ایکتاکا مہاکمبھ – ایک نئے دور کا آغاز

Published By : Admin | February 27, 2025 | 09:00 IST

مقدس شہر پریاگ راج میں منعقدہ مہاکمبھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اتحاد کا ایک عظیم الشان مہایگیہ مکمل ہوا۔ جب کسی قوم کا شعور بیدار ہوتا ہے، جب وہ صدیوں کی محکومی کے زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی تازہ ہوا میں سانس لیتی ہے، تو وہ ایک نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ یہی منظر 13 جنوری سے پریاگ راج میں منعقدہ ایکتا کا مہاکمبھ میں دیکھنے کو ملا۔

22 جنوری 2024 کو جب ایودھیا میں رام مندر کی پران پرتشتہ (پتھ پوجا) ہوئی، میں نے دیو بھکتی اور دیش بھکتی یعنی دیوتاؤں اور وطن سے عقیدت کی بات کی۔ مہاکمبھ کے دوران دیوی دیوتاؤں، سنتوں، خواتین، بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور تمام طبقوں کے لوگوں کا ایک ساتھ اجتماع ہوا۔ جس دوران ہم نے بھارت کے بیدار شعور کا مشاہدہ کیا۔ یہ ایکتا کا مہاکمبھ تھا، جہاں 140 کروڑ بھارتیوں کے جذبات ایک مقام پر، ایک وقت میں یکجا ہوئے۔

پریاگ راج کی اسی مقدس سرزمین پر شرنگویپور واقع ہے، جو اتحاد، محبت اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بھگوان شری رام اور نشاد راج کی ملاقات ہوئی، جو عقیدت اور خیرسگالی کے سنگم کی علامت بنی۔ آج بھی پریاگ راج ہمیں اسی جذبے سے متاثر کرتا ہے۔

45 دنوں تک میں نے ملک کے ہر گوشے سے کروڑوں عقیدت مندوں کو سنگم کی جانب بڑھتے دیکھا۔ جذبات کا ایک مسلسل بہاؤ نظر آیا۔ ہر یاتری کا واحد مقصد سنگم میں مقدس ڈبکی لگانا تھا۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی کے مقدس میل سے ہر یاتری کے دل میں نیا جوش، توانائی اور اعتماد پیدا ہوا۔

پریاگ راج میں یہ مہاکمبھ نہ صرف عقیدت کا مرکز تھا بلکہ جدید نظم و نسق، منصوبہ بندی اور پالیسی ماہرین کے لیے بھی ایک تحقیق کا موضوع ہے۔ دنیا میں اس پیمانے پر ایسا کوئی اور اجتماع نہیں ہوتا۔ پوری دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ کروڑوں افراد بغیر کسی رسمی دعوت نامے کے، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، خود بخود پریاگ راج پہنچے اور مقدس جل میں ڈبکی لگانے کی روحانی خوشی محسوس کی۔

میں ان چہروں کو نہیں بھول سکتا جنہوں نے مقدس اشنان کے بعد بے پناہ خوشی اور سکون کی روشنی بکھیر دی۔ خواتین، بزرگ، ہمارے معذور بھائی بہن – سبھی کسی نہ کسی طرح سنگم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

مہاکمبھ میں بھارت کے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت، میرے لیے سب سے خوشی کی بات تھی۔ ان کی موجودگی ایک زبردست پیغام ہے کہ بھارت کا نوجوان اپنے شاندار ثقافتی ورثے کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے کی مکمل ذمہ داری محسوس کر رہا ہے۔

اس مہاکمبھ کے لیے پریاگ راج پہنچنے والوں کی تعداد نے بلاشبہ نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔ یہ ایکتا کا مہاکمبھ محض جسمانی موجودگی کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں کروڑوں ہندوستانیوں کے دل و دماغ جذباتی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ مقدس جل، جو عقیدت مند اپنے ساتھ لے کر گئے، ملک کے لاکھوں گھروں میں روحانی مسرت کا ذریعہ بنا۔ بہت سے دیہاتوں میں یاتریوں کا استقبال احترام کے ساتھ کیا گیا اور انہیں سماج میں عزت بخشی گئی۔

جو کچھ پچھلے چند ہفتوں میں ہوا، وہ بے مثال ہے اور آئندہ صدیوں کے لیے ایک نئی بنیاد رکھ چکا ہے۔ مہاکمبھ میں جتنے یاتری آئے، وہ توقعات سے کہیں زیادہ تھے۔

امریکہ کی کل آبادی سے بھی دوگنا افراد اس ایکتا کا مہاکمبھ میں شامل ہوئے!

اگر روحانی علوم کے ماہرین اس اجتماع کے جوش و جذبے کا مطالعہ کریں، تو انہیں نظر آئے گا کہ اپنی وراثت پر فخر کرنے والا بھارت، نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو ایک نئے بھارت کا مستقبل تحریر کرے گا۔

ہزاروں سالوں سے مہاکمبھ نے بھارت کے قومی شعور کو بیدار رکھا ہے۔ ہر پورن کمبھ پر سنت، عالم، اور دانشور اکٹھا ہو کر معاشرتی حالات پر غور و فکر کرتے اور قوم و سماج کو نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ ہر چھ سال بعد اردھ کمبھ میں ان نظریات کا جائزہ لیا جاتا اور 144 سال بعد جب بارہ پورن کمبھ مکمل ہوتے، تو پرانی روایات کا تجزیہ کر کے نئی سمت متعین کی جاتی۔

144 سال بعد، اس مہاکمبھ میں ہمارے سنتوں نے بھارت کے ترقی کے اور سفر کے حوالے سے ایک بار پھر ہمیں ایک نیا پیغام دیا ہے۔ وہ ترقی یافتہ بھارت- وِکست بھارت کا پیغام ہے۔

اس ایکتا کا مہاکمبھ میں ہر یاتری، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، نوجوان ہو یا بزرگ، گاؤں کا ہو یا شہر کا، بھارت میں رہتا ہو یا بیرون ملک، مشرق کا ہو یا مغرب کا، شمال کا ہو یا جنوب کا، کسی بھی ذات، مذہب یا نظریے سے تعلق رکھتا ہو، سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ یہ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے خواب کی حقیقی تصویر تھی، جس نے کروڑوں افراد میں اعتماد کی لہر دوڑا دی۔

مجھے بھگوان شری کرشن کے بچپن کا وہ لمحہ یاد آتا ہے جب انہوں نے اپنی ماں یشودا کو اپنے منہ میں پورا سنسار دکھا دیا تھا۔ اسی طرح، اس مہاکمبھ میں پوری دنیا نے بھارت کی اجتماعی طاقت کی ایک جھلک دیکھی۔ہمیں اب اس خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لئے خود کو وقف کرنا چاہیے۔

اس سے قبل، بھکتی تحریک کے سنتوں نے پورے بھارت میں ہمارے اجتماعی عزم کی طاقت کو پہچانا اور اسے پروان چڑھایا۔ سوامی وویکانند سے لیکر شری اروِندو تک، ہر عظیم مفکر نے ہمیں اجتماعی ارادے کی طاقت کی یاد دلائی۔ یہاں تک کہ مہاتما گاندھی نے بھی آزادی کی تحریک میں اسے محسوس کیا۔اگر آزادی کے بعد اس اجتماعی قوت کو ملکی فلاح و بہبود کے لیے صحیح طریقے سے استعمال کیا جاتا، تو یہ ایک عظیم طاقت بن سکتی تھی۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ لیکن اب، میں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوں کہ یہ اجتماعی طاقت ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے متحد ہو رہی ہے۔

ویدوں سے وویکانند تک، قدیم صحیفوں سے جدید سیٹلائٹ تک، بھارت کی عظیم روایات نے اس ملک کی تشکیل کی ہے۔ایک شہری کی حیثیت سے، میری دعا ہے کہ ہم اپنے بزرگوں اور سنتوں کی یادوں سے نئی تحریک حاصل کریں۔ یہ ایکتا کا مہاکمبھ ہمیں نئے عزائم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دے۔ ہمیں اتحاد کو اپنا اصول بنانا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی خدمت ہی حقیقی بھکتی ہے۔

کاشی میں اپنی انتخابی مہم کے دوران، میں نے کہا تھا کہ ''ماں گنگا نے مجھے بلایا ہے''۔ یہ محض ایک جذباتی بات نہیں تھی، بلکہ مقدس دریاؤں کی صفائی کی ذمہ داری کا ایک عہد تھا۔پریاگ راج میں گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر کھڑے ہو کر میرا عزم اور مضبوط ہوا۔ یہ مہاکمبھ ہمیں نہ صرف دریاؤں کی صفائی بلکہ قومی یکجہتی اور ترقی کی راہ پر مسلسل کام کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

پریاگ راج میں گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر کھڑے ہو کر میرا عزم اور بھی مضبوط ہو گیا۔ ہمارے دریاؤں کی صفائی کا ہماری اپنی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ندیوں کو چاہے چھوٹے یا بڑے، زندگی دینے والی ماؤں کے طور پر تعظیم کریں۔ اس مہاکمبھ نے ہمیں اپنی ندیوں کی صفائی کے لیے کام کرتے رہنے کی ترغیب دی ہے۔

میں جانتا ہوں کہ اتنی بڑی تقریب کا انعقاد کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میں ماں گنگا، ماں جمنا اور ماں سرسوتی سے دعا کرتا ہوں کہ اگر ہماری عقیدت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو وہ ہمیں معاف کر دیں۔ میں جنتا جناردن، لوگوں کو الوہیت کے مجسم کے طور پر دیکھتا ہوں۔ اگر ان کی خدمت میں ہماری کوششوں میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو تو میں بھی لوگوں سے معافی کا خواستگار ہوں۔

مہاکمبھ میں کروڑوں لوگ عقیدت کے ساتھ شریک ہوئے۔ ان کی خدمت کرنا بھی ایک ذمہ داری تھی جو اسی جذبے کے ساتھ ادا کی گئی۔ اتر پردیش سے ممبر پارلیمنٹ کے طور پر میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ یوگی جی کی قیادت میں انتظامیہ اور عوام نے مل کر اس ایکتا کا مہاکمبھ کو کامیاب بنانے کے لیے کام کیا۔ ریاست ہو یا مرکز، کوئی حکمران یا منتظم نہیں تھا، اس کے بجائے، ہر کوئی ایک عقیدت مند سیوک تھا۔ صفائی کے کارکن، پولیس، کشتی والے، ڈرائیور، کھانا پیش کرنے والے لوگ - سب نے انتھک محنت کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا کرنے کے باوجود پریاگ راج کے لوگوں نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ یاتریوں کا استقبال کیا وہ خاص طور پر متاثر کن تھا۔ میں ان کا اور اتر پردیش کے لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مجھے اپنی قوم کے روشن مستقبل پر ہمیشہ سے غیر متزلزل اعتماد رہا ہے۔ اس مہاکمب کو دیکھنے سے میرا یقین کئی گنا مضبوط ہوا ہے۔

جس طرح سے 140 کروڑ بھارتیوں نے اس ایکتا کا مہاکمبھ کو عالمی تقریب میں بدل دیا وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ اپنے لوگوں کی لگن، محنت اور کوششوں سے متاثر ہوکر، میں جلد ہی شری سومناتھ کا دورہ کروں گا، جو 12جیوترلنگوں میں سے پہلا ہے، تاکہ انہیں ان اجتماعی قومی کوششوں کا ثمرہ پیش کر سکوں اور ہر بھارتی کیلئے دعا کر سکوں۔


یہ مہاکمبھ مہا شیوراتری پر کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، لیکن جیسے گنگا کا بہاؤ کبھی نہیں رک سکتا، اسی طرح یہ روحانی طاقت، قومی شعور اور اتحاد آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتا رہے گا۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s manufacturing to rise 2.8x to $1.5 trn by 2035: Morgan Stanley

Media Coverage

India’s manufacturing to rise 2.8x to $1.5 trn by 2035: Morgan Stanley
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
ایک ایسی زندگی جو بھارت کی یکجہتی اور ترقی کے لیے وقف تھی
July 06, 2026

آج، 6 جولائی، ان لاتعداد لوگوں کے لیے ایک خاص دن ہے جو قوم پرستی اور بے لوث خدمت کے نظریات کی پاسداری کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125 ویں یوم پیدائش کی یاد مناتے ہیں، جن کی زندگی مادر ہند کے لیے جرات اور اٹوٹ وابستگی کی لازوال مثال ہے۔ جدید بھارت میں بہت کم لیڈروں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی طرح عقل، عوامی خدمت اور اخلاقی یقین کے سنگم کو بغیر کسی رکاوٹ کے مجسم کیا۔

نوجوان شیاما پرساد ایسے حالات میں پیدا ہوئے تھے جو انہیں آسانی سے محفوظ اور آرام دہ زندگی کی ضمانت دے سکتا تھا۔ ان کے والد، سر آشوتوش مکھرجی، اپنی عمر کے صف اول کے ماہر تعلیم اور دانشوروں میں سے تھے۔ پھر بھی، جب کہ تقدیر نے ان کے سامنے استحقاق کا راستہ رکھا، ان کا ضمیر انہیں قربانی اور قومی خدمت کی طرف لےگیا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ اپنے دور کی ہنگامہ خیزیوں کا خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، چاہے وہ استعماریت، فرقہ واریت، انسانیت سوز چیلنجز ہو وہ اس سے لڑے۔ اس سفر کے دوران، انہوں نے گہرے ذاتی سانحات کا سامنا کیا، جس میں ایک شیر خوار بچے اور بعد میں، ان کی بیوی کا انتقال بھی شامل ہے۔ پھر بھی، ان سانحات نے اس کے عزم کو مزید گہرا کیا اور خدمت کرنے کے اس کے غیر متزلزل عزم کو مضبوط کیا۔

اگر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی عوامی زندگیکا سب سے بڑا نظریہ تھا تو وہ بھارت کی ناقابل تقسیم ہونا تھا۔ وہ تقسیم کے ہنگامے کے دوران ثابت قدم رہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مغربی بنگال بھارت کا اٹوٹ حصہ رہے۔ چند سال بعد، اسی یقین نے انہیں جموں و کشمیر کی طرف راغب کیا۔ قید نے انہیں روکا نہیں اور تنہائی نے انہیں کمزور نہیں کیا۔ ان کی زندگی حراست میں اچانک ختم ہو گئی، ان گنت لوگوں سے دور جن کے کاز کو انہوں نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا تھا۔ تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی فرد کی آخری قربانی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی یادداشت کے دائرے میں داخل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی کا آخری سفر ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ آچاریہ ونوبا بھاوے نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو ایک ایسے مقصد کے لیے قربان کر دیا جس میں انہیں یقین تھا۔ برسوں بعد، 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35(اے) کی منسوخی ان کی قربانی کے لیے سب سے موزوں خراج تحسین تھی۔

ڈاکٹر مکھرجی نےبھارت کو سب سے پہلے اور بھارتیہ اقدار کومقدم رکھا۔ اور انہوں نے یہ کام ایسے اداروں کی تعمیر اور نظام کی پرورش کے ذریعے کیا جو اس زمانے کی روایتی ذہنیت کے خلاف تھے۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے سب سے کم عمر وائس چانسلر بنے۔ اپنے منفرد انداز میں انہوں نے ایسی مثبت تبدیلیاں لائیں جو حب الوطنی اور مستقبل پر مبنی تھیں۔ ماہرین تعلیم کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے اسے حیرت انگیز طور پر پیش کیا جب انہوں نے کہا’تعلیمی اداروں کو ممکنہ کلرک اور کم تنخواہ والا عملہ پیدا کرنے کے لیے فیکٹریوں کے طور پر دیکھنا غلط ہے۔ ہمیں ایسے طلباء کو باہر نکالنا ہوگا جو ہمارے خود مختار اداروں، جیسے میونسپل کارپوریشنز، صوبائی اور مرکزی قانون ساز اداروں کے مختلف شعبوں میںمالی، تجارتی اور صنعتی کے طور پر براہ راست قیادت فراہم کرنے کے قابل ہوں۔

ان کی قیادت میں کلکتہ یونیورسٹی نے لائبریری کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، سائنس میں تحقیق کو فروغ دینے، نوادرات کے مطالعہ کی حوصلہ افزائی اور زراعت میں کورسز قائم کرنے جیسی منفرد کوششیں کیں۔ انہوں نے کھیلوں، اساتذہ کی تربیت اور طلباء کی فلاح و بہبود جیسے شعبوں کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ طلباء اور سابق طلباء میں فخر کا احساس پیدا کرنے کے لیے، انہوں نے 24 جنوری کو یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے طور پرجشن منانے کی مشق شروع کی۔ انہوں نےکسی اور سے نہیں بلکہ گرودیو ٹیگور سے یونیورسٹی کے لیے ایک گانا لکھنے کی درخواست کی۔

اس جذبے کی ایک اور مثال ان کی زندگی کے آخری حصے میں دیکھی جا سکتی ہے، جب انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب کانگریس پارٹی ہمہ گیر تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ ہماری ثقافتی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے بھارت کی ترقی کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ایک متبادل آواز کی اور بھی زیادہ وجہ ہے۔ شاید یہ مناسب تھا کہ پارٹی کا نشان دیایعنی مٹی کا چراغ تھا۔ ایک چراغ معمولی دکھائی دے سکتا ہے، پھر بھی وہ اپنے آپ سے کہیں زیادہ تاریکی کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جو جن سنگھ نے اپنے فعال ہونے اور اس کے بعد کے سالوں میں کیا۔

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا بھارت کے پہلے وزیر صنعت و رسد کے طور پر ایک ایسے سیاستدان کا پتہ چلتا ہے جن کا ترقی کا تصور غیر معمولی طور پر جامع اور انسانی تھا۔ انہوں نے صنعت کو ایک نئی آزاد قوم کے وقار، موقع اور اعتماد کی بحالی کا ذریعہ سمجھا۔ وہ دولت کی تخلیق اور قدر میں اضافے کا احترام کرتے تھے۔ دامودر ویلی کارپوریشن، سندھری فرٹیلائزر پلانٹ اور ایک مضبوط صنعتی پالیسی جیسے اہم اقدامات کے ذریعے جدید صنعتی بھارت کی بنیاد رکھتے ہوئے، انہوں نے ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ بھارت کی روایتی طاقتوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ہتھ کرگھا، کاٹیج انڈسٹری، کاریگر اور ٹیکسٹائل ورکرز اس میں برابر کے پرعزم چیمپئن پائے گئے۔

یہاں، میں ایک ذاتی تجربہ بتانا چاہوں گا۔ سندھری پلانٹ، جسے ڈاکٹر مکھرجی نے خود انحصاری کے واضح وژن کے ساتھ قائم کرنے کے لیے کام کیا، کئی دہائیوں تک ملک کو چلانے والوں نے نظر انداز کر دیا۔ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہماری حکومت کو اس کے احیاء میں حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ اس پروگرام کے لیے وہاں موجود ہونا واقعی سب سے خاص لمحات میں سے تھا۔

بھارت کی تہذیبی روایت نے طویل عرصے سے بات چیت اور بات چیت کا جشن منایا ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی نے اس جمہوری جذبے کو مجسم کیا۔ وہ پنڈت نہرو کی کابینہ میں شامل ہوئے، یہ مانتے ہوئے کہ ابتدائی سالوں میں قوم سازی کا کام سیاسی اختلافات سے بالاتر تھا۔ انہوں نے خلوص اور تعمیری جذبے کے ساتھ خدمت کی۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ قومی اہمیت کے سوالات ایک مختلف راستہ کا تقاضا کرتے ہیں، تو انہوں نے وقار کے ساتھ عہدہ چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو پورے دل سے سیاسی کام کے لیے وقف کر دیا جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ قوم کی ضرورت ہے۔

پچھتر سال پہلے، پنڈت نہرو پہلی ترمیم لائے، جو آزادی اظہار پر براہ راست حملہ تھا۔ ڈاکٹر مکھرجی اس کے سخت ترین ناقدین میں سے تھے۔ وہ پوری طرح سمجھ گئے تھے کہ کانگریس کیا کرنے کی اہل ہے۔ اور وہ درست ثابت ہوئے۔ 75 سال پہلے پہلی ترمیم لانے والوں نے 1975 میں ایمرجنسی نافذ کی اور 50 سال پہلے، 42 ویں ترمیم کا ایکٹ لایا جس نے ایک بار پھر لبرل جمہوری اقدار پر کاری ضرب لگائی۔

ڈاکٹر مکھرجی بھی اپنی انسانی کوششوں کے لیے نمایاں رہے۔ 1943 میں جب بنگال میں سب سے زیادہ المناک قحط پڑا تو ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو متاثرین کی خدمت میں غرق کردیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کئی کینٹین اور امدادی مراکز کھولے گئے۔ ایک طرف وہ اپنے لوگوں کی حالت زار سے شدید لرزاںتھے تو دوسری طرف استعماری حکمرانوں کی بے حسی پر نالاںتھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک کتاب پنچشر منونتر بھی لکھی جس میں انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب 1942 میں ایک سپر سائیکلون نے مدنی پور کو نشانہ بنایا تو معمول کی بحالی کی ان کی کوششوں کی بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی۔

کولکتہ کے ایک کالج میں خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے نوجوانوں پر زور دیا’آپ جو بھی کام کریں، اسے سنجیدگی سے، اچھی طرح اور اچھی طرح سے کریں، اسے کبھی بھی آدھا یا ختم نہ ہونے دیں، کبھی بھی اپنے آپ کو مطمئن محسوس نہ کریں جب تک کہ آپ اسے اپنا بہترین نہ دے دیں۔‘ جیسا کہ ملک وکست بھارت کے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم انہیں بہترین خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں کہ وہ مضبوط، متحد، خود اعتمادی اور ہمدردبھارت کی تعمیر کے لیے ہر روز کوشش کریں جس پر وہ اس قدر گہرا یقین رکھتے تھے۔اور آج کے نوجوانوں کو جانتے ہوئے، مجھے یقین ہے کہ وہ اس موقع پر اٹھیں گے اور بالکل ایسا ہی کریں گے۔