‘‘نیشنل کریئٹرز ایوارڈ،ہمارے تخلیق کاروں کی برادری کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتا ہے اور ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے ان کے جذبے کا جشن مناتا ہے’’
‘‘نیشنل کریئٹر ایوارڈز نئے دور کا آغاز ہونے سے پہلے ہی ایک پہچان دے رہے ہیں’’
‘‘ڈیجیٹل انڈیا مہم نے مواد تخلیق کرنے والوں کی ایک نئی دنیا تشکیل دی ہے’’
‘‘ہمارا شیو نٹراج ہے، اس کا ڈمرو مہیشور سوترپیدا کرتا ہے، اُس کا تانڈوتال اور تخلیق کی بنیاد رکھتا ہے’’
‘‘نوجوانوں نے اپنے مثبت اقدامات سے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مواد تخلیق کرنے والوں کی طرف دیکھے’’
‘‘آپ نے ایک نظریہ پیش کیا، اس کی اختراع کی اور اسے اسکرین پر زندہ شکل دی؛ آپ انٹرنیٹ کے ایم وی پیز ہیں’’
‘‘مواد کی تخلیق سے ملک کے بارے میں غلط تاثرات کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے’’
‘‘کیا ہم ایسا مواد تیار کر سکتے ہیں،جس سے نوجوانوں میں منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پیداہو؟ ہم کہہ سکیں - منشیات اچھی نہیں ہیں’’
‘‘ہندوستان نے سو فیصد جمہوریت پر فخر کرتے ہوئے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا عزم کیا ہے’’
‘‘آپ پوری دنیا میں ہندوستان کے ڈیجیٹل سفیر ہیں؛ آپ ووکل فار لوکل کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں’’
‘‘آئیے ہم ایک‘ کریئیٹ آن اِنڈیا’ مہم شروع کریں اور ہندوستان کی کہانیاں، ثقافت، ورثے اور روایات کو پوری دنیا کے ساتھ بانٹیں؛ آئیے ہم ہندوستان سے متعلق مواد تخلیق کریں اور پوری دنیا کے لیے تخلیق کریں’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے، آج بھارت منڈپم، نئی دہلی میں، اولین قومی تخلیق کار ایوارڈ پیش کئے۔ انہوں نے فاتحین کے ساتھ مختصر بات چیت بھی کی۔ ایوارڈ کو مثبت تبدیلی لانے کی غرض سے، تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔

 

‘‘نیو انڈیا چمپئن کے زمرے کے لیے ایوارڈ ابھی اور نیو کو دیا گیا’’۔  وزیراعظم نے ان سے پوچھا کہ وہ خشک حقائق پیش کرتے ہوئے اپنے سامعین کی دلچسپی کیسے برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے انداز بیان کی طرح، اگر حقائق کو توانائی کے ساتھ پیش کیا جائے، تو سامعین اسے قبول کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے چیلنجنگ لیکن انتہائی اہم میدان کو اپنانے پر ان کی تعریف کی۔

‘بہترین کہانی سنانے والے، کا ایوارڈ کیرتکا گوونداسامی کو دیا گیا،جسے کیرتھی ہسٹری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب انہوں نے وزیر اعظم کے پاؤں چھوئے تو وزیر اعظم نے جواب دیا اور کہا کہ فن کے میدان میں پاؤں چھونا الگ بات ہے ، لیکن ذاتی طور پر خاص طور پر وہ اس سے اُس وقت پریشان ہو جاتے ہیں، جب کوئی بیٹی ان کے پاؤں چھوتی ہے۔ جب انہوں  نے ہندی کے ساتھ اپنی حدود کے بارے میں بات کی، تو وزیر اعظم نے   ان سے کسی بھی پسندیدہ زبان میں بات کرنے کو کہا کہ 'یہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور آپ کو کم از کم اس عظیم سرزمین کے کسی کونے میں سنا جائے گا'۔ انہوں نے عظیم تمل زبان کو تسلیم کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم کی تعریف کی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو تاریخ اور سیاست کے باہم  طور پر منسلک ہونے  کی نوعیت کے بارے میں بتایا کہ  اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر گاہے بگاہے ردعمل سامنے آتا ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان سامعین، ہندوستان کی عظمت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

رنویر الہبادیا کو ‘ڈسپرٹر آف دی ایئر’  کا ایوارڈ دیا گیا۔ وزیر اعظم نے تجویز پیش کی کہ رنویر، نیند کی کمی کے بارے میں بیداری پیدا کرتے ہیں اور  کہا پچھلے کئی سالوں سے صرف چند گھنٹے سونے کا ذکر کیا۔ وزیراعظم  مودی نے ،یوگ نیدرا کے فوائد پر بھی بات کی۔ انہوں نے رنویر کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی۔

اسرو  کی سابق سائنسدان، احمد آباد کی محترمہ پنکتی پانڈے کو مشن لائف کے پیغام کو وسعت دینے کے لیے ‘گرین چمپئن’ ایوارڈ ملا۔ بات چیت کے بعد، وزیر اعظم نے احمد آباد کے لوگوں میں معروف  ایک مشہور قصہ سنایا، جسے ہجوم سے زبردست تالیاں بجا کر پسند کیا۔ محترمہ پنکتی نے لوگوں سے سفارش کی کہ وہ اپنے فضلے کا تجزیہ کریں اور صفر فضلہ بنانے کی کوشش میں، گھر سے پھینکے جانے والے کوڑے دان کا ویسٹ آڈٹ کریں۔ وزیر اعظم نے ان سے مشن لائف کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کرنے کو کہا اور اپنی زندگیوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے اپنے واضح نعرے کی  یاد دہانی کرائی ۔

 

 

‘سماجی تبدیلی کے لیے بہترین تخلیقی کا ایوارڈ’ جیا کشوری کو دیا گیا، جسے جدید دور کی میرا کہا جاتا ہے۔ وہ بھگود گیتا اور رامائن کی کہانیاں بصیرت سے شیئر کرتی ہیں۔ اس نے 'کتھاکار' کے طور پر اپنے سفر کی وضاحت کی اور بتایا کہ وہ کس طرح ہماری ثقافت کے واقعات کی عظیم بصیرت کو پیش کرکے، نوجوانوں میں دلچسپی پیدا کر رہی ہے۔ اس نے اپنی مادی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بامعنی زندگی گزارنے کے امکان کے بارے میں بھی بات کی۔

لکشیہ دباس کو، جدت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے ان کے کام کے لیے، سب سے زیادہ متاثر کن ‘ایگری تخلیق کار’  کا اعزاز ملا۔ ان کے بھائی نے ان کی طرف سے ایوارڈ وصول کیا اور ملک میں قدرتی کاشتکاری کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے 30000 سے زائد کسانوں کو قدرتی کاشتکاری کے طریقوں اور فصلوں کو کیڑوں اور جراثیم  سے بچانے کے ضمن میں تربیت دینے کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم نے موجودہ وقت  اور دور میں ان کے سوچنے کے عمل کی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ گجرات کے گورنر جناب  آچاریہ دیوورت جی سے مل کر، قدرتی کھیتی کے بارے میں اپنے وژن پر تبادلہ خیال کریں، جہاں انہوں نے 3 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو قدرتی کھیتی کو اپنانے پر آمادہ کیا ہے۔ انہوں نے جناب لکشیہ سے، جناب دیوورت کے یوٹیوب ویڈیوز سننے کی بھی تاکید کی۔ وزیر اعظم نے قدرتی کھیتی اور نامیاتی کھیتی سے متعلق خرافات کو ختم کرنے میں بھی ان سے مدد مانگی۔

 

‘کلچرل ایمبیسیڈر آف دی ایئر’  ایوارڈ میتھلی ٹھاکر کو دیا گیا ،جو متعدد ہندوستانی زبانوں میں اصل گیت، کور اور روایتی لوک موسیقی پیش کرتی ہیں۔ وزیر اعظم کی درخواست پر انہوں  نے مہاشیو راتری کے موقع پر بھگوان شیو کے لیے ایک بھکتی گیت پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کیسانڈرا مائی اسپٹ مین کو یاد کیا،جن کا ذکر وزیر اعظم نے اپنے من کی بات پروگرام میں کیا تھا۔ وہ کئی ہندوستانی زبانوں میں خاص طور پر عقیدت کے گیت گیت گاتی ہیں ۔ حال ہی میں وزیر اعظم سے ملاقات پر، انہوں نے وزیراعظم  مودی کے سامنے اچیوتم کیشوام اور ایک تمل گیت  گایا تھا۔

‘بہترین بین الاقوامی تخلیق کار’  کا ایوارڈ تین تخلیق کاروں کو دیا گیا۔ ان میں تنزانیہ سے کیری پال، امریکہ سے ڈریو ہِکس، جرمنی سے کیسانڈرا مائی اسپٹ مین شا مل ہیں۔ ڈریو ہکس نے وزیراعظم  سے ایوارڈ حاصل کیا۔ ڈریو ہکس نے اپنے روانی ہندی اور بہاری لہجے کے ساتھ، ہندوستان میں لسانی صلاحیتوں کے لیے، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور شہرت کو کمایا ہے۔ ایوارڈ کے لیے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، ڈریو نے کہا کہ وہ لوگوں کو خوش کرنے اور ہندوستان کا نام بلند کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی ثقافت میں ان کی دلچسپی، ان کے والد کی بنارس ہندو یونیورسٹی اور پٹنہ سے تعلق کی وجہ سے بڑھی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ہر جملہ، ملک کے نوجوانوں کو متاثر کرے گا۔

کرلی ٹیلز کی کامیہ جانی کو ‘بہترین سفری تخلیق کار’ کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ کھانے، سفر اور طرز زندگی پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اپنی ویڈیوز میں ہندوستان کی خوبصورتی اور دیگر مختلف قسم کی نمائش کرتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی خوبصورتی کے بارے میں بات کی اور کہا کہ مقصد یہ ہے کہ ہندوستان عالمی نقشے پر نمبر 1 ہو۔ جب اس نے کہا کہ وہ لکشدیپ یا دوارکا جانے کے بارے میں الجھن میں ہیں، تو وزیر اعظم نے کہا کہ دوارکا کے لیے انہیں سامعین کی ہنسی کے ساتھ  ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ وزیراعظم مودی نے اس خوشی کو یاد کیا ،جو انہوں نے زیر آب ہوئے شہر دوارکا کے درشن کرنے پر محسوس کی تھا۔ آدی کیلاش جانے کے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اونچائی اور گہرائی دونوں جگہوں کا تجربہ کیا۔ انہوں نے تخلیق کاروں سے یہ بھی کہا کہ وہ عقیدت مندوں کو درشن کے حصے کے علاوہ، اپنے مکمل طور پر مقدس مقامات کا تجربہ کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ کل سفری بجٹ کا 5 سے 10 فیصد مقامی مصنوعات پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی معیشت کو سہارا دینے کے علاوہ، اس سے ایک بھارت شریشٹھ بھارت جذبے پر  توجہ مرکوز کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کامیا نے ملک میں عقیدے کے مقامات کو  دبارہ مستحکم  کرنے کے لیے ،وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

 

'ٹیکنیکل گروجی' گورو چودھری، ایک ٹاپ ٹیک یوٹیوبر نے ‘ٹیک  تخلیق کار’ ایوارڈ جیتا۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا کو اپنے چینل میں اہم کردار ادا کرنے کا سہرا دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ روشن مستقبل کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی کو جمہوری بنانا ہوگا۔ یو پی آئی  اس کی ایک بڑی علامت ہے، کیونکہ یہ ہر ایک سے تعلق رکھتا ہے۔ دنیا تبھی ترقی کرے گی جب اس طرح کی جمہوریت ہو گی۔ گورو نے پیرس میں یو پی آئی کے استعمال کا اپنا تجربہ بیان کیا اور کہا کہ ہندوستانی حل، دنیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

ملہار کالمبے کو 2017 سے صفائی مہم کی قیادت کرنے پر ‘سوچھتا ایمبیسیڈر ایوارڈ’ ملا۔ وہ پلاسٹک کی آلودگی اور آب وہوا کی تبدیلی کے بارے میں بیداری بھی بڑھاتے ہیں ۔ وہ 'بیچ پلیز' کے بانی ہیں۔ وزیر اعظم نے لنکی ملہار کے ساتھ مذاق کیا اور بتایا کہ یہاں بہت سے تخلیق کار، کھانے اور غذائیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سفر اور مہمات کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور کہا کہ کچرا ہٹانے کے حوالے سے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ وزیر اعظم نے ان کی کوششوں کی مستقل مزاجی کی تعریف کی اور صفائی کا ماحول پیدا کرنے پر ان کی تعریف کی۔

 

‘ہیریٹیج فیشن آئیکون ایوارڈ’ انسٹاگرام کے لیے 20 سالہ مواد تخلیق کرنے والی جانوی سنگھ کو دیا گیا ،جو ہندوستانی فیشن کے بارے میں بات کرتی ہے اور ہندوستانی ساڑی کو فروغ دیتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکسٹائل مارکیٹ ،فیشن کے ہمراہ  چلتی ہے اور ہندوستانی ٹیکسٹائل کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کے لئے  اس کے تخلیق کار کی تعریف کی۔ انہوں  نے سنسکرت، شاستر اور ساڑی کے ساتھ ہندوستانی موضوعات کو آگے لے جانے کے اپنے مقصد کو دہرایا۔ وزیر اعظم نے ریڈی میڈ پگڑیوں، دھوتی اور ایسے ملبوسات کے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جن کو باندھنے کی ضرورت ہے، ایسی چیزوں کو فروغ دینے کے بارے میں ان کے خیالات پوچھے۔ انہوں  نے ہندوستانی ٹیکسٹائل کی خوبصورتی پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ فیشن میں ایک رہنما رہا ہے۔

‘بہترین تخلیقی تخلیق کار- خاتون’  کا ایوارڈ، شردھا کو دیا گیا جو اپنے کثیر لسانی کامیڈی سیٹس کے لیے مشہور ہے اور وہ نسلوں کے درمیان پرکشش اور متعلقہ مواد تخلیق کرتی ہے۔ ان کا اپنے ٹریڈ مارک 'آیو' کے ساتھ استقبال کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دوسری بار ہے جب وہ شردھا سے ملے ہیں۔  شردھا نے کہا کہ یہ ایوارڈ ا،ن لوگوں کی پہچان ہے جو اپنے گھروں سے مواد تیار کر رہے ہیں ۔ انہوں  نے سنجیدہ موضوعات میں ہلکا پھلکا مزاح تلاش کرنے کے اپنے نقطہ نظر کی طرف بھی اشارہ کیا۔ شردھا نے تخلیق کاروں کے ساتھ بات چیت میں وزیر اعظم کی بے ساختہ تعریف کی۔

 

آر جے رونق کو ‘بہترین تخلیق کار-  مرد’  کا ایوارڈ ملا۔ رونق نے کہا کہ من کی بات کے ساتھ، وزیر اعظم بھی ریڈیو صنعت کی ایک اہم، ریکارڈ ساز شخصیت ہیں۔ انہوں نے ریڈیو صنعت  کی جانب سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ رونق نے بھی اپنے ٹریڈ مارک ’باوا‘ انداز میں بات کی۔

‘خوراک کے زمرے میں بہترین تخلیق کار’  کا ایوارڈ کبیتا کا کچن کو دیا گیا، ایک گھریلو خاتون ،جو اپنی ترکیبیں اور سبق کے ساتھ، ڈیجیٹل انٹرپرینیور بن گئی۔ ملہار کے کمزور  وجود کے لیے اپنی تشویش کو جاری رکھتے ہوئے، وزیراعظم نے مذاق میں کبیتا سے کہا کہ وہ  اپنا خیال رکھیں۔ انہوں  نے ایک اہم زندگی کی مہارت کے طور پر کھانا پکانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو زراعت کے بارے میں آگاہ کریں، تاکہ وہ خوراک کی اہمیت اور ضیاع کے شوقین ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کو سفر کے دوران، مقامی کھانوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے خوراک سے متعلق تخلیق کاروں سے کہا کہ وہ جوار کو فروغ دیں- شری انّ  اور غذائی اقدار کے بارے میں بیداری کو بھی فروغ دیں۔ وزیر اعظم نے اپنے تائیوان کے دورے کو یاد کیا،جہاں انہیں سبزی خور کھانے کے لیے ،بودھ  ریسٹورنٹ کی سفارش کی گئی تھی۔ جب انہوں  نے وہاں غیر سبزی خور پکوان دیکھے اور پوچھ گچھ پر انہیں  بتایا  گیاکہ سبزی خور پکوانوں کی شکل ،چکن، مٹن اور اسی طرح کی ڈشز کی ہے ،تاکہ مقامی آبادی اس طرح کے کھانے کی طرف راغب ہو۔

نمن دیشمکھ کو ‘تعلیمی زمرے میں بہترین تخلیق کار’  کا ایوارڈ ملا۔ وہ ٹیک اور گیجٹ اسپیس میں انسٹاگرام پر اثر انداز اور مواد تخلیق کرنے والے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی، گیجٹس، فنانس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا احاطہ کرتے ہیں  اور سامعین کواے آئی  اور کوڈنگ جیسے ٹیک سے متعلق مضامین کی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مختلف آن لائن گھوٹالوں کے بارے میں، لوگوں کو آگاہ کرنے کے بارے میں اپنے مواد اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے فوائد اور طریقوں کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم نے محفوظ سرفنگ اور سوشل میڈیا کے طریقوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر ان کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے تخلیق کاروں سے کہا کہ وہ اٹل ٹنکرنگ لیبز پر مواد بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو سائنس کو اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہئے، کیونکہ چندریان جیسی کامیابیوں نے بچوں میں ایک نیا سائنسی مزاج پیدا کیا ہے۔

 

انکت بیان پوریہ کو وزیر اعظم نے ‘بہترین صحت اور فٹنس تخلیق کار’  کا ایوارڈ تفویض کیا۔ انکت ،ایک فٹنس متاثر کن ہے اور اپنے 75 مشکل چیلنجز کو پورا کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ انکت نے حاضرین سے کہا کہ وہ باقاعدگی سے ورزش کریں اور متوازن طرز زندگی گزاریں۔

‘ٹریگرڈانسان’ نشچے کو ‘گیمنگ کریٹر ’ ایوارڈ دیا گیا۔ وہ دہلی میں مقیم یوٹیوبر، لائیو اسٹریمر اور گیمر ہے۔ انہوں نے گیمنگ زمرے  کو تسلیم کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اریدمن کو ‘بہترین مائیکرو تخلیق کار’  کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ ویدک فلکیات اور قدیم ہندوستانی حکمت میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ علم نجوم، روحانیت اور شخصی ترقی کو دریافت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک ہلکا پھلکا واقعہ سنایا ،جس میں ایک غیر محفوظ ٹرین کے ڈبے میں پام ریڈر ہونے کا بہانہ کیا گیا کہ کس طرح انہیں ہر بار سیٹ دی گئی۔ اریدمن نے کہا کہ وہ دھرم شاستر پر مواد بناتے ہیں اور کہا کہ ٹرافی میں دھرم چکر، ورشبھ اور سمہا کے ساتھ شاستروں کے بہت سے عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دھرم چکر کے نظریات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اریدمن نے ہندوستانی لباس کو اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

‘بہترین نینو تخلیق کار’  کا ایوارڈ اتراکھنڈ کے چمولی سے تعلق رکھنے والے پیوش پروہت کو دیا گیا، جو بہت کم معروف مقامات، لوگوں اور علاقائی تہواروں کو نمایاں کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے من کی بات میں اپنی ایک درخواست کی یاددہانی کرائی،جس میں کیرالہ کی لڑکیوں نے چمولی کا ایک گیت گایا تھا۔

بی او اے ٹی کے بانی اور سی ای او  نیز  شارک ٹینک انڈیا میں اپنی شمولیت کے لیے معروف،  امان گپتا کو ‘بہترین مشہور شخصیت تخلیق کار ’ کا ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ انہوں نے اپنی کمپنی اس وقت شروع کی تھی، جب  2016  میں اسٹارٹ اپ اور اسٹینڈ اپ انڈیا کا آغاز کیا گیا تھا۔ نیز یہ کہ بہت ہی کم وقت میں وہ ،دنیا کے سب سے بڑے آڈیو برانڈز میں سے ایک ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
 PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs

Media Coverage

PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi inaugurates Phase I of Noida International Airport, developed with an investment of around ₹11,200 crore
March 28, 2026
The inauguration of Phase-I of Noida International Airport marks a major step in Uttar Pradesh’s growth story and India’s aviation future: PM
UP has now emerged as one of the states with the highest number of international airports in India: PM
Airports are not just basic facilities in any country, they give wings to progress: PM
Our government is making unprecedented investments in modern infrastructure to build a Viksit Bharat: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today inaugurated the Noida International Airport at Jewar in Uttar Pradesh. Expressing his pride and joy on the occasion, the Prime Minister said that today marks a new chapter in the Viksit UP, Viksit Bharat Abhiyan. He noted that India's largest state has now become one of the states with the highest number of international airports. PM Modi shared that he felt doubly proud , first, for having laid the foundation stone of this airport and now inaugurating it, and second, because the name of this grand airport is linked to Uttar Pradesh. "This is the state that chose me as its representative and made me a Member of Parliament, and its identity is now associated with this magnificent airport," remarked Shri Modi.

Highlighting the far-reaching impact of the new airport, the Prime Minister said that the Noida airport will benefit a vast region encompassing Agra, Mathura, Aligarh, Ghaziabad, Meerut, Etawah, Bulandshahr, and Faridabad. He emphasised that the airport will bring numerous new opportunities for the farmers, small and medium enterprises, and the youth of western Uttar Pradesh. "Aircraft will fly from here to the world, and this airport will also become a symbol of a developed Uttar Pradesh taking flight," said Shri Modi, extending his heartfelt congratulations to the people of the state, especially western UP.

Speaking about the current global situation, the Prime Minister observed that the entire world is deeply concerned today, with a war raging in West Asia for over a month, creating crises of essential commodities including food, petrol, diesel, gas, and fertilizers in many countries. He noted that India imports a very large quantity of crude oil and gas from the conflict-affected region. "The Government is taking every possible step to ensure that the burden of this crisis does not fall on ordinary families and farmers," affirmed Shri Modi.

Underscoring India's continued momentum of rapid development even during times of global crisis, the Prime Minister noted that in Western Uttar Pradesh alone, this is the fourth major project to be either inaugurated or have its foundation stone laid in recent weeks. "During this period, the foundation stone of a major semiconductor factory in Noida was laid, the country's first Delhi-Meerut Namo Bharat train gained speed, the Meerut Metro was expanded, and today the Noida International Airport is being inaugurated," highlighted PM Modi.

The Prime Minister credited the current Government for these remarkable achievements in UP's development. He noted that the semiconductor factory is making India self-reliant in technology, the Meerut Metro and Namo Bharat Rail are providing fast and smart connectivity, and the Jewar Airport is connecting entire North India to the world. " Today under the current government, the same Noida is becoming a powerful engine of UP's development," asserted Shri Modi.

Elaborating on the history of the airport project, The Prime Minister recalled that the Jewar Airport was approved by Atal ji as early as 2003. And as soon as the current government was formed here, the foundation was laid, construction happened, and now it has started operations," said Shri Modi.

Drawing attention to the region's emerging role as a logistics hub, the Prime Minister pointed out that this area is becoming the hub of two major freight corridors , special railway tracks laid for goods trains, which have enhanced North India's connectivity with the seas of Bengal and Gujarat. He noted that Dadri is the strategic point where both these corridors converge, meaning whatever farmers grow and industries produce here can now reach every corner of the world swiftly, by land and by air. "This kind of multi-modal connectivity is making UP a major attraction for investors worldwide," explained PM Modi.

Addressing the transformation of the region's image, the Prime Minister said. "Today, Noida is ready to welcome the entire world. This whole area is strengthening the resolve of Aatmanirbhar Bharat”.

The Prime Minister expressed his gratitude to the farmers who gave up their lands to make this project a reality, noting that agriculture and farming hold great importance in the region's economy. Shri Modi noted that the expansion of modern connectivity will further boost food processing prospects in Western UP, adding, "The agricultural produce from here will now reach global markets more efficiently."

Acknowledging the contribution of sugarcane farmers to reducing India's dependence on crude oil, the Prime Minister highlighted the significant role of ethanol produced from sugarcane. PM Modi highlighted that without the increase in ethanol production and its blending with petrol, India would have had to import an additional four and a half crore barrels,approximately 700 crore litres of crude oil annually, adding, "The hard work of our farmers has given the country this enormous relief during the time of crisis."

The Prime Minister further elaborated that ethanol has not only benefited the nation but has also greatly benefited farmers, with approximately Rs 1.5 lakh crore worth of foreign exchange being saved. He recalled the earlier days when sugarcane farmers had to wait for years for their dues. "Today, thanks to the efforts of the current Government, the condition of sugarcane farmers has improved significantly," affirmed Shri Modi.

Emphasizing that airports are not merely amenities but catalysts for progress, the Prime Minister pointed out the remarkable expansion of India's aviation infrastructure. Highlighting that today, there are more than 160 airports, PM Modi remarked that the Air connectivity is now reaching not just metropolitan cities but also smaller towns. “ The current government has made air travel accessible for the common Indian," asserted Shri Modi, adding that the number of airports in Uttar Pradesh has been increased to seventeen.

Highlighting the impact of the UDAN scheme, the Prime Minister said that the government has consistently strived to ensure that while airports are built, airfares remain within the reach of ordinary families. Noting that more than one crore sixty lakh citizens have travelled by air at affordable rates by booking tickets under the UDAN scheme, Shri Modi remarked, “ Recently, the Central Government has further expanded the UDAN scheme with an approval of approximately Rs 29,000 crore, under which 100 new airports and 200 new helipads will be built in smaller cities in the coming years. UP will also benefit immensely from this."

Speaking about India's rapidly growing aviation sector, the Prime Minister noted that as new airports are being built, the demand for new aircraft is also rising, with various airlines placing orders for hundreds of new planes. Shri Modi observed that this creates tremendous opportunities for the youth, including pilots, cabin crew, and maintenance professionals, adding that "our government is also expanding training facilities in the aviation sector" to meet this growing demand.

Addressing a critical gap in India's aviation ecosystem, the Prime Minister drew attention to the Maintenance, Repair, and Overhaul (MRO) sector, noting that 85 per cent of Indian aircraft still have to go abroad for MRO services. PM Modi noted that the government has resolved to make India self-reliant in the MRO sector as well and highlighted that today, the foundation stone of an MRO facility has been laid here at Jewar. “When ready, it will serve aircraft from India and abroad , generating revenue for the country, keeping our money within India, and creating numerous jobs for the youth," announced Shri Modi.

Underlining the government's priority of ensuring citizen convenience and saving their time and money, the Prime Minister spoke about the expansion of modern rail services such as Metro and Vande Bharat. "The Delhi-Meerut Namo Bharat Rail has already been used by over two and a half crore passengers. The journey between Delhi and Meerut that used to take hours is now completed in minutes," said PM Modi.

Underscoring the unprecedented investment in modern infrastructure for a Viksit Bharat, the Prime Minister shared that over the past eleven years, the infrastructure budget has been increased more than six-fold, with Rs 17 lakh crore spent on highways and expressways and over one lakh kilometres of highways constructed. He noted that railway electrification has expanded from 20,000 kilometres before 2014 to over 40,000 kilometres since then, with nearly 100 per cent of the broad-gauge network now electrified. The Prime Minister highlighted that for the first time, the Kashmir Valley and the capitals of the North-East are being connected to the rail network, while port capacity has more than doubled in the past decade and the number of inland waterways continues to grow. "India is working at a rapid pace in every sector necessary for building a Viksit Bharat," stated Shri Modi.

Calling for collective effort and national unity in the face of global challenges, the Prime Minister said he had spoken at length in Parliament and held detailed discussions with Chief Ministers about tackling the crisis arising from the ongoing conflict. He appealed to the people to face this crisis with a calm mind and patience, calling it the greatest strength of Indians. PM Modi reiterated that what is in the interest of Indians and in the interest of India, that alone is the policy and strategy of the Government of India." I am fully confident that all political parties will lend strength to the country's united efforts”, concluded Shri Modi.