Share
 
Comments
"فطرت اور لطف اندوزی کے علاوہ گوا ترقی نیز انتظامیہ سے پنچایت تک ترقی کی خاطر اجتماعی کوششوں اور یکجہتی کے ایک نئے ماڈل کا بھی عکاس ہے"
"گوا نے کھلے میں رفع حاجت سے نجات سے لے کر بجلی، پائپ کے پانی، غریبوں کو راشن جیسی تمام اہم اسکیموں میں 100 فیصد حاصل کیا ہے
"سویمپورنا گوا ٹیم گوا کی نئی ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ ہے"
"گوا میں جو بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے وہ کسانوں، مویشی کسانوں اور ہمارے ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد دے گا"
"سیاحت پر توجہ دینے والی ریاستوں نے ٹیکہ کاری مہم میں بھی خصوصی توجہ دیاور گوا نے اس سے کافی فائدہ اٹھایا"

جب سرکار کا ساتھ اور عوام کی محنت ملتی ہے تو کیسے تبدیلی آتی ہے، کیسے اعتماد آتا ہے، یہ ہم سبھی نے ’سویم پورن گوا‘ کے مستفیدین سے گفتگو کے دوران محسوس کیا۔ گوا کو اس مثبت تبدیلی ہی راہ دکھانے والے مقبول اور توانا وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت جی، مرکزی کابینہ میں میرے سینئر معاون شریپد نائک جی، گوا کے ڈپٹی سی ایم جناب منوہر اجھگاؤنکر جی، ڈپٹی سی ایم جناب چندرکانت کیولیکر جی، ریاستی حکومت کے دیگر وزیر، رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، لوکل باڈیز کے تمام نمائندے، ضلع پریشد کے رکن، پنچایت رکن، دیگر عوامی نمائندے اور میرے پیارے گوا کے بھائیوں اور بہنوں!!

کہا جاتا ہے، گوا یعنی خوشی، گوا یعنی قدرت، گوا یعنی سیاحت۔ لیکن آج میں یہ بھی کہوں گا– گوا یعنی ترقی کا نیا ماڈل۔ گوا یعنی مشترکہ کوششوں کی علامت۔ گوا یعنی پنچایت سے لے کر انتظامیہ تک ترقی کے لیے اتحاد۔

ساتھیوں،

گزشتہ برسوں میں ملک نے محرومی سے نکل کر ضروریات- امیدوں کو پورا کرنے کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ جن بنیادی سہولیات سے ملک کے شہری کئی دہائیوں سے محروم تھے، وہ سہولیات ملک کے شہریوں کو دینے پر اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اس بار 15 اگست کو میں نے لال قلعہ سے بھی کہا تھا، کہ ہمیں اب ان اسکیموں کو سیچوریشن یعنی سو فیصد ہدف تک پہنچانا ہے۔ ان مقاصد کے حصول میں پرمود ساونت جی اور ان کی ٹیم کی قیادت میں گوا سرکردہ رول ادا کر رہا ہے۔ بھارت نے کھلے میں رفع حاجت سے آزادی کا ہدف طے کیا۔ گوا نے سو فیصد یہ ہدف حاصل کیا۔ ملک نے ہر گھر کو بجلی کنکشن کا ہدف طے کیا۔ گوا نے اسے بھی سو فیصد حاصل کیا۔ ہر گھر جل (پانی) مہم میں گوا سب سے پہلے سو فیصد! غریبوں کو مفت راشن دینے کے معاملے میں گوا سو فیصد!

ساتھیوں،

دو دن پہلے بھارت نے 100 کروڑ ویکسین ڈوز دینے کے اس وسیع سنگ میل کو پار کیا ہے۔ اس میں بھی گوا پہلی ڈوز کے معاملے میں سو فیصد ہو چکا ہے۔ گوا اب دوسری ڈوز لگانے کے لیے سو فیصد ٹارگیٹ کو حاصل کرنے میں پوری طاقت لگا رہا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ عورتوں کی سہولت اور عزت کے لیے جو اسکیمیں مرکزی حکومت نے بنائی ہیں، ان کو گوا کامیابی سے زمین پر اتار بھی رہا ہے اور ان میں توسیع بھی کر رہا ہے۔ چاہے ٹوائلیٹ ہوں، اُجولا گیس کنکشن ہوں یا پھر جن دھن بینک اکاؤنٹ ہوں، گوا نے عورتوں کو یہ سہولیات دینے میں بہترین کام کیا ہے۔ اسی وجہ سے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں بہنوں کو مفت گیس سیلنڈر ملے، ان کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع ہو سکے۔ گھر گھر نل سے پانی پہنچا کر بھی گوا حکومت نے بہنوں کو بہت بڑی سہولت دی ہے۔ اب گوا حکومت، گرہ آدھار اور دین دیال سوشل سیکورٹی جیسی اسکیموں سے گوا کی بہنوں کی زندگی مزید بہتر بنانے کا کام کر رہی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

جب وقت مشکل ہوتا ہے، چیلنج سامنے ہوتا ہے، تب ہی اصلی لیاقت کا پتہ چلتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں گوا کے سامنے سو سال کی سب سے بڑی مہاماری تو آئی ہی، گوا نے خطرناک سائیکلون اور سیلاب کی تباہی کو بھی برداشت کیا۔ مجھے احساس ہے کہ گوا کے شعبہ سیاحت کو اس سے کتنی مشکلیں آئیں۔ لیکن ان چنوتیوں کے درمیان گوا کی حکومت، مرکزی حکومت، ڈبل طاقت سے گوا کے لوگوں کو راحت پہنچانے میں مصروف رہیں۔ ہم نے گوا میں ترقیاتی کاموں کو رکنے نہیں دیا۔ میں پرمود جی اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دوں گا کہ انہوں نے سویم پورن گوا مہم کو گوا کی ترقی کی بنیاد بنایا ہے۔ اب اس مشن کو مزید تیز کرنے کے لیے ’سرکار تُمچیاداری‘ کا بڑا قدم بھی اٹھایا گیا ہے۔

ساتھیوں،

یہ پرو پیوپل، پرو ایکٹو گورننس کے اسی جذبہ کی توسیع ہے، جس پر گزشتہ 7 سالوں سے ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسی گورننس جہاں سرکار خود شہری کے پاس جاتی ہے اور اس کے مسائل کو حل کرتی ہے۔ گوا نے تو گاؤں کی سطح پر، پنچایت کی سطح پر، ضلع کی سطح پر ایک اچھا ماڈل تیار کر لیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جس طرح مرکز کی متعدد مہم میں اب تک گوا سو فیصد کامیاب ہوا ہے، بقیہ مقاصد کو بھی سب کی کوشش سے آپ جلد ہی حاصل کر لیں گے، یہ مجھے پختہ یقین ہے۔

ساتھیوں،

میں گوا کی بات کروں اور فٹ بال کی بات نہ کروں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ فٹ بال کے لیے گوا کی دیوانگی کچھ الگ ہے، فٹ بال کا گوا میں کریز الگ ہے۔ فٹ بال میں چاہے ڈیفنس ہو یا فارورڈ، سبھی گول اورئنٹیڈ ہوتے ہیں۔ کسی کو گول بچانا ہے تو کسی کو گول کرنا ہے۔ اپنے اپنے گول کو حاصل کرنے کا یہ جذبہ گوا میں کبھی بھی کم نہیں تھا۔ لیکن پہلے جو حکومتیں رہیں، ان میں ایک ٹیم اسپرٹ کی، ایک پازیٹو ماحول بنانے کی کمی تھی۔ لمبے وقت تک گوا میں سیاسی مفاد، اچھی حکومت پر بھاری پڑتا رہا۔ گوا میں سیاسی عدم استحکام نے بھی ریاست کی ترقی کو نقصان پہنچایا۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں اس عدم استحکام کو گوا کے عقل مند عوام نے استحکام میں تبدیل کیا ہے۔ میرے دوست آنجہانی منوہر پاریکر جی نے گوا کو تیز ترقی کے جس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھایا، اس کو پرمود جی کی ٹیم پوری ایمانداری سے نئی بلندیاں عطا کر رہی ہے۔ آج گوا نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ٹیم گوا کی اس نئی ٹیم اسپرٹ کا ہی نتیجہ سویم پورن گوا کا عزم ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

گوا کے پاس ایک انتہائی خوشحال دیہی اثاثہ بھی ہے اور ایک دلکش شہری زندگی بھی ہے۔ گوا کے پاس کھیت کھلیان بھی ہے اور بلیو اکنامی کے فروغ کے امکانات بھی ہیں۔ آتم نربھر بھارت کی تعمیر کے لیے جو کچھ ضروری ہے، وہ گوا کے پاس ہے۔ اس لیے گوا کی مجموعی ترقی ڈبل انجن کی سرکار کی بہت بڑی ترجیح ہے۔

ساتھیوں،

ڈبل انجن سرکار گوا کے دیہی، شہری اور کوسٹل انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ گوا کا دوسرا ایئرپورٹ ہو، لاجسٹک ہب کی تعمیر ہو، بھارت کا دوسرا سب سے بڑا کیبل برج ہو، ہزاروں کروڑ روپے سے نیشنل ہائی وے کی تعمیر ہو، یہ سب کچھ گوا کی نیشنل اور انٹرنیشنل کنیکٹویٹی کو نئے سمت عطا کرنے والے ہیں۔

بھائیوں اور بہنوں،

گوا میں تیار ہوتا انفراسٹرکچر کسانوں، مویشی پروروں، ہمارے ماہی گیر ساتھیوں کی آمدنی کو بھی بڑھانے میں مددگار ہوگا۔ دیہی انفراسٹرکچر اس کی تجدید کاری کے لیے اس سال گوا کو ملنے والے فنڈ میں پہلے کے مقابلے 5 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ گوا کے دیہی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مرکزی حکومت نے 500 کروڑ روپے گوا کو مختص کیے ہیں۔ اس سے زراعت اور مویشی پروری کے شعبے میں گوا میں ہو رہے کام کو نئی رفتار حاصل ہوگی۔

ساتھیوں،

کسانوں اور ماہی گیروں کو بینک اور بازار سے جوڑنے کے لیے جو اسکیمیں مرکزی حکومت نے بنائی ہیں، ان کو ہر ایک فرد تک پہنچانے میں گوا سرکار مصروف عمل ہے۔ گوا میں بہت بڑی تعداد چھوٹے کسانوں کی ہے، یہ یا تو پھل سبزیوں پر منحصر ہیں یا پھر مچھلی کے کاروبار سے جڑے ہیں۔ ان چھوٹے کسانوں کو، مویشی پروروں کو، ماہی گیروں کو آسان بینک لون ایک بہت بڑی چنوتی تھی۔ اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے کسان کریڈٹ کارڈ کی اسکیم کی توسیع کی گئی ہے۔ ایک تو چھوٹے کسانوں کو مشن موڈ پر کے سی سی دیا جا رہا ہے، دوسرا مویشی پروروں اور ماہی گیروں کو پہلی بار اس سے جوڑا گیا ہے۔ گوا میں بھی بہت کم وقت میں سینکڑوں نئے کسان کریڈٹ کارڈ جاری کیے گئے ہیں اور کروڑوں روپے کی مدد دی گئی ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی سے بھی گوا کے کسانوں کو بہت بڑی مدد ملی ہے۔ ایسی ہی کوششوں کے سبب متعدد نئے ساتھی بھی کھیتی کو اپنا رہے ہیں۔ صرف ایک سال کے اندر ہی گوا میں پھل سبزیوں کی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دودھ کی پیداوار بھی 20 فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ گوا سرکار نے بھی اس بار کسانوں سے ریکارڈ خرید کی ہے۔

ساتھیوں،

سویم پورن گوا کی ایک بڑی طاقت فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری ہونے والی ہے۔ خاص طور پر فش پراسیسنگ میں گوا بھارت کی طاقت بن سکتا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے خام مچھلی کو ایکسپورٹ کرتا رہا ہے۔ بھارت کی مچھلیاں، مشرقی ایشیائی ممالک سے پراسس ہوکر دنیا کے بازاروں تک پہنچتی ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے فشریز سیکٹر کو پہلی بار بہت بڑی سطح پر مدد دی جا رہی ہے۔ مچھلی کی تجارت و کاروبار کے لیے الگ وزارت سے لے کر ماہی گیروں کی کشتیوں کی تجدیدکاری تک، ہر سطح پر ترغیب دی جا رہی ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت بھی گوا میں ہماری ماہی گیروں کو بہت مدد مل رہی ہے۔

ساتھیوں،

گوا کی ماحولیات اور گوا کی سیاحت، ان دونوں کی ترقی، بھارت کی ترقی سے براہ راست جڑی ہے۔ گوا، بھارت کے سیاحتی شعبہ کا ایک اہم مرکز ہے۔ تیز رفتار سے بڑھ رہی بھارت کی معیشت میں ٹور، ٹریول اور ہاسپٹیلٹی انڈسٹری کا حصہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ فطری ہے کہ اس میں گوا کی حصہ داری بھی کافی زیادہ ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے سیاست اور ضیافت کے شعبہ کو رفتار دینے کے لیے ہر قسم کی مدد دی جا رہی ہے۔ ویزا آن ارائیول کی سہولت کی توسیع کی گئی ہے۔ کنکٹیوٹی کے علاوہ دوسرے سیاحتی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے گزشتہ برسوں میں مرکزی حکومت نے کروڑوں روپے کی مدد گوا کو دی ہے۔

ساتھیوں،

بھارت کی ٹیکہ کاری مہم میں بھی گوا سمیت ملک کی اُن ریاستوں کو مخصوص ترغیب دی گئی ہے، جو سیاحت کے مرکز ہیں۔ اس سے گوا کو بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔ گوا نے دن رات کوشش کرکے، اپنے یہاں سبھی اہل لوگوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز لگوائی۔ اب ملک نے بھی 100 کروڑ ویکسین ڈوز کی حد پار کر لی ہے۔ اس سے ملک کے لوگوں میں اعتماد بڑھا ہے، سیاحوں میں بھی اعتماد بڑھا ہے۔ اب جب آپ دیوالی، کرسمس اور نئے سال کی تیاری کر رہے ہیں، تو تہواروں اور چھٹیوں کے اس سیزن میں گوا کے سیاحتی شعبہ میں نئی توانائی دیکھنے کو ملے گی۔ گوا میں ملکی اور غیر ملکی، دونوں سیاحوں کی آمد و رفت بھی یقینی طور پر بڑھنے والی ہے۔ یہ گوا کی سیاحتی صنعت کے لیے بہت ہی نیک فال ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

جب گوا، ترقی کے ایسے ہر امکان کا سو فیصد استعمال کرے گا، تبھی گوا سویم پورن بنے گا۔ سویم پورن گوا، عام لوگوں کی تمناؤں اور امیدوں کو پورا کرنے کا عزم ہے۔ سویم پورن گوا، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی صحت، سہولت، تحفظ اور عزت کا بھروسہ ہے۔ سویم پورن گوا میں، نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگار کے مواقع ہیں۔ سویم پورن گوا میں، گوا کے خوشحال مستقبل کی جھلک ہے۔ یہ صرف 5 مہینے یا 5 سال کا ایک پروگرام ہی نہیں ہے، بلکہ یہ آنے والے 25 سالوں کے وژن کی پہلی منزل ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے گوا کے ایک ایک فرد کو مصروف عمل ہونا ہے۔ اس کے لیے گوا کو ڈبل انجن کی ترقی کا تسلسل چاہیے۔ گوا کو ابھی جیسی واضح پالیسی چاہیے، ابھی جیسے مستحکم سرکار چاہیے، ابھی جیسی توانا قیادت چاہیے۔ پورے گوا کے بھرپور آشیرواد سے ہم سویم پورن گوا کے عزم کو ثابت کریں گے، اسی یقین کے ساتھ آپ سبھی کو بہت ساری نیک خواہشات!

بہت بہت شکریہ!

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
21 Exclusive Photos of PM Modi from 2021
Explore More
اترپردیش کے وارانسی میں کاشی وشوناتھ دھام کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

اترپردیش کے وارانسی میں کاشی وشوناتھ دھام کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Make people aware of govt schemes, ensure 100% Covid vaccination: PM

Media Coverage

Make people aware of govt schemes, ensure 100% Covid vaccination: PM
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to deliver Keynote address at national launch ceremony of 'Azadi Ke Amrit Mahotsav se Swarnim Bharat Ke Ore' on 20th January
January 19, 2022
Share
 
Comments
PM to flag off seven initiatives of Brahma Kumaris

Prime Minister Shri Narendra Modi will deliver the Keynote address at the national launch ceremony of 'Azadi Ke Amrit Mahotsav se Swarnim Bharat Ke Ore' on 20th January, 2022 at 10:30 AM via video conferencing. The program will unveil yearlong initiatives dedicated to Azadi Ka Amrit Mahotsav by the Brahma Kumaris, which include more than 30 Campaigns and over 15000 programs & events.

During the event, Prime Minister will flag off seven initiatives of Brahma Kumaris. These include My India Healthy India, Aatmanirbhar Bharat: Self Reliant Farmers, Women: Flag Bearers of India, Power of Peace Bus Campaign, Andekha Bharat Cycle Rally, United India Motor Bike Campaign and green initiatives under Swachh Bharat Abhiyan.

In the My India Healthy India initiative, multiple events and programs will be held in medical colleges and hospitals with focus on spirituality, well-being and nutrition. These include organisation of medical camps, cancer screening, conferences for Doctors and other health care workers, among others. Under Aatmanirbhar Bharat: Self Reliant Farmers, 75 Farmer Empowerment Campaigns, 75 Farmer Conferences, 75 Sustainable Yogic Farming Training Programs and several other such initiatives for the welfare of farmers will be held. Under Women: Flag Bearers of India, the initiatives will focus on social transformation through women empowerment and empowerment of girl child.

The Power of Peace Bus Campaign will cover 75 cities and Tehsils and will carry an exhibition on positive transformation of today's youth. The Andekha Bharat Cycle Rally will be held to different heritage sites, drawing a connection between heritage and environment. The United India Motor Bike Campaign will be held from Mount Abu to Delhi and will cover multiple cities. The initiatives under Swachh Bharat Abhiyan will include monthly cleanliness drives, community cleaning programmes and awareness campaigns.

During the event, a song dedicated to Azadi Ka Amrit Mahotsav, by Grammy Award winner Mr. Ricky Kej, will also be released.

Brahma Kumaris is a worldwide spiritual movement dedicated to personal transformation and world renewal. Founded in India in 1937, Brahma Kumaris has spread to over 130 countries. The event is being held on the occasion of 53rd Ascension Anniversary of Pitashree Prajapita Brahma, Founding Father of Brahma Kumaris.