محترم عالی جناب وزیراعظم راب یتّن،

دونوں ممالک کے وفود،

نیدرلینڈز کے کاروباری لیڈران،

نمسکار!

آج یہاں دنیا کی سب سے زیادہ جدید اور اختراعی کمپنیوں کے رہنماؤں کے درمیان موجود ہونا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ آج 300 سے زیادہ ڈچ کمپنیاں بھارت کی کہانی کا حصہ ہیں۔ آپ کا وژن اور بھارت پر اعتماد ہی کی وجہ سے نیدرلینڈز یورپ سے بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ کار اور دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا ہے۔

ساتھیوں،

آپ کی کمپنیاں بھارت میں صرف معروف برانڈز ہی نہیں بلکہ بھارت-نیدرلینڈز دوستی کی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ این ایکس پی ، فلپس اور پروسس بھارت کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر عالمی معیار کے حل تیار کر رہی ہیں۔

اے پی ایم، ڈامن اور رائل ووپاک جیسی کمپنیاں بھارت کے بندرگاہ، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ جبکہ کئی دیگر کمپنیاں زراعت اور پائیداری کے میدان میں بھارت کے ساتھ مل کر دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنا رہی ہیں۔

کچھ ہی وقت پہلے اے ایس ایم ایل اور ٹاٹا کے درمیان مفاہمت نامہ ہوا-اب اے ایس ایم ایل کےپرزوں سے بھارت میں سیمی کنڈکٹر چِپس بنیں گے۔ آج آپ سب کی گفتگو میں بھارت کے بارے میں جو رجائیت نظر آتی ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ اس رجائیت کو نتائج میں بدلنا ہماری گارنٹی ہے۔

ساتھیوں،

آج کا بھارت پیمانے اور استحکام کی علامت ہے۔ اسکیل کی بات کریں تو ہم دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بھی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا ٹیلنٹ پول بھی۔ انفراسٹرکچر، صاف توانائی یا کنیکٹیویٹی-بھارت کی رفتار کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا کی ترقی میں بھارت کا تقریباً 17 فیصد تعاون ہے۔

 

اور استحکام کے حوالے سے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے، آج کے دن میرے 12 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ان 12 برسوں میں مسلسل اصلاحات کے ذریعے ہم نے اپنی معاشی ساخت  کو بدل دیا ہے۔ ہماری سمت واضح رہی ہے،پرائیویٹ سیکٹر کو پالیسی پروڈکٹبلیٹی دینا اور ان کے لیے مواقع بڑھانا۔

اسپیس، مائننگ یا نیوکلیئر انرجی،ہم نے ہر شعبے کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھول دیا ہے۔ ہم نے ضوابط  کو مسلسل کم کیا ہے اور کاروبار میں آسانی  کو بڑھایا ہے۔ حال ہی میں ہم نے ٹیکس، لیبر کوڈ اور گورننس جیسے شعبوں میں نئی نسل کی اصلاحات کی ہیں۔ اب بھارت میں مینوفیکچرنگ بہت زیادہ لاگت مؤثر ہو گئی ہے۔

الیکٹرانکس، جو پہلے بھارت کا ایک بڑا درآمدی آئٹم تھا، آج بھارت کا سب سے بڑا برآمدی آئٹم بن چکا ہے۔ اس مینوفیکچرنگ ترقی کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے ہم کئی اہم شعبوں میں مراعات دے رہے ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر آپ بھارت میں دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح سروسز سیکٹر میں بھی بھارت اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر کارکردگی اور جدت کا مرکز بن گیا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھارت میں اپنے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز قائم کیے ہیں۔

ہم آپ سب کو بھی بھارت میں ڈیزائن اوراختراع کاری کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے لیے آج سے بہتر کوئی وقت نہیں۔

ساتھیوں،

سال 2026 سے بھارت اور یورپ کے تعلقات میں ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ہے۔ اسی سال ہم نے تاریخی بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ  کیا ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری اور ذمہ دار طاقتوں کے درمیان یہ معاہدہ مشترکہ خوشحالی  کی مضبوط بنیاد بنے گا۔

اس ایف ٹی اے کے مکمل امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے وزیراعظم یتّن اور میں آج کئی اہم فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بھارت-نیدرلینڈز کی اس اعتماد پر مبنی شراکت داری کو اسٹریٹجک شراکت داری بنانے جا رہے ہیں۔ ہم گرین ہائیڈروجن کے حوالے سے ایک پرجوش مشترکہ روڈ میپ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی میں اپنے تعلقات کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنا رہے ہیں۔

ہم دونوں ممالک کے درمیان ٹیلنٹ موبیلیٹی، یونیورسٹی پارٹنرشپ اور مشترکہ تحقیق و ترقی کو بھی مزید مضبوط بنانے جا رہے ہیں۔ یعنی بھارت اور نیدرلینڈز کی شراکت داری کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔

ساتھیوں،

بھارت اور یورپ کے درمیان مضبوط ہوتا ہوا اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہمارے کاروباری تعلقات کو نئی تحریک دے رہا ہے۔ اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھنا اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب آپ بھارت میں اپنا اسکوپ، سرمایہ کاری اور عزائم مزید بڑھائیں گے۔ اور آپ کے ساتھ پورے یورپ کا اختراعی ماحولیاتی نظام بھی بھارت آئے گا۔

ساتھیوں،

نیدرلینڈز میں ایک کہاوت ہے:

‘‘زندگی یا کاروبار میں محفوظ جگہ پر رہنا آسان اور آرام دہ ہوتا ہے، لیکن اصل مقصد خطرات مول لے کر آگے بڑھنا، نئے مواقع تلاش کرنا اور سفر کرنا ہوتا ہے۔’’

ڈچ بزنس کمیونٹی سے بہتر اس بات کو کون سمجھ سکتا ہے؟ آپ کا ملک صدیوں سے نئے مواقع کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت میں آپ کی یہ تلاش کامیاب بھی ہوگی اور بامعنی بھی۔ اب آپ کو بھارت میں مزید جرات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

بے-ڈانکٹ۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India launches UPI in Greece, expands global digital payments footprint

Media Coverage

India launches UPI in Greece, expands global digital payments footprint
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves a Road Construction project in Uttar Pradesh worth Rs.7145.14 crore
July 01, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the construction of 117.7 km Kanpur–Kabrai Access-Controlled Greenfield Highway, a four-lane access-controlled corridor with structures designed for future six-laning, forming a key segment of the Bhopal–Kanpur Economic Corridor under the National Highways (O) Programme. With an estimated total capital cost of Rs.7145.14 crore, the project will be implemented by the National Highways Authority of India (NHAI) on BOT (Toll) mode, together with the operation and maintenance of the existing Kanpur-Kabrai section of NH-34.

The project will provide seamless, high-speed connectivity between Kanpur and Kabrai, while strengthening onward connectivity to Sagar, Bhopal and other parts of Madhya Pradesh, thereby creating a modern access controlled economic corridor linking the industrial and commercial centres of Uttar Pradesh with mineral-rich, manufacturing and agricultural regions of Madhya Pradesh thereby improving.

Designed for operating speeds of 80–100 kmph, the corridor will reduce travel time between Kanpur and Kabrai from 3.5 hours to 1.5 hours (58%), while improving road safety, reducing vehicle operating costs and facilitating efficient movement of passenger and freight traffic. The project will also provide strategic connectivity with NH-34, NH-35, the Bundelkhand Expressway, Kanpur Ring Road, and State Highways SH-46, SH-91, SH-10B and SH-42, thereby strengthening integration with the regional highway network. The corridor further strengthen connectivity to the Kabrai mining belt, improving the movement of minerals, industrial goods, construction materials and agricultural produce, thereby enhancing logistics efficiency, supply chain resilience and regional economic development.

Aligned with the PM GatiShakti National Master Plan, the project will improve connectivity to 16 Economic Nodes, including the Unnao, Banther, Pankhi, Rania, Jainpur, Rooma, Chakeri, Sumerpur and Bhuragarh Industrial Areas, Trans Ganga Integrated Township, Growth Centre Jaipur, Kanpur Nagar Node and Bengal Chemicals & Pharmaceuticals Ltd. It will also strengthen connectivity to 9 Social Nodes, namely Fatehpur, Mahoba, Kanpur Zoological Park, Buddha Park, J.K. Temple & Garden, Radha Krishna Temple, Siddheshwar Mahadev Temple, Gopeshwar Mandir and Mahoba Tourist Place, and 10 Logistics Nodes, including Kanpur, Ghatampur, Hamirpur, Mahoba, Kabrai, Bharwa Sumerpur and Banda Railway Stations, together with Kanpur, Chakeri and Khajuraho Airports.

Overall, improve logistics competitiveness, industrial development and economic growth across Bundelkhand and adjoining regions of Uttar Pradesh and Madhya Pradesh, while advancing the objectives of PM GatiShakti.

The project is expected to generate approximately 11,188 direct and 13,985 indirect person-days of employment per lane per km during construction and is projected to carry an Annual Average Daily Traffic (AADT) of about 18,069 Passenger Car Units (PCUs) by FY 2028, underscoring its long-term economic, logistics and transport significance. The proposed project will thus generate close to 1.2 Crore person-days of direct employment and indirect employment.

Map of Corridor: