Share
 
Comments
There are several instances that point to the need for a serious introspection of the work of the United Nations: PM Modi
Every Indian, aspires for India's expanded role in the UN, seeing India's contributions towards it: PM Modi
India's vaccine production and vaccine delivery capability will work to take the whole humanity out of this crisis: PM Modi
India has always spoken in support of peace, security and prosperity: PM Modi

صدر محترم،

اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ،میں، بھارت کے 130 کروڑ سے زائد لوگوں کی جانب سے، ہر ایک رکن ملک کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بھارت کو اس بات پر بہت فخر ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے بانی ممالک میں سے ایک ہے۔ آج کے تاریخی موقع پر، میں آپ سبھی کے سامنے بھارت کے 130 کروڑ لوگوں کے احساسات، اس عالمی اسٹیج پر ساجھا کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔

صدر محترم،

1945 کی دنیا یقیناً آج سے بہت مختلف تھی۔ پوری دنیا کا ماحول، ذرائع وسائل، مسائل۔حل، سب کچھ مختلف تھے۔ ایسے میں عالمی فلاح کے جذبے کے ساتھ جس ادارے قیام عمل میں آیا، جس شکل میں عمل میں آیا وہ بھی اس وقت کے حساب سے ہی تھا۔ آج ہم ایک بالکل مختلف دور میں ہیں۔ 21ویں صدی میں ہمارے حال، ہمارے مستقبل کی ضرورتیں اور چنوتیاں اب مختلف ہیں۔ اس لیے آج پوری عالمی برادری کے سامنے ایک بہت بڑا سوال ہے کہ جس ادارے کا قیام اس وقت کی صورتحالت میں ہوا تھا، کیا اس کی معتبریت ابھی بھی برقرار ہے؟ صدی تبدیل ہو جائے اور ہم نہ تبدیل ہوں تو تبدیلی لانے کی طاقت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔

اگر ہم گذشتہ 75برسوں میں اقوام متحدہ کی حصولیابیوں کا جائزہ لیں، تو متعدد حصولیابیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایسی متعدد مثالیں بھی ہیں جب اقوام متحدہ کو خوداحتسابی کی بھی ضرورت پیش آئی۔ یہ بات صحیح ہے کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہوئی، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاستا کہ متعدد جنگیں ہوئیں، متعدد خانہ جنگیاں ہوئیں۔ کئی دہشت گردانہ حملوں نے پوری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا، خون کی ندیاں بہتی رہیں۔

ان جنگوں میں، ان حملوں میں، جو ہلاک ہوئے، وہ ہماری آپ کی طرح انسان ہی تھے۔ وہ لاکھوں معصوم بچے جنہیں دنیا پر چھا جانا تھا، وہ دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کتنے ہی لوگوں کو اپنی زندگی بھر کی پونجی گنوانی پڑی، اپنے خوابوں کا گھر چھوڑنا پڑا۔ اس وقت اور آج بھی، کیا اقوام متحدہ کی کوششیں کافی تھیں؟ گذشتہ 8۔9 مہینے سے پوری دنیا کورونا عالمی وبائی مرض سے نبردآزما ہے۔ اس عالمی وبائی مرض سے نمٹنے کی کوششوں میں اقوام متحدہ کہا ہے، ایک مؤثر ردعمل کہاں ہے؟

 

صدر محترم،

اقوام متحدہ کے ردعمل میں تبدیلی، انتظامات میں تبدیلی، ہیئت میں تبدیلی، آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی بھارت میں جو عزت ہے، بھارت کے 130 کروڑ سے زائد لوگوں کا اس عالمی ادارے پر جو پختہ اعتماد ہے، وہ آپ کو بہت کم ممالک میں دیکھنے کو ملے گا۔ تاہم یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ بھارت کے لوگ، اصلاحات کو لے کر اقوام متحدہ میں جو عمل جاری ہے، اس کے مکمل ہونے کا طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔

آج بھارت کے عوام فکر مند ہیں کہ کیا یہ عمل کبھی ایک منطقی انجام تک پہنچے گا۔ آخر کب تک، اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے نظام سے بھارت کوعلیحدہ رکھا جائے گا؟ ایک ایسا ملک، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، ایک ایسا ملک، جہاں دنیا کی 18 فیصد آبادی رہتی ہے، ایک ایسا ملک، جہاں سینکڑوں زبانیں ہیں، سینکڑوں بولیاں ہیں، مختلف مسالک  ہیں، متعدد نظریات ہیں، جس ملک نے سینکڑوں برسوں تک عالمی معیشت کی قیادت کرنے اور سینکڑوں برسوں کی غلامی کے، دونوں ہی ادوار دیکھے ہیں۔

صدر محترم،

 

جب ہم مضبوط تھے تو دنیا کو کبھی ستایا نہیں، جب ہم مجبور تھے تو دنیا پر کبھی بوجھ نہیں بنے۔

صدر محترم،

جس ملک میں ہو رہی تبدیلیوں کے اثرات دنیا کے بہت بڑے حصے پر مرتب ہوتے ہوں ، اس ملک کو آخر کب تک انتظار کرنا پڑے گا؟

صدر محترم،

اقوام متحدہ جن اصولوں کے ساتھ قائم ہوا تھا اور بھارت کا بنیادی فلسفہ، دونوں میں بہت یکسانیت ہے، یہ دونوں مختلف نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسی ہال میں اس لفظ کی بازگشت متعدد مرتبہ سنائی دی ہے، واسودھیو کٹمب کم۔ ہم پوری دنیا کو ایک کنبہ مانتے ہیں۔ یہ ہماری ثقافت، آداب اور سوچ کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی بھارت نے ہمیشہ عالمی فلاح کو ترجیح دی ہے۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے امن کے قیام کے لئے تقریباً 50 قیام امن سے متعلق مشنوں میں اپنے جانباز فوجیوں کو بھیجا۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے قیام امن کے عمل میں اپنے سب سے زیادہ بہادر فوجی کھوئے ہیں۔

آج ہر ایک بھارتی، اقوام متحدہ میں اپنے تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ میں اپنا بڑا کردار بھی دیکھ رہا ہے۔

صدر محترم،

02 اکتوبر کو ’بین الاقوامی یوم عدم تشدد‘ اور 21 جون کو ’بین الاقوامی یوم یوگ‘، ان کی پہل بھارت نے ہی کی تھی۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کی غرض سے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لئے اتحاد اور بین الاقوامی شمسی اتحاد، یہ بھارت کی کوششیں ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ بنی نوع انسان کی فلاح کے بارے میں سوچا ہے، نہ کہ اپنے مفادات کے بارے میں۔ بھارت کی پالیسیاں ہمیشہ سے اسی فلسفے سے متاثر رہی ہیں۔ بھارت کی ’ہمسایے کو اولیت‘ سے لے کر ایکٹ ایسٹ پالیسی تک، خطے میں سبھی کے لئے تحفظ اور ترقی کی سوچ ہو یا پھر انڈو پیسفک علاقے کے تئیں ہماری سوچ، سبھی میں اس فلسفہ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کی شراکت داری کی رہنمائی بھی یہی اصول طے کرتا ہے۔ بھارت جب کسی سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے، تو وہ کسی تیسرے کے خلاف نہیں ہوتی۔

بھارت جب ترقی کی ساجھے داری کو مضبوط کرتا ہے  تو اسکے پس پشت کسی ساتھی ملک کو مجبور کرنے کی سوچ نہیں ہوتی۔ ہم اپنی ترقی کے سفر سے حاصل ہوئے تجربات ساجھا کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔

صدر محترم،

وبائی مرض کے اس مشکل وقت میں بھی بھارت کی دوا کی صنعت نے 150 سے زائد ممالک کو ضروری ادویہ ارسال کیں۔ ملک کے سب سے بڑی ویکسین پیداواریت والے ملک کے طور پر آج میں عالمی برادری کو ایک اور یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں۔ بھارت کی ویکسین پیداواریت اور ویکسین فراہمی کی اہلیت پوری انسانیت کو اس بحران سے باہر نکالنے کے لئے کام آئے گی۔ ہم بھارت میں اور اپنے پڑوسی ممالک میں تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائلز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ویکسین کی فراہمی کے لئے کولڈچین اور اسٹوریج جیسی اہلیت بڑھانے میں بھی بھارت، سبھی کی مدد کرے گا۔

صدر محترم،

اگلے برس جنوری سے بھارت، سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر اپنے فرائض انجام دے گا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے بھارت پر جو اعتماد جتایا ہے، میں اس کے لئے سبھی ساتھی ممالک کا شکر گزار ہوں۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کی عزت اور اس کے تجربے کو ہم عالمی فلاح کے لئے استعمال کریں گے۔ ہمارا راستہ عوام کی فلاح سے دنیا کی فلاح کا ہے۔ بھارت کی آواز ہمیشہ امن، سلامتی اور خوشحالی کے لئے اٹھے گی۔ بھارت کی آواز بنی نوع انسان اور انسانی اقدار کی دشمن  دہشت گردی، غیر قانونی ہتھیاروں کی اسمگلنگ، منشیات، منی لاؤنڈرنگ کے خلاف اٹھے گی۔

بھارت کا ثقافتی ورثہ، ہزاروں برسوں کے تجربات، ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کو طاقت فراہم کریں گے۔بھارت کے تجربات، بھارت کا نشیب و فراز سے پر ترقی کا سفر، عالمی فلاح و بہبود کے راستے کو مضبوطی فراہم کریں گے۔

صدر محترم

گذشتہ کچھ برسوں میں، اصلاحات  کارکردگی ۔ تبدیلی، اس اصول کے ساتھ بھارت نے کروڑوں ہندوستانیوں کی زندگی میں بڑی تبدیلیاں لانے کا کام کیا ہے۔ یہ تجربات، دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے اتنے ہی فائدہ مند ہیں، جتنا کہ ہمارے لیے۔ صرف 5۔4 برسوں میں 400 ملین سے زیادہ لوگوں کو بینکنگ نظام سے مربوط کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم بھارت نے یہ کر کے دکھایا۔ صرف 5۔4 برسوں میں 600 ملین لوگوں کو کھلے میں رفع حاجت سے مبرا کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم بھارت نے یہ کرکے دکھایا۔ صرف 3۔2 برسوں میں 500 ملین سے زائد لوگوں کو مفت علاج کی سہولت سے جوڑنا آسان نہیں تھا۔ تاہم بھارت نے یہ کرکے دکھایا۔ آج بھارت ڈجیٹل لین دین کے معاملے میں دنیا کے سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے۔

آج بھارت اپنے کروڑوں شہریوں کو ڈجیٹل رسائی فراہم کرا کے اختیارکاری اور شفافیت کو یقینی بنا رہا ہے۔ آج بھارت، سال 2025 تک اپنے ہر شہری کو تپ دق سے آزادی دلانے کے لئے بہت بڑی مہم چلا رہا ہے۔ آج بھارت اپنے مواضعات کے 150 ملین گھروں میں پائپ سے پینے کا پانی پہنچانے کی مہم چلا رہا ہے۔ کچھ روز قبل ہی بھارت نے اپنے 6 لاکھ مواضعات کو برانڈیڈ آپٹیکل فائبر سےکنیکٹ کرنے کی بہت بڑی اسکیم کی شروعات کی ہے۔

صدر محترم،

وبائی مرض کے نتیجے میں رونما ہوئی صورتحال کے بعد ہم ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے خواب کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ آتم نربھر ابھیان، عالمی معیشت کے لئے بھی تقویت فراہم کرانے کا ایک ذریعہ ہوگا۔ بھارت میں آج یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سبھی اسکیموں کا فائدہ، بغیر کسی تفریق کے، ہر ایک شہری تک پہنچے۔ خواتین  کے کاروبار اور لیڈرشپ کو فروغ دینے کے لئے بھارت میں بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آج دنیا کی سب سے بڑی مائکرو فائننسنگ اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کی خواتین ہی اٹھا رہی ہیں۔ بھارت دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین کو 26 ہفتوں کی، ادائیگی پر مبنی زچگی رخصتی دی جا رہی ہے۔ بھارت میں ٹرانس جینڈروں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لئے بھی قانونی اصلاحات کی گئی ہیں۔

صدر محترم،

بھارت دنیا سے سیکھتے ہوئے، دنیا کے ساتھ اپنے تجربات ساجھا کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے 75ویں برس میں اقوام متحدہ اور تمام رکن ممالک، اس عظیم ادارے کی معتبریت کو برقرار رکھنے کے لئے مزید عہد بستگی کے ساتھ کام کریں گے۔ اقوام متحدہ میں توازن اور اقوام متحدہ کی اختیارکاری، عالمی فلاح و بہبود کے لئے اتنی ہی لازمی ہے۔ آیئے، اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہم سب مل کر اپنے آپ کو عالمی فلاح کے لئے، ایک مرتبہ پھر وقف کرنے کا عہد کریں۔

شکریہ۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.