نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور زیر زمین میٹرو ممبئی میں سفر اور روابط کو بدلنے کے لیے تیار ہیں: وزیر اعظم
وکست بھارت وہ ہے جہاں رفتار اور ترقی دونوں ہوں، جہاں عوامی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہو اور سرکاری اسکیمیں ہر شہری کی زندگی کو آسان بنائیں: وزیر اعظم
اُڑان یوجنا کی بدولت، لاکھوں لوگوں نے گزشتہ دہائی میں پہلی بار ہوائی سفر کیا اور اپنے خوابوں کو پورا کیا: وزیر اعظم
نئے ہوائی اڈوں اور اُڑان یوجنا نے ہوائی سفر کو آسان بنایا ہے، ساتھ ہی بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوا بازی کی منڈی بنا دیا ہے: وزیر اعظم
آج، بھارت دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے، ہماری طاقت ہمارے نوجوانوں میں ہے: وزیر اعظم
ہمارے لیے، ملک اور شہریوں کی سلامتی و تحفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کیا اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور ملک کے نام وقف بھی کیا۔ معزز مہمانانِ گرامی کا خیرمقدم کرتے ہوئے، جناب مودی نے تمام شرکا کو گرمجوشانہ مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے حالیہ وجے دشمی اور کوجاگری پورنیما کی تقریبات کا ذکر کیا اور آنے والے دیوالی تہوار کے لیے نیک تمنائیں پیش کیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ممبئی کا طویل انتظار اب ختم ہو چکا ہے کیونکہ شہر کو اس کا دوسرا بین الاقوامی ہوائی اڈہ مل گیا ہے، وزیر اعظم نے نمایاں کیا کہ یہ ہوائی اڈہ اس خطے کو ایشیا کے سب سے بڑے کنیکٹیویٹی مراکز میں سے ایک بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبئی کو اب مکمل زیرِ زمین میٹرو مل گئی ہے، جو سفر کو آسان بنائے گی اور مسافروں کا وقت بچائے گی۔ جناب مودی نے زیرِ زمین میٹرو کو ترقی کرتے ہوئے بھارت کی زندہ علامت قرار دیا اور نشان دہی کی کہ ممبئی جیسے مصروف شہر میں اس شاندار میٹرو کو تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے زمین کے نیچے تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے میں شامل مزدوروں اور انجینئروں کو مبارکباد پیش کی۔

 

یہ واضح کرتے ہوئے کہ بھارت اپنے نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے، وزیر اعظم نے حال ہی میں شروع کی گئی 60,000 کروڑ روپے کی پی ایم سیتو اسکیم کو اجاگر کیا جس کا مقصد ملک بھر کے متعدد آئی ٹی آئی کو صنعت سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے مہاراشٹر حکومت نے سیکڑوں آئی ٹی آئی اور فنی تعلیمی اداروں میں نئے پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے، جناب مودی نے کہا، طلبا کو ڈرون، روبوٹکس، الیکٹرک وہیکل، شمسی توانائی اور گرین ہائیڈروجن جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مہاراشٹر کے نوجوانوں کے لیے نیک تمنائیں پیش کیں۔

جناب مودی نے مہاراشٹر کے فرزند، لوک نیتا جناب ڈی بی پاٹل کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی معاشرے اور کسانوں کے لیے خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب پاٹل کی اہم خدمت ہم سب کے لیے سیکھنے کا ذریعہ ہے اور ان کی زندگی عوامی خدمت میں مصروف افراد کو مسلسل حوصلہ دیتی رہے گی۔

”آج پورا ملک وکست بھارت کے عزم کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہے، ایسا بھارت جو رفتار اور ترقی دونوں سے متصف ہو، جہاں عوامی فلاح اولین حیثیت رکھتی ہو اور سرکاری اسکیمیں شہریوں کی زندگی کو آسان بناتی ہوں“، جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں یہی روح ملک کے ہر خطے میں ترقیاتی کوششوں کی راہنما رہی ہے۔ وزیر اعظم نے نمایاں کیا کہ جب وندے بھارت نیم تیز رفتار ریلیں پٹریوں پر دوڑتی ہیں، جب بُلٹ ٹرین منصوبوں کو رفتار ملتی ہے، جب کشادہ شاہراہیں اور ایکسپریس وے نئے شہروں کو جوڑتے ہیں، جب طویل سرنگیں پہاڑوں کے آر پار بنائی جاتی ہیں اور جب بلند بحری پل دور دراز ساحلوں کو ملاتے ہیں، تو بھارت کی رفتار اور ترقی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پیش رفت بھارت کے نوجوانوں کی امنگوں کو نئے پنکھ عطا کرتی ہیں۔

 

جناب مودی نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام بھارت کے ترقیاتی سفر کی رفتار کو جاری رکھتا ہے۔ انہوں نے نمایاں کیا کہ نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو ایک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین پر قائم یہ ہوائی اڈہ کنول کے پھول کی شکل میں بنایا گیا ہے، جو تہذیب اور خوشحالی کی علامت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نیا ہوائی اڈہ مہاراشٹر کے کسانوں کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے سپر مارکیٹس سے جوڑے گا، جس سے تازہ زرعی پیداوار، پھل، سبزیاں اور ماہی گیر مصنوعات تیزی سے عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوائی اڈہ آس پاس کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے برآمدی اخراجات کم کرے گا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا اور نئی صنعتوں کے قیام کا باعث بنے گا۔ انہوں نے مہاراشٹر اور ممبئی کے عوام کو اس نئے ہوائی اڈے پر دلی مبارکباد پیش کی۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ جب خوابوں کی تکمیل کا عزم اور شہریوں تک تیز رفتار ترقی پہنچانے کا پختہ ارادہ ہو تو نتائج یقینی ہوتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا ہوا بازی کا شعبہ اس پیش رفت کی ایک بڑی گواہی ہے۔ 2014 میں منصب سنبھالنے کے بعد اپنے خطاب کو یاد کرتے ہوئے، جناب مودی نے اپنے اس وژن کو دہرایا کہ ہوائی چپل پہننے والا عام آدمی بھی ہوائی سفر کر سکے۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے ملک بھر میں نئے ہوائی اڈے تعمیر کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مشن کو سنجیدگی سے لیا اور گزشتہ گیارہ برسوں میں ایک کے بعد ایک نئے ہوائی اڈے بنائے گئے۔ 2014 میں بھارت میں صرف 74 ہوائی اڈے تھے؛ آج یہ تعداد 160 سے تجاوز کر چکی ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں ہوائی اڈے بننے سے وہاں کے رہائشیوں کو ہوائی سفر کے نئے مواقع میسر آئے ہیں۔ مالی مسائل کے حل کے لیے حکومت نے اُڑان اسکیم شروع کی، جس کا مقصد عام شہری کے لیے ہوائی ٹکٹ کو سستا بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں اس اسکیم کے تحت لاکھوں لوگوں نے پہلی بار ہوائی سفر کیا اور اپنے دیرینہ خواب پورے کیے۔

اس پر زور دیتے ہوئے کہ نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر اور اُڑان اسکیم نے شہریوں کے لیے سہولت فراہم کی ہے، جناب مودی نے کہا کہ بھارت اب دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوا بازی کی منڈی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ایئر لائنز مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہیں اور سیکڑوں نئے طیاروں کی خریداری کے آرڈر دے رہی ہیں۔ یہ نمو پائلٹس، کیبن کریو، انجینئروں اور گراؤنڈ ورکروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ طیاروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ مرمت و نگہداشت کی ضروریات بھی بڑھتی ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ملک کے اندر نئی سہولتیں قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دہائی کے اختتام تک بھارت کو ایک بڑی ایم آر او (مینٹیننس، ریپیر اور اوورہال) مرکز بنانا ہدف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام سے بھارت کے نوجوانوں کے لیے بے شمار نئی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

”بھارت دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے اور اس کی طاقت اس کے نوجوانوں میں ہے“، وزیر اعظم نے جوش کے ساتھ کہا، اس پر زور دیتے ہوئے کہ ہر سرکاری پالیسی نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر میں اضافی سرمایہ کاری روزگار پیدا کرتی ہے اور اس کی مثال 76,000 کروڑ روپے کے ودھاون بندرگاہ منصوبے کی صورت میں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تجارت میں توسیع ہوتی ہے اور لاجسٹکس سیکٹر کو رفتار ملتی ہے تو روزگار پیدا ہوتا ہے۔

 

جناب مودی نے کہا کہ بھارت ایسی قدروں میں پروان چڑھا ہے جہاں قومی پالیسی سیاست کی بنیاد بنتی ہے۔ حکومت کے لیے انفراسٹرکچر پر خرچ کیا گیا ہر ایک روپیہ شہریوں کی سہولت اور صلاحیت میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس کے برعکس ملک میں ایک ایسے سیاسی دھارے کا ذکر کیا جو عوامی فلاح پر اقتدار کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور بدعنوانی اور گھوٹالوں کے ذریعے منصوبوں کو پٹری سے اتار دیتے ہیں، اور قوم نے ایسی بدانتظامی دہائیوں تک دیکھی ہے

آج افتتاح کی گئی میٹرو لائن کچھ سابقہ حکومتوں کے اقدامات کی یاد دلاتی ہے، جناب مودی نے کہا، اور اس کی سنگِ بنیاد کی تقریب میں اپنی شرکت کو یاد کیا جس سے ممبئی کی لاکھوں خاندانوں میں مشکلات کے کم ہونے کی امیدیں جاگی تھیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بعد میں آنے والی ایک حکومت نے اس منصوبے کو روک دیا، جس سے ملک کو ہزاروں کروڑوں کا نقصان ہوا اور کئی برسوں تک عوام کو طویل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم نے نمایاں کیا کہ اس میٹرو لائن کے مکمل ہونے کے بعد اب دو سے ڈھائی گھنٹے کا سفر صرف 30 سے 40 منٹ میں طے ہو جائے گا۔ ممبئی جیسے شہر میں، جہاں ہر منٹ قیمتی ہے، انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ سہولت تین سے چار برس تک محروم رکھی گئی، جو کہ سنگین ناانصافی سے کم نہیں۔

”گزشتہ گیارہ برسوں سے حکومت نے شہریوں کی زندگییوں کو بہتر بنانے پر بھرپور زور دیا ہے“، وزیر اعظم نے کہا، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ریلوے، سڑکیں، ہوائی اڈے، میٹرو اور برقی بسوں جیسی سہولتوں میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اٹل سیتو اور کوسٹل روڈ جیسے منصوبوں کی مثالیں پیش کیں۔

جناب مودی نے مزید کہا کہ عوام کے بلاروکاٹ سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع کو باہم مربوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مسافروں کو دشواری کے ساتھ ذرائع تبدیل نہ کرنے پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ون نیشن، ون موبیلیٹی کے وژن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی ون ایپ اسی سمت میں ایک اور قدم ہے، جس سے شہریوں کو ٹکٹوں کے لیے طویل قطاروں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے ایک ہی ٹکٹ لوکل ٹرین، بس، میٹرو اور ٹیکسی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ممبئی، جو بھارت کا مالیاتی دارالحکومت اور اس کے پُرجوش ترین شہروں میں سے ایک ہے، 2008 کے حملوں میں دہشت گردوں کا نشانہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت برسرِ اقتدار حکومت نے کمزوری کا پیغام دیا اور دہشت گردی کے سامنے سپردگی اختیار کرتی دکھائی دی۔ جناب مودی نے ایک حالیہ انکشاف کا حوالہ دیا جس میں حزبِ مخالف کی ایک سینئر رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی مسلح افواج پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم ایسے اقدام کی حامی تھی۔ تاہم، مخالف رہنما کے مطابق، ایک غیر ملکی ملک کے دباؤ پر حکومت نے فوجی کارروائی روک دی۔ وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ حزبِ مخالف واضح کرے کہ اس فیصلے پر کس نے اثر انداز ہو کر ممبئی اور قوم کے جذبات کو کمزور کیا۔ انہوں نے کہا کہ حزبِ مخالف کی کمزوری نے دہشت گردوں کے حوصلے بلند کیے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا، جس کی قیمت ملک نے معصوم جانوں سے چکائی۔

”ہماری حکومت کے لیے ملک اور شہریوں کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں“، وزیر اعظم نے کہا، یہ بتاتے ہوئے کہ آج کا بھارت طاقت کے ساتھ جواب دیتا ہے اور دشمن کی سرزمین کے اندر کارروائی کرتا ہے، جیسا کہ آپریشن سندور کے دوران دنیا نے دیکھا اور تسلیم کیا۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ غریب، نو-مڈل کلاس اور مڈل کلاس کو بااختیار بنانا قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان خاندانوں کو سہولتیں اور عزت میسر آتی ہیں تو ان کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں اور شہریوں کی مشترکہ طاقت ملک کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے نمایاں کیا کہ جی ایس ٹی میں حالیہ اگلی نسل کی اصلاحات نے متعدد اشیا کو زیادہ سستا بنا دیا ہے، جس سے عوام کی خریداری کی طاقت مزید بڑھی ہے۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس نو راتری سیزن میں کثیر سالہ فروخت ریکارڈ ٹوٹ گئے، اور ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے اسکوٹر، بائیکس، ٹی وی، ریفریجریٹر اور واشنگ مشینیں خریدیں۔

 

حکومت شہریوں کی زندگی بہتر بنانے اور ملک کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، اس کی توثیق کرتے ہوئے جناب مودی نے سب سے اپیل کی کہ سوی دیشی کو اپنائیں اور فخر سے کہیں، ”یہ سو دیشی ہے“، ایک ایسا منتر جو ہر گھر اور بازار میں گونجنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب ہر شہری سو دیشی کپڑے اور جوتے خریدے، گھر میں سو دیشی مصنوعات لائے، اور سو دیشی تحائف دے، تو ملک کی دولت ملک کے اندر ہی رہتی ہے۔ اس سے بھارتی مزدوروں کے لیے روزگار پیدا ہوگا اور نوجوانوں کے لیے نوکریاں میسر آئیں گی۔ وزیر اعظم نے لوگوں کو یہ تصور کرنے کی ترغیب دی کہ جب پورا ملک سو دیشی اپنائے گا تو بھارت کو کتنی شاندار طاقت حاصل ہوگی۔

 

وزیر اعظم نے اختتام پر کہا کہ مہاراشٹر ہمیشہ بھارت کی ترقی کو تیز کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی ان کی حکومتیں مہاراشٹر کے ہر شہر اور گاؤں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے انتھک محنت جاری رکھیں گی اور ترقیاتی اقدامات پر سب کو مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کیں۔

 

مہاراشٹر کے گورنر جناب آچاریہ دیوورت، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڈنویس، مرکزی وزرا جناب رام داس آٹھاولے، جناب رام موہن نائیڈو کنجراپو، جناب مرلی دھر موہول اور جاپان کے بھارت میں سفیر جناب کیئچی اونو سمیت دیگر معززین تقریب میں موجود تھے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Joint Statement: Visit of President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, to India
January 19, 2026

At the invitation of the Prime Minister of India, Shri Narendra Modi, President of the United Arab Emirates, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, paid an official visit to India on 19 January 2026. This was the fifth visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan to India in the last ten years and his third official visit to India as the President of the UAE.

Prime Minister Shri Narendra Modi and President His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan reviewed the full scope of bilateral cooperation between the two countries. They agreed that the India-UAE Comprehensive Strategic Partnership has continued to strengthen over the past decade.

The two leaders welcomed the visits of the Crown Prince of Abu Dhabi, His Highness Sheikh Khaled bin Mohamed bin Zayed Al Nahyan, and Crown Prince of Dubai, Deputy Prime Minister and Minister of Defence of the UAE, His Highness Sheikh Hamdan bin Mohammed bin Rashid Al Maktoum, to India in the last two years, noting that these visits marked generational continuity of the bilateral relationship.

The two leaders endorsed the outcomes of the 13th High-Level Task Force on Investments held in September 2025, and the 16th India-UAE Joint Commission Meeting and 5th Strategic Dialogue held in December 2025.

The two leaders welcomed the robust growth in trade and economic cooperation since the signing of the Comprehensive Economic Partnership Agreement (CEPA) in 2022 and noted the rapid growth of bilateral trade, which reached US$ 100 billion in FY 2024-25. Buoyed by the enthusiasm of the business communities on both sides, they decided to double bilateral trade to target US$ 200 billion by 2032.

They directed their teams to work towards connecting Micro, Small and Medium Sector Enterprises (MSMEs) on both sides. In this context, they called for the expeditious implementation of key initiatives, such as the ‘Bharat Mart’, the ‘Virtual Trade Corridor’ and the ‘Bharat-Africa Setu’ to promote MSME products across the Middle East, West Asia, Africa and the Eurasia region.

The leaders expressed satisfaction that the Bilateral Investment Treaty signed in 2024 has further strengthened investment flows across multiple sectors in both countries. They welcomed discussions on a potential UAE partnership for the development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure. Highlighting the success of the first NIIF Infrastructure Fund, the Prime Minister of India invited UAE sovereign wealth funds to consider participation in the second Infrastructure Fund, scheduled for launch in 2026. The two leaders welcomed the establishment of DP World and First Abu Dhabi Bank branches in GIFT City, reinforcing its emergence as a leading international financial center. FAB’s GIFT City branch will act as a key bridge, connecting Indian corporates and investors to its expertise and global network across the GCC and MENA markets.

Both sides reaffirmed their strong commitment to enhancing UAE–India cooperation in food security, recognising its strategic importance in ensuring sustainable supply chains and long-term resilience. They underscored the role of public-private partnerships, innovation and knowledge exchange in advancing sustainable agriculture and enhancing national food resilience in line with the national priorities of both countries.

The two leaders agreed to deepen cooperation in space sector. In this context, they welcomed the understanding reached to collaborate on a joint initiative aimed at driving commercialisation of the sector through the advancement of space sciences and technologies. This initiative aims to produce an integrated space ecosystem with end-to-end infrastructure and a strong industrial base. It aims to enable India–UAE joint missions, expand global commercial services, create high-skilled employment and start-ups and strengthen bilateral investment through sustainable business models.

The two leaders decided to strengthen collaboration in science and technology and innovation, especially in the areas of artificial intelligence (AI) and emerging technologies. Welcoming the decision to collaborate on the establishment of a supercomputing cluster in India, they also agreed to explore cooperation in setting up data centres in India. The two leaders directed their teams to explore the possibility of establishing ‘Digital Embassies’ between the UAE and India, under mutually recognised sovereignty arrangements. President His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan expressed support for the AI Impact Summit to be hosted in India in February 2026.

The two leaders expressed satisfaction with the strength of the bilateral energy partnership and underscored the UAE’s contribution to India’s energy security. They welcomed signing a 10-year LNG Supply Agreement between Hindustan Petroleum Corporation Limited (HPCL) and ADNOC Gas for the delivery of 0.5 million tonnes per year of liquefied natural gas, beginning in 2028. The leaders also welcomed the enactment of the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) law, noting that it creates new opportunities for enhanced civil nuclear cooperation. The two sides agreed to explore partnership in advanced nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs), as well as cooperation in advanced reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance and nuclear safety.

The two leaders appreciated the deepening financial sector cooperation between the two countries. They directed their teams to work towards interlinking the national payment platforms to enable efficient, fast and cost-effective cross-border payments.

Recognising the shared cultural and historical heritage between the two countries, Prime Minister Shri Narendra Modi welcomed the UAE’s decision to provide artefacts for the National Maritime Heritage Complex at Lothal. The two leaders decided to establish a ‘House of India’ in Abu Dhabi as a lasting symbol of the India-UAE friendship. They also agreed to continue nurturing vibrant people-to-people ties through youth exchanges aimed at further deepening cultural understanding.

The leaders identified education as a cornerstone of India-UAE partnership. Building on the opening of the offshore campuses of Indian Institute of Technology Delhi and the Indian Institute of Management–Ahmedabad in the UAE, they encouraged greater efforts to promote linkages between universities and educational institutions in both countries and expand student exchanges, which will serve as a knowledge bridge between the two countries. It will include cooperation in expanding Innovation and Tinkering Labs in schools and colleges. The leaders welcomed the understanding reached to work towards integrating India’s Digilocker with the UAE platforms for seamless authentication of Indian academic degrees/ documents, which will promote greater economic and educational opportunities and ease of living.

The leaders highlighted deep respect for each other’s sovereignty and territorial integrity and the importance of strategic autonomy. They acknowledged steady and strong bilateral defence and security cooperation as a core pillar of the Comprehensive Strategic Partnership. They welcomed the momentum generated by the recent exchange of visits by the respective Service Chiefs and Commanders of the Army, Navy and Air Force of both countries, and the successful conduct of bilateral military exercises. They welcomed the signing of Letter of Intent towards the conclusion of a Strategic Defence Partnership.

The two leaders reiterated their unequivocal condemnation of terrorism in all its forms and manifestations, including cross-border terrorism, and emphasised that no country should provide safe haven to those who finance, plan, support or commit terrorist acts. They agreed to continue cooperation within the framework of the Financial Action Task Force (FATF) to counter terror financing and strengthen anti-money laundering efforts.

The two leaders recalled the launch of the India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC) on the margins of the G20 summit in Delhi in September 2023.

The two leaders exchanged views on regional and global issues of mutual interest. They underlined their shared interest in regional peace, security and stability. They noted excellent cooperation and mutual support at multilateral and plurilateral fora. The UAE side conveyed its full support for the success of India's BRICS Chairmanship in 2026. The Indian side conveyed its support for the 2026 UN Water Conference, to be co-hosted by the UAE at the end of 2026, which will focus on accelerating the implementation of SDG 6, ensuring the availability and sustainable management of water and sanitation for all.

Both sides highlighted their collaboration in polar science and noted the positive outcomes of joint expeditions and institutional cooperation. Both sides agreed to further advance this partnership through targeted scientific initiatives, coordinated research planning and strengthened collaboration between national polar research institutions. They emphasised that continued cooperation in the polar regions would support evidence-based climate action and contributes to global scientific efforts.

President His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan thanked Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm welcome and gracious hospitality.