''جن حالات میں سومناتھ کا مندر تباہ کیا گیا اور جن حالات میں سردار پٹیل کی کوششوں سے اس مندر کی تجدید کی گئی، ان دونوں کی حالات سے ایک بڑا پیغام ملتا ہے''
''آج سیاحتی مرکزوں کی ترقی، محض سرکاری اسکیموں کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ عوامی حصہ داروں کی ایک مہم بھی ہے۔ملک کے وراثتی مقامات اور ہماری ثقافتی وراثت کا فروغ اس کی عظیم مثالیں ہیں''
ملک سیاحت کی طرف ایک مجموعی طریقے سے دیکھتا ہے، صفائی ستھرائی کی سہولت، وقت اور سوچ، یہ اب سیاحتی منصوبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں
'' یہ ضروری ہے کہ ہماری سوچ اختراعی اور جدید ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہے کہ ہمیں اپنی قدیم وراثت پر کتنا فخر ہے''

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گجرات کے شہر سومناتھ میں نئے سرکٹ ہاؤس کا افتتاح کیا۔ گجرات کے وزیراعلی جناب بھوپیندر بھائی پٹیل ، ریاست کے دیگر وزراء، اراکین پارلیمان اور مندر کے ٹرسٹ کے ارکان اس موقع پر موجود تھے۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیراعظم نے گجرات سرکار، سومناتھ مندر کے ٹرسٹ اور عقیدت مندوں کو سومناتھ سرکٹ ہاؤس کے افتتاح پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بھیڑ کے دنوں میں عقیدت مند، وقت کے قہر کے باوجود یہ محسوس کرینگے کہ بھارت کا حوصلہ پوری آن بان شان کے ساتھ بلند ہے۔

 

بھارتی تہذیب کے چیلنجوں سے بھرے ہوئے سفر اور غلامی کے سینکڑوں سال کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے رائے ظاہر کی کہ جن حالات میں سومناتھ مندر تباہ کیا گیا اور سردار پٹیل کی کوششوں سے جن حالات میں اس مندر کی تعمیر نو کی گئی ، ان دونوں ہی حالات سے ایک بڑا پیغام ملتا ہے۔ وزیر اعظم نے اشارہ دیا کہ آج جب آزادی کا امرت مہوتسو منا یا جا رہا ہے ہم اپنے ماضی اور ثقافتی مقامات سے سیکھنا چاہتے ہیں اور سومناتھ جیسا عقیدہ اس کا مرکز ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ سیاحت ، دنیا کے بہت سے ملکوں کی معیشت میں ایک بڑا رول ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہر ایک ریاست اور ہر ایک میدان میں لامتناہی امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم نے روحانی مقامات کے ایک ورچوئل بھارت درشن کا ذکر کیا اور گجرات میں سومناتھ، دوارکا،رن آف کچھ اور مجسمہ اتحاد ، اترپردیش میں ایودھیا، متھرا، کاشی، پریاگ، کشی نگر اور وندھیاچل، دیو بھومی اتراکھنڈ میں بدری ناتھ، کیدارناتھ، ہماچل پردیش میں جوالہ دیوی، نینا دیوی، پورا شمال مشرقی بھارت ، روحانیت اور قدرتی چمک دمک سے مالا مال ہے۔ تمل ناڈو میں رامیشورم، اڑیسہ میں پوری، آندھرا پردیش میں تروپتی بالاجی، مہاراشٹر میں سدھی ونایک اور کیرالہ میں سبری مالا کا ذکر کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ ان مقامات سے ہمارے قومی اتحاد اور 'ایک بھارت شریشٹھ بھارت'کے جذبے کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک انہیں خوشحالی کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے فروغ کے ذریعہ ہم ایک بڑے علاقے کی ترقی کی رفتار کافی تیز کر سکتے ہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سات سال ملک نے سیاحت کے امکانات کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے انتھک کام کیا ہے۔ آج سیاحتی مرکزوں کی ترقی محض سرکاری اسکیموں کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ عوامی حصہ داری کی بھی ایک مہم ہے۔ ملک کے وراثتی مقامات اور ہماری ثقافتی وراثت کا فروغ ، اس کی عظیم مثالیں ہیں۔ انہوں نے موضوعات پر مبنی 15سیاحتی سرکٹس جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔ مثال کے طور پر رامائن سرکٹ میں بھگوان رام سے متعلق جگہوں کا دورہ کیا جا سکتا ہے۔اور اس کے لیے ایک خصوصی ٹرین کا آغاز کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ کل ، دلی سے دویہ کاشی یاترا کے لیے ایک خصوصی ٹرین شروع کی جا رہی ہے۔ اسی طرح بدھا سرکٹ سے ، بھگوان بدھ سے متعلق مقامات کا دورہ کرنے میں آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ غیرملکیوں کے لیے ویزا کے ضابطوں میں نرمی کی گئی ہے۔ اور ٹیکہ کاری مہم میں سیاحتی مقامات کو ترجیح دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک سیاحت کی جانب مجموعی نظریے سے دیکھ رہا ہے۔ آج کے دور میں سیاحت کو ترقی دینے کے لیے چار باتیں اہم ہیں۔ پہلا - صفائی ستھرائی – پہلے ہمارے سیاحتی مقامات اور ہمارے یاترا کے مقامات صاف ستھرے ہوا کرتے تھے آج سوچھ بھارت ابھیا ن کی وجہ سے اس تصویر میں تبدیلی آ رہی ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے میں ایک اور اہم عنصر سہولت ہے۔ لیکن وزیراعظم نے کہا کہ سہولیات کا دائرہ محض سیاحتی مقامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ٹرانسپورٹ ، انٹرنیٹ ، صحیح معلومات اور طبی انتظامات کی سہولیات سبھی کے لیے ہونی چاہیے۔ اور اس سمت ملک میں ہمہ جہت کام کیا جا رہا ہے۔ وقت ،سیاحت میں اضافے کا تیسرا اہم پہلو ہے۔ اس دور میں لوگ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جگہوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ چوتھا اور بہت ہی اہم پہلو سیاحت میں اضافہ ہے۔ جو ہماری سوچ ہے۔ ہماری سوچ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اختراعی ہواور جدیدہو۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنی اس قدیم وراثت پر کتنا فخر ہے یہ بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد نئی ترقی دلی میں محض کچھ کنبوں کے لیے تھی۔ لیکن آج ملک اس تنگ نظری کوپیچھے چھوڑ رہا ہے اور فخر کے نئے مقامات کی تعمیر کر رہا ہے اور انہیں ایک شان عظمت بخش رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ''یہ ہماری ہی حکومت ہے کہ دلی میں باباصاحب یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ رامیشورمیں اے پی جے عبدالکلام یادگارتعمیر کی گئی ہے اور اسی طرح نیتاجی سبھاش چندر بوس اور شیام جی کرشن ورما سے وابستہ مقامات کو مطلوبہ حیثیت دی گئی ہے۔ آدی واسی میوزیم بھی پورے ملک میں تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ ہمارے قبائلی سماج کی شاندار تاریخ کو سامنے لایا جاسکے۔''نئے فروغ دیے گئے مقامات کے امکانات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی وبا کے باوجود 75لاکھ لوگ مجسمہ اتحاد دیکھنے کے لیے آئے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقامات سے سیاحت کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک شناخت بھی حاصل ہوگی۔

وزیراعظم نے 'ووکل فار لوکل'کے لیے اپنی اپیل کی کوئی تنگ تشریح نہ کیے جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس اپیل میں مقامی سیاحت بھی شامل ہے۔ انہوں نے غیر ملکوں کی سیاحت شروع کرنے سے پہلے بھارت کے کم سے کم 15 سے 20 مقامات کا دورہ کرنے کی اپنی درخواست کو دہرایا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time

Media Coverage

As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Uttarakhand and UP on 14 April
April 13, 2026
PM to inaugurate Delhi–Dehradun Economic Corridor
Corridor to reduce travel time between Delhi and Dehradun from over 6 hours to around 2.5 hours
Corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict
Project include a 12 km long wildlife elevated corridor which is one of the longest in Asia
PM to also visit and undertake review of the Wildlife Corridor

Prime Minister Shri Narendra Modi, will visit Uttarakhand and Uttar Pradesh on 14 April 2026. At around 11:15 AM, the Prime Minister will visit Saharanpur in Uttar Pradesh to undertake a review of the Wildlife Corridor on the elevated section of the Delhi-Dehradun Economic Corridor. At around 11:40 AM, the Prime Minister will perform Darshan and Pooja at Jai Maa Daat Kali Temple near Dehradun. Thereafter, at around 12:30 PM, Prime Minister will inaugurate the Delhi-Dehradun Economic Corridor at a public function in Dehradun and will also address the gathering on the occasion.

The 213 km long six-lane access-controlled Delhi-Dehradun Economic Corridor has been developed at a cost of over ₹12,000 crore. The corridor traverses through the states of Delhi, Uttar Pradesh and Uttarakhand, and will reduce travel time between Delhi and Dehradun from over six hours at present to around two and a half hours.

Implementation of the project also includes the construction of 10 interchanges, three Railway Over Bridges (ROBs), four major bridges and 12 wayside amenities to enable seamless high-speed connectivity. The corridor is equipped with an Advanced Traffic Management System (ATMS) to provide a safer and more efficient travel experience for commuters.

Keeping in view the ecological sensitivity, rich biodiversity and wildlife in the region, the corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict. To ensure the free movement of wild animals, the project incorporates several dedicated wildlife protection features. These include a 12 km long wildlife elevated corridor, which is one of the longest in Asia. The corridor also includes eight animal passes, two elephant underpasses of 200 metres each, and a 370 metre long tunnel near the Daat Kali temple.

The Delhi-Dehradun Economic Corridor will play a pivotal role in strengthening regional economic growth by enhancing connectivity between major tourism and economic centres as well as opening new avenues for trade and development across the region. The project reflects the vision of the Prime Minister to develop next-generation infrastructure that combines high-speed connectivity with environmental sustainability and improved quality of life for citizens.