بھارت کے لیے بھگوان بدھ کے مقدس آثار محض نوادرات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے مالا مال ورثے کا حصہ اور ہماری تہذیب کا اٹوٹ جز ہیں: وزیراعظم
بھگوان بدھ کا دکھایا ہوا راستہ اور دانائی انسانیت کے لئے مشعلِ راہ: وزیراعظم
بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا امین ہے بلکہ اس لازوال روایت کا ایک زندہ امین و حامل بھی ہے: وزیراعظم
بھگوان بدھ سب کے ہیں اور ہم سب کو متحد کرتے ہیں: وزیراعظم
بھگوان بدھ کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ پالی زبان کو وسیع تر عوام تک پہنچایا جائے، اسی مقصد کے تحت پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے: وزیراعظم
بھارت نے دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثہ جاتی مقامات کی ترقی میں مسلسل تعاون کی کوششیں کی ہیں: وزیراعظم

نمو بُدّھیا

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، جناب گجیندر سنگھ شیکھاوت جی، جناب کرن رجیجو جی، جناب رام داس اٹھاولے جی، جناب راؤ اندرجیت جی، دلّی کی وزیر اعلیٰ کی پہلے سے مقررہ کوئی  مصروفیت تھی اور اُنھیں واپس جانا پڑا، دلّی حکومت کے تمام معزز وزرا، دلّی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب سکسینہ جی، معزز سفارتی برادری کے ارکان، بدھ مت کے جید اسکالر، دھمّا کے پیروکارو، معزز خواتین و حضرات۔

ایک سو پچیس برس کے انتظار کے بعد بھارت کا ورثہ واپس لوٹ آیا ہے، بھارت کی وراثت دوبارہ اپنے وطن میں آ گئی ہے۔ آج سے بھارت کے عوام بھگوان بدھ سے وابستہ اُن پوتر باقیات کا دیدار کر سکیں گے اور ان کا آشیرواد  حاصل کریں گے۔ اس پوترموقع پر میں یہاں موجود تمام معزز مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس اہم موقع پر بدھ مت کی روایت سے وابستہ بھکشو اور مذہبی اسکالر  بھی ہمیں آشیرواد دینے کے لیے موجود ہیں۔ میں آپ سب کو سب سر جھکا کر سلام پیش کرتا ہوں ۔ آپ کی موجودگی اس تقریب کو نئی بلندیوں اور نئی توانائی سے نواز رہی ہے۔ سال 2026 کے آغاز میں یہ مبارک تقریب واقعی حوصلہ افزا ہے۔ یہ بھی میری خوش نصیبی ہے کہ سال 2026 کا میرا پہلا عوامی پروگرام بھگوان بدھ کے قدموں میں شروع ہو رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ بھگوان بدھ کے آشیرواد سے سال 2026 دنیا کے لیے امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کا نیا دور لے کر آئے۔

 

دوستو،

جہاں یہ نمائش منعقد کی گئی ہے، وہ مقام بذاتِ خود نہایت خاص ہے۔ قلعہ رائے پتھوڑا کا یہ علاقہ بھارت کی شاندار تاریخ کی سرزمین ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال قبل اُس دور کے حکمرانوں نے اس تاریخی قلعے کے گرد مضبوط اور محفوظ فصیلوں کے ساتھ ایک شہر آباد کیا تھا۔ آج اسی تاریخی شہر کے احاطے میں ہم اپنی تاریخ میں ایک روحانی اورپوترباب کا اضافہ کر رہے ہیں۔

دوستو،

یہاں آنے سے قبل میں نے اس تاریخی نمائش کو بغور دیکھا۔ بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  کا ہمارے درمیان ہونا ہم سب کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ ان کا بھارت سے جانا اور پھر واپس آنا، دونوں ہی اپنے اندر گہرے اسباق رکھتے ہیں۔ یہ سبق یہ ہے کہ غلامی صرف سیاسی اور معاشی ہی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہمارے ورثے کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ بھگوان بدھ کےپوترآثار کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ غلامی کے دور میں یہ آثار بھارت سے باہر لے جائے گئے اور تقریباً ایک سو پچیس برس تک ملک سے باہر رہے۔ جو لوگ انہیں لے گئے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ محض بے جان قدیم نوادرات تھے۔ اسی لیے انہوں نے ان پوتر آثار کو بین الاقوامی بازار میں نیلام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بھارت کے لیے یہ آثار ہمارے عقیدے سے وابستہ  ہیں، ہماری تہذیب کا ایک ناقابلِ جدا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت نے فیصلہ کیا کہ ان کی سرکاری نیلامی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج میں گودریج گروپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کے تعاون سے بھگوان بدھ سے وابستہ یہ پوتر آثار ان کی کرم بھومی، دھیان بھومی، مہابودھی بھومی اور مہاپرینروان بھومی، یعنی بھارت، واپس آ سکے۔

 

دوستو،

بھگوان بدھ کا گیان اور ان کے دکھائے ہوئے راستے پوری انسانیت کے لیے ہیں اور وقت کے ساتھ کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ حالیہ مہینوں میں ہم نے اس احساس کو بار بار محسوس کیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں جہاں جہاں بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  گئے، وہاں عقیدت اور آستھا  کی لہریں اُمڈ آئیں۔ تھائی لینڈ میں، جہاں یہ باقیات  مختلف مقامات پر رکھے گئے، ایک ماہ سے بھی کم وقت میں چالیس لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے درشن کیے۔ ویتنام میں عوامی جذبات اتنےزبردست تھے کہ نمائش کی مدت بڑھانی پڑی، اور نو شہروں میں تقریباً ایک کروڑ نوّے لاکھ افراد نے ان باقیات  کو پورے جذبے  کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا۔ منگولیا میں گندن خانقاہ کے باہر ہزاروں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہے اور بہت سے لوگ بھارتی نمائندوں کو صرف اس لیے چھونا چاہتے تھے کہ وہ بدھ کی سرزمین سے آئے تھے۔ روس کے کالمیکیا خطے میں، محض ایک ہفتے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے ان پوتر باقیات کے درشن کیے، جو وہاں کی مقامی آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے ان پروگراموں میں، چاہے عام شہری ہوں یا حکومتوں کے سربراہان، سب یکساں عقیدت کے ساتھ مربوط نظر آئے۔ بھگوان بدھ سب کے ہیں۔ بھگوان بدھ سب کو جوڑتے ہیں۔

دوستو،

میں اپنے آپ  کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ بھگوان بدھ کو میری زندگی میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ میری جائے پیدائش وڈ نگر بدھ مت کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز رہی ہے۔ سارناتھ، جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا اُپدیش  دیا، آج میری کرم بھومی ہے۔ حتیٰ کہ جب میں حکومتی ذمہ داریوں میں شامل نہیں تھا، تب بھی میں ایک عقیدتمند  کی حیثیت سے بدھ مت کے پوتر مقامات کی یاترا کرتا رہا ہوں۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے مجھے دنیا بھر کے بدھ مت سے وابستہ مراکز کے دورے کا بھی موقع ملا ہے۔ نیپال کے لمبنی میں مایا دیوی کے پوتر  مندر میں درشن دینا اپنے آپ میں ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ جاپان کے تو-جی مندر اور کنکاکو-جی میں مجھے یہ احساس ہوا کہ بدھ کا پیغام وقت کی حدود سے ماورا ہے۔ چین کے شہر شی آن میں واقع بگ وائلڈ گوز پاگوڈا کا دورہ کیا، جہاں سے بدھ مت کے صحیفے پورے ایشیا میں پھیلے اور جہاں آج بھی بھارت کے کردار کو یاد کیا جاتا ہے۔ منگولیا کے گندن خانقاہ میں، میں نے لوگوں کے دلوں میں بدھ کی وراثت سے جڑی گہری جذباتی وابستگی کو محسوس کیا۔ سری لنکا کے انورادھا پورہ میں جے شری مہابودھی کے درشن کرنا شہنشاہ اشوک، بھکشو مہندا اور سنگھمیترا کی  روایت سے روشناس ہونے کا ایک روحانی تجربہ تھا۔ تھائی لینڈ کے وات فو اور سنگاپور کے بدھا ٹوتھ ریلک ٹیمپل کے دوروں نے بھی بھگوان بدھ کی تعلیمات کے اثرات کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں میری مدد کی۔

دوستو،

جہاں جہاں میں گیا، میری یہ کوشش رہی کہ وہاں کے لوگوں تک بھگوان بدھ کی وراثت کی کوئی علامت ضرور لے کر جاؤں۔ اسی لیے میں چین، جاپان، کوریا اور منگولیا میں بودھی درخت کے پودے ساتھ لے گیا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انسانیت کے لیے کتنا گہرا پیغام ہے کہ ایٹم بم سے تباہ ہونے والے شہر ہیروشیما کے نباتاتی باغ میں ایک بودھی درخت موجود ہو۔

 

دوستو،

بھگوان بدھ کی یہ مشترکہ وراثت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت صرف سیاست، سفارت کاری اور معیشت کے ذریعے ہی نہیں جڑا ہوا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرے رشتوں سے منسلک ہے۔ ہم ذہن اور جذبات کے ذریعے، عقیدے اور روحانیت کے ذریعے ایک دوسرے سےمربوط  ہیں۔

دوستو،

بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  کا محافظ ہے بلکہ ان کی روایت کا زندہ امین بھی ہے۔ پپرہوا، ویشالی، دیونی موری اور ناگرجُن کونڈا میں ملنے والے بدھ کے باقیات  ان کے پیغام کی زندہ مثال  ہیں۔ بھارت نے سائنس اور روحانیت دونوں کے ذریعے ان  باقیات  کو ہر ممکن شکل میں محفوظ  رکھا ہے ان کا تحفظ کیا ہے۔

دوستو،

بھارت نے ہمیشہ دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثے کی ترقی میں تعاون کی کوشش کی ہے۔ نیپال میں تباہ کن زلزلے کے بعد جب قدیم استوپاؤں کو نقصان پہنچا، تو بھارت نے ان کی تعمیر نو میں مدد فراہم کی۔ میانمار کے باگان میں زلزلے کے بعد بھارت نے گیارہ سے زائد پاگوڈاؤں کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ خود بھارت میں بھی بدھ مت سےوابستہ مقامات اور باقیات  کی تلاش اور ان کے تحفظ کا کام مسلسل جاری ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، گجرات میں میری جائے پیدائش وڈ نگر بدھ مت کی روایت کا ایک بڑا مرکز رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی مدت کار میں وہاں بدھ مت سے متعلق ہزاروں باقیات  دریافت ہوئے۔ آج ہماری حکومت ان کے تحفظ اور نئی نسل کو ان سے واقف کرانے پر توجہ دے رہی ہے۔ وہاں ایک شاندار تجرباتی میوزیم تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً 2500 سال کی تاریخ کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔ چند ماہ قبل ہی جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں بدھ دور کا ایک اہم مقام دریافت ہوا ہے اور اب اس کے تحفظ کے کام کو تیز کیا جا رہا ہے۔

 

دوستو،

گزشتہ دس سے گیارہ برسوں میں بھارت نے بدھ مت کے مقامات کو جدیدیت سے مربوط کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ بودھ گیا میں کنونشن سینٹر، مراقبہ اور تجرباتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ سارناتھ میں دھمیک استوپا پر لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو اور بدھ تھیم پارک بنایا گیا ہے۔ شراوستی، کپلوستو اور کشی نگر میں جدید سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ تلنگانہ کے نالگونڈہ میں ڈیجیٹل ایکسپیرینس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ سانچی، ناگرجن ساگر اور امراوتی میں عقیدت مندوں  کے لیے نئی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ آج ملک میں ایک بدھ سرکٹ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کے تمام بدھ مت سے وابستہ  مقامات کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو اور دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کوعقیدت  اور روحانیت کااحساس ہوسکے۔

دوستو،

ہماری کوشش ہے کہ بدھ مت کا یہ ورثہ فطری انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچے۔ گلوبل بدھسٹ سمٹ اور ویشاکھ اور آشاڑھ پورنیما جیسے بین الاقوامی پروگرام اسی سوچ کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ بھگوان بدھ کی ابھیدھمّ، ان کے اقوال اور تعلیمات اصل میں پالی زبان میں تھیں۔ ہم پالی زبان کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت پالی کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے دھمّا کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہوگی اور بدھ مت سے متعلق تحقیق کو بھی تقویت ملے گی۔

 

دوستو،

بھگوان بدھ کا فلسفۂ حیات سرحدوں اور جغرافیائی حدود سے ماورا تھا اور اس نے دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا۔’’بھوتو سبّ منگلم، رکھنتو سبّ دیوتا، سبّ بدھنوبھاوین سدّا سُتّی بھونتو تے‘‘ — یہ پوری دنیا کی بھلائی کی دعا ہے۔بھگوان بدھ نے انسانیت کو انتہاپسندی سے بچانے کی کوشش کی اور اپنے پیروکاروں سے فرمایا:’’اتّا دیپو بھوا بھکھّوے! پریکشّیا بھکشوو گرہیم، مد وچو نہ تُو گوروَت‘‘۔یعنی:’’بھکشوؤ! اپنے لیے خود چراغ بنو۔ میری باتوں کو بھی پرکھ کر قبول کرو، محض میرے احترام میں نہیں۔‘‘

دوستو،

بدھ کا یہ پیغام ہر دور اور ہر زمانے میں یکساں طور پر اہم ہے۔ خود اپنے لیے چراغ بننا خودداری کی بنیاد اور خود انحصاری کا جوہر ہے — ’’اتّا دیپو بھوا‘‘۔

دوستو،

بھگوان بدھ نے دنیا کو ٹکراؤ اور غلبے کے بجائے ساتھ چلنے کا راستہ دکھایا اور یہی ہمیشہ بھارت کا بنیادی فلسفہ رہا ہے۔ ہم نے خیالات کی طاقت اور جذبات کی گہرائی کے ذریعے ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں عالمی فلاح کا راستہ اپنایا ہے۔  اسی سوچ کے ساتھ کہ بھارت اکیسویں صدی کی دنیا میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی لیے جب ہم کہتے ہیں کہ یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ بدھ کا ہے، تو بھارت کا کردار واضح ہو جاتا ہے: انسانیت کے دشمنوں کے خلاف طاقت ضروری ہے، لیکن جہاں صرف اختلافات ہوں، وہاں بات چیت اور امن انتہائی ضروری ہیں۔

دوستو،

بھارت ’’سروجن ہِتائے، سروجن سُکھائے‘‘ کے اصول پر کاربند ہے۔ یہی بھگوان بدھ کی تعلیم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس نمائش میں آنے والا ہر فرد بھی اسی جذبے سے محسوس کرے گا۔

 

دوستو،

بھگوان بدھ کے یہ پوتر آثار بھارت کا ورثہ ہیں۔ ایک صدی سے زائد کے انتظار کے بعد یہ دوبارہ وطن واپس آئے ہیں۔ اس لیے میں ملک بھر کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں، ان پوتر  آثار کے درشن کریں، بھگوان بدھ کے افکار سے جُڑیں اور کم از کم ایک بار اس نمائش کو ضرور دیکھنے آئیں۔ میں خاص طور پر اسکول اور کالج کے طلبہ، نوجوان ساتھیوں اور بیٹیوں بیٹوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ لازمی طور پر یہ نمائش دیکھیں۔ یہ نمائش ہمارے ماضی کے وقار کو ہمارے مستقبل کے خوابوں سے منسلک کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ میں ملک بھر کے عوام سے اس نمائش میں شرکت کی اپیل کرتا ہوں۔ اسی اپیل کے ساتھ ایک بار پھر میں اس تقریب کی کامیابی کے لیے سب کو اپنی نیک خواہشات  پیش کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ!

نمو بُدّھیا!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pvt sector banks log robust growth in deposits and advances in Q1FY27

Media Coverage

Pvt sector banks log robust growth in deposits and advances in Q1FY27
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
When there is a government with the resolution of Nation First, then national heroes also get due respect: PM Modi
July 06, 2026
We pay homage to a great son of India whose unwavering commitment to national unity continues to inspire generations: PM
When there is a government with the resolution of Nation First, then national heroes also get due respect: PM
Dr. Mookerjee fiercely opposed the talk of two constitutions, two prime ministers, and two flags in the country: PM
He understood very well that the essence of nation-building is in the building of institutions : PM
Dr. Mookerjee laid the foundation for such national institutions which became India's economic strength for decades to come: PM

Union Cabinet colleagues Amit Bhai Shah, Gajendra Singh Shekhawat, West Bengal’s dynamic Chief Minister Shubhendu Adhikari, senior BJP member and inspiration to lakhs of workers like me, Shri Makhanlal ji, BJP state president Shamik Bhattacharya, esteemed public representatives, distinguished guests, ladies and gentlemen!

My greetings to all of you!

Due to my pre-scheduled program, I am currently traveling. But with the help of technology, I am able to join you in this historic event.

Friends,

Today, the soil of our nation, the soil of West Bengal, is reverently remembering one of its great sons - a great patriot, a visionary dedicated to India’s integrity. Today we celebrate the seed of thought he planted, which is flourishing everywhere in the present time, playing a major role in guiding modern India.

Friends,

When ideas are rooted in the ground, when intentions are strong and pure, when new resolutions are pursued with complete dedication, and when all these links come together, success is inevitable. Dr. Syama Prasad Mookerjee lived such a life. On the occasion of his 125th birth anniversary, I bow to him and offer my tribute.

Friends,

This program is also testimony to the fact that when there is a government committed to Nation First, national heroes are honored and efforts are made to walk in their vision. Our government is celebrating Dr. Mookerjee’s 125th birth anniversary as a two-year national festival. It began last year on July 6 and will continue until July 6 next year. And now, with a BJP government in Bengal, this national honor has gained even more grandeur. Just a few days ago, on June 20, West Bengal Day was celebrated in a grand manner. That was a salute to Bengal’s land and heritage. Today’s program is part of that same respect for heritage. I warmly congratulate the West Bengal government for organizing such a magnificent event.

Friends,

Dr. Mookerjee’s life is an inspiration - from an idea to a mass movement. He gave birth to an ideological movement in India. At the time when the Jana Sangh was founded, Congress dominated everywhere. In such an era, when there was no space for alternative thought, when even finding a foothold was difficult, Dr. Mookerjee challenged those circumstances and had the courage to create a new idea. It was not merely the decision to form an organization or a political party. It was the expression of his unwavering faith in ideological diversity, national thought, and public participation in democracy. From this faith, the Bharatiya Jana Sangh was born.

Friends,

No idea becomes immortal merely by its founding. An idea becomes immortal when generations nurture it with their lives. To keep the flame of the Jana Sangh alive, lakhs of workers dedicated their lives, moment by moment, sacrifice by sacrifice. They never let that flame die. Today, even if the Jana Sangh is not visible in its original form, the light of that flame has spread as the trust of crores of Indians. That light today shines across the nation in the form of millions of blooming lotuses. What was once the Jana Sangh is today the Bharatiya Janata Party - the world’s largest democratic force, serving the people.

Friends,

Often we see that with time, some ideas lose their appeal. But think - how powerful was the seed of thought planted by Dr. Mookerjee, that even after so many years, it continues to expand rapidly. I am confident that when future generations write the history of the BJP’s journey, when they study it, they will certainly mention Dr. Syama Prasad Mookerjee’s ideas, his courage, and his foresight. And I will say again - for Bengal, this is a double joy. First, the 125th birth anniversary of Dr. Mookerjee. And second, this grand celebration in Bengal itself, under a BJP government born from his vision. This is a heartfelt tribute from the people of West Bengal to their great son.

Friends,

In one of his speeches in Parliament, Dr. Mookerjee said something that continues to inspire us even today. He said: “On the foundation of national unity alone can the edifice of a golden future be built.” And indeed, India can proudly say that Dr. Mookerjee lived this belief until his last breath. In 1947, when the country was divided and another crisis loomed - conspiracies were being hatched to separate the whole of Bengal from India. At that time, Dr. Mookerjee stood like a rock against these plots. He mobilized public opinion, fought political battles, and ensured that West Bengal remained an integral part of India. It was then that Dr. Syama Prasad Mookerjee thundered: “Congress desh bhag korechhe, ami Pakistan ke bhag korechhi.” Meaning, Congress divided the country, but I divided Pakistan itself.

Friends,

That roar, that strength, the political will it displayed - we can still feel its power when we look at today’s circumstances.

Friends,

Dr. Mookerjee was fully dedicated to the vision of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. That is why, when the idea of two constitutions, two prime ministers, and two flags was raised, he strongly opposed it. He gave the nation the mantra: “Ek deshe dui bidhan, dui prodhan ebong dui nishan - amra kokhono mene nebo na.” In other words: “In one country, two constitutions, two prime ministers, and two flags - will not be accepted, will not be accepted.” This was not just a slogan. It was a call for equal rights, one constitution, and a unified national consciousness. He fought for these principles, went to jail, and ultimately gave his supreme sacrifice for Kashmir. Today, our government is proud that by removing Article 370, we fulfilled Dr. Mookerjee’s dream.

Friends,

When we speak of Ek Bharat, Shreshtha Bharat today, it is the expansion of that same national vision defined by Dr. Mookerjee’s life. A vision of an India where there is no distance between North and South, where East and West share equal opportunities, where every state contributes its unique identity to India’s collective strength, and where every citizen is bound by one constitution, one national spirit, and one shared future. I am glad that inspired by Dr. Mookerjee, India’s constitution today applies across the nation with full dignity, inspiring millions of citizens.

Friends,

Dr. Mookerjee understood well that nation-building lies in institution-building. At just 33 years of age, he became the youngest Vice-Chancellor of Calcutta University. But he did not see that position as merely administrative. He saw the university as an institution shaping India’s future. He sought to free education from the mindset of colonial servitude. He said: “Bongo-jatir atto-shomman punor-uddhar ebong matri-bhashar madhyome shikkhar proshar ei amader prodhan lokkho howa uchit.” Meaning, restoring the self-respect of Bengal’s people and spreading education through the mother tongue should be our foremost goal. He believed that if India was to become a confident nation, its education must be rooted in the Indian soul. With this vision, he gave respect to Indian languages. Today, we are proud that under the new National Education Policy, emphasis is being placed on education in local languages - fulfilling the dream Dr. Mookerjee once saw.

Friends,

As independent India’s first Industry Minister, he laid out a broad vision for industrial development. He established national institutions that became the pillars of India’s economic strength for decades. Chittaranjan Locomotive Works gave new momentum to India’s railways. Sindri Fertilizer Plant was a major step toward agricultural self-reliance. Damodar Valley Corporation opened a new chapter in energy and irrigation. The Industrial Finance Corporation of India (IFCI) provided a financial foundation for Indian industries.

Friends,

For him, industries and factories were not just workshops. Universities were not just places to hand out degrees. Research institutions were not just sites for experiments. For him, all these were centers of national devotion. He believed in institutions that gave talent opportunities, education that encouraged innovation, industries that became the basis of self-reliance, and systems that empowered future generations to inherit a stronger India. This spirit is the inspiration behind today’s vision of a developed India.

Friends,

On this occasion, I say to the youth of Bengal and of the entire nation: Dr. Mookerjee dedicated his life for Ek Bharat. We must live for Shreshtha Bharat. Together, we must fulfill the resolve of a developed India. We must make the nation self-reliant. With this call, I once again bow to Dr. Mookerjee. And I will end with his own words, his own spirit: “Je kaj ei hate nao na keno, ta atyononto gurutto shohokare korte hobe.” Meaning: Whatever work you begin, do it with utmost seriousness, with dedication, with complete sincerity. Never leave any work incomplete - always see it through to the end. With this flowing inspiration from Dr. Mookerjee’s words, I extend my heartfelt best wishes to all of you.

Thank you very much!