انہوں نے 860 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
‘‘راجکوٹ کو سوراشٹرا کی ترقی کے انجن کے طور پر جانا جاتا ہے’’
‘‘میں ہمیشہ راجکوٹ کا قرض چکانے کی کوشش کرتا ہوں’’
‘‘ہم ‘سوشاسن’ کی گارنٹی لے کر آئے تھے اور ہم اسے پورا کر رہے ہیں’’
‘‘نئے مڈل کلاس اور مڈل کلاس دونوں ہی حکومت کی ترجیح ہیں’’
‘‘فضائی خدمات کی توسیع نے ہندوستان کے ہوابازی کے شعبے کو نئی بلندیاں دی ہیں’’
‘‘زندگی میں آسانی اور معیار زندگی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے’’
‘‘آج آر ای آر اے قانون لاکھوں لوگوں کو ان کے پیسے لوٹنے سے روک رہا ہے’’
‘‘آج ہمارے پڑوسی ممالک میں مہنگائی 25-30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجکوٹ، گجرات میں راجکوٹ بین الاقوامی ہوائی اڈے اور 860 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔ ان پروجیکٹوں میں سونی یوجنا لنک 3 پیکیج 8 اور 9، دوارکا دیہی پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی (آر ڈبلیو ایس ایس) کی جدید کاری، اپرکوٹ قلعہ مرحلہ I اور II کا تحفظ، بازآبادکاری اور ترقی، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلائی اوور پل کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے نئے افتتاح شدہ راجکوٹ بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ٹرمنل عمارت کا واک تھرو بھی لیا۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف راجکوٹ بلکہ پورے سوراشٹر خطہ کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ انہوں نے ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے خطے میں قدرتی آفات جیسے طوفان اور حالیہ سیلاب سے نقصانات اٹھائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اور عوام نے مل کر بحران کا سامنا کیا ہے اور یقین دلایا کہ ریاستی حکومت کی مدد سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب راجکوٹ سوراشٹر کی ترقی کے انجن کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، ثقافت اور کھانوں کے باوجود بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جو آج پوری ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ راجکوٹ نے انہیں پہلی بار ایم ایل اے کے طور پر منتخب کیا اور کہا کہ شہر نے انہیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘راجکوٹ کا قرض ہمیشہ میرے اوپر ہے اور میں ہمیشہ اس قرض کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔’’

آج افتتاح ہونے والے ہوائی اڈے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سفر میں آسانی کے علاوہ خطے کی صنعتوں کو ہوائی اڈے سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ راجکوٹ نے ‘منی جاپان’ کے وژن کو محسوس کیا ہے جسے انہوں نے نئے وزیر اعلی کے طور پر دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے کی شکل میں راجکوٹ کو ایک پاور ہاؤس ملا ہے جو اسے نئی توانائی اور پرواز فراہم کرے گا۔

سونی یوجنا کے بارے میں بات کرتے ہوئے جس کے تحت آج مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پروجیکٹوں کی تکمیل سے علاقے کے درجنوں دیہاتوں کو پینے اور آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی ممکن ہو گی۔ وزیر اعظم نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے راجکوٹ کے لوگوں کو مبارکباد دی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 9 سال میں مرکزی حکومت نے ہر سماجی طبقے اور علاقے کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘ہم نے ‘سوشاسن’ یا اچھی حکمرانی کی ضمانت دی ہے اور آج ہم اسے پورا کر رہے ہیں’’، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ‘‘خواہ وہ غریب ہوں، دلت ہوں، قبائلی ہوں یا پسماندہ طبقہ، ہم نے ہمیشہ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔’’ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک میں غربت کی سطح بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے، وزیر اعظم نے ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سال میں 13.5 کروڑ شہری غربت سے باہر آئے ہیں اور کہا کہ یہ لوگ ملک میں ایک نو متوسط طبقے کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ لہذا نو متوسط طبقہ اور متوسط طبقہ دونوں ہی حکومت کی ترجیح ہیں جو پورے متوسط طبقے کو محیط ہیں۔

وزیر اعظم نے متوسط طبقے کے کنیکٹیویٹی کے بارے میں ماضی کے دیرینہ مطالبے پر توجہ دی۔ انہوں نے رابطے کو بہتر بنانے کے لیے پچھلے 9 سال میں اٹھائے گئے متعدد اقدامات کی فہرست کی پیش کی۔ 2014 میں صرف 4 شہروں میں میٹرو نیٹ ورک تھا، آج میٹرو نیٹ ورک ہندوستان کے 20 سے زیادہ شہروں تک پہنچ چکا ہے۔ وندے بھارت جیسی جدید ٹرینیں 25 روٹس پر چل رہی ہیں۔ اس عرصے کے دوران ہوائی اڈوں کی تعداد 2014 میں 70 سے دگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "فضائی خدمات کی توسیع نے ہندوستان کے ہوابازی کے شعبے کو نئی بلندیاں دی ہیں۔ ہندوستانی کمپنیاں کروڑوں روپے کے ہوائی جہاز خرید رہی ہیں۔" انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گجرات ہوائی جہاز بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘زندگی میں آسانی پیدا کرنا اور معیار زندگی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔” ماضی میں لوگوں کو درپیش مشکلات کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہسپتالوں اور یوٹیلیٹی پیمنٹ سینٹرز پر لمبی قطاروں، انشورنس اور پنشن سے متعلق مسائل اور ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں ہونے والی پریشانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام مسائل کو ڈیجیٹل انڈیا مہم کے ذریعے حل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹیکس ریٹرن کے لیے موبائل بینکنگ اور آن لائن فائلنگ کی آسانی کا ذکر کیا اور اس بات پر بھی زور دیا کہ ریٹرن مختصر وقت میں براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

ہاؤسنگ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے غریبوں کی رہائش کی ضروریات کا خیال رکھا اور متوسط طبقے کے گھر کا خواب بھی پورا کیا۔ انہوں نے متوسط طبقے کے لیے پی ایم آواس یوجنا کے تحت 18 لاکھ روپے تک کی خصوصی سبسڈی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات کے 60 ہزار خاندانوں سمیت 6 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔

 

وزیراعظم نے ہاؤسنگ کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی کا ذکر کیا اور کہا کہ قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے پچھلی حکومتوں کے دوران کئی سالوں تک مکان کا قبضہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ موجودہ حکومت ہے جس نے آر ای آر اے قانون نافذ کیا اور لوگوں کے مفادات کا تحفظ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘آج آر ای آر اے قانون لاکھوں لوگوں کو ان کے پیسے لوٹنے سے روک رہا ہے۔’’

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے وبائی مرض اور جنگ کے باوجود مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘آج ہمارے پڑوسی ممالک میں مہنگائی 25-30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہے۔ ہم پوری حساسیت کے ساتھ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔”

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ غریب اور متوسط طبقے کے اخراجات کو بچانے کے ساتھ ساتھ حکومت متوسط طبقے کی جیب میں زیادہ سے زیادہ بچت کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 سال پہلے 2 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس لگایا جاتا تھا لیکن آج 7 لاکھ روپے تک کمانے والوں کو صفر ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘7 لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔’’ انہوں نے نوٹ کیا کہ اس سے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ہر سال ہزاروں روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے چھوٹی بچت پر زیادہ سود کی ادائیگی اور ای پی ایف او پر 8.25 فیصد سود مقرر کرنے کا بھی ذکر کیا۔

 

وزیر اعظم نے موبائل فون کے استعمال کی لاگت کی مثال دی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پالیسیاں کس طرح شہریوں کے پیسے بچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں 1 جی بی ڈیٹا کی قیمت 300 روپے تھی۔ آج اوسطاً 20 جی بی ڈیٹا ماہانہ فی کس استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایک اوسط شہری کی ماہانہ 5000 روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے۔

جن اوشدھی کیندروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ وہ سستی قیمت پر دوائیں فراہم کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے جنہیں باقاعدہ دوائیں لینا چاہیے اور بتایا کہ ان کیندروں سے غریب اور متوسط طبقے کے تقریباً 20,000 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک حساس حکومت اس طرح کام کرتی ہے۔’’

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت گجرات اور سوراشٹر کی ترقی کے لیے پوری حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی پر روشنی ڈالی جو سونی اسکیم نے خطے کی پانی کی صورتحال میں لائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘سوراشٹر میں درجنوں ڈیم اور ہزاروں چیک ڈیم آج پانی کے ذرائع بن چکے ہیں۔ ہر گھر جل یوجنا کے تحت، گجرات میں کروڑوں خاندانوں کو اب نل کا پانی مل رہا ہے۔’’

 

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘حکمرانی کا یہ ماڈل جو گزشتہ 9 سال میں تیار کیا گیا ہے معاشرے کے ہر طبقے کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ "وکست بھارت بنانے کا یہ ہمارا طریقہ ہے۔ ہمیں اسی راستے پر چل کر امرت کال کی قراردادوں کو ثابت کرنا ہے۔”

اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب جیوترآدتیہ سندھیا، رکن پارلیمنٹ جناب سی آر پاٹل، حکومت گجرات کے وزراء اور گجرات قانون ساز اسمبلی کے  ارکان اور دیگر معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

پس منظر

راجکوٹ میں ایک نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ترقی سے پورے ملک میں ہوائی رابطہ کو بہتر بنانے کے وزیر اعظم کے وژن کو تقویت ملتی ہے۔ گرین فیلڈ ہوائی اڈے کو 2500 ایکڑ سے زیادہ کے رقبے میں اور 1400 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ نئے ہوائی اڈے میں جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار خصوصیات کا امتزاج ہے۔ ٹرمینل کی عمارت جی آر آئی ایچ اے-4 (انٹیگریٹڈ ہیبی ٹیٹ اسسمنٹ کے لیے گرین ریٹنگ) کے مطابق ہے اور نئی ٹرمنل بلڈنگ (این آئی ٹی بی) مختلف پائیدار خصوصیات جیسے ڈبل انسولیٹڈ روفنگ سسٹم، اسکائی لائٹس، ایل ای ڈی لائٹنگ، کم ہیٹ گین گلیزنگ وغیرہ سے لیس ہے۔

راجکوٹ کی ثقافتی ہلچل نے ہوائی اڈے کے ٹرمنل کے ڈیزائن کو متاثر کیا ہے اور یہ لپپن آرٹ سے لے کر ڈنڈیا رقص تک اپنے ولولہ انگیز بیرونی چہرے اور شاندار اندرونی منظر کے ذریعے آرٹ کی شکلوں کو پیش کرے گا۔ ہوائی اڈہ مقامی تعمیراتی ورثے کا مظہر ہوگا اور گجرات کے کاٹھیاواڑ علاقے کے فن اور رقص کی ثقافتی شان کو ظاہر کرے گا۔ راجکوٹ کا نیا ہوائی اڈہ نہ صرف راجکوٹ کی مقامی آٹوموبائل انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ پورے گجرات میں تجارت، سیاحت، تعلیم اور صنعتی شعبوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

وزیر اعظم نے 860 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی افتتاح کیا۔ سونی یوجنا لنک 3 پیکیج 8 اور 9 آبپاشی کی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے اور سوراشٹر کے علاقے کے لیے پینے کا پانی فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔ دوارکا آر ڈبلیو ایس ایس کی جدید کاری سے گاؤں کو پائپ لائن کے ذریعے مناسب اور پینے کا پانی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ دیگر منصوبوں میں اپرکوٹ قلعہ مرحلہ I اور II کا تحفظ، بحالی اور ترقی، پانی کی صفائی کے پلانٹ کی تعمیر؛ گندے پانی کی صفائی کا پلانٹ؛ فلائی اوور پل شامل ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
EPFO Payroll data shows surge in youth employment; 15.48 lakh net members added in February 2024

Media Coverage

EPFO Payroll data shows surge in youth employment; 15.48 lakh net members added in February 2024
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر، 21 اپریل 2024
April 21, 2024

Citizens Celebrate India’s Multi-Sectoral Progress With the Modi Government