بھارت کے لیے بھگوان بدھ کے مقدس آثار محض نوادرات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے مالا مال ورثے کا حصہ اور ہماری تہذیب کا اٹوٹ جز ہیں: وزیراعظم
بھگوان بدھ کا دکھایا ہوا راستہ اور دانائی انسانیت کے لئے مشعلِ راہ: وزیراعظم
بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا امین ہے بلکہ اس لازوال روایت کا ایک زندہ امین و حامل بھی ہے: وزیراعظم
بھگوان بدھ سب کے ہیں اور ہم سب کو متحد کرتے ہیں: وزیراعظم
بھگوان بدھ کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ پالی زبان کو وسیع تر عوام تک پہنچایا جائے، اسی مقصد کے تحت پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے: وزیراعظم
بھارت نے دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثہ جاتی مقامات کی ترقی میں مسلسل تعاون کی کوششیں کی ہیں: وزیراعظم

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے رائے پتھورا ثقافتی کمپلیکس میں بھگوان بدھ سے متعلق مقدس پِپرہوا آثارِ مقدسہ کی عظیم بین الاقوامی نمائش، جس کا عنوان ’’دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: ریلیکس آف دی اویکنڈ ون‘‘ ہے، کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 125 برس کے طویل انتظار کے بعد بھارت کا ورثہ واپس لوٹا ہے، بھارت کی تہذیبی میراث واپس آئی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج سے بھارت کے عوام بھگوان بدھ کے ان مقدس آثار کے دیدار کر سکیں گے اور ان کی برکتیں حاصل کریں گے۔ جناب مودی نے اس مبارک موقع پر موجود تمام معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بدھ مت کی روایت سے وابستہ بھکشو اور دھرم آچاریہ بھی اس تقریب میں موجود ہیں اور ان کے تئیں اپنے عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی موجودگی اس تقریب کو نئی توانائی عطا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سن 2026 کے بالکل آغاز میں منعقد ہونے والی یہ مبارک تقریب نہایت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ بھگوان بدھ کی برکتوں سے سال 2026 دنیا کے لیے امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کا نیا دور لے کر آئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس مقام پر یہ نمائش منعقد کی گئی ہے، وہ بذاتِ خود خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قلعہ رائے پتھورا کا یہ مقام بھارت کی شاندار تاریخ کی سرزمین ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار سال قبل اس وقت کے حکمرانوں نے مضبوط اور محفوظ فصیلوں سے گھرا ہوا ایک شہر آباد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسی تاریخی شہر کے احاطے میں تاریخ کا ایک روحانی اور مقدس باب شامل کیا جا رہا ہے۔

 

جناب مودی نے کہا کہ یہاں آنے سے قبل انہوں نے اس تاریخی نمائش کا تفصیل سے مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا ہمارے درمیان ہونا ہم سب کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان آثار کا بھارت سے جانا اور پھر واپس آنا، دونوں ہی اپنے اندر اہم اسباق رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غلامی صرف سیاسی اور معاشی نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمارے ورثے کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی بھگوان بدھ کے مقدس آثار کے ساتھ بھی ہوا، جو غلامی کے دور میں ملک سے باہر لے جائے گئے اور تقریباً 125 برس تک بیرونِ ملک رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے ان آثار کو لیا تھا ان کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ محض بے جان نوادرات تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ان مقدس آثار کو بین الاقوامی منڈی میں نیلام کرنے کی کوشش کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے لیے یہ آثار محض نوادرات نہیں بلکہ ہمارے معبود کا حصہ اور ہماری تہذیب کا اٹوٹ جز ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت نے فیصلہ کیا کہ ان کی عوامی نیلامی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

جناب مودی نے گاڈریج گروپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے بھگوان بدھ سے وابستہ یہ مقدس آثار ان کی کرم بھومی، ان کی دھیان بھومی، ان کی مہابودھی بھومی اور ان کی مہاپرینیروان بھومی میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا: ’’بھگوان بدھ کا علم اور ان کی دکھائی ہوئی راہ پوری انسانیت کی میراث ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس احساس کو بار بار دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں جہاں جہاں بھگوان بدھ کے مقدس آثار پہنچے، وہاں عقیدت اور ایمان کی زبردست لہریں اُٹھیں۔ جناب مودی نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں جہاں ان مقدس آثار کو مختلف مقامات پر رکھا گیا، وہاں ایک ماہ سے بھی کم مدت میں 40 لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے درشن کیے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام میں عوامی جذبات اس قدر شدید تھے کہ نمائش کی مدت بڑھانی پڑی اور 9 شہروں میں تقریباً 1 کروڑ 75 لاکھ افراد نے ان آثار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ منگولیا میں گندن خانقاہ کے باہر ہزاروں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہے اور بہت سے افراد محض اس لیے بھارتی نمائندوں کو چھونا چاہتے تھے کہ وہ بدھ کی سرزمین سے آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کے کلمیکیا خطے میں صرف ایک ہفتے کے اندر ڈیڑھ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے ان مقدس آثار کے درشن کیے، جو وہاں کی مقامی آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے ان تمام مواقع پر، چاہے عام شہری ہوں یا حکومتوں کے سربراہان، سب یکساں عقیدت کے جذبے میں متحد نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ سب کے ہیں اور ہم سب کو جوڑتے ہیں۔

 

وزیراعظم نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ خود کو نہایت خوش نصیب سمجھتے ہیں، کیونکہ بھگوان بدھ کو ان کی زندگی میں ایک گہرا مقام حاصل رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی جنم بھومی وڈنگر بدھ مت کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز رہی ہے اور سارناتھ، جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا وعظ دیا، ان کی کرم بھومی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ذمہ داریوں سے ہٹ کر بھی وہ ایک یاتری کے طور پر بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت کرتے رہے اور وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں دنیا بھر میں بدھ مت کے زیارتی مراکز کے دورے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے نیپال کے لمبنی میں مقدس مایا دیوی مندر میں حاضری کو یاد کرتے ہوئے اسے ایک غیرمعمولی تجربہ قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ جاپان میں تو-جی مندر اور کنکاکو-جی میں انہیں یہ احساس ہوا کہ بدھ کا پیغام زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ انہوں نے چین کے شہر شی آن میں واقع جائنٹ وائلڈ گوز پگوڈا کے دورے کا ذکر کیا، جہاں سے بدھ مت کے صحیفے پورے ایشیا میں پھیلے اور جہاں آج بھی بھارت کے کردار کو یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے منگولیا کے گندن خانقاہ کے دورے کو یاد کیا، جہاں انہوں نے لوگوں کے بدھ کی میراث سے گہرے جذباتی تعلق کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے انورادھا پورہ میں جے شری مہابودھی کا دیدار کرنا، شہنشاہ اشوک، بھکشو مہند اور سنگھمِترا کے بوئے ہوئے روحانی سلسلے سے جڑنے کا تجربہ تھا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ تھائی لینڈ کے وات فو اور سنگاپور کے بدھ ٹوتھ ریلیک مندر کے دوروں نے بھگوان بدھ کی تعلیمات کے اثرات کے بارے میں ان کی سمجھ کو مزید گہرا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جہاں جہاں بھی وہ گئے، انہوں نے بھگوان بدھ کی میراث کی کوئی نہ کوئی علامت ساتھ لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چین، جاپان، کوریا اور منگولیا میں وہ بودھی درخت کے پودے اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انسانیت کے لیے اس پیغام کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہیروشیما—وہ شہر جو ایٹم بم سے تباہ ہوا—کے نباتاتی باغ میں جب ایک بودھی درخت کھڑا ہوتا ہے تو وہ کتنا بامعنی پیغام دیتا ہے۔

 

بھگوان بدھ کے اس مشترکہ ورثے کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہ بھارت کا رشتہ محض سیاست، سفارت کاری اور معیشت تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں گہرا ہے، جناب مودی نے کہا کہ بھارت ذہن اور جذبات، عقیدے اور روحانیت کے رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا: ’’بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا محافظ ہے بلکہ ان کی روایت کا ایک زندہ حامل بھی ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ پِپرہوا، ویشالی، دیونی موری اور ناگرجنا کونڈا میں پائے جانے والے بھگوان بدھ کے آثار، بدھ کے پیغام کی زندہ موجودگیاں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ بھارت نے ان آثار کو ہر صورت میں—سائنس اور روحانیت دونوں کے ذریعے—محفوظ اور سلامت رکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثہ جاتی مقامات کی ترقی میں مسلسل تعاون کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال میں تباہ کن زلزلے سے جب ایک قدیم اسٹوپا کو نقصان پہنچا تو بھارت نے اس کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کے باگان میں زلزلے کے بعد بھارت نے 11 سے زائد پاگوڈاؤں کے تحفظ کا کام انجام دیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر بھی بدھ مت سے وابستہ مقامات اور آثار کی تلاش اور حفاظت کا عمل مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گجرات میں ان کی جنم بھومی وڈنگر بدھ مت کی روایت کا ایک بڑا مرکز رہی ہے اور وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے دورِ کار میں وہاں بدھ مت سے وابستہ ہزاروں آثار دریافت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت ان کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور موجودہ نسل کو ان سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک شاندار تجرباتی عجائب گھر تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً 2500 سالہ تاریخ کا زندہ تجربہ فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چند ماہ قبل ہی جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں بدھ عہد کا ایک اہم مقام دریافت ہوا ہے اور اب اس کے تحفظ کا کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

 

گزشتہ 10سے 11برسوں میں بھارت کی جانب سے بدھ مت کے مقامات کو جدیدیت سے جوڑنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ بودھ گیا میں ایک کنونشن سینٹر اور دھیان و تجرباتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ سارناتھ میں دھمیک اسٹوپا پر لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو اور بدھ تھیم پارک تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شراوستی، کپل وستو اور کُشی نگر میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے نلگونڈا میں ایک ڈیجیٹل ایکسپیرینس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سانچی، ناگرجن ساگر اور امراوتی میں یاتریوں کے لیے نئی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک میں ایک بدھسٹ سرکٹ تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کے تمام بدھ مت کے زیارتی مقامات کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو سکے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مندوں اور یاتریوں کو عقیدے اور روحانیت کا گہرا تجربہ حاصل ہو گا۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا: ’’بھارت کی کوشش ہے کہ بدھ مت کا ورثہ فطری انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ عالمی بدھسٹ سمٹ اور ویشاکھ و آشاڑھ پورنیما جیسے بین الاقوامی پروگرام اسی سوچ سے تحریک پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ کا ابھیدھم، ان کے اقوال اور ان کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں ہیں، اور بھارت اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ پالی زبان کو عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی مقصد کے تحت پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے دھمّہ کو اس کی اصل روح میں سمجھنے اور بیان کرنے میں آسانی ہوگی اور بدھ مت سے وابستہ تحقیق کو بھی تقویت ملے گی۔

جناب مودی نے کہا کہ بھگوان بدھ کے یہ مقدس آثار بھارت کا ورثہ ہیں اور ایک صدی کے طویل انتظار کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آ کر ان مقدس آثار کے دیدار کریں، بھگوان بدھ کے افکار سے جڑیں اور کم از کم ایک مرتبہ اس نمائش کو ضرور دیکھیں۔ انہوں نے اسکول کے طلبہ، کالج کے طلبہ، نوجوان ساتھیوں اور بیٹوں بیٹیوں سے خاص طور پر اس نمائش کو دیکھنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ نمائش ہمارے شاندار ماضی کو ہمارے روشن مستقبل کے خوابوں سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ آخر میں انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اس نمائش میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے سب کو نیک تمنائیں پیش کیں۔

 

اس تقریب میں دیگر معزز شخصیات کے ساتھ مرکزی وزراء جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، جناب کرن رجیجو، جناب رام داس اٹھاولے، جناب راؤ اندر جیت سنگھ اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ونئے سکسینہ بھی موجود تھے۔

پس منظر

یہ نمائش پہلی مرتبہ ایک صدی سے زائد عرصے بعد وطن واپس لائے گئے پِپرہوا کے آثارِ مقدسہ کو نئی دہلی کے نیشنل میوزیم اور کولکاتا کے انڈین میوزیم کے مجموعوں میں محفوظ پِپرہوا کے مستند آثار اور آثارِ قدیمہ کے مواد کے ساتھ یکجا پیش کرتی ہے۔

1898 میں دریافت ہونے والے پپرہوا کے آثار، ابتدائی بدھ مت کے آثارِ قدیمہ کے مطالعے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بھگوان بدھ سے براہِ راست وابستہ قدیم ترین اور تاریخی اعتبار سے نہایت اہم آثار میں شمار ہوتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے شواہد پپرہوا کے مقام کو قدیم کپل وستو سے منسلک کرتے ہیں، جسے وسیع طور پر وہ مقام مانا جاتا ہے جہاں بھگوان بدھ نے ترکِ دنیا سے قبل اپنی ابتدائی زندگی گزاری۔

 

یہ نمائش بھگوان بدھ کی تعلیمات کے ساتھ بھارت کے گہرے اور مسلسل تہذیبی رشتے کو اجاگر کرتی ہے اور بھارت کے روحانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وزیراعظم کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان آثار کی حالیہ وطن واپسی حکومت کی مسلسل کوششوں، ادارہ جاتی تعاون اور جدید عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔

نمائش کو موضوعاتی انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی حصہ سانچی اسٹوپا سے متاثر ایک ازسرِ نو تشکیل دیا گیا تشریحی ماڈل ہے، جس میں قومی مجموعوں کے مستند آثار اور وطن واپس لائے گئے جواہرات کو یکجا کیا گیا ہے۔ دیگر حصوں میں پپرہوا: ایک نیا جائزہ، بدھ کی زندگی کے مناظر، مادی میں غیرمادی: بدھ تعلیمات کی جمالیاتی زبان، سرحدوں سے پرے بدھ فن اور نظریات کی توسیع، اور ثقافتی نوادرات کی وطن واپسی: ایک مسلسل جدوجہد شامل ہیں۔

عوامی فہم میں اضافے کے لیے نمائش کو جامع سمعی و بصری اجزاء سے تقویت دی گئی ہے، جن میں عمیق تجرباتی فلمیں، ڈیجیٹل تعمیرِ نو، تشریحی پروجیکشنز اور ملٹی میڈیا پیشکشیں شامل ہیں۔ یہ عناصر بھگوان بدھ کی زندگی، پپرہوا آثار کی دریافت، مختلف خطوں میں ان کی نقل و حرکت اور ان سے وابستہ فنکارانہ روایات کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Rajasthan and Gujarat on 4 July
July 03, 2026
PM to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra
Projects span across sectors including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy and power transmission
PM to dedicate India’s first greenfield integrated Refinery-cum-Petrochemical Complex at Pachpadra in Balotra
The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production; has been established with an investment of over ₹79,450 crore
PM to lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project
PM to launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur
PM to inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport
Marking a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey, PM to inaugurate CG Semi OSAT facility in Sanand, Ahmedabad
CG Semi plant to feature one of India's first end-to-end OSAT facilities offering semiconductor assembly and test services
Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Rajasthan and Gujarat on 4 July 2026. At around 10:45 AM, Prime Minister will inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport and launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur. Subsequently, at around 12:15 PM, he will travel to Balotra to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth approximately ₹1.06 lakh crore. He will also address a public gathering on the occasion.

Thereafter, Prime Minister will travel to Gujarat. At around 4:30 PM, Prime Minister will inaugurate the CG SEMI Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) Facility in Sanand, Ahmedabad. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Jodhpur

In a major boost to the aviation sector, with a particular focus on regional connectivity, Prime Minister will launch the Modified UDAN Scheme in Jodhpur. This marks a significant leap forward in India's civil aviation landscape and will further advance the vision of "Ude Desh ka Aam Nagrik". With an allocation of ₹28,840 crore over the next 10 years, the scheme aims to accelerate the next phase of aviation-led development. It focuses on multiple strategic components designed to ensure comprehensive and sustainable connectivity.

A key emphasis is on the development of 100 aerodromes from existing unserved airstrips, supported by an outlay of over ₹12,000 crore, to expand aviation infrastructure across the country. In addition, over ₹2,500 crore has been earmarked for Operations and Maintenance (O&M) support to ensure the viability of regional airports during their initial years of operation. To address accessibility challenges in remote and difficult terrains, the scheme also proposes the development of 200 modern helipads.

The scheme also continues Viability Gap Funding (VGF) support of over ₹10,000 crore for airlines, ensuring sustained regional operations while encouraging gradual commercial viability. Further strengthening the vision of Aatmanirbhar Bharat, the initiative includes the procurement of indigenous aircraft and helicopters, such as HAL Dhruv and Dornier platforms, to enhance connectivity and operations in underserved regions.

During the programme, the Prime Minister will also inaugurate the New Terminal Building at Jodhpur Airport. The project has been developed at a total cost of ₹480 crore. Spread over an area of more than 23,000 sqm., the New Terminal Building is designed to handle up to 20 lakh passengers annually. It is equipped with modern passenger amenities to ensure a seamless and comfortable travel experience.

Architecturally inspired by Rajasthan's royal heritage, the terminal seamlessly blends traditional elements such as arches and jharokhas with contemporary design. Sustainability has been integral to the terminal's design, with features such as energy-efficient systems, water conservation measures, and green building practices aimed at achieving a 5-Star GRIHA rating. The inauguration of the New Terminal Building at Jodhpur Airport will provide a significant boost to tourism, trade, and employment generation in the region.

PM in Balotra

Prime Minister will lay the foundation stone and inaugurate various development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra. These projects span multiple sectors, including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy, and power transmission

Prime Minister will dedicate India's first greenfield integrated refinery-cum-petrochemical complex to the nation at Pachpadra in Balotra, marking a landmark achievement in the country's energy and petrochemical sector.

Developed as a joint venture between Hindustan Petroleum Corporation Limited (HPCL) and the Government of Rajasthan, the 9 Million Metric Tonnes Per Annum (MMTPA) Greenfield Refinery-cum-Petrochemical Complex has been established with an investment of over ₹79,450 crore.

The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production, with a petrochemical capacity of 2.4 MMTPA. The refinery features a high Nelson Complexity Index of 17.0 and petrochemical yields exceeding 26%, aligning with global benchmarks for efficiency and sustainability.

The project is expected to play a pivotal role in strengthening India's energy security, enhancing petrochemical self-sufficiency, and driving industrial growth. It will serve as an anchor industry for the development of a Petrochemical and Plastic Park in the region, promoting downstream industries and ancillary sectors. Additionally, the refinery is poised to generate significant employment opportunities, contributing to the socio-economic development of the region.

Prime Minister will lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project, which has a total cost of over ₹13,000 crore. Under Phase 2, a 41-km north-south metro corridor will be developed from Prahladpura to Todi Mod, connecting the industrial and residential areas of Sitapura and Vishwakarma Industrial Area (VKI) through 36 stations. The corridor will provide seamless connectivity to key locations, including the Sitapura Industrial Area, VKI, Jaipur Airport, Tonk Road, SMS Hospital, SMS Stadium, Ambabari, and Vidyadhar Nagar. The project will significantly improve connectivity to Jaipur's major industrial and residential areas, providing residents with faster, safer, and more convenient public transport. Under Phase 1, an 11.64-km metro corridor with 11 stations is already operational.

Prime Minister will further dedicate to the nation the Churu–Sadulpur (58 km) and Churu–Ratangarh (46 km) rail doubling projects, constructed at a cost of around ₹900 crore. Spanning a total length of 104 km, these projects will strengthen rail connectivity in north-west Rajasthan. They will enhance rail line capacity, enabling smoother, safer, and more punctual operation of both passenger and freight trains while easing congestion on the rail network. The projects will also provide impetus to investment, employment generation, and industrial development in the region.

Prime Minister will also inaugurate the four-laning of NH-125A, Jodhpur Ring Road Section-2 (Karwar–Dangiyawas). Developed at a cost of about ₹740 crore, the project will improve regional connectivity around Jodhpur and make travel smoother and safer.

Further, Prime Minister will dedicate to the nation SJVN Limited's 1,000 MW Bikaner Solar Energy Project, developed with an investment of about ₹5,500 crore. The project uses 24.22 lakh domestically manufactured solar modules. The Prime Minister will also dedicate NHPC's 300 MW Karnisar Bikaner Solar Energy Plant. The project uses about 7.75 lakh domestically manufactured solar PV cells and modules.

Prime Minister will also inaugurate the transmission line constructed at a cost of over ₹1,900 crore for power evacuation from the Rajasthan Renewable Energy Zone (REZ) and lay the foundation stone for the 530 km-long power transmission system for the Rajasthan REZ. These transmission systems will facilitate the evacuation of renewable energy generated in Rajasthan and help ensure an uninterrupted power supply in the state.

Prime Minister will also hand over appointment letters to around 54,000 youth recruited across various departments of the Government of Rajasthan. The recruits include personnel from the Departments of Education, Energy, Home, Panchayati Raj, Transport, Higher Education, Skill Development, Planning, Agriculture, Information Technology, and Administrative Reforms.

PM in Sanand

Prime Minister will inaugurate the CG Semi Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) facility in Sanand, Gujarat. The inauguration marks a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey with the commencement of commercial production at the facility. It represents a major step forward in strengthening India's position in the global semiconductor value chain. The project is one of the first four approved under the India Semiconductor Mission (ISM) and has been developed with a total investment of over ₹7,500 crore.

Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips and will help address the growing global demand for memory and storage solutions driven by rapid advancements in Artificial Intelligence (AI) and high-performance computing. The facility will cater to customers across the automotive, industrial, telecommunications, 5G, and Internet of Things (IoT) sectors. The CG Semi facility offers end-to-end semiconductor assembly and testing services, including wafer sorting, assembly, testing, package design, failure analysis, test programme development, product characterisation, and logistics support.

The operationalisation of this facility underscores India's emergence as a trusted and self-reliant semiconductor manufacturing destination and aligns with the Prime Minister's vision of building a resilient and self-reliant technology ecosystem in the country.