Share
 
Comments
Government is pushing growth and development of every individual and the country: PM Modi
Both the eastern and western dedicated freight corridors are being seen as a game changer for 21st century India: PM Modi
Dedicated Freight Corridors will help in the development of new growth centres in different parts of the country: PM

نئی دہلی ،07جنوری:وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 306 کلو میٹر طویل مغربی وقف فریٹ کاری ڈور (ڈبلیو ڈی ایف سی) کے ریواڑی۔ مدار سیکشن کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے اسی روٹ پر ڈبل اسٹیک لانگ ہال کنٹینر کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ اس مووقع پر راجستھان اورہریانہ کے گورنر، راجستھان اور ہریانہ کے وزرائے اعلی اور مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل، جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، جناب ارجن رام میگھوال، جناب کیلاش چودھری، جناب راؤ اندرجیت سنگھ، جناب رتن لال کٹاریا، جناب کرشن پال گوجربھی موجود تھے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کے لئے مہایوجنا میں آج ا یک نئی رفتار حاصل کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ 12 روز میں ملک کی جدید کاری کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی نئی پہلوؤں جیسےکسانوں کے لئے ڈی بی ٹی، ایئر پورٹ ایکسپریس لائن پر نیشنل موبلٹی کارڈ، راج کوٹ ایمس کا افتتاح، آئی آئی ایم سمبلپور، 6 شہروں میں لائٹ ہاؤس پروجیکٹ قومی ایٹمی ٹائم اسکیل اور بھارتی نردیشک درویہ، نیشنل انوائرنمنٹ اسٹینڈرڈس لیباریٹری، کوچی – منگلور گیس پائپ لائن، 100 ویں کسان ریل، مشرقی وقف فریٹ کاریڈور کے ایک سیکشن کے بارے میں بتایا۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ ملک کو جدید بنانے کے لئے کورونا کے اس دور میں بھی متعدد پہلوؤں کاآغاز کیا گیا۔

 

وزیراعظم نے کہاکہ کچھ دن قبل منظور شدہ ملک میں بنائے گئے کورونا کے ٹیکے نے لوگوں میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقف شدہ فریٹ کوری ڈور کو 21 ویں صدی میں ہندوستان کے لئے ایک کھیل کو تبدیل کرنے وا لے (گیم چنجیز) پروجیکٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نیو بھاؤ پور۔ نیوخورجا سیکشن کے آغاز کے بعد سے مال گاڑیوں کی اوسط رفتار اس خصوصی سیکشن میں ۳ گنا ہوگئی ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ نیواٹیلی۔ ہریانہ سے نیو کشن گنج، راجستھان کے لئے ڈبل اسٹیک کنٹینر فریٹ ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے ساتھ ہی ہندوستان چنندہ ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس پر فخرکامیابی کے لئے انجینئروں اوران کی ٹیم کی کوششوں کی ستائش کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ اس وقف شدہ فریٹ کوری ڈور سے راجستھان کے ہر شخص خصوصا کسانوں، صنعت سازوں( انٹرپرینیورز) اورکاروباریوں کے لئے نئے مواقع اورنئی امیدیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ وقف شدہ فریٹ کوری ڈور نہ صرف جدیدیت کے لئے ایک راہ فراہم کرے گا بلکہ یہ ملک کی تیز رفتار ترقی کے لئے ایک کوری ڈور/گلیارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ گلیارہ ملک کے مختلف شہروں میں نئی نمو و ترقی کے مراکز اور ترقی کے پوائنٹس کی بنیاد بنیں گے۔

وزیراعظم نے کہاکہ مال برداری کی مشرقی راہداری سے یہ ظاہر ہونا شروع ہوگیا ہے کہ کیسے وہ ملک کے مختلف حصوں کے ا ستحکام میں اضافہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مال برداری کل مغربی راہداری کی بدولت ہریانہ اور راجستھان میں کاشتکاری اور متعلقہ کاروبار زیادہ آسان ہوگا اور ہ مہندر گڑھ، جے پور، اجمیر اور سیکر جیسے شہروں میں نئی توانائی بھی بخشے گی۔ اوران ریاستوں کے مال کی تیاری سے متعلق یونٹوں اور صنعت کاروں کے لئے کافی کم لاگت پر قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک زیادہ تیز رفتار رسائی دستیاب ہوگئی ہے۔ گجرات اور مہاراشٹر کی بندرگاہوں تک تیز رفتار اور زیادہ سستے رابطوں کی بدولت خطے میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔

 

وزیراعظم نے کہاکہ جدید بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر سے زندگی اور کاروبار میں نئے طریق کار میں بھی اضافہ ہوگا اور نہ صرف اس سے منسلک کاموں میں تیزی آئے گی بلکہ معیشت کے کئے وسیلوں کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ راہداری سے نہ صرف تعمیر کے شعبے میں روزگار پیدا ہوگا بلکہ سیمنٹ، اسٹیل اور ٹرانسپورٹ جیسے دوسرے شعبوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مال برداری کے لئے مخصوص راہداری کے فائدوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ یہ 9 ریاستوں میں 133 ریلوے اسٹیشنوں کا احاطہ کرے گی۔ ان اسٹیشنوں پر کثیر ماڈل و الے لوجسٹک پارک، مال برداری سے متعلق ٹرمنل، کنٹینرڈپو، کنٹینر ٹرمنل اور پا رسل مرکز ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ان سب سے کسانوں، چھوٹی صنعتوں، گھریلو صنعتوں اور زیادہ بڑے پیمانے پر مال تیار کرنے و الوں کو فائدہ ہوگا۔

ریلوے پٹریوں کی مشابہت کا استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ آج بھارت میں بنیادی ڈھانچہ کے کام میں ایک ساتھ دوپٹریوں پر پیش رفت ہورہی ہے۔ انفرادی سطح پر وزیراعظم نے مکانات، صفائی ستھرائی، بجلی، ایل پی جی، سڑک اور انٹرنیٹ رابطوں میں اصلاحات کو نمایاں کیا۔ کروڑوں ہندوستانی ایسی بہت سی اسکیموں سے فیض حاصل کررہے ہیں۔ دوسری پٹری پر صنعت اور خود کار کاروبار کرنے و الے افراد جیسے ترقی کے وسیلے، شاہراہوں، ریلویز، آبی گزرگاہوں، اور بندرگاہوں کے کثیر موڈل والے رابطوں کے تیزی سے نفاذ کے ذریعہ فیض یاب ہورہے ہیں۔ مال برداری سے متعلق راہداریوں کی طرح ہی صنعتوں کو اقتصادی راہداریاں، دفاع سے متعلق راہداریاں اور تکنیکی کلسٹرس فراہم کئے جارہے ہیں۔

 

وزیراعظم نے کہاکہ یہ انفرادی اور صنعتی بنیادی ڈھانچہ ، بھارت کے بارے میں ایک مثبت عام تاثر پیدا کررہا ہے جس کی عکاسی غیر ملکی زرمبادلہ کے بڑھتے ذخائر اور بھارت میں اعتماد میں اضافے سے ہورہی ہے۔ وزیراعظم نے پروجیکٹ میں تکنیکی اور مالی مدد کے لئے جاپان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے بھارتی ریلوے کی جدید کاری کےلئے فرد ، صنعت اور سرمایہ کاری کے درمیان ربط اور تال میل پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سابقہ دور میں مسافروں کی پریشانیوں ، تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بروقت صفائی، ستھرائی ، بہتر اوراچھی خدمات ، ٹکٹنگ کی سہولیات اور سیکورٹی کے شعبوں میں اہم اور غیرمعمولی کام کاج ہواہے۔ انہوں نے اسٹیشنوں اور کمپارٹمنٹس کے علاوہ بایوڈیگریڈیبل بیت الخلا، کیٹرنگ، جدید ٹکٹنگ کاری اور تیجس یا وندے بھارت ایکسپریس اور وستا۔ڈوم کوچیز جیسی ماڈل ٹرینوں کی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے براڈ گیجنگ اوربجلی کاری میں غیرمعمولی اور مثالی سرمایہ کاری کوبھی اجاگر کیا۔ جس کے نتیجہ میں ریلوے کی رفتار اور دائرہ وسیع ہوا ہے۔ انہوں نے پٹریاں بچھانے کے لئے سبھی تیز رفتا رٹرینوں اور جدید ٹکنالوجی کی بھی بات کی اور اس امید کاااظہارکیا کہ ہر شمال مشرقی ریاست کی راجدھانی کو ریلوے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہاکہ کورونا کی مدت کے دوران ریلوے کازبردست اور غیرمعمولی تعاون حاصل رہا جس نے مزدوروں کو ان کوگھروں تک پہنچایا۔ وزیراعظم نے مزدوروں کو ان ریلوے کے ذریعہ گھروں تک پہنچانے میں ریلوے کے رول کی زبردست ستائش کی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
New India, New Jammu & Kashmir

Media Coverage

New India, New Jammu & Kashmir
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with beneficiaries of Pradhan Mantri Garib Kalyan Anna Yojana in Uttar Pradesh
August 05, 2021
Share
 
Comments
August 5 is becoming a significant date in the Indian History as abrogation of 370, and Ram Mandir are associated with this: PM
Our youth has taken a big step in re-establishing the glory of our national game hockey today: PM
Our youth is scoring goal of victory whereas some are doing self-goal due to political selfishness: PM
India’s youth has firm belief that both they and India are on the move.: PM
This great country cannot become hostage to selfish and anti-national politics: PM
Double engine government has ensured that the schemes made for the poor, downtrodden, backward, tribals are implemented expeditiously in UP: PM
Uttar Pradesh was always seen through the prism of politics. The confidence that UP can become the powerhouse of India's growth engine has emerged in recent years: PM
This decade is the decade of making up for the shortfall of the last 7 decades for Uttar Pradesh: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi interacted with beneficiaries of Pradhan Mantri Garib Kalyan Anna Yojana in Uttar Pradesh via video conference. Chief Minister of Uttar Pradesh Shri Yogi Adityanath was also present on the occasion.

Addressing the event, the Prime Minister said August 5 has become very special for India. It was on 5th August, 2 years ago, the country had further strengthened the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat by abrogating Article 370, making every right and facility available to every citizen of Jammu and Kashmir. The Prime Minister also mentioned, on August 5, Indians took the first step towards the construction of a grand Ram temple after hundreds of years. Ram temple is being constructed at a rapid pace in Ayodhya today.

The Prime Minister lamented that on one hand our country, our youth are achieving new achievements for India, they are scoring goals for victory, while there are some people in the country who are engaged in self-goal for political selfishness. He added that they are not concerned with what the country wants, what the country is achieving, how the country is changing. The Prime Minister continued that this great country cannot become hostage to such selfish and anti-national politics. No matter how much these people try to stop the development of the country, this country is not going to be bound by them. The country is progressing rapidly on every front, challenging every difficulty, he said.

To illustrate this new spirit, The Prime Minister enumerated many recent records and achievements of Indians. Apart from Olympics, Shri Modi also talked of upcoming landmark 50 crore vaccination, record GST collection of 1 lakh 16 thousand crore in the Month of July signaling new momentum in the economy. He also pointed out an unprecedented monthly agricultural export figure of 2 lakh 62 crore. This is the highest figure in post Independence India, catapulting India into top-10 agri-export countries. The Prime Minister also talked of the trial of the first Made in India aircraft carrier Vikrant, completion of construction of the highest motorable road in the world in Ladakh and launch of e-Rupi.

The Prime Minister criticized the opposition that those who are worried only for their position cannot stop India now. New India is ruling the world by winning medals not ranks. He added that the path to move forward in the new India will not be determined by family name, but by hard work. India’s youth has firm belief that both they and India are on the move.

Talking about the pandemic, the Prime Minister noted that in the past, when such a big crisis hit the country, then all the systems of the country were shaken badly. However, today in India, every citizen is fighting this pandemic with full force. The Prime Minister dwelled at length on the efforts to deal with the once in a century crisis. Augmentation of medical infrastructure, world’s largest free vaccination programme, campaign to fight starvation among the vulnerable section, such programmes received investment of lakhs of crore rupees and India is moving ahead successfully. Infrastructure products did not stop amidst the pandemic as exemplified by the highway, expressway projects, dedicated freight corridor and defence corridor in Uttar Pradesh.

The Prime Minister said the double engine government has ensured that the schemes made for the poor, downtrodden, backward, tribals are implemented expeditiously. He cited PM Svanidhi Yojana as a great example of this.The Prime Minister also elaborated on the measures taken to mitigate the situation during the pandemic. An effective strategy kept the cost of food items in control, Suitable measures were undertaken to keep the supply of seeds or fertilizers for farmers as a result, the farmers gave record production and the government also made record procurement under MSP. He also praised the Uttar Pradesh Chief Minister for record MSP procurement in UP. In UP the number of farmers benefited from MSP doubled during the past year. In UP, more than 24 thousand crore rupees were deposited directly in the account of 13 lakh farmer families as price of their produce. In Uttar Pradesh 17 lakh families have been allotted houses, lakhs of poor families got toilets, One half free gas and lakhs of electricity connections. 27 lakh households have received piped water in the state, the prime Minister informed.

The Prime Minister remarked that in the past decades, Uttar Pradesh was always seen through the prism of politics. It was not even allowed to discuss how UP can play a better role in the development of the country. The Prime Minister noted that the double engine government has changed the way we look at UP's potential from a narrower vision. The confidence that UP can become the powerhouse of India's growth engine has been born in recent years, he said.

The Prime Minister concluded that this decade is the decade of Uttar Pradesh to make up for the shortfall in the last 7 decades. This work cannot be done without adequate participation of the youths in UP, daughters, poor, downtrodden and backward in UP and giving them better opportunities.