development trajectory, noting that "they tell us at what speed Rajasthan is moving forward today."

The Prime Minister highlighted that today is a day of new hope for Kota, Bundi, Baran, and Jhalawar as the modern airport, built at a cost of approximately 1,500 crore rupees, begins to take shape. While extending his best wishes to the people of the region, Shri Modi remarked, "This modern airport is going to give new momentum to the development of the entire region in the coming times."

Recalling his visit in November 2023, the Prime Minister expressed satisfaction that the promise made to the people regarding the airport is now being fulfilled. Transitioning from the previous inconvenience of traveling to Jaipur or Jodhpur for flights, Shri Modi asserted, "When this airport starts, travel will be easy and trade will grow rapidly in the entire area including Kota."

The Prime Minister described Kota as a unique center of both education and energy, producing electricity from nuclear, coal, gas, and water sources. Shri Modi praised the global identity of Kota Doria sarees, Kota stone, and local agricultural produce like Bundi’s Basmati rice, asserting that "this new airport in Kota will work to multiply these possibilities many times over."

Discussing the region's potential for tourism, the Prime Minister mentioned the spiritual significance of Shri Mathuradhish Ji and Garadia Mahadev alongside wildlife hubs like Mukundara Hills. “The enhanced air connectivity would bring global tourists to the region, and its direct benefit will be available to the youth, traders, and local economy here", Shri Modi emphasised.

The Prime Minister also touched upon the broader connectivity revolution in Kota, including the modernization of railway stations under the Amrit Bharat scheme and the impact of the Delhi-Mumbai Expressway. Highlighting the shift toward agro-based industries, Shri Modi stated, "this new chapter of air connectivity after rail and road will give more speed to the development of Kota."

Acknowledging the efforts of local leadership, the Prime Minister lauded Kota MP and Lok Sabha Speaker Om Birla for his dedication to the region's progress. Commenting on Shri Birla’s role in the Parliament, the Prime Minister remarked that "he is a teacher who handles the entire class well, even when facing unruly students from certain big families."

Reflecting on the national aviation landscape, the Prime Minister noted that the number of airports has increased from 70 in 2014 to over 160 today. Pointing to new terminals and airports near Delhi as examples of decentralized growth, Shri Modi expressed, "I am confident that this new airport of Kota will also give new momentum to the development of this area in the same way."

In his concluding remarks, the Prime Minister stressed the importance of the "Double Engine" government and clear intentions in achieving rapid progress. He envisioned a prosperous and empowered state, concluding that "this strong foundation of Developed Rajasthan is giving more strength to the resolution of Developed India.”