Share
 
Comments

نئی دہلی 25 ستمبر 2021: 24ستمبر کوصدر بائیڈن نے چار ملکوں کے رہنماؤں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن ، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ، اور جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہائیڈ سوگا کی وائٹ ہاؤس میں اولین ذاتی طور پر شرکت والی سربراہ کانفرنس کی میز بانی کی۔ رہنماؤں نے 21 ویں صدی کی آزمائشوں پر ہمارے تعلقات کو عمیق بنانے اور عملی تعاون کو آگے بڑھانے والے بلند عزائم سے بھر پور اقدامات پیش کئے: ان آزمائشوں کا تعلق عالمی وبا کوویڈ 19 کے خاتمے ، بشمول پیداوار میں اضافے اور محفوظ اور مؤثر ویکسین تک رسائی؛ اعلی معیار کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے؛آب و ہوا کے بحران کا مقابلہ کرنے؛ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں ، خلائی اور سائبرسیکیوریٹی پر شراکت اور ہمارے تمام ممالک میں نسلِ آئندہ  کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے سے ہے۔

 

کوویڈ اور عالمی صحت

 

کواڈ رہنمایان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے چار ملکوں اور دنیا میں زندگی اور معاش کو فوری طور پر لاحق خطرہ عالمی وبا کوویڈ 19 ہے۔ لہذا مارچ میں کواڈ رہنماؤں نے کواڈ ویکسین پارٹنرشپ کا آغاز کیا  تاکہ انڈو پیسفک ملکوں کے ساتھ  دنیا میںمحفوظ اور مؤثر ویکسین تک مساوی رسائی کا دائرہ وسیع کرنے میں مدد ملے۔ مارچ کے بعد سے  کواڈ نے محفوظ اور مؤثر کوویڈ 19 ویکسینتیار کرنے کیصلاحیت کو بڑھانے کے لئے جرأت مندانہ اقدامات کئے ہیں۔  ہماری اپنی سپلائی میں سے بھی ویکسین عطیہ کیا گیا اور عالمی وبا کا جواب دینے میں انڈو پیسفک کی مدد کے لئے مل کر کام کیا گیا ہے۔ کواڈ ویکسین کے ماہرین کا گروپ ہمارے تعاون کا مرکز ہے۔ یہ حلقہ تازہ وبائی رجحانات کے بارے میں بریفنگ کے لئے باقاعدگی سے میٹنگ کرتا ہے اور پورے انڈو پیسیفک خطے میں کوویڈ 19 کے رُخ پر ہمارے اجتماعی ردعمل کو مربوط کرتا ہے۔ اس میں کواڈ پارٹنرشپ کوویڈ 19 ڈیش بورڈ کو پائلٹ کرنا بھی شامل ہے۔ ہم صدر بائیڈن کے 22 ستمبر کے کوویڈ 19 سربراہی اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارا کام جاری ہے۔ کواڈ اقدامات:

عالمی ویکسینیشن میں مدد کریں: کواڈ ممالک کی حیثیت سے  ہم نے عالمی سطح پر 1.2 بلین سے زائد ویکسین کی خوراکیں عطیہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان خوراکوں کے علاوہ ہم نے کوویکس کے ذریعے فنانس کیا ہے۔ آج تک ہم نے اجتماعی طور پر تقریبا 79 ملین محفوظ اور مؤثر ویکسین خوراکیں انڈو پیسیفک خطے میں پہنچائی ہیں۔ ہماری ویکسین پارٹنرشپ اس موسم خزاں میں بایولوجیکل ای لمیٹڈ میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانے کی راہ پر بدستور گامزن ہے تاکہ  2022 کے آخر تک کوویڈ 19 ویکسین کی کم از کم 1 بلین خوراکیں تیار کی جا سکیں۔ اس نئی صلاحیت کی طرف پہلے قدم کے طور پر  رہنمایان  جرأت مندانہ اقدامات کا اعلان کریں گے جو عالمی وبا کو ختم کرنے کے رُخ پر انڈو پیسیفک ملکوں کی کوششوں کی فوری مدد کریں گے۔ ہم ویکسین کی پیداوار کے لئے کھلی اور محفوظ سپلائی چین کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ کواڈ نے اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والے کوویکس سمیت محفوظ اور مؤثر کوویڈ 19 ویکسین کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے ہندستان کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ کوویڈ 19 کرائسس رسپانس ایمرجنسی سپورٹ لون پروگرام میں3.3 بلین ڈالر کے ذریعے جاپان علاقائی ممالک کی محفوظ ، مؤثر اور قطعی معیاری ویکسین کی خریداری میں مدد جاری رکھے گا۔ آسٹریلیا جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے لئے ویکسین خریدنے کی خاطر 212 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ  آسٹریلیا 219 ملین ڈالر مختص کرے گا تاکہ آخری مرحلے کی ویکسین کی ترسیل کی معاونت کی جا سکے اور ان علاقوں میں کواڈ کی حتمی ترسیل کی کوششوں کو مربوط بنایا جا سکے۔ کواڈ ممبر ممالک آسیان سیکریٹریٹ ، کوویکس سہولت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کریں گے۔ ہم بین الاقوامی تنظیموں اور شراکت داریوں کی زندگی بچانے والے کام کو مضبوط اور مربوط کرتے رہیں گے۔ ان میں ڈبلیو ایچ  او، کوویکس،جی اے وی آئی، سی ای پی آئی ، اور یونیسیف اور قومی حکومتیں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ رہنمایان  ویکسین کے بھروسے اور اعتماد کو مضبوط بنانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔ اس مقصد کے لئے  کواڈ ممالک ہچکچاہٹ سے نمٹنے کی خاطر  75 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) میں ایک تقریب کی میزبانی کریں گے۔

 

اب زندگیاں بچائی جائیں: کواڈ کی حیثیت سے  ہم انڈو پیسفک میں مزید جانیں بچانے کے لئے مزید اقدامات کرنے کے رُخ پر پُرعزم ہیں۔ جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے ذریعے جاپان  ہندوستان کے ساتھ مل کر کوویڈ 19 سے  صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں تقریبا  100 ملین ڈالر کی اہم سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے کام کرے گا۔ اس میں ویکسین اور علاج کی دوائیں بھی شامل ہیں۔ ہم کواڈ ویکسین ایکسپرٹس گروپ کی خدمات لیں گے اور حسبِ ضرورت  اپنی ہنگامی امداد کے تعلق سے فوری مشاورت کے لئے انہیں طلب کریں گے۔

بہتر صحت کی حفاظت کی تشکیلِ نو: کواڈ اپنے ممالک اور دنیا کو اگلی کسی وبا کے لئے بہتر طور پر تیار کرنے کا عہد کرتا ہے۔ ہم انڈو پیسیفک میں کوویڈ 19 کے رُخ پر اپنے وسیع ردعمل اور صحت کی حفاظت کی کوششوں میں ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ہم مشترکہ طور پر کم از کم ایک عالمی وبا کی تیاری کا ٹیبل ٹاپ یا  مشق 2022 میں کریں گے۔ ہم 100 دن کے اس مشن کی حمایت میں اپنے سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو مزید مستحکم کریں گے تاکہ محفوظ اور مؤثر ویکسین ، علاج اور تشخیص 100 دن کے اندر ابھی اور مستقبل میں بھی دستیاب ہوں- اس میں موجودہ اور مستقبل کے کلینیکل ٹرائلز پر تعاون شامل ہے۔ جیسے بین الاقوامی تیز رفتار کوویڈ 19 علاج معالجے اور ویکسینز (اے سی ٹی آئی وی) ٹرائلز کے لئے اضافی سائٹوں کا اجرا۔ اس سے نئی ویکسین اور علاج معالجے کی تحقیقات کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ  سائنسی طور پر مضبوط کلینیکل تحقیق کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں خطے کے ممالک کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم "عالمی وبائی راڈار" کے مطالبے کی حمایت کریں گے اور اپنی وائرل جینومک نگرانی کو بہتر بنائیں گے۔ اس میں ڈبلیو ایچ او گلوبل انفلوئنزا سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم (جی آئی ایس آر ایس) کو مضبوط اور وسعت دینے کے لیے مل کر کام کرنا شامل ہوگا۔

 

انفراسٹرکچر

 

بلڈ بیک بیٹر ورلڈ (بی3ڈبلیو) کے جی7 کے اعلان پرتعمیر-  ڈیجیٹل کنیکٹوٹی ، آب و ہوا ، صحت اور صحت کی حفاظت ، اور صنفی مساوات کے انفراسٹرکچر پر مرکوز بنیادی ڈھانچے کی شراکت - کواڈ متعلقہ خطے میںجاری بنیادی ساختیاتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لئے مہارت ، صلاحیت اور اثر و رسوخ کو فروغ دے گا اور خطے کی ضروریات کو پورا کرنے کے نئے مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ کواڈ کے اقدامات:

 

کواڈ انفراسٹرکچر کوآرڈینیشن گروپ کی شروعات: اعلی معیار کے بنیادی ڈھانچے پر کواڈ شراکت داروں کی موجودہ قیادت کی تشکیل ، ایک سینئر کواڈ انفراسٹرکچر کوآرڈینیشن گروپ علاقائی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا جائزہ لینے اور شفاف ، اعلی معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے متعلقہ نقطہ نظر کو مربوط کرنے کی خاطر باقاعدگی سے میٹنگوں کا اہتمام کرے گا۔ یہ گروپ تکنیکی مدد اور صلاحیت بڑھانے کی کوششوں کو بھی مربوط کرے گا اور اس میں علاقائی شراکت دار بھی شامل ہوں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری کوششیں باہمی طور پر تقویت پائیں اور انڈو پیسیفک خطے میں بنیادی ڈھانچے کی اہم مانگ کو پورا کرنے میں معاون ہوں۔

 

اعلی معیار کے انفراسٹرکچر کے تعلق سے پیش رفت: کواڈ پارٹنر انڈو پیسیفک خطے میں معیاری انفراسٹرکچر کی تعمیر میں رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارا کمپلیمینٹری اپروچ  سرکاری اور نجی دونوں وسائل کو متحرک کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اثر سامنے لایا جا سکے۔ 2015 سے  کواڈ شراکت داروں نے خطے میں انفراسٹرکچر کے لئے سرکاری طور پر  48 بلین ڈالر سے زیادہ سرمایہ فراہم کیا ہے۔ یہ دیہی ترقی ، صحت کے بنیادی ڈھانچے ، پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی ، قابل تجدید توانائی کی پیداوار (مثال کے طور پر ہوا ، شمسی اور ہائیڈرو) ، ٹیلی مواصلات ، سڑکوں کی نقل و حرکت  اور 30 ​​سے​​زائدممالکمیں ہزاروں منصوبوں کی نمائندگی کے علاوہ اور بھی اقدامات کرتا ہے۔ ہماری بنیادی ساختیاتیساجھے داری ان شراکتوںمیں اضافہ کرے گی اور اس طرح خطے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری  مزید متحرک ہو گی۔

آب وہوا

 

کواڈ ممالک نے تازہ ترین ماحولیاتی سائنس سے متعلق آب وہوا میں تبدیلی کی رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج پر اگست میں حکومتی پینل کے ساتھ اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جو ماحولیاتی ایکشن کے لئے اہم مضمرات کی حامل ہے۔ ماحولیاتی بحران سے مطلوبہ عجلت اور سرگرمی کے ساتھ نمٹنے کے لئے کواڈ ممالک اپنی کوششوں کا رخ جن امور پر مرکوز رکھیں گے ان میں قومی اخراج اور قابل تجدید توانائی کے لئے 2030 کے نشانوں پر کام کرنا، صاف ستھری توانائی میں اختراع اور اس کا استعمال اور اس کی بحالی تیاریاں اور اسے قابل عمل بنانا شامل ہیں۔ کواڈ ممالک بھارت۔ پیسفک میں ماحولیاتی مقاصد پر عمل کے لئے توانائی کی امکانی مانگ اور ڈی کاربونائز کی جانب سرگرمی کے ساتھ پیش رفت کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ اضافی کوششوں میں قدرتی گیس کے سیکٹر میں میتھین میں کمی اور صاف ستھری توانائی کی سپلائی کا سلسلہ تیار کرنا شامل ہے جو ذمہ دارانہ طور پر کام کرے اور ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے مناسب ہو۔کواڈ کے اقدامات:

 

گرین شپنگ نیٹ ورک کی تشکیل: کواڈ ممالک سمندری جہاز رانی کے بڑے مراکز ہیں اور دنیا کے چند سب سے بڑی بندرگاہیں یہاں ہیں۔اس کے نتیجے میں کواڈ ممالک گرین پورٹ انفراسٹرکچر اور بنکر نگ ایندھن کے استعمال میں اہم کردار ادا کرنے کے اہل ہیں۔ کواڈ ساجھیدار کواڈ جہاز رانی ٹاسک فورس کا آغاز کرکے اپنے کاموں کو منظم کریں گے اور اہم بندرگاہوں بشمول لاس  اینجلس، ممبئی پورٹ ٹرسٹ، سڈنی (بوٹنی) اور یوکو ہاما کو ایک نیٹ ورک تشکیل دینے کے لئے مدعو کریں گے تاکہ جہاز رانی ویلیو چین کو آلودگی سے پاک بنایا جائے اور کاربن میں تخفیف ہوسکے۔کواڈ جہاز رانی ٹاسک فورس کئی شعبوں میں اپنی سرگرمیوں اور کوششوں کو منظم کرے گی اور 2030 تک کواڈ دو یا تین کم اخراج والی یا زیرواخراج والی جہاز رانی گزرگاہیں قائم کرنے کا نصب العین رکھتا ہے۔

 

کلین۔ ہائیڈروجن پارٹنرشپ کا قیام: کواڈ کلین۔ ہائیڈروجن ویلیو چین کے تمام عناصر میں قیمتوں میں تخفیف کے لئے ایک کلین ہائیڈروجن پارٹرنرشپ کا اعلان کرے گا، جس سے دیگر فورموں میں موجودہ دو طرفہ اور کثیر جہتی ہائیڈروجن اقدامات کو بھرپور طور سے بروئے کار لایا جاسکے گا۔ اس میں ٹیکنالوجی کا فروغ اور صاف ستھری ہائیڈروجن کی پیداوار کو مہارت کے ساتھ بڑھانا، ڈیلیوی کے بنیادی ڈھانچے کی نشان دہی اور فروغ تاکہ کلین ہائیڈروجن کو محفوظ طریقے سے پہنچایا جاسکے، اسٹور کیا جاسکے اور اس کی محفوظ طریقے سے ترسیل ہوسکے اور انڈو پیسفک خطے میں مارکیٹ کی مانگ میں اضافہ کرکے اس کے کاروبار کو بڑھایا جاسکے۔

 

ماحولیات سے موافقت ، لچک، اور تیاریاں: کواڈ ممالک ہند۔ پیسفک خطے میں ماحولیاتی تبدیلی سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے ماحولیات سے متعلق معلومات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنے اور آفات سے نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے پر معلومات شیئر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ شرکاء ممالک آب وہوا اور اطلاعاتی سروس ٹاسک فورس کا اہتمام کریں گے اور آفات سے نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے کے لئے اتحاد کے ذریعہ ایک نئی ٹیکنالوجی سہولت کا قیام کریں گے جو چھوٹے جز یرے ابھرتے ملکوں کو تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔

 

عوام سے عوام کے تبادلے اور تعلیم

 

آج کے طلبہ کل کے رہنما ، جدت طراز اور قائد ہوں گے۔ سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کی اگلی نسل کے مابین تعلقات قائم کرنے کے لئے کواڈ شرکاء کواڈ فیلوشپ کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کررہے ہیں جو اپنی نوعیت کا پہلا اسکالر شپ پروگرام ہے جو ایک انسانی بہبود کا اقدام ہے اور ہر کواڈ ملک کے لیڈروں پر مشتمل غیر حکومتی ٹاسک فورس کے صلاح ومشورے کے ساتھ کام کرے گی۔ اس پروگرام کے تحت غیر معمولی صلاھتیوں والے امریکی، جاپانی ، آسٹریلین اور ہندوستانی ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ طلبہ کے ان طلبہ کو ایک دوسرے سے قریب لائے گا جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضیات میں کام کررہے ہیں اور یہ لوگ امریکہ میں تعلیم حاصل کریں سکیں گے۔ یہ نیا فیلو شپ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ایک نیٹ ورک تیار کرے گا جو پرائیویٹ ، پبلک اور تعلیمی شعبے اس جدت طرازی اور اشتراک لائیں گے اور اپنے ملک اور کواڈ ممالک کے لئے فلاح وبہبود کا ذریعہ بنیں گے۔

 

کواڈ فیلو شپ کا آغاز: فیلو شپ کے تحت ہر سال سو طلبہ ۔ ہر کواڈ ملک سے 25 کو موقع دیا جائے گا کہ وہ امریکی کی ممتاز STEMگریجویٹ یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کرسکیں گے۔ یہ دنیا کا ایک ممتا زگریجویٹ فیلو شپ ہوگا۔ کواڈ فیلو شپSTEM پر توجہ مرکوز کرے گااور آسٹریلیا ، ہندوستان، جاپان اور امریکہ کے اعلیٰ ترین دماغوں کو ایکجا کرے گا۔

 

حساس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز: کواڈ رہنما ایک کھلے قابل رسائی اور محفوظ ٹیکنالوجی ایکسوسسٹم کے لئے مل کر کام کرنے کے پابند ہیں۔ نئی حساس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ورکنگ گروپ کا قیام مارچ میں ہوا تھا اوراس کے بعد ہی سے ہم نے اپنے کاموں کو چار کوششوں کے تحت منظم کیا ہے تکنیکی معیارات، فائیو جی تنوع اور استعمال، ہورائزن اسکیننگ اور ٹیکنالوجی سپلائی چین۔ آج کواڈ کے رہنماؤں نے ٹیکنالوجی پر اصولوں کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں نئی کوششیں بھی شامل ہیں جو ہمارے جمہوری اقدار اور حقوق انسانی کے احترام کی روایات کے مطابق حساس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو آگے لے جائے گا۔کواڈ کے اقدامات:

 

کواڈ کے اصولوں پر بیان کا اجزاء: کئی مہینوں تک اشتراک کے بعد کواڈ ایڈوانس کمیونیکیشن اور مصنوعی ذہانت پر رابطہ گروپ قائم کرے گا جس میں اسٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ سرگرمیوں اور بنیادی تحقیق پر توجہ دی جائے گی۔

 

سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اقدام:کواڈ شرکاء سیمی کنڈکٹرز اور ان کے کلیدی عناصر کے لئے صلاحیت کی جانچ، آزمائشوں کی نشاندہی اور سپلائی چین سیکیورٹی کا نظم کریں گے۔

 

فائیوجی تنوع اور استعمال میں مدد: ایک متنوع لچکدار اور محفوظ ٹیلی مواصلات ایکو سسٹم فروغ دینے کے لئے کواڈ نے ٹریک 1.5 صنعتی ڈائیلاگ برائے اوپن RAN تنصیب اور اور موافقت کا آغاز کیا ہے کواڈ شرکاء فائیو جی تنوع کے لئے ماحول کو سازگار بنانے میں تعاون دیں گے۔

 

مونیٹربایو ٹیکنالوجی اسکینر: کواڈ حساس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں رجحانات پر نظر رکھے گا جو ایڈوانس بایوٹیکنالوجیز کے ساتھ شروع ہورہی ہیں۔ ہم تعاون کے مواقع کی نشاندہی کریں گے۔

 

سائبر سیکورٹی:

 

سائبر سیکورٹی پر ہمارے چاروں ممالک کے مابین طویل مدتی اشتراک وتعاون کے قیام کے تحت کواڈ سائبر خطروں سے نمٹنے کے لئے کلیدی بنیادی ڈھانچہ کی صلاحتی بڑھائی جائے گی اور اس کے لئے ہمارے ملکوں کی مہارت کو ایکجا کرکے ملکی اور بین الاقوامی پیمانے کی بہترین کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔کواڈ کے اقدامات:

 

کواڈ سینئر سائبر گروپ کا آغاز: لیڈروں کی سطح کے ماہرین باقاعدگی سے میٹنگیں کرکے حکومت اور صنعتوں کے درمیان ان شعبوں میں لگاتار بہتری کے لئے کام کریں گے۔ موافقت اور عملدرآمد سائبر معیارات ، محفوظ سوفٹ ویئر کا فروغ، کارکنوں اور صلاحیتوں کا فروغ اورمحفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ۔

 

خلا

 

 کواڈ ممالک دنیا بشمول خلا کے سائنسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ کواڈ آج ایک نئے ورکنگ گروپ کے ساتھ پہلی بار خلائی تعاون شروع کرنے جارہا ہے۔ خاص طور پر ہماری شراکت ، سیٹلائٹ ڈاٹا کا تبادلہ کرے گی جو آب وہوا کی تبدیلی کی نگرانی اور موافقت آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مشترکہ حلقوں میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے پر مرکوز ہے۔ کواڈ اقدامات:

 

زمین اور اسکے پانی کی حفاظت کے لئے سیٹلائٹ ڈاٹا کا آپسی تبادلہ: ہمارے چار ممالک زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹ ڈیٹا کے تبادلہ کے لئے بات چیت شروع کریں گے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات نیز سمندروں اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کا تجربہ کریں گے۔ اس ڈاٹا کو شیئر کرنے سے کواڈ ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طریقے سے اپنانے میں مدد ملے گی اور کواڈ ماحولیاتی ورکنگ گروپ کے ساتھ ہم آہنگی سے ہند بحرالکاہل کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ ہوگا جو آب وہوا کے شدید خطرے میں ہیں۔ پائیدار ترقی کی صلاحیت سازی کے لئے ہند۔ پیسفک صلاحیت سازی سے کام لیا جائے گا۔ کواڈ ممالک باہمی دلچسپی کی خلائی ایپلی کیشنز اور ٹیکنالوجیز کی اعانت کرنے ، انھیں مضبوط کرنے اور بڑھانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔

 

اصولوں اور ہدایات پر صلاح مشورہ: ہم بیرون خلائی ماحول کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے طریقوں، رہنماخطوط، اصولوں اور ضابطوں پر بھی صلاح ومشورہ کریں گے۔

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370

Media Coverage

Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs high level meeting to review preparedness to deal with Cyclone Jawad
December 02, 2021
Share
 
Comments
PM directs officials to take all necessary measures to ensure safe evacuation of people
Ensure maintenance of all essential services and their quick restoration in case of disruption: PM
All concerned Ministries and Agencies working in synergy to proactively counter the impact of the cyclone
NDRF has pre-positioned 29 teams equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc; 33 teams on standby
Indian Coast Guard and Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations
Air Force and Engineer task force units of Army on standby for deployment
Disaster Relief teams and Medical Teams on standby along the eastern coast

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a high level meeting today to review the preparedness of States and Central Ministries & concerned agencies to deal with the situation arising out of the likely formation of Cyclone Jawad.

Prime Minister directed officials to take every possible measure to ensure that people are safely evacuated and to ensure maintenance of all essential services such as Power, Telecommunications, health, drinking water etc. and that they are restored immediately in the event of any disruption. He further directed them to ensure adequate storage of essential medicines & supplies and to plan for unhindered movement. He also directed for 24*7 functioning of control rooms.

India Meteorological Department (IMD) informed that low pressure region in the Bay of Bengal is expected to intensify into Cyclone Jawad and is expected to reach coast of North Andhra Pradesh – Odisha around morning of Saturday 4th December 2021, with the wind speed ranging upto 100 kmph. It is likely to cause heavy rainfall in the coastal districts of Andhra Pradesh, Odisha & W.Bengal. IMD has been issuing regular bulletins with the latest forecast to all the concerned States.

Cabinet Secretary has reviewed the situation and preparedness with Chief Secretaries of all the Coastal States and Central Ministries/ Agencies concerned.

Ministry of Home Affairs is reviewing the situation 24*7 and is in touch with the State Governments/ UTs and the Central Agencies concerned. MHA has already released the first instalment of SDRF in advance to all States. NDRF has pre-positioned 29 teams which are equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc. in the States and has kept 33 teams on standby.

Indian Coast Guard and the Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations. Air Force and Engineer task force units of Army, with boats and rescue equipment, are on standby for deployment. Surveillance aircraft and helicopters are carrying out serial surveillance along the coast. Disaster Relief teams and Medical Teams are standby at locations along the eastern coast.

Ministry of Power has activated emergency response systems and is keeping in readiness transformers, DG sets and equipments etc. for immediate restoration of electricity. Ministry of Communications is keeping all the telecom towers and exchanges under constant watch and is fully geared to restore telecom network. Ministry of Health & Family Welfare has issued an advisory to the States/ UTs, likely to be affected, for health sector preparedness and response to COVID in affected areas.

Ministry of Port, Shipping and Waterways has taken measures to secure all shipping vessels and has deployed emergency vessels. The states have also been asked to alert the industrial establishments such as Chemical & Petrochemical units near the coast.

NDRF is assisting the State agencies in their preparedness for evacuating people from the vulnerable locations and is also continuously holding community awareness campaigns on how to deal with the cyclonic situation.

The meeting was attended by Principal Secretary to PM, Cabinet Secretary, Home Secretary, DG NDRF and DG IMD.